اِسۡتَجِیۡبُوۡا لِرَبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ ؕ
’’(اے اہلِ ایمان!) اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو ‘اس سے پہلے کہ اللہ کے حکم سے وہ دن آ جائے جسے لوٹایا نہ جا سکے گا۔‘‘
یہ اسی ’’استجابت ‘‘ کا ذکر ہے جس کے بارے میں قبل ازیں ہم آیت ۳۸ میں پڑھ چکے ہیں۔ وہاں یہ ذکر اصحابِ عزیمت کی مدح کے طور پر آیا تھا‘ لیکن یہاں اب اس کے لیے ترغیب و تشویق کا اندازہے کہ اے لوگو! اب جبکہ تم نے یہ تمام احکام پڑھ لیے ہیں‘غلبۂ دین کے حوالے سے تم نے اپنے فرائض کو سمجھ لیا ہے‘اس ضمن میں اپنے رب کی مرضی و منشا بھی تمہیں معلوم ہو چکی ہے‘ تواب آؤ! آگے بڑھو! اور اپنے رب کی پکار پر فوراً لبیک کہو!
دراصل تم میں سے ہر کسی نے اپنی اپنی زندگی کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہیں۔ چنانچہ اگر کسی کو اپنے اس ’’فرض‘‘ کی ادائیگی کا احساس ہو بھی جاتا ہے تو بھی اس کا دل انہی منصوبوں میں اٹکا رہتا ہے کہ بس میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچا لوں‘ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو لوں وہ فرض نبھا لوں‘تو خو دکودین کے لیے وقف کر دوں گا۔ مگر تم خوب جانتے ہو کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں‘یہ کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ موت تمہارے سامنے آن کھڑی ہو‘تم {اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ } کے حکم پر کان دھرو! اور اپنے رب کی اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے دوسروں کے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھو!اور اپنی مدتِ مہلت ختم ہونے سے پہلے پہلے کرنے کا یہ اصل کام کر لو!
مَا لَکُمۡ مِّنۡ مَّلۡجَاٍ یَّوۡمَئِذٍ وَّ مَا لَکُمۡ مِّنۡ نَّکِیۡرٍ ﴿۴۷﴾
’’نہیں ہو گی تمہارے لیے اُس دن کوئی جائے پناہ اور نہیں ہو گا تمہارے لیے کوئی موقع انکار۔‘‘
یعنی تم اپنے کرتوتوں میں سے کسی کا انکار نہیں کر سکو گے۔ ان الفاظ کا یہ مفہوم بھی ہے کہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کیا جائے گا تم اس پر نہ تو کوئی احتجاج کر سکو گے اور نہ ہی اپنی حالت کو تبدیل کرنا تمہارے بس میں ہو گا۔
فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ عَلَیۡہِمۡ حَفِیۡظًا ؕ
’’پھر اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے نبیﷺ!) ہم نے آپ کو ان پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا۔‘‘
یعنی اگر یہ لوگ اب بھی اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے کمربستہ نہ ہوں تو ان کی اس کوتاہی کی ذمہ داری آپ ؐپرنہیں ہو گی۔
اِنۡ عَلَیۡکَ اِلَّا الۡبَلٰغُ ؕ
’’نہیں ہے آپ پر کوئی ذمہ داری مگر صاف صاف پہنچا دینے کی۔‘‘
وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً فَرِحَ بِہَا ۚ
’’اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا کوئی مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے۔‘‘
وَ اِنۡ تُصِبۡہُمۡ سَیِّئَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ فَاِنَّ الۡاِنۡسَانَ کَفُوۡرٌ ﴿۴۸﴾
’’اور اگر ان پر آ پڑے کوئی برائی ان کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی بدولت تو انسان بالکل نا شکرا بن جاتا ہے۔‘‘