تحریر

الشورى

آیات ۳۶ تا ۴۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

36-39

اقامت دین کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے اوصاف

ویڈیو

فَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ ﴿ۚ۳۷﴾ وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾ وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾

تمہید

گزشتہ آیات میں مکی سورتوں کے عمومی مضامین مثلاًمشرکین کے ساتھ ردوکدح‘آخرت کی جزا و سزا اوراللہ کی نشانیوں اور نعمتوں کا تذکرہ تھا ‘لیکن اس کے بعد موضوع پھر سے سورت کے عمود یا مرکزی مضمون کی طرف لوٹ رہا ہے۔ چنانچہ آئندہ آٹھ آیات میں وہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو اقامت دین کی جدوجہد کرنے والے افراد کی سیرت کے لیے ناگزیز ہیں۔ انہی اوصاف کو اپنانے سے دراصل ایک ایسے مردِ مؤمن کے کردار کا نقشہ تیار ہوتا ہے جو اس میدانِ کارزار میں قدم رکھتے ہوئے طے کر لیتا ہے کہ: {اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾} ( الانعام) ’’ میری نماز‘میری قربانی‘میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘۔ اقامت دین کی جدوجہد کے علمبردار افراد کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان اوصاف کو اپنائے بغیر ان کے کردار و عمل میں وہ مضبوط ’’جان‘‘ پیدا نہیںہو گی جو اس ’’معرکۂ روح و بدن ‘‘ میں پیش کرنے کے لیے درکار ہے۔ اسی ضرورت اور شرط کو اقبال ؔنے یوں بیان کیا ہے: ؎

ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ

پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے!

آئیے اب ہم ایک ایک کر کے ان اوصاف کا جائزہ لیتے ہیں ۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت ملاحظہ ہو:

آیت 36

فَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَمَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ

’’پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیا ہی کی زندگی کا سازو سامان ہے۔‘‘

وَ مَا عِنۡدَ اللّٰہِ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾

’’اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘

گویا اس منزل کے مسافروں کو سب سے پہلے اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور ایسی سوچ اپنانا ہو گی جس کے مطابق دنیا و مافیہا انہیں ہیچ نظر آئے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی زندگی ان کا اصل مقصود و مطلوب بن جائے۔اگر دنیا کی محبت دل کے کسی گوشے میں چھپی رہ گئی تو وہ اس میدان کے بڑے سے بڑے شہسوار کو بھی کبھی نہ کبھی ضرور اڑنگا لگا کر منہ کے بل گرائے گی۔ چنانچہ آدمی سب سے پہلے یہ طے کرے کہ وہ طالبِ آخرت ہے یا طالب دنیا؟اقامت دین کی جدوجہد کے علمبرداروں کا پہلا وصف یہاں یہ بیان ہو اہے کہ وہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کر کے آخرت کو اپنا مقصود و مطلوب بنا لیتے ہیں‘ جبکہ آیت کے اختتامی الفاظ کے مطابق ان کا دوسرا وصف یہ ہے: {وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ} یعنی وہ ہر حال اور ہر کیفیت میں اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔

آیت 37

وَ الَّذِیۡنَ یَجۡتَنِبُوۡنَ کَبٰٓئِرَ الۡاِثۡمِ وَ الۡفَوَاحِشَ

’’اور وہ لوگ کہ جو اجتناب کرتے ہیں بڑے بڑے گناہوں سے اور بے حیائی کے کاموں سے‘‘

ظاہر ہے اس مقدس فریضہ کو نبھانے کا حلف اٹھانے والے رضاکار اگر اپنے دامنِ کردار کو ایسی نجاستوں سے بچا کر نہیں رکھیں گے تو وہ اس میدان میں آگے کیسے بڑھ سکیں گے۔ یہی مضمون سورۃ النساء کے اندر ہم ان الفاظ میں پڑھ چکے ہیں: {اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡہُ نُکَفِّرۡ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ نُدۡخِلۡکُمۡ مُّدۡخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾} ’’اگر تم اجتناب کرتے رہو گے ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تمہیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی برائیوں کو تم سے دور کر دیں گے اور تمہیں داخل کریں گے بہت با عزت جگہ پر‘‘۔ صغائر اور کبائر کے حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سے ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک بندۂ مؤمن کو کبائر کے معاملے میں غیر معمولی طور پر حساس ہونا چاہیے۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں عمومی روش یہ ہے کہ ہم صغائر کے بارے میں تو بہت زیادہ باریک بین بننے کی کوشش کرتے ہیں‘ چھوٹے چھوٹے مسائل کے بارے میں وضاحتیں اور فتوے بھی طلب کرتے رہتے ہیں‘مگر کبائر سے متعلق لاپرواہی برتتے ہیں۔ حالانکہ صغائر تو {اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ } (ھود: ۱۱۴) کے اصول کے تحت ساتھ ہی ساتھ معاف ہوتے رہتے ہیں اور سورۃ النساء کی متذکرہ بالا آیت میں بھی یہی بشار ت دی جا رہی ہے کہ اگر تم لوگ کبائر سے بچتے رہو گے تو تمہارے صغائر ہم خود معاف کر دیں گے۔ لیکن اس کے باوجود کبائر سے متعلق لاپرواہی اور صغائر کے بارے میں ’’حساسیت ‘‘کا عمومی رویہ ہمارے معاشرے میں ایک متعدی بیماری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس حوالے سے ہماری مشابہت بنی اسرائیل کی اس کیفیت کے ساتھ ہو چکی ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح علیہ السلام نے انہیں فرمایا تھا کہ ’’تم لوگ مچھر چھانتے ہو اور سموچے اونٹ نگل جاتے ہو‘‘۔بہر حال اللہ کے راستے میں نکلنے والے مجاہدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ تقویٰ کی روش پر کاربند رہیں اور کبائرو فواحش سے اپنا دامن بچا کر رکھیں۔

وَ اِذَا مَا غَضِبُوۡا ہُمۡ یَغۡفِرُوۡنَ ﴿ۚ۳۷﴾

’’اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں۔‘‘

غَفَرَ کے معنی ڈھانپ دینے کے ہیں ۔ اس معنی میں اس آ ہنی خود کو مِغْفَر کہا جاتا ہے جس سے دورانِ جنگ تلوار وغیرہ کے وار سے بچنے کے لیے سر کو ڈھانپا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مغفرت سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی ہے جو بندے کے گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ لہٰذا مؤمنینِ صادقین کا یہاں جو وصف بتایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ غصے کا اظہار کرنے کے بجائے اسے پی جاتے ہیں۔ اشتعال کی حالت میں وہ کوئی اقدام نہیں کرتے بلکہ اپنے فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور انتقام لینے کے بجائے معاف کرنے کی حکمت عملی کو ترجیح دیتے ہیں۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۳۴ میں بھی متقین کی تعریف میں یہی صفت بیان کی گئی ہے: {وَ الۡکٰظِمِیۡنَ الۡغَیۡظَ وَ الۡعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ } کہ وہ اپنے غصے کو پی جانے والے اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے والے لوگ ہیں۔ چونکہ غصہ اور غصے کی کیفیت میں انسان کا اشتعال شیطانی اثرات کی بنا پر ہوتا ہے اس لیے سورۂ حٰم السجدۃکی آیت ۳۶ میں دی گئی یہ ہدایت غصے اور اس کے منفی اثرات سے بچنے کا بہترین نسخہ ہے: {وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ } (آیت ۳۶) ’’اور اگر کبھی تمہیں شیطان سے کو ئی چوک لگنے لگے تو اللہ کی پناہ طلب کر لیا کرو‘‘ --------اب آگے چلیے اگلے وصف کی طرف:

آیت 38

وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ۪

’’اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہااور نماز قائم کی۔‘‘

یہ کون سی پکار ہے؟ اس حوالے سے یہ اہم نکتہ ذہن میں رکھئے کہ اس سورت میں اب تک جمع کے صیغے میں فعل امر ایک ہی مرتبہ آیا ہے ‘یعنی { اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ } اور جمع کے صیغے میں اب تک ایک ہی مرتبہ فعل نہی آیا ہے ‘یعنی {وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ} ۔ چنانچہ یہی وہ پکار یا حکم ہے جس کی استجابت کا ذکر یہاں ہوا ہے ‘یعنی: {اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ } (آیت ۱۳) ’’ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو‘‘۔ اور اسی کے بارے میں حضورﷺ کو آیت ۱۵ میں مخاطب کر کے فرمایا گیا تھا: {فَلِذٰلِکَ فَادۡعُ ۚ وَ اسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ } کہ آپؐ کی دعوت کا عمود اور مرکزی پیغام اقامت دین ہے‘ اسی کی طرف آپؐ نے لوگوں کو بلانا ہے‘ اسی کی ضرورت اور اہمیت کو ان کے اذہان میں نقش (hammer) کرنا ہے۔ یہی آپؐ کا مشن ہے اور یہی آپؐ کی دعوت کا اصل ہدف۔ آپؐ اپنے اسی مشن اور اسی موقف پر ڈٹے رہیے اور مخالفین کی مخالفت کی بالکل پروا نہ کیجیے۔

بلاشبہ یہ مشن بہت عظیم ہے اور اسی نسبت سے اس کی جدوجہد کے لیے خصوصی سیرت و کردار کے حامل مردانِ کار درکار ہیں۔ چنانچہ آیاتِ زیر مطالعہ میں ان اوصاف کا تذکرہ ہے جو اس مشن کے علمبرداروں کی شخصیات کے لیے ناگزیر ہیں۔ نماز کی پابندی کے بعد اگلا وصف بیان ہوا :

وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪

’’اور ان کا کام آپس میں مشورے سے ہوتا ہے۔‘‘

ظاہر ہے اقامت دین کی جدوجہد کے لیے اجتماعیت درکار ہے اور اجتماعی زندگی میں فیصلے کرنے اور مختلف امور نپٹانے کے لیے باہمی مشاورت بہت ضروری ہے۔ لیکن کسی اجتماعیت کے اندر اگر مؤثر مشاورتی نظام موجود نہیں ہو گا اور کوئی ایک فرد دوسروں پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا طرزِ عمل اپنانے کی کوشش کرے گاتو اس سے نہ صرف اجتماعی جدوجہد کو نقصان پہنچے گا بلکہ خود اس اجتماعیت کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔

جماعتی زندگی میں مشاورت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزوۂ اُحد میں جن صحابہؓ سے درّہ چھوڑنے کی غلطی سرزد ہوئی ان کے بارے میں حضورﷺ کو حکم دیا گیا: {فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ } (آل عمران:۱۵۹) کہ نہ صرف آپؐانہیں معاف کر دیں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں بلکہ انہیں مشورے میں بھی شامل رکھیں۔ مشاورت کے عمل سے اجتماعیت کو تقویت ملتی ہے۔ اس سے ساتھیوں کے مابین مشترکہ سوچ اور باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو جماعت کے اندر اپنی موجودگی کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے کہ اس کی بات سنی جاتی ہے۔

حضورﷺ خود بھی صحابہؓ سے مشورے کو بہت اہمیت دیتے تھے ‘بلکہ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوا کہ حضورؐ نے اپنی رائے پر صحابہؓ کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلہ صادر فرمایا۔مثلاً غزوۂ بدر کے موقع پر حضورﷺ نے لشکر کے کیمپ کے لیے ایک جگہ کا انتخاب فرمایا۔ مگر جب کیمپ لگ چکا تو کچھ صحابہؓ نے آپؐ سے اجازت لے کر رائے دی کہ بعض وجوہات کی بنا پر دوسری جگہ کیمپ کے لیے زیادہ موزوں تھی۔ چنانچہ آپؐ نے صحابہؓ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کیمپ اکھاڑ کر صحابہؓ کی مجوزہ جگہ پر لگا نے کا حکم دے دیا۔بہر حال اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف جماعت کے نظم و نسق کا تقاضا ہے کہ اس جماعت میں مشاورت کا خصوصی اہتمام رکھا جائے۔

وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۳۸﴾

’’اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔‘‘

دعوت واقامت دین کی جدوجہد میں مصروف لوگوں کو جہاں اپنے وقت اور اپنی جانوں کی قربانی دینا پڑے گی ‘وہاں اس راستے میں انہیں اپنا مال بھی خرچ کرنا پڑے گا۔ چنانچہ متعلقہ لوگوں کے اوصاف میں سے ایک وصف یہ بھی گنوا دیا گیا کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے ’’انفاق‘‘ بھی کرتے ہیں۔

قرآن کو غور سے پڑھنے والا شخص جانتا ہے کہ اس کے بہت سے مضامین ایک جیسے الفاظ کے ساتھ دہرا دہرا کر بیان ہوئے ہیں۔ خاص طور پر مکی سورتوں میں ملتی جلتی آیات مختلف اسالیب کے ساتھ بار بار آئی ہیں۔ اسی لیے قرآن کو کِتٰـباً مُتَشَابِھًا (الزمر: ۲۳) کا نام بھی دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر سورت کا ایک خاص مرکزی مضمون یا عمود بھی ہے جسے مضامین کے تنوع اور تکرار میں سے تلاش کرنے کے لیے غور و فکر اور تدبر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سورۃ الشوریٰ پر اگر اس پہلو سے غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس سورت میں اگرچہ دوسری مکی سورتوں کے تمام مضامین بھی وارد ہوئے ہیں‘ لیکن اس کا مرکزی مضمون یا عمود ’’اقامت دین ‘‘ہے۔ اوراس مضمون کے اعتبار سے اس سورت کی زیر مطالعہ آیات پورے قرآن میں منفرد اور ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ ان آیات کی اس اہمیت کے پیش نظر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون سے متعلق جن نکات کا ہم اب تک مطالعہ کر چکے ہیں انہیں ایک مرتبہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیا جائے۔

چنانچہ اعادہ کے لیے ایک دفعہ پھر آیت ۱۰ کی طرف رجوع کریں جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا تصور ان الفاظ میں واضح کیا گیا ہے: {وَ مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ } یعنی تمہارے باہمی اختلافات میں حکم دینے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے ۔ یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے ہم سورۂ یوسف میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے جیل کے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: {اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ } (آیت۴۰) یعنی حاکمیت کا اختیار صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے ‘اُس نے حکم دیا ہے کہ اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو‘ یہی دین قیم ہے۔ اس کے بعد آیت ۱۳ سے لے کر آیت ۲۱ تک ۹ آیات میں اقامت دین کا مضمون بہت جامع انداز میں بیان ہوا ہے۔ لیکن ان میں سے بھی پہلی تین آیات اپنی جامعیت کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ آیت ۱۳ میں فرمایا گیا: {اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ} کہ دین کو قائم کرو اور اس معاملے میں اختلاف میں نہ پڑو۔ یعنی جزئیات اور فروعات میں اختلاف کاہونا اور بات ہے ‘لیکن دین کی اصل وحدت اور دین کے غلبہ کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں تفرقہ باز ی نہیں ہونی چاہیے ۔ پھر اس کے بعد آیت ۱۵ میں حضورﷺ کے لیے یہ حکم اس حوالے سے بہت اہم ہے: {وَ اسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ } کہ آپؐ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے موقف پر ڈٹے رہیے اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔پھر اسی آیت کے یہ الفاظ تو گویا اس مضمون کی شہ سرخی کا درجہ رکھتے ہیں : {وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ } کہ آپؐ اعلان کردیجیے کہ میں تم لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنے کے لیے آیا ہوں۔میں تم لوگوں کو صرف نصیحتیں کرنے اور وعظ سنانے کے لیے نہیں آیا بلکہ معاشرے میں اجتماعی طور پر عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا میرا فرضِ منصبی ہے۔ پھر اس سلسلے کی آخری بات آیت ۲۱ میں یوں فرمائی گئی: {اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ} کہ کیا ان کے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جس نے ان کو دین عطا کیا ہے اور ان کے لیے کوئی جامع نظام اور کوئی ضابطہ حیات وضع کیا ہے؟ یعنی وہ ذات تو صر ف اللہ ہی کی ہے جس نے اپنے بندوں کو دین حق عطا کیا ہے جو ان کے لیے مکمل اور کامل ضابطہ حیات ہے۔ [سورۃ المائدۃ کی آیت ۳ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی کاملیت کی سند ان الفاظ میں عطا فرمائی ہے: {اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ } ]

پھر آیت ۳۶ سے آیت ۴۳ تک آٹھ آیات میں وہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں جو اقامت دین کی جدوجہد کے علمبرداروں کو اپنی شخصیات میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں بھی پہلی تین آیات بہت جامع اور اہم ہیں۔ ان تین آیت میں جن اہم نکات کا ابھی ہم نے مطالعہ کیا ہے ان میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور اس کے مقابلے میں دنیا و مافیہا کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے۔ چنانچہ غلبۂ دین کی جدوجہد کے لیے نکلنے والے ہر شخص کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ دنیا کے لیے اس کی محنت صرف بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کی حد تک محدود رہے گی ‘جبکہ اس کا اصل مقصود و مطلوب آخرت کی زندگی اور اس زندگی کی کامیابی ہے۔ ثانیاً اس جدوجہد میں توکل صرف اور صرف اللہ کی ذات پر ہو گا۔ مادی وسائل‘اپنی ذہانت‘طاقت اور صلاحیت پر تکیہ نہیں کیا جائے گا۔ ثالثاً تقویٰ‘تزکیہ نفس اور اصلاحِ کردار کی طرف خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے لیے کبائر اور فواحش سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہو گی اور غصہ سمیت تمام باطنی خبائث سے بھی اپنے سینوں کو پاک کرنا ہو گا۔

پھر جو لوگ اللہ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اقامت دین کی جدوجہد پر کمربستہ ہو جائیں‘انہیں اللہ تعالیٰ سے قلبی رشتہ جوڑنے اور یہ رشتہ قائم رکھنے کے لیے نماز کا التزام کرنا ہو گا۔ ان کے تمام فیصلے باہمی مشاورت سے طے ہوں گے اور اس جدوجہد میں ان کو اپنا وقت‘اپنا مال‘اپنی صلاحیتیں غرض اپنا وہ سب کچھ کھپا دینے کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہو گا جو اللہ نے انہیں دیا ہے ۔

زیر مطالعہ سورتوں میں انسانی سیرت و کردار سے متعلق جو ہدایات آئی ہیں ان کے بارے میں یہ نکتہ بھی مدنظر رہنا چاہیے کہ صحابہؓ کے کردار کے وہ تمام پہلو جو مدنی دور میں نمایاں ہوئے ان کی تمہید مکی دور میں ہی اٹھائی گئی تھی اور مدینہ پہنچے سے پہلے ہی ان ہدایات و احکام کے ذریعے ان لوگوں کو عملی میدان کے لیے ذہنی طور پر تیار کر لیا گیا تھا۔

