تحریر

الشورى

آیات ۴۹ تا ۵۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

49-50

کوئی مانے یا نہ مانے بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے

ویڈیو

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾ اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾

آیت 49

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ‘لیکن اس کے لیے عام طور پر یہ جملہ آتا ہے: {لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} لیکن اس سورت کے مرکزی مضمون (اقامتِ دین) کے حوالے سے یہاں خاص طور پر ملک (حکومت و اقتدار) کا لفظ آیا ہے۔

یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾

’’وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔‘‘

آیت 50

اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ

’’یا وہ انہیں ملا کر دیتا ہے بیٹے اور بیٹیاں ۔‘‘

وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾

’’اور جس کو چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔یقینا وہ سب کچھ جاننے والا‘ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘

وہ اپنی مرضی و منشا میں قادر مطلق ہے‘جس کو جو چاہے عطا کر دے ‘لیکن وہ جس کو جو عطا کرتا ہے اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر عطا کرتا ہے۔

اگلی آیات میں وحی کی حقیقت اور اس کی اقسام بیان ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر یہ قرآن کا اہم ترین مقام ہے۔

51

اللہ انسان سے کیسے خطاب فرماتا ہے ؟

ویڈیو

وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

آیت 51

وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ

’’اور کسی بشر کا یہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے‘‘

اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘وہ جو چاہے کرے ‘مگر کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اس سے ہم کلام ہو۔

اِلَّا وَحۡیًا

’’ سوائے وحی کے‘‘

یہ وحی کی پہلی قسم ہے جسے ’’القاء‘‘ یا ’’الہام‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے براہِ راست بندے تک اپنا پیغام پہنچادیتا ہے اور متعلقہ بات اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔شہد کی مکھی کی طرف وحی کرنا (النحل :۶۹)‘ ہر آسمان میں اس سے متعلقہ پیغام پہنچانا (حٰمٓ السجدۃ: ۱۲) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں القاء کرنا (القصص : ۷)اس وحی کی مثالیں ہیں جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں۔

اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ

’’یا (پھر وہ بات کرتا ہے) پردے کی اوٹ سے‘‘

یہ وحی کی دوسری قسم ہے‘ جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا: {وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوۡسٰی تَکۡلِیۡمًا ﴿ۚ۱۶۴﴾} ( النسائ)۔

اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ

’’یا وہ بھیجتا ہے کسی پیغام بر (فرشتے) کو‘ پھر وہ وحی کرتا ہے اللہ کے حکم سے جو وہ چاہتا ہے۔‘‘

یہ وحی کی تیسری قسم ہے ‘جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے پورا قرآن حضورﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا۔

اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

’’وہ بہت بلند و بالا ہے ‘کمال حکمت والا ہے۔‘‘

اس کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی انسان سے براہِ راست بغیر حجاب کے کلام کرے‘ اور وہ کمال حکمت والا ہے‘اس نے اپنی حکمت کے مطابق انسانوں تک پیغام رسانی (communication) کا جو طریقہ چاہا اختیار فرمایا۔

52-53

ایمان قرآن کے ذریعے سے ہی حاصل ہوتا ہے

ویڈیو

وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾ صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِلَی اللّٰہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۵۳﴾

آیت 52

وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے ۔‘‘

یہاں پر قرآن کو رُوحًا مِّن اَمْرِنَا کہا گیا ہے۔

اگلی آیت میں محمد رسول اللہﷺ کے ایمان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آپؐ کو ایمان کہاں سے ملا؟ اس مضمون کے اعتبار سے یہ قرآن حکیم کا اہم ترین مقام ہے۔ حضورﷺ کی ذات کی مثال ایمان کی دہکتی ہوئی بھٹی کی سی ہے کہ جو بھی آپؐ کے قریب آ گیا ایمان کی دولت سے مالا مال ہو گیا۔ البتہ جس طرح ایک خراب موصل (bad conductor) بھٹی کے سامنے ہونے کے باوجود بھی ’’اتصالِ حرارت ‘‘کے عمل سے محروم رہتا ہے اسی طرح بعض بد نصیب انسان (منافقین) آپؐ کی قربت میں رہنے کے باوجود بھی ایمان سے محروم رہے۔

مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ

’’(اے نبیﷺ!) آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے‘‘

آپﷺ نے دنیا کے معروف اور روایتی طریقے سے نہ تو تعلیم حاصل کی تھی اور نہ ہی آپؐ نے تورات یا کوئی اور کتاب پڑھی تھی۔ اس لحاظ سے آپؐ ’’ اُمییّن ‘‘میں سے تھے۔

وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ

’’لیکن اس (قرآن) کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔‘‘

یعنی قرآن کے ذریعے سے حضورﷺ کے ایمان نے ایک حقیقی اور واقعی شکل اختیار کر لی۔ فطرتِ انسانی کے اندر موجود ایمان کی خفتہ (dormant) کیفیت کے بارے میں اس مطالعہ قرآن کے دوران قبل ازیں متعدد بار گفتگو ہو چکی ہے۔ ظاہر ہے روحِ محمدی ﷺ میں تمام انسانی ارواح سے زیادہ قوی ایمان موجود تھا۔ آپؐ کی روح کے ایمان کی کیفیت سورۃ النور کے پانچویں رکوع میں بیان کی گئی مثال کے مطابق ’’نورٌ عَلٰی نُوْرٍ‘‘ کی سی تھی۔ ہمارے علماء نے اس کی تعبیر یوں کی ہے کہ آپؐ کی روح کے اندر اجمالی ایمان پہلے سے موجود تھا‘ جبکہ آپؐ کو تفصیلی ایمان قرآن سے ملا۔ میں اس کی تعبیر یوں کرتا ہوں کہ آپؐ کی روح مبارک کے اندر بالقوۃ (potentioal) ایمان پہلے سے موجود تھا جو خفتہ ( dormant) حالت میں تھا۔ قرآن نے اس ایمان کو فعال (active) کر دیا۔ یعنی قرآن کے نور سے آپؐ کا ایمان جگمگا اٹھا اور آپؐ کی ذات کے اندر ’ ’نورٌ عَلٰی نُوْرٍ‘‘ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد آپؐ بنی نوعِ انسان کو راہِ ہدایت دکھانے کے لیے مینارۂ نور بن گئے۔

وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾

’’اور آپؐ یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔‘‘

جیسے کہ ساحل پر موجود روشنی کا مینار جہازوں کو بندرگارہ تک پہنچنے کا راستہ دکھاتا ہے۔

آیت 53

صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’اُس اللہ کے راستے کی طرف جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ شے جو زمین میں ہے۔‘‘

اَلَاۤ اِلَی اللّٰہِ تَصِیۡرُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۵۳﴾

’’آگاہ ہو جاؤ! تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹ جائیں گے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے