یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾
’’(اُن سے کہا جائے گا:) اے میرے بندو! آج تم پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم رنجیدہ ہوگے۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾ اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۶۹﴾ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ ﴿۷۰﴾ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَہَبٍ وَّ اَکۡوَابٍ ۚ وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚ۷۱﴾ وَ تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۲﴾ لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾
یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾
’’(اُن سے کہا جائے گا:) اے میرے بندو! آج تم پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم رنجیدہ ہوگے۔‘‘
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۶۹﴾
’’یعنی وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور فرماں بردار تھے۔‘‘
اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ ﴿۷۰﴾
’’داخل ہو جاؤ جنت میں تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی ‘ تمہارا اعزاز و اکرام کیا جائے گا۔‘‘
یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَہَبٍ وَّ اَکۡوَابٍ ۚ
’’گردش کرائے جائیں گے ان پر سونے کی طشتریاں اور پیالے۔‘‘
وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚ۷۱﴾
’’اور وہاں ہو گا وہ سب کچھ جس کی طلب ہو گی انسان کے نفس کو اور جس سے نگاہیں لذت حاصل کریں گی‘اور تم اب اس میں ہمیشہ ہمیش رہو گے۔‘‘
جنت کے پھول ‘ باغیچے‘ مناظر اور اہل جنت کی بیویاں غرض وہاں کی ہر چیز انتہائی حسین اور دلکش ہو گی۔
وَ تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
’’اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنا ئے گئے ہو اُن اَعمال کی بنا پر جو تم کرتے تھے۔‘‘
یعنی جنت میں تمہارا داخلہ اور اس کی تمام نعمتیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہیں جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی قدر دانی اور قدر افزائی کا ایک شاہانہ انداز ہے جو قرآن میں جا بجا ملتا ہے۔ دوسری طرف بندوں کے اس اعتراف کا ذکر بھی قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ اس ضمن میں اہل جنت کا اعتراف سورۃ الاعراف میں بایں الفاظ نقل ہوا ہے:
دوسرے مقام کی آیتوَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰىنَا لِہٰذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰىنَا اللّٰہُ
(آیت:۴۳)
’’ اور وہ کہیں گے کل شکر اور کل تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا‘ اورہم خود سے یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔‘‘
لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾
’’اس میں تمہارے لیے بکثرت پھل موجود ہیں جن میں سے تم کھاتے ہو۔‘‘
اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۴﴾ لَا یُفَتَّرُ عَنۡہُمۡ وَ ہُمۡ فِیۡہِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾ وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡا ہُمُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷۶﴾ وَ نَادَوۡا یٰمٰلِکُ لِیَقۡضِ عَلَیۡنَا رَبُّکَ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ مّٰکِثُوۡنَ ﴿۷۷﴾ لَقَدۡ جِئۡنٰکُمۡ بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَکُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۸﴾
اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۴﴾
’’(اس کے برعکس) جو مجرم ہوں گے وہ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
لَا یُفَتَّرُ عَنۡہُمۡ وَ ہُمۡ فِیۡہِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾
’’وہ ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اسی میں پڑے رہیں گے بالکل ناامیدہو کر۔‘‘
انہیں جہنم سے چھٹکارا پانے کا کوئی امکان نظر نہیں آئے گا۔
وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡا ہُمُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷۶﴾
’’اورہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔‘‘
وَ نَادَوۡا یٰمٰلِکُ لِیَقۡضِ عَلَیۡنَا رَبُّکَ ؕ
’’اور وہ ندا کریں گے کہ اے مالک! اب تو آپ کا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔‘‘
مالک سے یہاں مراد جہنم کا داروغہ ہے۔ اہل جہنم اسے مخاطب کر کے فریاد کریں گے کہ اب ہم سے عذاب کی سختی مزید نہیں جھیلی جاتی۔ آپ اپنے رب سے کہیں کہ وہ ہمیں موت دے کر ہمارا قصہ تمام کر دے۔
قَالَ اِنَّکُمۡ مّٰکِثُوۡنَ ﴿۷۷﴾
’’وہ جواب دے گا کہ تمہیں تو ا ب ہمیشہ (یہیں) رہنا ہے۔‘‘
لَقَدۡ جِئۡنٰکُمۡ بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَکُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۸﴾
’’ہم تو تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تمہاری اکثریت حق کو نا پسند کرتی ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے تمہارے پاس سچا دین اور سچی تعلیمات پہنچا دی تھیں‘ لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے بیزار ہی رہے‘ جس کا نتیجہ آج تمہارے سامنے ہے۔