اب اگلی پانچ آیات میں مردانِ حق کے جس وصف کا ذکر خصوصی اہتمام سے کیا جا رہا ہے وہ ’’بدلہ‘‘ لینے کی حکمت عملی ہے۔ یہ حکمت عملی بظاہر سورئہ حٰمٓ السجدۃ کے اس حکم سے متضاد نظر آتی ہے جس میں لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کرنے اور عفوو درگزر سے کام لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس ظاہری تضاد یا حکمت عملی کی تبدیلی کے فلسفے کو یوں سمجھیں کہ سورۂ حٰمٓ السجدۃ کا مرکزی مضمون ’’دعوت ‘‘ہے جبکہ سورۃ الشوریٰ کا مرکزی مضمون ’’اقامت دین‘‘ ہے۔ دعوت کے لیے تو ظاہر ہے خوشامد بھی کرنا پڑتی ہے‘ لوگوں کے دروازوں پر بھی جانا پڑتا ہے اور ان کی جلی کٹی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں۔ اس لیے سورۂ حٰمٓ السجدۃ میں لوگوں کی زیادتیوں کو برداشت کرنے اور گالیاں سن کر دعائیں دینے کا سبق دیا گیا ہے۔ لیکن زیر مطالعہ سورت میں اقامت دین اور عملی جدوجہد (active resistance) کے تناظر میں سختی کا جواب سختی سے دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سورۂ حٰمٓ السجدۃ میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں دعوت کا مرحلہ کامیابی سے طے کرنے کے بعد غلبۂ دین کی تحریک مسلح تصادم (armed conflict) کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ مرحلہ تیغ بکف‘ سر پر کفن باندھ کر میدان میں اترنے اور جان ہتھیلی پر رکھ کر باطل کو للکارنے کا مرحلہ ہے۔ چنانچہ اب صورتِ حال کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ حکمت عملی بھی بدل رہی ہے اور شمع توحید کے پروانوں کو ممکنہ حالات کے پیش نظر نئی ہدایات دی جا رہی ہیں۔

آیت 39

وَ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَہُمُ الۡبَغۡیُ ہُمۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿۳۹﴾

’’اور وہ لوگ کہ جب ان پر زیادتی ہو تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔‘‘

یعنی اقامت دین کی جدوجہد جب ’’قتال‘‘ کے مرحلے میں داخل ہو جائے تو پھر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا حکم ہے۔ سورۃ البقرۃ میں اس حکمت عملی کو یوں بیان فرمایا گیا ہے: {وَ اقۡتُلُوۡہُمۡ حَیۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ وَ اَخۡرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ اَخۡرَجُوۡکُمۡ } (آیت۱۹۱) ’’اور قتل کر دو انہیں جہاں کہیں بھی تم انہیں پاؤ اور نکال باہر کرو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا ‘‘۔ گویا جب ایک دفعہ آگے بڑھ کر باطل کو چیلنج کردیا گیا تو پھر فیصلہ کن فتح تک اس جنگ کو سختی سے جاری رکھنے کا حکم ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جنگ بدر میں پکڑے گئے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا کیے جانے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے (سورۃ الانفال کی آیات ۶۷ ‘۶۸ میں )ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا گیا۔ان قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے‘ بلکہ آپؓ کو تو اصرار تھا کہ ہر مسلمان اپنے رشتے دار اور عزیز قیدی کو خود اپنے ہاتھ سے قتل کرے۔ اس حوالے سے آپؓ کی دلیل یہی تھی کہ اگر آج ان لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تو کل وہ پھر ہمارے مقابلے میں آ جائیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس خدشے کی اس وقت تصدیق بھی ہو گئی جب فدیہ پر رہائی پانے والے قیدیوں میں سے اکثر و بیشتر اگلے سال غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کے خلاف پھر سے آ کھڑے ہوئے تھے۔عام مفسرین کے نزدیک سورۃ الانفال کی مذکورہ آیات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید میں نازل ہوئیں۔

40-43

برائی کا بدلہ لینے والوں پر کوئی الزام نہیں

ویڈیو

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾ وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾ اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾ وَ لَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾

آیت 40

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثۡلُہَا ۚ

’’اور کسی برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے‘‘

یہاں تقابل کے لیے سورۂ حٰمٓ السجدۃ کا یہ حکم ایک مرتبہ پھر ملاحظہ ہو: {وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ } (آیت۳۴) ’’اور دیکھو! اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے‘لہٰذا تم مدافعت کرو اُس طریقے سے جو بہترین ہو‘‘۔ اب بظاہر تو ان دونوں احکام میں تضاد (contrast) نظر آتا ہے ‘لیکن قرآن کے ایسے مقامات کا مطالعہ اگر حضورﷺ کی تحریک کے مختلف اَدوار کے زمینی حقائق کی روشنی میں کیا جائے اور اس حوالے سے مکی اور مدنی اَدوار کے حالات کے فرق کو مد نظر رکھا جائے تو تمام اشکالات خود بخود دور ہو جاتے ہیں۔ مکہ میں رہتے ہوئے اگر {کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ } (النسائ:۷۷) کی حکمت عملی اپنانے کی ہدایت تھی تو یہ اس وقت کا تقاضا تھا ۔اور اگر مدینہ میں آکر {وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ} کا حکم جاری ہوا ہے تو یہ اس مرحلے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اپنے سیاق و سباق کے اعتبار سے آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ جب دشمن کے ساتھ تمہارا دوبدو مقابلہ شروع ہو جائے تو جس قدر زیادتی تم پر مخالف فریق کرے اس قدر زیادتی ان پرتم بھی کرسکتے ہو۔ اگر وہ اشہرِ حرم کی حرمت کو بٹہ لگاتے ہیں تو تم بھی اس ماہ کے تقدس کے احترام میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کرمت بیٹھے رہو۔

فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ

’’پس جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کر ے تو اُس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔‘‘

یہ معاف کرنا اگر اس اعتبار سے ہو کہ اس میں متعلقہ شخص کی اصلاح کا امکان ہو تو اسی میں بہتری ہے۔

اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾

’’یقینا اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

ظالموں کے لیے البتہ کوئی معافی نہیں‘ان سے تو بہر حال بدلہ ہی لیا جائے گا۔ اس حکمت عملی کے بارے میں ہم سورۃ البقرۃ میں بھی پڑھ چکے ہیں: {وَ لَکُمۡ فِی الۡقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ } (آیت۱۷۹) ’’اور اے ہوشمندو! قصاص میں ہی تمہارے لیے زندگی ہے۔‘‘

آیت 41

وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِہٖ فَاُولٰٓئِکَ مَا عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ؕ۴۱﴾

’’اور جو کوئی بدلہ لے اس کے بعد کہ اس پر ظلم کیا گیا ہو تو ان لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہے۔‘‘

سورۃ النساء کی آیت ۱۴۸ میں یہی اصول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: {لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الۡجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ } یعنی اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں کہ کوئی شخص کوئی بری بات بلند آواز سے کہے مگر مظلوم اس سے مستثنیٰ ہے ‘ بدلہ لینا بہرحال مظلوم کا حق ہے۔ اگر وہ اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کا بدلہ ہی لینا چاہتا ہے تو اسے معاف کرنے پر مجبور نہیں کیاجا سکتا۔دیکھئے ان آیات کا اسلوب اور انداز سورۂ حٰمٓ السجدۃ کی مذکورہ آیات کے اسلوب سے کس قدر مختلف ہے۔ اسی ’’تضاد‘‘ کی بنیاد پر پروفیسر منٹگمری واٹ (۱۹۰۹ء۔۲۰۰۶ء) نے Muhammad at Mecca اور Muhammad at Medina دو کتابیں لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مکہ کے اندر جب محمد عربی (ﷺ) کی ایک حکمت عملی ناکام ہو گئی توانہوں نے مدینہ جا کر اپنا لائحہ عمل بالکل ہی تبدیل کر لیا۔ اس بے چارے ’’دانشور‘‘کی نظریں تعصب کی عینک کے باعث حضورﷺ کی تحریک کے دو مراحل کے فرق کو نہیں دیکھ سکیں۔ وہ اس سادہ سی بات کو بھی نہیں سمجھ سکا کہ پہلا مرحلہ تیاری کا مرحلہ تھاجبکہ دوسرا عملی جدوجہد کا۔

