تحریر

الزخرف

آیات ۷۹ تا ۸۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

79-83

مشرکین مکہ کی سازشوں کا جواب

ویڈیو

اَمۡ اَبۡرَمُوۡۤا اَمۡرًا فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾ اَمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ ؕ بَلٰی وَ رُسُلُنَا لَدَیۡہِمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۸۰﴾ قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾ سُبۡحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۸۲﴾ فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۸۳﴾

آیت 79

اَمۡ اَبۡرَمُوۡۤا اَمۡرًا فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾

’’کیا انہوں نے کوئی قطعی فیصلہ کر لیا ہے؟ تو ہم بھی ایک قطعی فیصلہ کیے لیتے ہیں۔‘‘

حق و باطل کی اس کشمکش میں مشرکینِ مکہ نے اگر حق کو نہ ماننے کا ہی فیصلہ کر لیا ہے تو پھر ہم بھی ان کے بارے میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔

آیت 80

اَمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ ؕ

’’کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی خفیہ باتوں اور راز دارانہ مشوروں کو سنتے نہیں ہیں!‘‘

بَلٰی وَ رُسُلُنَا لَدَیۡہِمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۸۰﴾

’’کیوں نہیں (ہم سب کچھ سن رہے ہیں) اور ہمارے ایلچی ان کے پاس ہی لکھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

ہماری خفیہ ایجنسی کے کارندے ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ ساری رپورٹ تیار کرتے ہیں۔

آیت 81

قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ ان سے کہیے کہ اگر رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلا اس کی عبادت کرنے والا میں ہوتا۔‘‘

کہ جب میں خدائے رحمان کو اپنا معبود مانتا ہوں اور اس کی پرستش کرتا ہوں‘ اگر واقعتا اس کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کی پرستش کرنے میں مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ یہ نفی کا بہت تیکھا انداز ہے۔ اس اسلوب کو ’’ تعلیق بالمحال ‘‘کہا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نہ تو اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد ہے اور نہ ہی ایسا ہونے کا کوئی امکان ہے‘ اس لیے اس کی اولاد کو پوجنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔ ’’تعلیق بالمحال‘‘ کا یہی اسلوب اس حدیث میں بھی پایا جاتا ہے: حدیث((لَوْ عَاشَ اِبْرَاہِیْمُ لَکَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا))۱’’اگر ابراہیم زندہ رہتا تو وہ صدیق نبی ہوتا۔‘‘

ایک دفعہ ٹورنٹو (کینیڈا) میں ایک قادیانی نے میرے ساتھ بحث کے دوران نبوت کے تسلسل کو ثابت کرنے کے لیے اسی حدیث کا حوالہ دیا تھا۔ اس حدیث میں حضورﷺ کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے‘ جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہاکے بطن سے پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی فوت ہو گئے۔ ان کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر وہ زندہ رہتے تو وہ نبی ہوتے۔ اللہ کی مشیت کے مطابق ان کے زندہ رہنے کا کوئی امکان نہیں تھا‘ اس لیے نہ تو انہوں نے زندہ رہنا تھا اور نہ ہی نبوت کے سلسلے کو آگے چلنا تھا۔ بہر حال مذکورہ قادیانی نے اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ میں نے اس کے جواب میں دلیل کے طور پر اسی آیت کا حوالہ دیا تھا: {قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾} کہ یہاں جو حضورﷺ سے کہلوایا جا رہا ہے کہ اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ تو کیا حضورﷺ کااللہ کے علاوہ کسی اور کو پوجنے کا کچھ بھی امکان تھا؟اس پر اس نے تسلیم کیا کہ آپ کی یہ دلیل واقعتا مضبوط ہے۔

(۱) صحیح الجامع الصغیر للالبانی‘ ح:۵۲۷۲۔ عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔

آیت 82

سُبۡحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۸۲﴾

’’پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب ‘ عرش کا مالک ‘ ان تمام چیزوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔‘‘

آیت 83

فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان کو چھوڑ دیجئے ‘یہ مین میخ نکالتے رہیں اور لہو و لعب میں پڑے رہیں‘‘

حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۸۳﴾

’’یہاں تک کہ یہ ملاقات کر لیں اپنے اس دن سے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔‘‘

84-86

عظمتِ باری تعالیٰ

ویڈیو

وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۴﴾ وَ تَبٰرَکَ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۚ وَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۵﴾ وَ لَا یَمۡلِکُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنۡ شَہِدَ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾

آیت 84

وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۴﴾

’’اور وہی ہے جو آسمان میں بھی الٰہ ہے اور زمین میں بھی اِلٰہ ہے ۔اور وہ بہت حکمت والا‘ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘

یعنی پوری کائنات میں ہر جگہ اُسی کا اقتدار ہے۔ بائبل میں عیسائیوں کی جو Lords Prayer ہے اس کا مفہوم اس آیت کے بہت قریب ہیں:

Thy Kingdom come

Thy will be done on Earth as it is in Heavens کہ اے اللہ! تیری ہی سلطنت اور تیری حاکمیت قائم ہو جائے اور تیری مرضی جیسے آسمانوں پر پوری ہو رہی ہے ویسے ہی زمین پر بھی پوری ہو۔ بہر حال الٰہ تو آسمانوں میں بھی وہی ہے اور زمین پر بھی وہی ہے۔ لیکن زمین پر انسانوں کو اس نے تھوڑی سی آزادی دے رکھی ہے کہ اگر کوئی انسان چاہے تو وہ نافرمانی اور ناشکری کی روش بھی اختیار کر سکتا ہے۔ بس زمین پر جو بھی فساد نظر آ رہا ہے وہ اس ’’ذرا سی ‘‘آزادی کا نتیجہ ہے۔ سورۃ الروم کی اس آیت میں یہی حقیقت بیان کی گئی ہے: {ظَہَرَ الۡفَسَادُ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ بِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِی النَّاسِ } (آیت ۴۱) چنانچہ بحر و بر میں اگر ہر جگہ فساد ہی فساد نظر آتا ہے تو وہ لوگوں کے کرتوتوں کے سبب ہے ‘ورنہ حکومت تو زمین پر بھی اللہ ہی کی ہے۔

آیت 85

وَ تَبٰرَکَ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۚ

’’اور بہت بابرکت ہے وہ ذات جس کے اختیار میں ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور ان دونوں کے درمیان کی ساری چیزوں کی۔‘‘

فرعون کا خدائی کادعویٰ تو صرف مصر کی حکومت تک محدود تھا‘مگر اللہ کی حکومت واقعتا آسمانوں اور دنیا و مافیہا پر محیط ہے۔

وَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۵﴾

’’اور اُسی کے پاس ہے قیامت کا علم ‘اور اُسی کی طرف تم لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘

آیت 86

وَ لَا یَمۡلِکُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنۡ شَہِدَ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾

’’اور کوئی اختیار نہیں رکھتے کسی بھی شفاعت کا جن کو یہ پکاررہے ہیں اللہ کے سوا‘سوائے اُس کے کہ جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے ہوں۔‘‘

ظاہر بات ہے وہاں تو کوئی غلط بات زبان سے نہیں نکال سکے گا‘ لہٰذا وہاں پر گواہی صرف حق ہی کی ہو گی۔

87-89

مشرکینِ مکہ کی محرومی

ویڈیو

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾ وَ قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۘ۸۸﴾ فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۸۹﴾

آیت 87

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ

’’اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے!‘‘

یعنی اگر آپ ان سے پوچھیں کہ خود ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے کہ اللہ نے۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اگر آپ ان سے ان کے معبودوں کے بارے میں پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو بھی وہ جواب میں کہیں گے کہ انہیں بھی اللہ نے ہی بنایا ہے۔

فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾

’’تو پھر یہ کہاں سے پھیر دیے جاتے ہیں!‘‘

آیت 88

وَ قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۘ۸۸﴾

’’اور قسم ہے نبی(ﷺ) کے اس قول کی کہ اے میرے رب! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لارہے۔‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کا انداز ہے جو رسول اللہﷺ کی طرف سے یہاں نقل ہوا ہے کہ اے میرے یہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کا انداز ہے جو رسول اللہﷺ کی طرف سے یہاں نقل ہوا ہے کہ اے میرے پروردگار !میری یہ قوم ہٹ دھرمی اور ضد پر اترآئی ہے۔ نہ تو یہ لوگ میری باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ہی بطور نبی کے میری تصدیق کرنے کو تیار ہیں۔

آیت 89

فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان سے در گزر کیجیے‘‘

میرے خیال کے مطابق یہ سورۃ ۴ نبویؐ سے ۸ نبویؐ کے درمیانی عرصے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت تک چونکہ حضورﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا‘ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کی طرف سے اپنا رُخ پھیر لیں اور فی الحال انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔

وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ

’’اور کہیے سلام ہے!‘‘

اگر یہ لوگ آپؐ سے اُلجھتے ہیں‘ دعوت کے جواب میں آپؐ سے استہزاء کرتے ہیں تو آپؐ ان کو سلام کہہ کر نظر انداز کر دیں۔ سورۃ الفرقان میں ہم نے ’’عباد الرحمن‘‘ کی جو صفات پڑھی ہیں ان میں ایک صفت یہ بھی ہے: {وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾} ’’اور جب ان سے مخاطب ہوتے ہیں جاہل لوگ تو وہ ان کو سلام کہہ دیتے ہیں۔‘‘

فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۸۹﴾

’’تو بہت جلد یہ لوگ جان جائیں گے۔‘‘

ا ب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب حقیقت ان پر منکشف ہو جائے گی۔ بہت جلد حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت ہونے والا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے