تحریر

الزخرف

آیات ۵۷ تا ۶۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

57-60

مشرکینِ مکہ کی حضرت عیسی علیہ السلام سے دشمنی

ویڈیو

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ ﴿۵۷﴾ وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾ وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ ﴿۶۰﴾

آیت 57

وَ لَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ ﴿۵۷﴾

’’اور جب (قرآن میں) ابنِ مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو اس پر آپ کی قوم چلانے لگتی ہے۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکینِ مکہ کی چیخ و پکار ایک تو سورۃ الانبیاء کی اس آیت کے حوالے سے تھی :

دوسرے مقام کی آیت

اِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ؕ اَنۡتُمۡ لَہَا وٰرِدُوۡنَ ﴿۹۸﴾

’’یقینا تم لوگ اور جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو‘ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ تمہیں اس میں پہنچ کر رہنا ہے‘‘۔ وہ کہتے تھے کہ اللہ کے سوا جتنے معبود لوگوں نے بنا رکھے ہیں اگر وہ سب جہنم کا ایندھن بنیں گے تو پھر عیسیٰؑ بھی تو ان ہی میں شامل ہوں گے‘کیونکہ انہیں بھی تو دُنیا میں پوجا گیا ہے۔ حالانکہ اللہ کے مقابلے میں اگر فرشتوں ‘ اللہ کے مقرب بندوں‘ جنات اور بتوں وغیرہ کی پرستش کی گئی ہے توجہنم میں جھونکے جانے کا مصداق ملائکہ‘ انبیاء اور اولیاء اللہ تو نہیں ٹھہرتے ۔ ظاہر ہے جو باطل ہو گا وہی جہنم میں جھونکا جائے گا۔ البتہ مشرکین مکہ اسی دلیل کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر شدت کے ساتھ چیخنا چلانا شروع کر دیتے تھے۔

دوسری طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر پر مشرکین مکہ کے مخصوص ردِ عمل کا باعث ان کا حضورﷺ کے بارے میں یہ موقف بھی تھا کہ آپؐ حضرت عیسیٰؑ کی تعریف و توصیف کے پردے میں نصرانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس طرح ہم لات و عزیٰ وغیرہ کی پوجا کرتے ہیں اسی طرح عیسائی حضرت عیسیٰؑ کو پوجتے ہیں۔ تو ایسا کیوں ہے کہ عیسائیوں کے معبود کی تو آپؐ تعریف کرتے ہیں اور ہمارے معبودوں کی مذمت؟ اس وجہ سے وہ لوگ حضورﷺ پر عیسائیت کو قبول کر لینے اور عیسائیت کی تبلیغ کرنے کے الزامات لگاتے تھے۔ بلکہ جب مکہ میں مسلمانوں نے نماز پڑھنا شروع کی تو مشرکینِ مکہ نے حضورﷺ اور مسلمانوں پر یہ الزام بھی لگادیا کہ یہ لوگ ’’صابی‘‘ ہو گئے ہیں۔ صابی لوگ عراق میں آباد تھے اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے پیروکاروں کی نسل میں سے تھے۔ اگرچہ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل دین کو تو بگاڑ دیا تھا لیکن ’’نماز‘‘ کسی نہ کسی شکل میں ان کے ہاں موجود تھی۔ چنانچہ نماز کی اس مشابہت کے باعث مشرکین مکہ نے حضورﷺ پر صابی ہونے کا الزام بھی لگایا تھا۔بہر حال مذکورہ دو وجوہات کی بنا پر مشرکین مکہ حضرت عیسیٰؑ کے ذکر پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے تھے۔

آیت 58

وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ

’’اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟‘‘

مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾

’’یہ باتیں وہ آپ سے نہیں کرتے مگر صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔‘‘

آیت 59

اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾

’’وہ تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے خاص انعام فرمایا اور ہم نے اس کو ایک نشانی بنا دیا بنی اسرائیل کے لیے ۔‘‘

بنی اسرائیل کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت سی نشانیاں تھیں۔ آپؑ بن باپ کے پیدا ہوئے اور اپنی پیدائش کے فوراً بعد پنگھوڑے میں ہی آپؑ نے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ اس کے علاوہ آپ کو خلقِ حیات اور احیاءِ موتیٰ سمیت اور بھی بہت سے معجزات عطا ہوئے تھے۔

آیت 60

وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ ﴿۶۰﴾

’’اور اگرہم چاہیں تو تم میں سے فرشتے بنا دیں جو زمین میں تمہار ے جانشین ہوں۔‘‘

61-62

حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں

ویڈیو

وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾ وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۶۲﴾

آیت 61

وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ

’’اور یقینا وہ قیامت کی ایک علامت ہے‘‘

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ورودِ اوّل میں بنی اسرائیل کے لیے نشانی یعنی مجسم معجزہ تھے‘ جبکہ اپنے ورودِ ثانی میں آپؑ کا نزول قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ہو گا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور قربِ قیامت کے زمانے کی کیفیت احادیث میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔

فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾

’’تو اس (قیامت) کے بارے میں تم ہر گز شک نہ کرواور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘

آیت 62

وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۶۲﴾

’’اور(دیکھو) شیطان تمہیں روک نہ دے ‘بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘

یعنی ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اس صراطِ مستقیم کی پیروی سے روک دے جس کی طرف میں بلا رہا ہوں۔ یہ مت بھولو کہ شیطان اس صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے والوں کا کھلا دشمن ہے اور انہیں گمراہ کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزماتا ہے۔

63-67

حضرت عیسی علیہ السلام کی دعوت

ویڈیو

وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۶۳﴾ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۴﴾ فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾ ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۶﴾ اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾

آیت 63

وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ

’’اور جب آئے عیسیٰؑ واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں‘‘

یہاں پر ’’حکمت‘‘ کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ انجیل میں ’’کتاب‘‘ (شریعت)نہیں تھی‘ صرف حکمت تھی ‘جبکہ تورات ’’کتاب‘‘ پر مشتمل تھی۔ اس میں احکامِ شریعت تو تھے‘ حکمت نہیں تھی۔ دراصل نزولِ تورات کے زمانے میں نسلِ انسانی کا اجتماعی شعور ابھی اس قابل نہیں ہوا تھا کہ انہیں حکمت کی تلقین کی جاتی۔ اس لیے اس میں صرف احکام (commandments) دے دیے گئے تھے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو۔ یعنی صرف اوامر و نواہی (dos and donts) کا ذکر کیا گیا تھا۔ حکمت کے لیے بعد میں انجیل آئی۔ البتہ قرآن میں کتاب (شریعت) بھی ہے اور حکمت بھی ہے۔ یعنی آخری کتاب ہونے کے حوالے سے یہ ما سبق تمام کتابوں کی جامع ہے۔

وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۶۳﴾

’’اور تا کہ میں واضح کردوں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو‘پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔‘‘

آیت 64

اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۴﴾

’’یقینا اللہ ہی ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے‘ پس تم اُسی کی بندگی کرو۔یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘

آیت 65

فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ

’’پھر ان میں سے کئی گروہ باہم اختلافات میں مبتلا ہو گئے۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو بڑے گروہوں کے درمیان شدید اختلافات پید اہو گئے۔ یہود ی آپؑ کی مخالفت میں اس حدتک چلے گئے کہ انہوں نے آپؑ کو جادوگر‘ مرتد اور ولد الزنا (نقل کفر‘ کفر نباشد) قرار دے دیا۔ ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے دوسری انتہا پر جا کر آپؑ کو (نعوذ باللہ )اللہ کا بیٹا بنا دیا اور آپؑ کے بارے میں یہ عقیدہ بھی گھڑ لیا کہ آپؑ اپنے نام لیواؤں کی طرف سے خود سولی پر چڑھ گئے ہیں اور یوں آپؑ کی یہ ’’قربانی‘‘ آپؑ کے ہر ماننے والے کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہے۔ بہر حال یہ دونوں رویے انتہائی غلط ہیں۔

فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾

’’ پس تباہی اور بربادی ہے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب سے۔‘‘

آیت 66

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۶﴾

’’یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آ جائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو!‘‘

آیت 67

اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾

’’بہت گہرے دوست اُس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ‘سوائے متقین کے۔‘‘

دنیا کی تمام دوستیاں اُس دن دشمنیوں میں بدل جائیں گی ‘سوائے مؤمنینِ صادقین کی باہمی دوستیوں کے۔

یوٹیوب پر دیکھیے