بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الدُّخان

آیات ۱ تا ۵۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-8

اللہ تعالی اور شبِ قدر کی عظمت

ویڈیو

حٰمٓ ﴿ۚۛ۱﴾ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾ فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾ اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ اِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ ۚ﴿۵﴾ رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ۙ﴿۶﴾ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۘ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیۡنَ ﴿۷﴾ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ رَبُّکُمۡ وَ رَبُّ اٰبَآئِکُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾

آیت 1

حٰمٓ ﴿ۚۛ۱﴾

’’ح ‘م ۔‘‘

آیت 2

وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾

’’قسم ہے اس روشن کتاب کی۔‘‘

جیسا کہ سورۃ الزخرف کے آغاز میں عرض کیا گیا‘سورۃ الدخان کی سورۃ الزخرف کے ساتھ نسبتِ زوجیت ہے اور اس کی ایک علامت یہ ہے کہ دونوں سورتوں کی دو ابتدائی آیات مشترک ہیں اور ان کا اسلوب بھی ایک جیسا ہے۔ چنانچہ سورۃ الزخرف کی طرح یہا ں اس آیت میں بھی قرآن کی قسم کا جوابِ قسم یا مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس ضمن میں یہ وضاحت قبل ازیں کی جا چکی ہے کہ ایسے مقامات پر مقسم علیہ گویا وہی حقیقت ہے جس کا ذکر سورۂ یٰسٓ کے آغاز میں ہو چکا ہے: {یٰسٓ ۚ﴿۱﴾وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾} ۔ چنانچہ یہاں پر اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کو مقدر (understood) مانتے ہوئے آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہو گا: ’’اے محمد (ﷺ) یہ کتابِ مبین گواہ ہے کہ آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں‘‘۔ گویا یہ روشن اور واضح کتاب‘یہ قرآن آپؐ کی رسالت کا قطعی ثبوت ہے۔

آیت 3

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ

’’یقینا ہم نے اس کو نازل کیا ہے ایک مبارک رات میں‘‘ یہ مضمون سورۃ القدر میں واضح تر انداز میں آیا ہے : {اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ۚ﴿ۖ۱﴾} کہ ہم نے اسے ’’لیلۃ القدر ‘‘میں نازل فرمایا۔ چونکہ قرآن مجید میں عام طور پر اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ آئے ہیں اس لیے اس خاص رات کا ذکر بھی دو مرتبہ آیا ہے۔ وہاں ’’لیلۃ القدر‘‘ کے نام سے اوریہاں ’’لیلۃ مبارکۃ‘‘ کے نام سے۔

اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾

’’یقینا ہم خبردار کر دینے والے ہیں۔‘‘

رسالت اور انزالِ کتب کا اصل مقصد لوگوں کا انذار (خبردار کرنا‘ آگاہ کرنا) ہے۔ جیسے سورۃ المدثر میں حضورﷺ کو حکم دیا گیا: {یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾} ’’اے چادر اوڑھنے والے ‘اٹھئے اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے‘‘۔دنیا کی زندگی اصل زندگی نہیں ہے۔ یہ تو اصل ’’کتابِ زندگی‘‘ کے دیباچے کی مانند ہے۔ اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہونے والی ہے۔ چنانچہ اسی حوالے سے لوگوں کو خبردار (warn) کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل ؑاور الہامی کتب کے ذریعے ہدایت کے ایک سلسلے کا اہتمام فرمایا تا کہ ان میں اصل اور ہمیشہ کی زندگی کو بہتر بنانے کا شعور پیداہو اور وہ اس کے لیے تیاری کر سکیں: {وَ مَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَہۡوٌ وَّ لَعِبٌ ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾} ( العنکبوت) ’’یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشے کے سوا کچھ نہیں‘جبکہ آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے۔کاش کہ انہیں معلوم ہوتا!‘‘

آیت 4

فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ ۙ﴿۴﴾

’’اس رات میں تمام پرحکمت امور کے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔‘‘

اس سے پہلے ہم سورۃ السجدۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ تدبیرِ کائنات کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کی منصوبہ بندی ایک ہزار سال کی ہوتی ہے: {یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۵﴾} ’’وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف‘پھر وہ (امر)چڑھتا ہے اس کی طرف‘(یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے) ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس ہے‘‘۔ البتہ انسانی معاملات کے حوالے سے یہ رات (لیلۂ مبارکہ) گویا اللہ تعالیٰ کی کائناتی سلطنت (Cosmic Empire) کے سالانہ بجٹ سیشن کا درجہ رکھتی ہے ---- لفظ فرق کے لغوی معنی علیحدہ کر دینے کے ہیں۔ چنانچہ یُفْرَقُ کا درست مفہوم یہ ہو گا کہ فیصلے جاری (issue) کر دیے جاتے ہیں۔ یعنی یہ وہ رات ہے جس میں تمام سال کے فیصلے طے کر کے تعمیل و تنفیذ (implementation) کے لیے ملائکہ کے حوالے کر دیے جاتے ہیں جو اس عظیم سلطنت کی ’’سول سروس ‘‘کا درجہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ آیت کے مطابق یہ وہی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو لوحِ محفوظ یا اُمّ الکتاب سے آسمانِ دنیا پر اتارا ۔

آیت 5

اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ اِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ ۚ﴿۵﴾

’’طے شدہ احکام ہماری طر ف سے۔یقینا ہم ہی ہیں (رسولوں کو) بھیجنے والے۔‘‘

آیت 6

رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ۙ﴿۶﴾

’’ رحمت کے طور پر آپ کے رب کی طرف سے۔یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا ‘سب کچھ جاننے والا۔‘‘

یہ تمام فیصلے یقینا اللہ تعالیٰ کی ر حمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر قرآن کا نزول اور نبی آخر الزماںﷺ کی بعثت تو نوعِ انسانی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کا مظہر ہے۔

آیت 7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۘ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِیۡنَ ﴿۷﴾

’’ آسمانوں اور زمین کا رب اور جو کچھ ان کے مابین ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو!‘‘

یقینا ساری کائنات کا پروردگار اور مالک اللہ ہی ہے۔ اس حقیقت کو مان لینا تو آسان ہے لیکن دل کی گہرائیوں میں اس کا یقین بٹھانا انسان کے لیے بہت مشکل ہے ۔ انسان کا نفس اس سلسلے میں اسے قد م قدم پر دھوکہ دیتا ہے کہ فلاں چیز میری ہے اور فلاں چیز کا مالک میں ہوں۔ بہر حال ہمیں دل سے یقین کر لینا چاہیے کہ ہر چیز اللہ کی ہے اور وہی ہر شے کا مالک ہے: ؎

ایں امانت چند روزہ نزدِ ماست در حقیقت مالکِ ہر شے خداست!

گویا ہر انسان کی جان‘اس کا جسم‘جسم کے اعضاء اور زیر استعمال اشیاء وغیرہ اس کے پاس چند روز کے لیے امانت ہیں۔ حقیقت میں ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ آخرت میں ان میں سے ایک ایک امانت کا حساب لیا جائے گا اور اس حساب کے دوران انسان کے اپنے اعضاء اپنے مالک حقیقی کے سامنے اس کے خلاف گواہیاں دیں گے۔

آیت 8

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ

’’اُس کے سوا کوئی معبود نہیں‘وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی مارتاہے۔‘‘

رَبُّکُمۡ وَ رَبُّ اٰبَآئِکُمُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾

’’وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے آباء واَجداد کا بھی رب ہے۔‘‘

9-16

مشرکین ِمکہ پر عذاب

ویڈیو

بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿۹﴾ فَارۡتَقِبۡ یَوۡمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾ یَّغۡشَی النَّاسَ ؕ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱﴾ رَبَّنَا اکۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾ اَنّٰی لَہُمُ الذِّکۡرٰی وَ قَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۳﴾ ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ قَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۱۴﴾ اِنَّا کَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِیۡلًا اِنَّکُمۡ عَآئِدُوۡنَ ﴿ۘ۱۵﴾ یَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَۃَ الۡکُبۡرٰی ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿۱۶﴾

آیت 9

بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿۹﴾

’’لیکن یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔‘‘

رسول اللہ ﷺ جب اہلِ مکہ کے سامنے قرآن پیش کرتے تھے تو ان میں سے اکثر لوگ اسے کلام اللہ ماننے کے بجائے اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔پھر اسی بنا پر وہ حضورﷺ کامذاق بھی اڑاتے تھے کہ دیکھیں جی !یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔

آیت 10

فَارۡتَقِبۡ یَوۡمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۱۰﴾

’’تو آپ انتظار کیجیے اُس دن کا جس دن آسمان لائے گا واضح دھواں۔‘‘

اس آیت کے مفہوم کے بارے میں مفسرین کے درمیان شدید اختلاف ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرامؓ کے زمانے میں بھی پایا جاتا تھا ۔ حضرت علی‘ ابن عمر‘ ابن عباس اور ابوسعید خدری رضوان اللہ علیہم اجمعین اور حسن بصریؒ جیسے اکابرکی رائے ہے کہ اس سے وہ دھواں مراد ہے جو قیامت سے پہلے نمودار ہو گا۔ ایک حدیث میں حضورﷺ نے قیامت سے فوراً پہلے نمودار ہونے والی جن دس نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں دھویں (دخان) کا ذکر بھی ہے۔ اس کے برعکس حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بڑی شدت کے ساتھ یہ رائے ہے کہ حضورﷺ کی نبوت کے ابتدائی سالوں میں مکہ میں جو قحط پڑا تھا اس آیت میں اس قحط کے بارے میں پیشگی خبردار کیا گیا ہے۔ صحرائی علاقوں میں اگر طویل مدت تک بارش نہ ہو تو پوری فضا گرد سے اَٹ جاتی ہے اور آسمان کی طرف دیکھنے سے یوں لگتا ہے جیسے دھویں کے بادل چھا رہے ہیں۔ قحط کا یہ عذاب دراصل اسی قانونِ خداوندی کے تحت اہل مکہ پر مسلط ہوا تھا جس کا ذکر سورۃ الانعام میں اس طرح ہوا ہے: {وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَاَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَتَضَرَّعُوۡنَ ﴿۴۲﴾} ’’اور ہم نے بھیجا ہے (دوسری)امتوں کی طرف بھی آپؐ سے قبل (رسولوں کو) ‘پھر ہم نے پکڑا انہیں سختیوں اور تکلیفوں سے شاید کہ وہ عاجزی کریں‘‘ ۔تابعین میں سے مجاہد‘ قتادہ‘ ابراہیم نخعی وغیرہ حضرات نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ بہر حال میں نے یہاں جلیل القدر صحابہؓ کی آراء بیان کر دی ہیں۔ ان صحابہؓ کے عظیم مراتب کے پیش نظر ان آراء میں محاکمہ کرنا میرے نزدیک درست نہیں۔

آیت 11

یَّغۡشَی النَّاسَ ؕ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۱﴾

’’وہ ڈھانپ لے گا لوگوں کو۔ یہ ایک درد ناک عذاب ہو گا۔‘‘

آیت 12

رَبَّنَا اکۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲﴾

’’(اُس وقت لوگ کہیں گے:) اے ہمارے رب! اس عذاب کو ہم سے دور کر دے‘ ہم ایمان لانے والے ہیں۔‘‘

آیت 13

اَنّٰی لَہُمُ الذِّکۡرٰی وَ قَدۡ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۳﴾

’’کہاں ہے ان کے لیے یاد دہانی کی استعداد‘جبکہ آ چکا ہے ان کے پاس ایک واضح کر دینے والا رسول!‘‘

آیت 14

ثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ قَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ ﴿ۘ۱۴﴾

’’پھر انہوں نے منہ پھیر لیا اس کی طرف سے اور کہا کہ یہ تو سکھایا پڑھایا ہوا مجنون ہے۔‘‘

معاذ اللہ! نقل کفر کفر نباشد! وہ حضورﷺ کے بارے میں ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ان کویہ باتیں کسی اور نے سکھائی ہیں اور کبھی کہتے کہ ان پر آسیب اورِ جنات وغیرہ کا اثر ہو گیا ہے اور ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ معاذ اللہ!

آیت 15

اِنَّا کَاشِفُوا الۡعَذَابِ قَلِیۡلًا اِنَّکُمۡ عَآئِدُوۡنَ ﴿ۘ۱۵﴾

’’ہم دور کر دیں گے اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے‘ تو تم لوٹ کروہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔‘‘

جیسے آلِ فرعون کے معاملے میں ہم سورۃ الاعراف کے چھٹے رکوع میں پڑھ چکے ہیں کہ ان پر پے در پے سات عذاب بھیجے گئے تھے۔ ہر مرتبہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے دعا کریں اور ہر بار وعدہ کیا کہ اگر یہ عذاب ٹل گیا تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ مگر جب عذاب ٹل جاتا تو وہ اپنے وعدے سےِ پھر جاتے تھے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت کو اپنے مذکورہ موقف کے حق میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر اس دھویں سے مراد قبل از قیامت کا دھواں ہوتا تو اس کے دور کیے جانے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ اس لیے اس سے مراد اسی نوعیت کا عذاب ہے جو کسی رسول کی بعثت کے بعد لوگوں کو خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے بھیجا جاتا ہے اور جس کا مقصد اور اصول سورۃ السجدۃ میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے: {وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾} ’’اور ہم انہیں لازماً چکھائیں گے قریب کے کچھ چھوٹے عذاب بڑے عذاب سے پہلے تاکہ یہ باز آ جائیں۔‘‘

آیت 16

یَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَۃَ الۡکُبۡرٰی ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ ﴿۱۶﴾

’’جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ‘ (اُس دن) یقینا ہم پورا پورا انتقام لیں گے۔‘‘

17-22

آلِ فرعون کی مجرمانہ روش

ویڈیو

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَہُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾ اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿ۙ۱۸﴾ وَّ اَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ ۚ اِنِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۱۹﴾ وَ اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ ﴿۫۲۰﴾ وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِیۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱﴾ فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿ؓ۲۲﴾

آیت 17

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا قَبۡلَہُمۡ قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ وَ جَآءَہُمۡ رَسُوۡلٌ کَرِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾

’’اور ہم نے آزمایا تھا ان سے پہلے قومِ فرعون کو بھی‘اور ان کے پاس بھی ایک بہت معزز رسول آیا تھا۔‘‘

آیت 18

اَنۡ اَدُّوۡۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿ۙ۱۸﴾

’’(اس پیغام کے ساتھ) کہ تم اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو۔یقینا میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک معزز اور امانت دار رسول ہوں اور تمہاری طرف اللہ کا یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ تم بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔

آیت 19

وَّ اَنۡ لَّا تَعۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ ۚ اِنِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۚ۱۹﴾

’’اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں ایک واضح سند۔‘‘

اگر تم لوگ میری مخالفت کرو گے تو یہ گویا اللہ کی مخالفت اور اس کے خلاف سرکشی ہو گی۔ اس لیے کہ میں اللہ کانمائندہ ہوں اور اسی کے پیغامات تم تک پہنچا رہا ہوں۔

آیت 20

وَ اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ اَنۡ تَرۡجُمُوۡنِ ﴿۫۲۰﴾

’’اور میں نے پناہ پکڑ لی ہے اپنے اور تمہارے رب کی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔‘‘

آیت 21

وَ اِنۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا لِیۡ فَاعۡتَزِلُوۡنِ ﴿۲۱﴾

’’اور اگر تم لوگ میری بات نہیں مانتے ہو تو مجھ سے دوررہو!‘‘

تمہاری سازشوں کے خلاف چونکہ میں نے اپنے رب کی پناہ حاصل کر لی ہے اس لیے اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو بھی میرے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے سے باز رہنا۔

آیت 22

فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ مُّجۡرِمُوۡنَ ﴿ؓ۲۲﴾

’’پھر اُس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم قوم ہے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیاـ:

23-29

آلِ فرعون کی ہلاکت

ویڈیو

فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾ وَ اتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۴﴾ کَمۡ تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵﴾ وَّ زُرُوۡعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۲۶﴾ وَّ نَعۡمَۃٍ کَانُوۡا فِیۡہَا فٰکِہِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾ کَذٰلِکَ ۟ وَ اَوۡرَثۡنٰہَا قَوۡمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۲۸﴾ فَمَا بَکَتۡ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَا کَانُوۡا مُنۡظَرِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾

آیت 23

فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾

’’پس میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ‘آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔‘‘

آیت 24

وَ اتۡرُکِ الۡبَحۡرَ رَہۡوًا ؕ

’’اور چھوڑ دینا سمندر کو ساکن!‘‘

ہم سمندر کو پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنا دیں گے ‘ اس راستے سے گزر جانے کے بعد اسے اسی طرح ساکن چھوڑ دینا۔

اِنَّہُمۡ جُنۡدٌ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’یہ ایک لشکر ہیں جو غرق کیے جائیں گے۔‘‘

فرعون کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا اور اُسی راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا‘ لیکن ہم اس کو غرق کر دیں گے۔

آیات 25–26

کَمۡ تَرَکُوۡا مِنۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۙ۲۵﴾وَّ زُرُوۡعٍ وَّ مَقَامٍ کَرِیۡمٍ ﴿ۙ۲۶﴾

’’انہوں نے کتنے ہی باغوں ‘چشموں‘کھیتوں اور شاندار رہائش گاہوں کو چھوڑا۔‘‘

آیت 27

وَّ نَعۡمَۃٍ کَانُوۡا فِیۡہَا فٰکِہِیۡنَ ﴿ۙ۲۷﴾

’’اور کیسی کیسی نعمتوں کو جن میں وہ عیش کیا کرتے تھے۔‘‘

آیت 28

کَذٰلِکَ ۟ وَ اَوۡرَثۡنٰہَا قَوۡمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿۲۸﴾

’’ یوں ہی ہوا ‘اور ہم نے وارث بنا دیا ان چیزوں کا دوسرے لوگوں کو۔‘‘

آیت 29

فَمَا بَکَتۡ عَلَیۡہِمُ السَّمَآءُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَا کَانُوۡا مُنۡظَرِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾

’’تو نہ اُن پر آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی گئی۔‘‘

30-33

بنی اسرائیل پر اللہ کے انعامات

ویڈیو

وَ لَقَدۡ نَجَّیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ۙ۳۰﴾ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۱﴾ وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ ﴿۳۳﴾

آیت 30

وَ لَقَدۡ نَجَّیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مِنَ الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ۙ۳۰﴾

’’اور ہم نے نجات دے دی بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے۔‘‘

آیت 31

مِنۡ فِرۡعَوۡنَ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۳۱﴾

’’یعنی فرعون سے‘یقینا وہ بڑا ہی سرکش‘ حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔‘‘

ایک طرف تو وہ معصیت کے ارتکاب میں حد سے بڑھا ہوا تھا اوردوسری طرف اس کی سرشت میں سرکشی بھی بہت تھی۔

آیت 32

وَ لَقَدِ اخۡتَرۡنٰہُمۡ عَلٰی عِلۡمٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾

’’اور ہم نے علم رکھنے کے باوجود اُن (بنی اسرائیل)کو اقوامِ عالم پر ترجیح دی تھی۔‘‘

بنی اسرائیل کی تمام خرابیاں اور کوتاہیاں ہمارے علم میں تھیں۔ اس کے باوجود ہم نے دنیا کی تمام اقوام پر انہیں فضیلت دے کر برگزیدہ کیاتھا۔ بنی اسرائیل کی اس فضیلت کا ذکر قرآن حکیم میں بار بار آیا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں یہ آیت دو مرتبہ (۴۷ اور ۱۲۲ )آئی ہے: {یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتِیَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ وَ اَنِّیۡ فَضَّلۡتُکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿﴾} ’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی جہان والوں پر۔‘‘

قرآن کریم (خصوصی طور پر سورۃ البقرۃ) میں بنی اسرائیل کے بڑے بڑے جرائم بھیِ گنوائے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کا سوادِ اعظم مسلسل توحید سے چمٹا رہا تھا۔ اگرچہ گاہے بگاہے ان میں مشرکانہ نظریات و اوہام بھی پنپتے رہے لیکن ان کی اکثریت بہر حال توحید پر قائم رہی۔ مثلاًایک زمانے میں ان کے درمیان ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتا تھا لیکن اس دور میں بھی مجموعی طور پر ان میں سے اکثر لوگ توحید پرست ہی رہے۔

آیت 33

وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنَ الۡاٰیٰتِ مَا فِیۡہِ بَلٰٓـؤٌا مُّبِیۡنٌ ﴿۳۳﴾

’’اور ہم نے انہیں بہت سی ایسی نشانیاں دیں جن میں بہت واضح آزمائش تھی۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو بار بار ایسی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا جو ان کے لیے ’’بَلَآئً حَسَنًا‘‘ ( الانفال :۱۷) کا درجہ رکھتی تھیں۔ یعنی ایسی آزمائشیں جو انسان کی بھلائیوں کو بڑھانے اور اچھائیوں کو نکھارنے کا باعث بنتی ہیں۔

34-37

کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہونا؟

ویڈیو

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾ اِنۡ ہِیَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰی وَ مَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِیۡنَ ﴿۳۵﴾ فَاۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۶﴾ اَہُمۡ خَیۡرٌ اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ ۙ وَّ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ اَہۡلَکۡنٰہُمۡ ۫ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۷﴾

آیت 34

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

’’ یہ لوگ تو یہی کہہ رہے ہیں۔‘‘

ہٰٓؤُلَآئِ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں۔ چونکہ یہ مکی سورت ہے اس لیے بنی اسرائیل کا ذکر کرنے کے بعد اب مشرکین مکہ کے اقوال و عقائد پر تبصرہ ہونے جا رہا ہے۔

آیت 35

اِنۡ ہِیَ اِلَّا مَوۡتَتُنَا الۡاُوۡلٰی وَ مَا نَحۡنُ بِمُنۡشَرِیۡنَ ﴿۳۵﴾

’’کچھ نہیں مگر ہماری یہ پہلی موت ہی ہو گی اور ہم (دوبارہ) اٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔‘‘

کہ بس ہماری موت کے ساتھ ہی ہماری زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے عقیدے کو ہم نہیں مانتے۔

آیت 36

فَاۡتُوۡا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۶﴾

’’تو لاؤ ذرا ہمارے آباء و اَجدادکو‘اگر تم سچے ہو!‘‘

اپنے موقف کے حمایت میں وہ لوگ یہ دلیل دیتے کہ اگر تم بعث بعد الموت کے عقیدے کو سچ مانتے ہو تو ذرا ہمارے فوت شدہ آباء و اَجداد کو زندہ کر کے دکھاؤ!

آیت 37

اَہُمۡ خَیۡرٌ اَمۡ قَوۡمُ تُبَّعٍ ۙ وَّ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’کیا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے؟‘‘

یمن کے قدیم بادشاہ ’’تبع‘‘ کہلاتے تھے۔ جس طرح پرانے زمانے میں مصر کے بادشاہوں کا لقب ’’فرعون ‘‘اور عراق کے بادشاہوں کا لقب ’’نمرود‘‘ تھا اسی طرح یمن کے بادشاہوں کا لقب ’’تبع ‘‘تھا۔

اَہۡلَکۡنٰہُمۡ ۫ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۷﴾

’’ہم نے ان سب کو ہلاک کر دیا‘ بے شک و ہ سب کے سب مجرم تھے۔‘‘

38-42

کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ضروری ہے

ویڈیو

وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾ مَا خَلَقۡنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾ اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ مِیۡقَاتُہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾ یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ مَوۡلًی عَنۡ مَّوۡلًی شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۴۲﴾

آیت 38

وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾

’’اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔‘‘

آیت 39

مَا خَلَقۡنٰہُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾

’’اور ہم نے نہیں بنایا ان دونوں کو مگر حق کے ساتھ ‘مگر ان لوگوں کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

آیت 40

اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ مِیۡقَاتُہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾

’’یقینا فیصلے کا دن ان سب کا وقتِ معین ہے۔ ‘‘

آیت 41

یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ مَوۡلًی عَنۡ مَّوۡلًی شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾

’’جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہیں آ سکے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔‘‘

آیت 42

اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۴۲﴾

’’سوائے اُس کے جس پر اللہ رحم فرما دے۔یقینا وہی ہے زبردست ‘بہت رحم فرمانے والا۔‘‘

43-50

آخرت میں برا انجام

ویڈیو

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ ﴿ۙ۴۳﴾ طَعَامُ الۡاَثِیۡمِ ﴿ۖۛۚ۴۴﴾ کَالۡمُہۡلِ ۚۛ یَغۡلِیۡ فِی الۡبُطُوۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾ کَغَلۡیِ الۡحَمِیۡمِ ﴿۴۶﴾ خُذُوۡہُ فَاعۡتِلُوۡہُ اِلٰی سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ ﴿٭ۖ۴۷﴾ ثُمَّ صُبُّوۡا فَوۡقَ رَاۡسِہٖ مِنۡ عَذَابِ الۡحَمِیۡمِ ﴿ؕ۴۸﴾ ذُقۡ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡکَرِیۡمُ ﴿۴۹﴾ اِنَّ ہٰذَا مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰﴾

آیت 43

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ ﴿ۙ۴۳﴾

’’یقینا زقوم کا درخت ۔‘‘

آیت 44

طَعَامُ الۡاَثِیۡمِ ﴿ۖۛۚ۴۴﴾

’’ گنہگاروں کا کھانا ہے۔‘‘

آیت 45

کَالۡمُہۡلِ ۚۛ یَغۡلِیۡ فِی الۡبُطُوۡنِ ﴿ۙ۴۵﴾

’’پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ‘کھولے گا پیٹوں کے اندر۔‘‘

اس درخت کا ذکر اس سے پہلے سورۃ الصافات کے دوسرے رکوع میں بھی ہو چکا ہے۔ اس کے شگوفے نہایت بد شکل‘بد ذائقہ اور بدبودار ہوں گے‘ لیکن اہل جہنم اس کو کھانے پر مجبور ہوں گے۔ جب وہ بھوک سے بے حال ہو کر اس کو کھائیں گے تو وہ ان کے پیٹوں میں پگھلے ہوئے تانبے کی طرح جوش مارے گا۔

آیت 46

کَغَلۡیِ الۡحَمِیۡمِ ﴿۴۶﴾

’’جیسے گرم پانی کھولتاہے۔‘‘

آیت 47

خُذُوۡہُ فَاعۡتِلُوۡہُ اِلٰی سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ ﴿٭ۖ۴۷﴾

’’(پھر کہا جائے گا:) پکڑو اس کو اور دھکیلتے ہوئے لے جاؤ اسے عین جہنم کے بیچوں بیچ۔‘‘

آیت 48

ثُمَّ صُبُّوۡا فَوۡقَ رَاۡسِہٖ مِنۡ عَذَابِ الۡحَمِیۡمِ ﴿ؕ۴۸﴾

’’پھر انڈیل دو اس کے سر کے اوپر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب۔‘‘

آیت 49

ذُقۡ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡکَرِیۡمُ ﴿۴۹﴾

’’اب چکھو! تم تو بڑے طاقتور ‘بہت معزز تھے نا!‘‘

ہاں اے ابوجہل! تمہیں اپنی سرداری اور جتھے داری پر بڑا فخر تھا نا! اورولید بن مغیرہ! تم بھی تواپنی دولت اور جوان بیٹوں کے بل پر بڑے اَکڑتے تھے نا! آج جہنم کی آگ‘زقوم کے کھانے اور کھولتے ہوئے پانی کے عذاب کا مزا چکھو! اب یہی تم لوگوں کامقدر ہے۔

آیت 50

اِنَّ ہٰذَا مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴿۵۰﴾

’’یقینایہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم شک کرتے تھے۔‘‘

51-59

فرماں برداروں کا حسین انجام

ویڈیو

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ مَقَامٍ اَمِیۡنٍ ﴿ۙ۵۱﴾ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۚۙ۵۲﴾ یَّلۡبَسُوۡنَ مِنۡ سُنۡدُسٍ وَّ اِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿ۚۙ۵۳﴾ کَذٰلِکَ ۟ وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿ؕ۵۴﴾ یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾ لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَۃَ الۡاُوۡلٰی ۚ وَ وَقٰہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۵۶﴾ فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۵۷﴾ فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸﴾ فَارۡتَقِبۡ اِنَّہُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾

آیت 51

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ مَقَامٍ اَمِیۡنٍ ﴿ۙ۵۱﴾

’’(اس کے برعکس) متقین بڑی امن والی جگہ میں ہوں گے۔‘‘

آیت 52

فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ۚۙ۵۲﴾

’’باغات اور چشموں میں۔‘‘

آیت 53

یَّلۡبَسُوۡنَ مِنۡ سُنۡدُسٍ وَّ اِسۡتَبۡرَقٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿ۚۙ۵۳﴾

’’باریک اور موٹے ریشم کا لباس پہنیں گے‘ ایک دوسرے کی طرف رخ کیے ہوئے (بیٹھے ہوں گے)۔‘‘

ان کا نیچے کا لباس موٹے ریشم کا جبکہ اوپر کا لباس باریک ریشم کا ہو گا۔

آیت 54

کَذٰلِکَ ۟ وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿ؕ۵۴﴾

’’اسی طرح ہو گا‘ اور ہم ان سے بیاہ دیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔‘‘

آیت 55

یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِکُلِّ فَاکِہَۃٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾

’’وہ طلب کریں گے اس میں ہر طرح کے پھل اطمینان کے ساتھ۔‘‘

جنت کے پھلوں میں سے جس پھل کی وہ خواہش کریں گے وہ ان کے سامنے پیش کر دیاجائے گا۔

آیت 56

لَا یَذُوۡقُوۡنَ فِیۡہَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَۃَ الۡاُوۡلٰی ۚ وَ وَقٰہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۵۶﴾

’’وہ نہیں چکھیں گے اس میں موت سوائے اس پہلی موت کے‘اور اللہ نے انہیں بچا لیا ہے جہنم کے عذاب سے۔‘‘

دنیا میں انہیں جو موت آئی تھی وہی ان کی آخری موت ہو گی‘اب انہیں موت کی سختی کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جنت میں ان کا قیام ہمیشہ ہمیش کے لیے ہو گا۔ اَللّٰھُمَ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے ان بندوں میں شامل کر لے‘آمین!

آیت 57

فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّکَ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۵۷﴾

’’یہ فضل ہو گا آپ کے رب کی طرف سے۔یقینا یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘

بلاشبہ اس میں ان کی نیکیوں اور محنت کا بھی حصہ ہو گا ‘لیکن اُس دن کی کامیابی نیک اعمال کی کثرت کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے خصوصی فضل کے بغیر ممکن نہیں ہو گی۔

آیت 58

فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) ہم نے اس قرآن کو آسان کر دیا ہے آپ کی زبان پر ‘تا کہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔‘‘

قرآن کی زبان بہت فصیح و بلیغ ہونے کے باوجود بڑی سادہ اور آسان ہے۔ بعض مصنفین دقیق اور ثقیل الفاظ استعمال کر کے قارئین پر اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ عربی کی کتاب ’’مقاماتِ حریری‘‘ پڑھیں تو اس میں آپ کو بھاری بھر کم اور نامانوس الفاظ کی کثرت سے محسوس ہو گا کہ شاید کتاب لکھنے سے مصنف کا مقصود صرف اپنے ذخیرۂ الفاظ کا مظاہرہ کرنا ہی ہے۔ بہر حال قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کا مقصد بنی نوعِ انسان کوہدایت دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو (نعوذ باللہ) قرآن کی عبارت کے ذریعے سے اپنی زبان دانی کی مہارت کامظاہرہ کرنا مقصود نہیں تھا۔ چنانچہ اس کتاب میں اگر ایک طرف ہمیں فصاحت و بلاغت کی معراج نظر آتی ہے تو دوسری طرف اس کی عبارت میں سہل ممتنع اور سادگی کا اعجاز بھی دکھائی دیتا ہے۔

آیت 59

فَارۡتَقِبۡ اِنَّہُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾

’’تو آپؐ انتظارکیجیے ‘یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

یہی لفظ (فَارْتَقِبْ) قبل ازیں آیت ۱۰ میں بھی آیا ہے ‘جہاں دھویں کے عذاب کا ذکر ہے۔گویا یہاں ایک دفعہ پھر اسی عذاب کے بارے میں پیشگی طور پر خبردار کر دیا گیاہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک اہلِ مکہ پر خشک سالی اور قحط کی صورت میں آنے والا تھا۔

یوٹیوب پر دیکھیے