’’اور اگر اللہ کشادہ کر دیتا رزق اپنے سب بندوں کے لیے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے‘‘
یقینا اللہ کے خزانے بہت وسیع ہیں ‘لیکن اگر وہ ان خزانوں کو سب کے لیے کھول دیتا اور ہر کسی کو اس کی خواہش اور مرضی کے مطابق با فراغت اور با سہولت رزق ملنا شروع ہو جاتا تو انسانو ں کی اکثریت اللہ سے سرکشی پر اُتر آتی۔ کیونکہ اب جب کہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے دن رات مشقت میں جتے رہنے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر اللہ کے نافرمان ہیں تو فکر معاش سے فراغت تو ان کو بالکل ہی باغی بنا دیتی۔
’’اور وہی ہے جو بارش برساتا ہے اس کے بعد کہ لوگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔‘‘
خشک سالی میں فصلوں کی آبیاری کا وقت ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر جب کسانوں کے دلوں میں مایوسی کے سائے گہرے ہونے لگتے ہیں تو اچانک اللہ کی رحمت کا ظہور ہوتا ہے اور بادل بارش کی نوید لے کر پہنچ جاتے ہیں۔
وَ ہُوَ الۡوَلِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۸﴾
’’اور وہی ہے جو (اپنے بندوں کا) مددگار ہے اور وہ اپنی ذات میں آپ ستودہ صفات ہے۔‘‘
’’اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ درحقیقت تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی(اعمال) کے سبب آتی ہے اور (تمہاری خطائوں میں سے) اکثر کو تو وہ معاف بھی کر تا رہتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ انسانوں کے ساتھ عمومی طور پر عفوو درگزر کا معاملہ فرماتا ہے اور ہر کسی کو ہر غلطی پر نہیں پکڑتا۔ البتہ بعض اوقات بعض نا فرمانیوں کی سزا وہ متعلقہ افراد کو دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔
آیت 31
وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۚۖ
’’اور تم زمین میں(اللہ کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو۔‘‘
یہاں اس فقرے کے بعد ’’وَلَا فِی السَّمَائِ‘‘ کے الفاظ گویا محذوف ہیں۔ جیسا کہ سورۃ العنکبوت میں فرمایا: {وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۫ } (آیت ۲۲) ’’اور تم اسے عاجز کرنے والے نہیں ہو زمین میں اور نہ آسمان میں‘‘۔ بہر حال اللہ کی مشیت کوکوئی نہیں روک سکتا‘وہ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ہے۔ وہ جو ارادہ کر لیتا ہے کر گزرتا ہے‘ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