تحریر

الزخرف

آیات ۱۵ تا ۴۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

15-19

فرشتے اللہ کے بندے ہیں بیٹیاں نہیں

ویڈیو

وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ؕ٪۱۵﴾ اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخۡلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصۡفٰکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ ﴿۱۶﴾ وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۱۷﴾ اَوَ مَنۡ یُّنَشَّؤُا فِی الۡحِلۡیَۃِ وَ ہُوَ فِی الۡخِصَامِ غَیۡرُ مُبِیۡنٍ ﴿۱۸﴾ وَ جَعَلُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عِبٰدُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلۡقَہُمۡ ؕ سَتُکۡتَبُ شَہَادَتُہُمۡ وَ یُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۹﴾

آیت 15

وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ

’’اور انہوں نے اُس کے بندوں میں سے اُس کا ایک جزوٹھہرایا۔‘‘

یعنی اُس کے بعض بندوں کو اُس کی اولاد قرار دے دیا۔ انسان کی اولاد دراصل اس کا جزو ہی ہوتا ہے۔باپ کے جسم سے ایک سیل (spermatozone) نکل کر ماں کے جسم کے سیل (ovum) سے ملتا ہے اور ان دو cells کے ملاپ سے بچے کی تخلیق ہوتی ہے ---- cells ماں اور باپ کے اپنے اپنے جسموں کے جزوہی ہوتے ہیں۔

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ؕ٪۱۵﴾

’’یقینا انسان بہت کھلا نا شکرا ہے۔‘‘

آیت 16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخۡلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصۡفٰکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ ﴿۱۶﴾

’’کیا اُس نے بنا لی ہیں اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں اور تمہیں پسند کر لیا ہے بیٹوں کے ساتھ!‘‘

یہ مضمون بہت تکرار کے ساتھ قرآن میں آیا ہے۔

آیت 17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا

’’اور جب ان میں سے کسی کو اُس کی بشارت دی جاتی ہے جس کی مثال وہ رحمان کے لیے بیان کرتا ہے‘‘

وہ بڑی بے شرمی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیٹیاں منسوب کرتے ہیں‘ لیکن جب خود ان میں سے کسی کو اطلاع دی جاتی ہے کہ اُس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے :

ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۱۷﴾

’’تواس کے چہرے پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم کے گھونٹ پی رہا ہوتا ہے۔‘‘

آیت 18

اَوَ مَنۡ یُّنَشَّؤُا فِی الۡحِلۡیَۃِ وَ ہُوَ فِی الۡخِصَامِ غَیۡرُ مُبِیۡنٍ ﴿۱۸﴾

’’ کیا وہ جو پرورش پاتی ہے زیور میں اور بحث میں اپنا موقف واضح نہیں کر سکتی!‘‘

بچیاں پیدائشی طور پر نازک ہوتی ہیں‘ وہ بچپن سے ہی کھلونوں اور گڑیوں کے ساتھ کھیلتی ہیں اور زیورات میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بحث و تکرار کے موقع پر اپنا مدعا بھی واضح انداز میں بیان نہیں کر سکتیں۔ اس کے برعکس لڑکے بچپن سے ہی نسبتاً مضبوط اور جفاکش ہوتے ہیں۔ وہ فطری طور پر ہتھیاروں کے کھلونوں سے کھیلنا اور مارشل گیمز میں حصہ لینا پسند کرتے ہیں۔

آیت 19

وَ جَعَلُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عِبٰدُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا ؕ

’’اور انہوں نے فرشتوں کو‘جو کہ رحمان کے مقرب بندے ہیں (اس کی) بیٹیاں قرار دے دیا ہے۔‘‘

اَشَہِدُوۡا خَلۡقَہُمۡ ؕ سَتُکۡتَبُ شَہَادَتُہُمۡ وَ یُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’کیا یہ لوگ موجود تھے ان کی تخلیق کے وقت؟ ان کی یہ گواہی (کہ فرشتے مؤنث ہیں) لکھ لی جائے گی اور پھر ان سے باز پرس ہو گی۔‘‘

20-21

اللہ کا اذن اور ہے. اس کی رضا اور

ویڈیو

وَ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰہُمۡ ؕ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ٭ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾ اَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ کِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ فَہُمۡ بِہٖ مُسۡتَمۡسِکُوۡنَ ﴿۲۱﴾

آیت 20

وَ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰہُمۡ ؕ

’’اور وہ کہتے ہیں کہ اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی بندگی نہ کرتے۔‘‘

مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ٭ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾

’’ان کے پاس اس کے لیے کوئی علمی سند نہیں ہے‘وہ تو محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔‘‘

آیت 21

اَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ کِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ فَہُمۡ بِہٖ مُسۡتَمۡسِکُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں؟‘‘

کیا ان لوگوں کے پاس ہماری نازل کردہ کوئی کتاب ہے جس سے یہ اپنی اس ملائکہ پرستی کے لیے دلیل پکڑتے ہوں؟یا ان کے معبودانِ باطل لات‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل میں سے کسی نے ان پر کوئی کتاب یا صحیفہ نازل کر رکھا ہے؟ سورۂ ما قبل ( الشوریٰ) کی آیت ۲۱ میں بھی اس سے ملتا جلتا سوال کیا گیا ہے: {اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ } ’’ کیا ان کے ایسے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں کچھ ایسا طے کر دیا ہو جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا؟‘‘

22-25

شرک کے لئے دلیل . . . باپ دادا کی پیروی

ویڈیو

بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ وَ کَذٰلِکَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴿۲۳﴾ قٰلَ اَوَ لَوۡ جِئۡتُکُمۡ بِاَہۡدٰی مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَیۡہِ اٰبَآءَکُمۡ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۲۴﴾ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾

آیت 22

بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آباء و اَجداد کو پایا ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقشِ قدم پر ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

آیت 23

وَ کَذٰلِکَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ

’’اور (اے نبیﷺ!) اسی طرح ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے کسی بستی میں کسی خبردار کرنے والے کومگر اُس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا‘‘

اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴿۲۳﴾

’’کہ ہم نے پایا ہے اپنے آباء و اَجداد کو ایک راستے پر اور اب ہم ان ہی کے نقشِ قدم کی اقتدا کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 24

قٰلَ اَوَ لَوۡ جِئۡتُکُمۡ بِاَہۡدٰی مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَیۡہِ اٰبَآءَکُمۡ ؕ

’’ اُس (خبردار کرنے والے) نے کہا کہ خواہ میں لایا ہو ں تمہارے پاس زیادہ ہدایت والی چیز اُس کے مقابلے میں جس پر تم نے اپنے آباء و اَجداد کو پایا!‘‘

ہر قوم کی طرف جونبی بھیجا گیا اُس نے اپنی قوم سے سوال کیا کہ خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے جب بھی تم انہی کے نقش قدم کی پیروی کرو گے اور اُسی ڈگر پر چلتے جاؤ گے؟

قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’انہوں نے کہا کہ ہم اُس کے جس کے ساتھ آپ بھیجے گئے ہیں‘ منکر ہیں۔‘‘

یوں ہر قوم کے لوگ پوری ڈھٹائی کے ساتھ سینہ تان کر اپنے نبی ؑ کا انکار کرتے رہے ۔

آیت 25

فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾

’’تو ہم نے اُن سے انتقام لیا‘تو دیکھ لو پھر کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا!‘‘

26-28

دینِ ابراہیم علیہ السلام توحید خالص تھا

ویڈیو

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾ اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۲۷﴾ وَ جَعَلَہَا کَلِمَۃًۢ بَاقِیَۃً فِیۡ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾

آیت 26

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾

’’اور یاد کرو جب ابراہیم ؑنے کہا تھا اپنے والد اور اپنی قوم سے کہ یقینا میں بیزار ہوں ان سے جنہیں تم پوجتے ہو۔‘‘

آیت 27

اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۲۷﴾

’’سوائے اُس ہستی کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے‘ تو یقینا وہی مجھے راستہ دکھائے گا۔‘‘

آیت 28

وَ جَعَلَہَا کَلِمَۃًۢ بَاقِیَۃً فِیۡ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’اور اُس نے اسی بات کو باقی رکھا اپنے پیچھے (اپنی اولاد میں) بھی تا کہ وہ (اللہ ہی کی جناب میں )رجوع کیے رہیں۔‘‘

یہی بات سورۃ البقرۃ میں یوں بیان ہوئی ہے: {وَ وَصّٰی بِہَاۤ اِبۡرٰہٖمُ بَنِیۡہِ وَ یَعۡقُوۡبُ ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰی لَکُمُ الدِّیۡنَ فَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿ؕ۱۳۲﴾} ’’ اور اسی کی وصیت کی تھی ابراہیم ؑنے اپنے بیٹوں کو اور یعقوبؑ نے بھی ‘کہ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے ‘پس تم ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان!‘‘

29-32

کیا رسول کسی دولت مند کو ہونا چاہیے؟

ویڈیو

بَلۡ مَتَّعۡتُ ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡحَقُّ وَ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۹﴾ وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾ وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾ اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِیًّا ؕ وَ رَحۡمَتُ رَبِّکَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۳۲﴾

آیت 29

بَلۡ مَتَّعۡتُ ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡحَقُّ وَ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۹﴾

’’ لیکن میں نے ان لوگوں کو اور ان کے آباء و اَجداد کو کچھ سازو سامان دے دیا‘ یہاں تک کہ ان کے پاس آگیا حق اور ایک واضح کر دینے والا رسول۔‘‘

آیت 30

وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾

’’ اور جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔‘‘

آیت 31

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾

’’ اور کہنے لگے کہ کیوں نہیں اتارا گیا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم شخص پر؟‘‘

یہاں اصل مرکب توصیفی ’’رَجُلٍ عَظِیْمٍ‘‘ ہے ‘لیکن ان دو الفاظ کے درمیان ’’مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ‘‘ آ جانے سے ’’رجل ‘‘کی صفت (عظیم) آخر پر چلی گئی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق الفاظ کی یہ تقدیم و تاخیر مخصوص صوتی آہنگ کے باعث ہوتی ہے جس کی مثالیں قرآن میں جا بجا ملتی ہیں۔

مکہ اور طائف نزولِ قرآن کے زمانے میں (پاکستان کے راولپنڈی اور اسلام آباد کی طرح) جڑواں شہر (twin cities) سمجھے جاتے تھے۔ دونوں شہروں کے لوگوں کے آپس میں گہرے مراسم تھے۔ مکہ کے اکثر سرداروں کی طائف میں بڑی بڑی جائیدادیں تھیں۔ ان میں ولید بن مغیرہ کا ذکر روایات میں خاص طور پر آتا ہے کہ طائف میں اس کے بہت سے باغات اور مکانات تھے۔ مذکورہ جملہ دراصل اس پس منظر میں کسا گیا تھا کہ ان دونوں شہروں کی بڑی شخصیات کو چھوڑ کر اللہ کو رسول بنانے اور اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کے لیے آخر قریش کا ایک یتیم ہی کیوں پسند آیا ہے!

آیت 32

اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ

’’کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کریں گے؟‘‘

نبوت اور وحی اللہ کی رحمت کا بہت بڑا مظہر ہے۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ ہماری اس رحمت کا حقدار کون ہے اور ہم یہ فیصلہ اپنی مشیت و حکمت کے مطابق کرتے ہیں کہ اس بلند مرتبے پر کسے فائز ہونا ہے۔ چنانچہ ہم نے خود اس منصب کے لیے محمد (ﷺ) کا انتخاب فرمایا ہے اور آپ کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجاہے۔ ہمارے اس فیصلے پر اعتراض کرنے کا حق انہیں کس نے دیا ہے؟

نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا

’’ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کا سامان دُنیا کی زندگی میں تقسیم کر دیا ہے‘‘

وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ

’’اور ان میں سے بعض کو بعض پر ہم نے درجات میں فوقیت دے دی ہے‘‘

کسی کو کھاتے پیتے والدین کے گھر پیدا کر کے پیدائشی طور پر خوشحال بنا دیا ہے تو کسی کو اس حال میں رکھا ہے کہ اسے دن بھر مشقت کر کے بھی دو وقت کا کھانا میسر نہیں ہوتا۔

لِّیَتَّخِذَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِیًّا ؕ

’’تا کہ بعض لوگ دوسروں کو خدمت گار بنا سکیں۔‘‘

اگر وہ سب کو ایک جیسا بنا دیتا تو کوئی کسی کی ملازمت کیوںکرتا؟ اور مختلف کام کرنے والے مزدور کہاں سے ملتے؟ بہر حال اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی اسی درجہ بندی کی بدولت دنیا میں ہر قسم کا کام کرنے والے پیشہ ور لوگ دستیاب ہیں اور اسی وجہ سے یہ کارخانۂ تمدن چل رہا ہے۔

وَ رَحۡمَتُ رَبِّکَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۳۲﴾

’’اور آپ کے رب کی رحمت کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو یہ لوگ جمع کر رہے ہیں۔‘‘

سورۂ یونس میں بالکل یہی الفاظ قرآن مجید کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں:

دوسرے مقام کی آیت

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾

’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے امراض) کی شفااور اہل ایمان کے حق میں ہدایت اور (بہت بڑی) رحمت۔ (اے نبیﷺ!ان سے )کہہ دیجیے کہ یہ ( قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے۔ تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں۔ وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘

33-35

اللہ کی نگاہ میں دنیا کی حقیقت

ویڈیو

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلۡنَا لِمَنۡ یَّکۡفُرُ بِالرَّحۡمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظۡہَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾ وَ لِبُیُوۡتِہِمۡ اَبۡوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیۡہَا یَتَّکِـُٔوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾ وَ زُخۡرُفًا ؕ وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۳۵﴾

آیت 33

وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً

’’اور اگر یہ (اندیشہ) نہ ہوتا کہ تمام لوگ ایک ہی اُمت بن جائیں گے‘‘

یعنی اگر تمام لوگوں کے کافر اور منکر ہو جانے کا خدشہ نہ ہوتا:

لَّجَعَلۡنَا لِمَنۡ یَّکۡفُرُ بِالرَّحۡمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظۡہَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾

’’تو جو لوگ رحمن کا کفر کرتے ہم ان کے لیے بنا دیتے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے۔‘‘

آیت 34

وَ لِبُیُوۡتِہِمۡ اَبۡوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیۡہَا یَتَّکِـُٔوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾

’’اور ان کے گھروں کے دروازے اور وہ تخت بھی (چاندی کے ہوتے) جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے۔‘‘

آیت 35

وَ زُخۡرُفًا ؕ

’’اور سونے کی بھی (بنا دیتے)۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی ان چیزوں کی سرے سے کوئی وقعت ہے ہی نہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث نبویؐ قبل ازیں متعدد بار دہرائی جا چکی ہے کہ اگر دنیا و مافیہا کی وقعت اللہ کی نگاہ میں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو دنیا میں وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔

چونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی دولت اور زیب وزینت کی کوئی اہمیت ہے ہی نہیں‘ اس لیے وہ تو اپنے سرکش اور نا فرمان انسانوں کو بھی طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا رہتا ہے ۔

وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ

’’ اور یہ سب کچھ تو بس دنیا کی زندگی کا سازو سامان ہے۔‘‘

کسی کا محل سونے کا ہو یا چاندی کا‘وہ اسے اپنے ساتھ قبر میں تو نہیں لے جا سکتا۔ دنیا کا سازو سامان جو کچھ بھی ہو‘ جتنا کچھ بھی ہو یہیں اسی دنیا میں چھوڑ کر انسان آخرت کو سدھا ر جائے گا۔

وَ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۳۵﴾

’’اور آخرت (کی کامیابی) آپ کے رب کے نزدیک صرف اہلِ تقویٰ کے لیے ہے۔‘‘

36-39

شیطان کا وار کس پر چلتا ہے؟

ویڈیو

وَ مَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ ﴿۳۶﴾ وَ اِنَّہُمۡ لَیَصُدُّوۡنَہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۷﴾ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ ﴿۳۸﴾ وَ لَنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡیَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۹﴾

آیت 36

وَ مَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ ﴿۳۶﴾

’’اور جو کوئی منہ پھیر لے رحمان کے ذکر سے‘ اس پر ہم ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں ‘تو وہ اس کا ساتھی بنا رہتا ہے۔‘‘

آیت 37

وَ اِنَّہُمۡ لَیَصُدُّوۡنَہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۷﴾

’’اور وہ (شیاطین) ان کو روکتے ہیں سیدھے راستے سے‘اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘

ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی منصوبہ بندی بڑی کامیاب ہے‘ کاروبار خوب جم رہا ہے‘ دولت تیزی سے بڑھ رہی ہے‘ پہلے ایک فیکٹری تھی‘ پھر دو ہوئیں اور اب تین ہو گئی ہیں۔ وہ اپنی انہیں کامیابیوں پر نازاں و فرحاں مسلسل دنیا سمیٹنے میں لگے رہتے ہیں۔

آیت 38

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ ﴿۳۸﴾

’’یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی شیطان سے) کہے گا کہ کاش میرے اور تمہارے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا‘ توتو بہت ہی برا ساتھی ہے!‘‘

آیت 39

وَ لَنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡیَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۹﴾

’’اور جب کہ تم ظلم کرتے رہے ہو تو آج کے دن یہ بات تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے گی کہ تم سب عذاب میں شریک ہو۔‘‘

اپنے ظلم کے نتیجے میں تم اور تمہارے شیطان ساتھی جہنم کا عذاب اکٹھے بھگتو گے‘ مگر ان شیاطین کا عذاب میں تمہارے ساتھ شریک ہونا تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اس سے تمہارے اپنے عذاب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔

40-45

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی

ویڈیو

اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ اَوۡ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۴۰﴾ فَاِمَّا نَذۡہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنۡہُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾ اَوۡ نُرِیَنَّکَ الَّذِیۡ وَعَدۡنٰہُمۡ فَاِنَّا عَلَیۡہِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴿۴۲﴾ فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۴۳﴾ وَ اِنَّہٗ لَذِکۡرٌ لَّکَ وَ لِقَوۡمِکَ ۚ وَ سَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۴۴﴾ وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ ﴿٪۴۵﴾

آیت 40

اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ اَوۡ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۴۰﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) کیا آپ بہروں کو سنائیں گے یا آپ اندھوں کو راہ دکھائیں گے ‘اور ان کو جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں!‘‘

آیت 41

فَاِمَّا نَذۡہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنۡہُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾

’’تو اگرہم آپ کو لے بھی جائیں ‘تب بھی ان سے تو ہم انتقام لے کر ہی رہیں گے۔‘‘

اگر ہم آپ کو اپنے پاس بلا لیں تب بھی انہیں تو ان کے جرائم کی سزا مل کر ہی رہے گی۔

آیت 42

اَوۡ نُرِیَنَّکَ الَّذِیۡ وَعَدۡنٰہُمۡ فَاِنَّا عَلَیۡہِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’یا (یہ بھی ہو سکتا ہے کہ) ہم آپؐ کو دکھا دیں وہ کچھ جس کا ہم نے ا ن سے وعدہ کیا ہے‘ ہمیں یقینا ان پر پوری قدرت حاصل ہے۔‘‘

ہم چاہیں تو آپؐ کی زندگی میں ہی ان پر فیصلہ کن عذاب لے آئیں اور چاہیں تو آپؐ کے بعد ان پر گرفت کریں۔

آیت 43

فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۴۳﴾

’’تو(اے نبیﷺ!) آپ مضبوطی سے تھام لیجیے اس کو جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے‘ یقینا آپ سیدھے راستے پر ہیں۔‘‘

اسی فعل سے اسم الفاعل (مُسْتَمْسِکُوْنَ) اس سے قبل آیت ۲۱ میں مشرکین کے حوالے سے آ چکا ہے کہ کیاان کے پاس اللہ کی دی ہوئی کوئی کتاب ہے جس کو وہ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں؟ پھر یہی لفظ نبی اکرم ﷺ کے خطبۂ حجۃ الوداع میں بھی آیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: حدیث((تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمْسَکْتُمْ بِھِمَا : کِتَابَ اللّٰہِ وَسُنَّۃَ رَسُوْلِہٖ))۱ ’’ میں آپ لوگوں کے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ‘ اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ‘اور وہ ہیں:اللہ کی کتاب اور اُس کے رسول کی سنت۔‘‘

(۱) رواہ مالک بن انس مرسلاً فی الموطأ۔ بحوالہ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب الایمان‘ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔

آیت 44

وَ اِنَّہٗ لَذِکۡرٌ لَّکَ وَ لِقَوۡمِکَ ۚ وَ سَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’اور یہ (قرآن) آپ کے لیے بھی یاد دہانی ہے اور آپ کی قوم کے لیے بھی‘ اور عنقریب آپ سب سے پوچھ گچھ ہو گی۔‘‘

یہ قرآن گویا آپ کا وظیفہ ہے ۔ آپؐ اسے ہمیشہ پڑھتے رہیے اور آپ ؐکی قوم کی ہدایت و فلاح بھی اسی میں ہے۔

آیت 45

وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ

’’اور آپ پوچھ لیجیے ان سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا اپنے رسولوں میں سے‘‘

یعنی عالمِ ارواح میں تو آپﷺ کی ملاقات تمام انبیاء ورسل علیہم السلام سے رہی تھی۔ معراج کے موقع پر بھی بیت المقدس میں آپؐ نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت کرائی تھی۔ آپ ان میں سے کسی سے بھی پوچھ لیجیے۔

اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ ﴿٪۴۵﴾

’’کیا ہم نے رحمان کے سوا کوئی اور بھی ایسے معبود بنائے ہیں کہ جن کی پوجا کی جائے؟‘‘

آپ جس سے بھی پوچھیں گے ایسی کوئی گواہی آپ کو نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی نبی کی تعلیمات سے ایسی کسی بات کا کہیں سراغ ملے گا۔

یوٹیوب پر دیکھیے