مکی دور میں ’’ہاتھ بندھے رکھنے‘‘ کا حکم دراصل ایک سوچی سمجھی حکمت عملی (strategy) کا حصہ تھا‘ جس کے تحت جاں نثارانِ توحید کو صبر و مصابرت کی بھٹی میں سے گزارنا مقصود تھا تا کہ میدانِ کارزار میں اترنے سے پہلے ان کے جذبے ضبط و برداشت کی آنچ سہہ سہہ کر پختہ اور ان کے دست و بازو آزمائش و ابتلا کی سختیاں جھیلنے کے عادی ہو جائیں۔ اقبال ؔنے اس حکمت عملی کو اس طرح بیان کیا ہے: ؎

نالہ ہے بلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی!

مدنی دور میں جب ’’بندھے ہوئے ہاتھ ‘‘ کھول دیے گئے تو حالات یکسر بدل گئے۔ چنانچہ میدانِ بدر میں جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا سامنا اپنے سابق آقا اُمیہ بن خلف سے ہوا تو چشمِ فلک کوئی اور ہی منظر دیکھ رہی تھی۔ اب اُمیہ کی گردن کا مقدر نشانہ بننا تھا جبکہ ’’اقدام‘‘ کا اختیار تیغ بلالیؓ کے پاس تھا۔

آیت 42

اِنَّمَا السَّبِیۡلُ عَلَی الَّذِیۡنَ یَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ

’’اصل میں الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں‘‘

وَ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۲﴾

’’اور زمین کے اندر سرکشی کرتے ہیں بغیر کسی حق کے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

عدل و انصاف کی راہ میں اصل رکاوٹ تو وہ لوگ ہیں جو زمین میں سرکشی دکھاتے ہیں‘جواللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے بجائے خود حاکم بن بیٹھتے ہیں اور عوام الناس کے حقوق پر شب خون مارتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانی معاشرے میں عدل و انصاف کی اہمیت کا اندازہ اُن تاکیدی احکام سے لگایا جاسکتا ہے جو پورے قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۸ میں اللہ تعالیٰ کی شان {قَآئِمًۢا بِالۡقِسۡطِ ؕ} کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ وہ عدل و انصاف قائم کرنے والا ہے۔ سورۃ النساء کی آیت ۱۳۵ میں فرمایا: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ } ’’اے اہلِ ایمان کھڑے ہو جاؤ پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر‘‘۔ اور پھر سورۃ المائدۃکی آیت ۸ میں یہی الفاظ اس ترتیب میں دہرائے گئے: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫} ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ ‘‘ ۔ پھر زیرمطالعہ سورت کی آیت ۱۵ میں حضورﷺ سے فرمایا گیا کہ آپؐ انہیں بتا دیجیے : {وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ} کہ مجھے تمہارے درمیان عدل قائم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

آیت 43

وَ لَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾

’’اور ہاں جو کوئی صبر کرے اور معاف کر دے تو یہ واقعتابڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘

بدلہ لینا اگرچہ مظلوم کا حق ہے ‘لیکن کسی خاص صورت حال میں اگر وہ صبر سے کام لیتے ہوئے اپنا یہ حق معاف کرنا چاہے تو بے شک یہ عزیمت کے اوصاف میں سے ہے۔

یہاں پر سیرت و کردار سے متعلق خصوصی اوصاف کا ذکر ختم ہوا۔ اس کے بعد کی آیات میں مکی سورتوں کے عمومی مضامین آ رہے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے