حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾
’’ ح‘ م ۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۴
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ الزخرف اور سورۃ الدخان ایک بہت حسین جوڑے کی شکل میں آئی ہیں۔ دونوں سورتوں کی دو ابتدائی آیات مشترک ہیں ۔ اس کے علاوہ ان دونوں میں ایک معنوی نسبت یہ بھی ہے کہ سورۃ الزخرف کی چوتھی آیت میں قرآن کا تعارف ’’اُمّ الکتاب‘‘ کے حوالے سے کرایا گیا ہے اور سورۃ الدخان کی آیت ۳ میں لیلۂ مبارکہ میں ’’اُمّ الکتاب‘‘ سے قرآن کے نزول کا ذکر ہے۔ ’’اُمّ الکتاب‘‘ دراصل اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے جس کا ذکرسورۃ الواقعہ کی آیت ۷۸ میں کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ اور سورۃالبروج کی آخری آیت میں لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ کے نام سے ہواہے۔
حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾ وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾ اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۚ﴿۳﴾ وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾
حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾
’’ ح‘ م ۔‘‘
وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾
’’قسم ہے اِس کتاب کی جو بالکل واضح ہے۔‘‘
یہاں پر چونکہ قرآن کی قسم کا ’’جوابِ قسم ‘‘یا مقسم علیہ محذوف ہے‘ اس لیے اس قسم کا مقسم علیہ بھی سورۂ یٰسٓ کی آیت میں وارد الفاظ {اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾} ہی کو مانا جائے گا۔یہ نکتہ قبل ازیں سورۂ یٰسٓ کی آیت ۳ کے ضمن میں واضح کیا جا چکا ہے کہ سورۂ یٰسٓ کے آغاز میں قرآن کی قسم چونکہ حضورﷺ کی رسالت کی گواہی کے طور پر کھائی گئی ہے‘ اس لیے قرآن کے ان تمام مقامات پرجہاں قرآن کی قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے وہاں اس قسم کا مقسم علیہ منطقی طور پر ان ہی الفاظ {اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾} کو ہونا چاہیے۔ چنانچہ آیت زیرمطالعہ کا مفہوم یوں ہو گا کہ یہ کتابِ مبین گواہ ہے کہ اے محمد (ﷺ) آپ اللہ کے رسول ہیں!
اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۚ﴿۳﴾
’’ہم نے اس کو بنا یا ہے قرآن عربی تا کہ تم سمجھ سکو۔‘‘
وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾
’’اوریہ اُمّ الکتاب میں ہے ہمارے پاس بہت بلند و بالا‘ بہت حکمت والی!‘‘
یعنی اصل قرآن تو ’’اُمّ الکتاب‘‘ میں ہے۔ دنیا کو اس کی عربی زبان میں مصدقہ نقول فراہم کی گئی ہیں۔ اسی ’’اُمّ الکتاب‘‘ کو سورۃ الواقعہ کی آیت ۷۸ میں کِتٰبٍ مَّکْنُوْنٍ اور سورۃ البروج کی آخری آیت میں لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ بھی کہا گیا ہے۔
اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾ وَ کَمۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ نَّبِیٍّ فِی الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۶﴾ وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۷﴾ فَاَہۡلَکۡنَاۤ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا وَّ مَضٰی مَثَلُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾
اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾
’’کیا ہم اس ذکر کا رخ تمہاری طرف سے اس لیے پھیر دیں کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو!‘‘
ہم نے اپنی یہ کتابِ ہدایت ایک عظیم الشان نعمت کے طور پر تمہاری طرف نازل کی ‘ جو نصیحت و یاد دہانی پر مشتمل ہے‘ مگر تم نے اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کی طرف سے روگردانی کی ہے۔ تو کیا ہم تمہارے اس رویے کی وجہ سے اپنی اس نعمت کو ہی اُٹھا لیں؟ نہیں !ابھی ہم تم لوگوں کو مزید مہلت دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ابھی یہ کتاب تمہیں پڑھ کر سنائی جا تی رہے گی۔
وَ کَمۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ نَّبِیٍّ فِی الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۶﴾
’’اور ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے پہلوں میں بھی۔‘‘
وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۷﴾
’’اور نہیں آیا کوئی بھی نبی ان کے پاس مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔‘‘
فَاَہۡلَکۡنَاۤ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا
’’ پھر ہم نے انہیں ہلاک کر دیا جو اِن سے بہت زیادہ بڑھ کر تھے قوت میں‘‘
ہم نے ماضی میں بہت سی ایسی قوموں کو بھی نیست و نابود کر دیا جو قریشِ مکہ سے کہیں بڑھ کر زور آور تھیں اور ان کی پکڑ بہت مضبوط تھی ۔ تو یہ کس کھیت کی مولی ہیں؟
وَّ مَضٰی مَثَلُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾
’’اور پہلے لوگوں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔‘‘
اقوامِ ماضی کے تفصیلی واقعات اور ان کے انجام کے بارے میں حقائق ان لوگوں کو بار بار بتائے جا چکے ہیں۔
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ خَلَقَہُنَّ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿ۙ۹﴾ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۚ۱۰﴾ وَ الَّذِیۡ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ ۚ فَاَنۡشَرۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ۚ کَذٰلِکَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴿۱۱﴾ وَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا وَ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡفُلۡکِ وَ الۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡکَبُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾ لِتَسۡتَوٗا عَلٰی ظُہُوۡرِہٖ ثُمَّ تَذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ رَبِّکُمۡ اِذَا اسۡتَوَیۡتُمۡ عَلَیۡہِ وَ تَقُوۡلُوۡا سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقۡرِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾ وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ خَلَقَہُنَّ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿ۙ۹﴾
’’اور اگر آپؐ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ لازماً یہی کہیں گے کہ انہیں بنایا ہے اُس ہستی نے جو العزیز اورالعلیم ہے۔‘‘
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۚ۱۰﴾
’’جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا اور پھر اس میں تمہارے لیے راستے بنا دیے تا کہ تم منزل تک پہنچ سکو۔‘‘
تا کہ تم ان قدرتی راستوں کی مدد سے اپنی منزلوں تک پہنچ سکو۔ مزید یہ کہ اللہ کی ان نعمتوں پر غور کر کے ہدایت کی منزلِ مقصود پانے میں کامیاب ہو جاؤ۔
وَ الَّذِیۡ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ ۚ
’’اور وہ جس نے اُتارا آسمان سے پانی ایک اندازے کے مطابق۔‘‘
فَاَنۡشَرۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ۚ
’’تو اس سے ہم نے مردہ زمین کو اُٹھا کھڑا کیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی سے بنجر زمین میں زندگی کے آثار پھیلا دیے ‘ اسے حیاتِ تازہ بخش دی۔
کَذٰلِکَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴿۱۱﴾
’’اسی طرح (ایک روز) تمہیں بھی نکال لیا جائے گا۔‘‘
تمہیں بھی روزِ محشر اسی طرح زندہ کر کے تمہاری قبروں سے نکال کھڑا کیا جائے گا۔
وَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا
’’اور وہ کہ جس نے بنائے ہیں تمام مخلوقات کے جوڑے‘‘
وَ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡفُلۡکِ وَ الۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡکَبُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾
’’اور تمہارے لیے بنائی ہیں کشتیاں بھی اور چوپائے بھی جن پر تم سواری کرتے ہو۔‘‘
لِتَسۡتَوٗا عَلٰی ظُہُوۡرِہٖ
’’تا کہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر‘‘
ثُمَّ تَذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ رَبِّکُمۡ اِذَا اسۡتَوَیۡتُمۡ عَلَیۡہِ
’’پھر اپنے رب کے انعام کا ذکر کروجب کہ تم ان کے اوپر جم کر بیٹھ جاؤ‘‘
وَ تَقُوۡلُوۡا سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقۡرِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾
’’اور تم کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ان (سواریوں) کو ہمارے بس میں کر دیا ہے‘ اور ہم توانہیں قابو میں لانے والے نہیں تھے۔‘‘
وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
’’اور یقینا ہم اپنے ربّ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‘‘