تحریر

الشورى

آیات ۱۰ تا ۲۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

10-12

حاکم اللہ ہی کو تسلیم کرو

ویڈیو

وَ مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیۡ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ٭ۖ وَ اِلَیۡہِ اُنِیۡبُ ﴿۱۰﴾ فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ مِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ۚ یَذۡرَؤُکُمۡ فِیۡہِ ؕ لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱۱﴾ لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

آیت 10

وَ مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِیۡہِ مِنۡ شَیۡءٍ فَحُکۡمُہٗۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ

’’اور جس بات میں بھی تم اختلاف کرو تو اُس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔‘‘

یعنی تمہارے مابین جو بھی اختلاف ہو اس کے فیصلے کا حق اللہ ہی کے پاس ہے ۔ یہاں سے اس سورت کے ’’مضمون خاص‘‘یعنی اقامت دین کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں پہلا نکتہ یہ بتایا گیا کہ اس کائنات کا اصل حاکم اللہ ہے اور حاکمیت صرف اور صرف اسی کے لیے ہے:

Sovereignty belongs to HIM and HIM alone

اس نکتے کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے: ؎

سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آزری

آیت کے ان الفاظ کے مفہوم کے مطابق انسانوں کے باہمی اختلافات کے فیصلوں کے لیے اللہ کا حکم آخری حکم کا درجہ رکھتا ہے اور اسی حقیقت کی تعمیل کا نام اللہ کی حاکمیت ہے۔ اگر کسی معاشرے کا پورا نظام اللہ کی حاکمیت کے تحت آ جائے تو ا س کا مطلب یہ ہو گا کہ وہاں اللہ کا دین قائم ہو گیا اور توحید بالفعل اس معاشرے میں نافذ ہو گئی۔ یعنی اللہ کی مرضی اور اس کے قانون کے مطابق باقاعدہ ایک حکومت قائم ہو جانے کا نام ’’اقامت دین‘‘ ہے ‘جو زیر مطالعہ آیات کا مرکزی مضمون ہے۔

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبِّیۡ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ ٭ۖ وَ اِلَیۡہِ اُنِیۡبُ ﴿۱۰﴾

’’وہ ہے اللہ میرا رب‘اُسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔‘‘

آیت 11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے ۔‘‘

جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ مِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ۚ

’’ اُس نے تمہاری ہی نوع سے تمہارے جوڑے بنادیے اور چوپایوں سے بھی جوڑے (بنائے)۔‘‘

جان داروں کی ہر نوع (species) میں نر بھی ہیں اور مادہ بھی۔

یَذۡرَؤُکُمۡ فِیۡہِ ؕ

’’اسی میں وہ تمہاری افزائش کرتا ہے۔‘‘

لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ

’’اُس کی مثال کی سی بھی کوئی شے نہیں۔‘‘

اُس کی ہستی بالکل یکتا (absolutely unique) ہے۔ یہ اپنی طرز کا ایک منفرد اور حساس موضوع ہے جس کے اظہار کے لیے خصوصی اسلوب درکار ہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری زبان میں مطلق نفی (absolute negation) کے لیے کوئی لفظ اور اسلوب ہے ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس جیسی کوئی شے نہیں یا اُس کی مثال کی سی کوئی شے نہیں۔ لَا مِثْلَ لَـہٗ وَلَا مِثَالَ لَـہٗ‘ وَلَا ضِدَّ لَہٗ وَلَا نِدَّ لَــہٗ۔

بہرحال یوں سمجھ لیں کہ اس مفہوم میں جتنے مترادفات چاہے استعمال کر لیے جائیں ‘توحید کے اظہار و بیان کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱۱﴾

’’اور وہی ہے سب کچھ سننے والا‘سب کچھ دیکھنے والا ہے۔‘‘

آیت 12

لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ

’’اُسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی تمام کنجیاں۔‘‘

یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ

’’وہ کشادہ کر دیتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) ناپ تول کر دیتا ہے۔‘‘

اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۲﴾

’’ یقینا وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔‘‘

وہ خوب جانتا ہے کہ کس کے لیے رزق میں کشادگی بہتر ہے اور کس کو بقدرِ ضرورت دینا مناسب ہے۔

اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں ’’اقامت دین ‘‘ کی اصطلاح آئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت اس سورت کا عمود ہے اور اس مضمون کے اعتبار سے یہ مقام پورے قرآن میں ذروۂ سنام (climax) کا درجہ رکھتا ہے۔

13

اقامت ِدین کا حکم

ویڈیو

شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَا تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ اَللّٰہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾

آیت 13

شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا

’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوحؑ کو کی تھی‘‘

یہ براہِ راست اُمت سے خطاب ہے۔مکی سورتوں میں چونکہ عام طور پر اہل ایمان کو ’’یٰٓــاَیُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ کے الفاظ سے براہِ راست مخاطب نہیں کیا جاتا اس لیے یہاں جمع کا یہ صیغہ (شَرَعَ لَـکُمْ ) استعمال فرمایا گیا ہے۔ مکی سورتوں میں اس حوالے سے ہمیں دوسرا اسلوب یہ بھی ملتا ہے کہ صیغہ واحد میں حضورﷺ کو مخاطب کر کے اہلِ ایمان کو پیغام پہنچایا جا تا ہے۔

وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی

’’اور جس کی وحی ہم نے (اے محمدﷺ) آپ کی طرف کی ہے‘اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم کواور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو‘‘

اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ

’’کہ قائم کرو دین کو۔‘‘

اس آیت سے ایک تو یہ معلوم ہوا ہے کہ حضرات نوح ‘ابراہیم ‘موسیٰ‘ عیسیٰ علیہم السلام اور محمد رسول اللہﷺ کا‘یعنی تمام پیغمبروں کا دین ایک ہی ہے۔ یہی مضمون سورۃ الانبیاء میں اس طرح آیا ہے : {اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۹۲﴾} ’’یقینا یہ تمہاری امت ‘ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں ‘لہٰذا تم لوگ میری ہی بندگی کرو‘‘۔یعنی تمام انبیاء ورُسل ؑاور ان کی اُمتوں کا دین ایک ہی تھا۔ ان کے درمیان اگر کوئی فرق یا اختلاف تھا تو وہ شریعتوں میں تھا۔ دوسری اہم بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اقامت دین کا فریضہ ان تمام پیغمبروں کو سونپا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپؑ کی قوم کو اس سلسلے میں جو حکم ملا تھا اس کا ذکر قرآن میں موجود ہے کہ تم لوگ ارضِ فلسطین کو فتح کرنے کے لیے جہاد کرو۔ ظاہر ہے اس خطہ پر قبضہ کرنے کا مقصد اللہ کے دین کو وہاں بالفعل نافذ کرنا تھا۔ چنانچہ اقامت دین کی جدوجہد ماقبل امتوں پر بھی فرض تھی۔

بہر حال اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے حکم کا خلاصہ یہی ہے کہ زبان سے صرف عقیدۂ توحید کا اقرار کر لینا کافی نہیں بلکہ اس عقیدے کارنگ اپنے اعمال پر بھی چڑھاؤ‘ اور نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی طور پر اپنے معاشرے کی اعلیٰ ترین (ریاستی اور حکومتی) سطح پر اس کی تنفیذ و تعمیل کو یقینی بناؤ۔واضح رہے کہ مترجمین نے بالعموم {اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ} کا ترجمہ کیا ہے :’’کہ دین کو قائم رکھو!‘‘یہ بھی درست ہے ‘کیونکہ اقامت دین کے حوالے سے کسی معاشرے میں دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ یا تو وہاں دین قائم ہے یا قائم نہیں ہے۔ چنانچہ اس حکم کا منشاء یہ ہے کہ اگر دین پہلے قائم ہے تو اسے قائم رکھو اور اگر قائم نہیں ہے تو اسے قائم کرو۔ مثلاًخیمہ اگر کھڑ اہے تو اسے گرنے سے بچانا ہے اور اگر پہلے سے کھڑا نہیں ہے تو اسے کھڑا (erect) کرنا ہے۔

وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ؕ

’’اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘

یعنی تم لوگ اپنے دین کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے نہ کردو۔ایسانہ ہو کہ کسی ایک معاملے میں تو تم اللہ کا حکم مانو اور کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی خوشنودی کے طالب بن جائو۔ اسی رویے اور طریقے کو تفرقہ کہا جاتا ہے جس سے یہاں منع کیا جا رہا ہے۔ سورۃ الانعام : ۱۵۹ کے الفاظ {اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ …} میں بھی ایسے ہی تفرقے کی طرف اشارہ ہے۔البتہ فروعی مسائل میں ایک دوسرے کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے‘ یہ تفرقہ نہیں ہے۔ مثلاً میں اگر رفع یدین کرتا ہوں اورمیرے کئی ساتھی امام ابو حنیفہؒ کے موقف کو زیادہ صحیح سمجھتے ہوئے رفع یدین کے بغیر نماز پڑھتے ہیں تو ایسے اختلاف میں کوئی حرج نہیں ‘جبکہ بنیادی طور پر دین میں تفریق یا تفرقے کا طرزِ عمل نہ اپنایا جائے اور اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ حنفی ‘مالکی‘شافعی‘حنبلی اور سلفی سب کے سب ایک ہی دین یعنی اسلام کے ماننے والے ہیں۔ اسی طرح مختلف پیغمبروں کی شریعتوں میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے‘ مثلاًاب شریعتِ محمدیؐ کا زمانہ ہے‘اس سے پہلے شریعت موسویؑ کا دور تھا اور اس سے پہلے کوئی اور شریعت تھی۔ لیکن یہ نکتہ بہر حال واضح رہنا چاہیے کہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کا دین ایک ہی تھا یعنی اسلام۔

کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَا تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ

’’(اے نبیﷺ) بہت بھاری ہے مشرکین پر یہ بات جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں۔‘‘

مشرکین کی زندگی تو اسی تفریق و تقسیم پر چل رہی ہے ۔ وہ تو اس نظریے پر عمل پیرا ہیں کہ ’’جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو اور جوقیصر کا ہے وہ قیصر کو دو‘‘۔ ہمارے ہاں بھی ایسی ہی تقسیم پر دنیا کے معاملات چل رہے ہیں کہ جو حکومت کا حق ہے وہ حکومت کو دو اور جو مولوی کا حق ہے وہ مولوی کو دو۔ اور فرض کریں اگر علماء بھی اس تقسیم پر راضی ہو جائیں کہ چلیں ہمارا کام تو چل ہی رہا ہے تو ایسی صورتِ حال میں دین کی تو گویا نفی ہو جائے گی ‘کیونکہ دین تواللہ کی کلی اطاعت کا نام ہے ۔ چنانچہ جس کسی نے بھی دین میں کسی ایسی تفریق یا تقسیم پر اپنے دل کو مطمئن کرلیا اس کا گویا اللہ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں رہا۔چنانچہ مشرکین جو اللہ اور بتوں کے درمیاں اپنے ’’دین‘‘ کی تقسیم پر مطمئن ہیں انہیں توحید خالص کی دعوت بری تو لگے گی۔ مشرکین کے اس بغض و عناد کا ذکر سورۃ التوبہ : ۳۳ اور سورۃ الصف : ۹ میں اس طرح ہوا ہے: {ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿﴾} ’’وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو الہدیٰ اور دین حق دے کر تاکہ غالب کرے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر‘خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے‘‘۔

ظاہر ہے نظامِ توحید کے قیام اور دین حق کے غلبے کی صورت میں مشرکین کے دلوں میں کڑھن تو بہت ہو گی ‘لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اپنے رسولﷺ کو بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ وہ اللہ کے دین کو پورے نظامِ زندگی پر غالب کر دے۔

اَللّٰہُ یَجۡتَبِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ

’’اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف (آنے کے لیے) چن لیتا ہے‘‘

یہ اللہ کی شانِ عطا ہے کہ کبھی کبھی وہ کسی راہ چلتے مسافر کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ صوفیاء کے ہاں اس حوالے سے ’’سالک مجذوب ‘‘اور’’ مجذوب سالک ‘‘کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ ’’سالک مجذوب ‘‘اللہ کے وہ مقرب بندے ہیں جو ’’سلوک ‘‘کی کئی کئی کٹھن منازل طے کر کے قرب و جذب کے مقام تک رسائی حاصل کر پاتے ہیں۔ ’’صدیقین‘‘ عام طور پر محنت وریاضت کے اسی راستے سے مقامِ قرب تک پہنچتے ہیں۔ ان کے برعکس ’’مجذوب سالک ‘‘وہ خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کسی خاص موقع پر بلا تمہید اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ۔ ایسے لوگ ’’مقامِ قرب‘‘ پر فائز ہو جانے کے بعد منازلِ سلوک طے کرتے ہیں اور یہ مقام و مرتبہ اکثر و بیشتر ’’شہداء ‘‘کے حصے میں آتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اپنی طرف کھینچ لیا تھا‘ورنہ اس ’’حسین اتفاق ‘‘سے پہلے نہ تو آپؓ کا مزاج اس ’’مقامِ شوق‘‘ سے کچھ مطابقت رکھتا تھااور نہ ہی آپؓ کے معمولات ومشاغل میں ایسے کسی ’’رجحان‘‘ کا رنگ پایا جاتا تھا۔(صدیقین اور شہداء کے اصطلاحی مفہوم کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ مریم : ۴۱ کی تشریح۔)

وَ یَہۡدِیۡۤ اِلَیۡہِ مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾

’’اور وہ اپنی طرف ہدایت اُسے دیتا ہے جو خود رجوع کرتا ہے۔‘‘

14

اہل کِتاب کے اختلاف کی وجہ . . . ضد اور تکبر

ویڈیو

وَ مَا تَفَرَّقُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡرِثُوا الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۱۴﴾

آیت 14

وَ مَا تَفَرَّقُوۡۤا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ بَغۡیًۢا بَیۡنَہُمۡ ؕ

’’اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا ‘آپس میںِ ضدم ضدا کے باعث۔‘‘

عرب میں حضورﷺ کی دعوتِ اقامتِ دین کے مخاطبین بنیادی طور پر دو گروہ تھے ‘یعنی مشرکین اور اہل کتاب۔ ان میں مشرکین کا تواس دعوت کو ماننا بہت مشکل تھا اور یہ تلخ حقیقت پچھلی آیت میں واضح بھی کر دی گئی ہے کہ آپؐ کی یہ دعوت مشرکین پر بہت شاق گزر رہی ہے۔البتہ اہل کتاب کا اس دعوت پر ایمان لے آنا نسبتاً زیادہ قرین قیاس تھا ‘کیونکہ وہ تورات و انجیل جیسی الہامی کتابوں سے واقف تھے اور وحی‘ملائکہ اور آخرت پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ لیکن زیر مطالعہ آیت میں حضورﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ آپؐ اہل کتاب سے بھی مثبت رد عمل کی توقع نہ رکھیں۔ کیونکہ ان دونوں گروہوں کی طرف سے اب تک کی مخالفت کسی لاعلمی کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کا اصل پیغام تو ان تک پہنچ چکا ہے‘بات پوری طرح واضح ہو کر ا ن کے دلوں میں اُترچکی ہے۔ اس صورت حال میں ان کا انکاراور ان کی مخالفت محض باہمی تعصب اور ضد بازی کی بنا پر ہے‘ کہ ہم محمد (ﷺ) کے پیروکار بن کر انہیں خود سے بڑا کیونکر تسلیم کر لیں اور اپنے آپ کو انؐ کے سامنے چھوٹا کیسے بنا لیں؟ اہل کتاب خود آپس میں بھی ایک دوسرے کی مخالفت اسی تعصب کی بنیاد پر کرتے ہیں ‘جس کا ذکر سورۃ البقرۃ میں اس طرح آیا ہے: {وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ لَیۡسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیۡءٍ ۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰی لَیۡسَتِ الۡیَہُوۡدُ عَلٰی شَیۡءٍ ۙ وَّ ہُمۡ یَتۡلُوۡنَ الۡکِتٰبَ ؕ } (آیت ۱۱۳) ’’ یہودی کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی بنیاد پر نہیں ہیں اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہودی کسی بنیاد پر نہیں ہیں ‘حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھ رہے ہیں۔‘‘

عہدنامہ قدیم (Old Testament) یہودیوں اور عیسائیوں میں مشترک ہے۔ اس کے باوجود ان کی باہمی مخاصمت کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یروشلم کی ’’سمت ‘‘پر اگرچہ دونوں گروہوں کا اتفاق ہے ‘لیکن باہمی عناد کی بنا پر ایک گروہ شرقی حصے کو قبلہ مانتا ہے جبکہ دوسرا غربی حصے کو۔ اس صورت حال میں حضورﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ تعصب کے مرض میں مبتلا ہیں‘ اس لیے آپؐ ان میں سے کسی گروہ سے کسی مثبت رویے کی توقع نہ رکھیں‘ورنہ آپؐ کو مایوسی ہو گی۔ بلکہ آپؐ ان کی طرف سے انتہائی سخت اور منفی ردعمل کے لیے خود کو تیار کھیں۔اس میں دراصل حضورﷺ کے لیے بین السطور یہ پیغام بھی ہے کہ اقامت دین کی جدوجہد ایک طویل اور جاں گداز عمل ہے۔ اس لیے آپؐ موافق حالات اور جلد کامیابی کی توقع نہ رکھیں۔

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ

’’اور اگر ایک بات آپ کے رب کی طرف سے پہلے سے ایک وقت معین کے لیے طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کے مابین (اختلافات کا) فیصلہ چکا دیا جاتا۔‘‘

وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اُوۡرِثُوا الۡکِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۱۴﴾

’’اور جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ان کے بعد وہ اس کے متعلق ایک خلجان آمیز شک میں مبتلا ہیں۔‘‘

یہ نکتہ خاص طور پر بہت اہم اور لائق توجہ ہے کہ ’’وارثانِ کتاب‘‘ کے اَذہان وقلوب میں اُلجھن میں ڈالنے والے شکوک و شبہات کیوں ڈیرے جما لیتے ہیں؟ دراصل ہوتا یوں ہے کہ شروع شروع میں سب معاملات بالکل ٹھیک چلتے رہتے ہیں ‘مگر چوتھی پانچویں نسل تک آتے آتے معاملات اس وقت بگڑنے لگتے ہیں جب نوجوان اپنے علماء کو باہم دست و گریباں ہوتے دیکھتے ہیں اور ان کے دامن حیات کو متاعِ عمل سے خالی پاتے ہیں۔ ایسی صورت حال سے بیزار ہو کر علماء کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ’’کتاب‘‘ سے بھی بدظن ہونے لگتے ہیں۔ یہ نوجوان خود تو کتاب کے علوم و معارف تک رسائی حاصل کرنے کی زحمت نہیں اٹھاتے لیکن اس مفروضے کو اپنے دلوں میں ضرور بٹھا لیتے ہیں کہ جب کتاب کے ’’علماء ‘‘کے کردار و عمل میں روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی کوئی روشنی اس کتاب کے اندر سرے سے موجود ہی نہیں۔

15

اقامت دین کے مشن پر ڈٹے رہو

ویڈیو

فَلِذٰلِکَ فَادۡعُ ۚ وَ اسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ وَ قُلۡ اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنۡ کِتٰبٍ ۚ وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ؕ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ؕ لَا حُجَّۃَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا ۚ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿ؕ۱۵﴾

آیت 15

فَلِذٰلِکَ فَادۡعُ ۚ

’’تو(اے نبیﷺ!) آپ اسی کی دعوت دیتے رہیے‘‘

یہاں ذٰلِک کا اشارہ اوپر آیت ۱۳ میں اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے حکم کی طرف ہے کہ آپؐ ان لوگوں کو اقامت دین کی جدوجہد کے لیے مسلسل دعوت دیتے رہیے۔

وَ اسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ

’’اور جمے رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے‘‘ آپؐ کی رسالت کا مقصد اور مشن ہی چونکہ اقامت دین ہے‘اس لیے آپؐ غلبہ حق کی جدوجہد کی اس راہ میں پوری استقامت اور تندہی کے ساتھ کھڑے رہیں۔ آپؐ کے مخالفین تو چاہیں گے کہ آپؐ کچھ نرم پڑنے کو تیار ہوں تو وہ بھی نرم پڑ جائیں : {وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡہِنُ فَیُدۡہِنُوۡنَ ﴿۹﴾} ( القلم) ۔مگر آپ ہماری ہدایت و مشیت کے مطابق اپنے موقف پر جم کر کھڑے رہیں اور اس سفر میں کسی بھی موڑ پر کسی حال میں ‘کبھی کوئی سمجھوتہ (compromise) نہ کریں: {وَ قُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟ فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ ۙ } (الکہف:۲۹) ’’اور آپؐ ان سے کہہ دیجیے کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے‘تو اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔‘‘

وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ

’’اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔‘‘

یہی بات پانچ چھ سال بعد سورۃ البقرۃ کے اندر ان الفاظ میں پھر سے دہرائی گئی: {وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ } (آیت۱۲۰) ’’(اے نبیﷺ!) یہ یہودی اور نصرانی آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپؐ ان کے طریقے کی پیروی نہ کریں‘‘۔ پرانے نظام کے ساتھ تو ان لوگوں کے مفادات وابستہ ہیں‘آپؐ کی دعوت کو آگے بڑھتا دیکھ کر انہیں اپنی سیادتیں اور چودھراہٹیں خطرے میں نظر آرہی ہیں۔ وہ تو چاہیں گے کہ آپؐ ان کے پیچھے چلیں اور ان کی لیڈر شپ قائم رہے۔ آج بھی اپنے اپنے مفادات کو بچانے کی روش اقامت دین کی جدو جہد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج بھی اگر اللہ کا کوئی بندہ اس دعوت کا علم بلند کر کے مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ کا نعرہ لگاتا ہے تو اربابِ جبہ و دستا ر کو اپنی مسندوں‘خانقاہوں اور گدیوں کا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگتا ہے۔ چنانچہ ان کے ’’خاموش ردِ عمل ‘‘سے ایسی جدوجہد کے علم برداروں کو یہ پیغام آپ سے آپ ہی موصول ہو جاتاہے کہ ’’ہم تمہارے پیچھے کیوں چلیں‘تم ہمارے پیچھے کیوں نہ چلو؟‘‘ یاد رہے کہ اپنے مضمون (اقامت دین) کے اعتبار سے زیر مطالعہ تین آیات (۱۳‘۱۴اور ۱۵) بہت اہم ہیں۔

وَ قُلۡ اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنۡ کِتٰبٍ ۚ

’’اور آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے۔‘‘

قبل ازیں سورۂ حٰم السجدۃ میں دعوت کے حوالے سے قرآن کا چھ مرتبہ ذکر آ چکا ہے۔ اب یہاں اس آیت میں سورۂ حٰم السجدۃ کے مضمون کا گویا خلاصہ آ گیا ہے کہ دعوت چلے گی تو اس کتاب کے بل پر اور کسی کو استقامت نصیب ہو گی تو بھی اسی کتاب کے ذریعے سے۔ چنانچہ اس کی تلاوت کو اپنا معمول بنائیے‘اس کے معانی و مفہوم کو دل میں اتارئیے اور دوسروں تک پہنچائیے۔ قرآن میں حضورﷺ کو بھی بار بار اسی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے: {اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ } (العنکبوت:۴۵) ’’تلاوت کرتے رہا کریں اس کی جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف کتاب میں سے۔‘‘

وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ ؕ

’’اور (آپؐ کہہ دیجیے کہ) مجھے حکم ہوا کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں۔‘‘

آپؐ ان پر واضح کردیجیے کہ میں صرف وعظ کہنے اور میٹھی میٹھی باتیں سنا کر لوگوں کا دل بہلانے کے لیے نہیں آیا‘ بلکہ میں معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے اور نظامِ توحید کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے آیا ہوں۔ اس جملے کے حوالے سے ہمیں بہت واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ حضورﷺ کا اصل مشن کیا تھا اور آپؐ کے اتباع کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آج ہمارے اوپر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

حضورﷺ کے اتباع کے تقاضے میلاد کی محفلیں سجا لینے یا بڑے بڑے جلوس نکال لینے سے پورے نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے سب غلط کاریاں چھوڑ کر خود کو دین کے احکام کا پابند بنانا ہو گا اور پھر اپنے تن من دھن کے ساتھ عدلِ اجتماعی (نظامِ توحید) کو معاشرے میں قائم کرنے کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی صف میں شامل ہونا ہو گا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں دراصل حضورﷺ کے اتباع کے اسی تقاضے { وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ} کے حوالے سے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا: لوگو! تم میں سے ہر کمزور شخص میرے نزدیک طاقتور ہو گا جب تک کہ میں اسے اس کا حق نہ دلوا دوں اور تم میں سے ہر قوی شخص میرے نزدیک کمزور ہوگا جب تک کہ میں اس سے حق دار کا حق وصول نہ کر لوں۔

اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ؕ لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ ؕ

’’اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔‘‘

لَا حُجَّۃَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ ؕ اَللّٰہُ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا ۚ

’’ہمارے درمیان کسی حجت بازی کی ضرورت نہیں‘ اللہ ہمیں جمع کر دے گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ یا تو ہمیں اسی دنیا میں اکٹھا کر دے گا اور اگر یہاں یہ ممکن نہ ہوا تو آخرت میں تو ہم اکٹھے ہو ہی جائیں گے۔ اس فقرے کا مفہوم سمجھنے کے لیے ان تنظیموں اور گروہوں کا تصور ذہن میں لائیے جو سب اخلاص اور نیک نیتی سے اقامت دین کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ظاہر ہے ان میں سے ہر جماعت کا اپنا منصوبہ اور اپنا طریقہ کار ہے۔ ان سب کی مثال دراصل منیٰ سے میدانِ عرفات جانے والے حجاج کے قافلوں جیسی ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ ہزاروں قافلوں میں مختلف راستوں اور مختلف شاہراہوں پر گامزن ہوتے ہیں۔ ان کے راستے بے شک مختلف ہیں مگر منزل سب کی ایک ہے۔ یہ قافلے جیسے جیسے اپنی منزل کی طرف بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ان کے مابین فاصلہ کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میدانِ عرفات میں پہنچ کر وہ سب ایک ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اقامت دین کی جدوجہد کرنے والی مختلف جماعتیں اور تنظیمیں جوں جوں اپنی منزل کی طرف بڑھیں گی ان کے باہمی اختلافات کم ہوتے چلے جائیں گے اور منزلِ مقصود پر پہنچ کر یہ سب اکٹھے ہو جائیں گے۔اور اگر بالفرض وہ دنیا میں اکٹھے نہ ہو سکے تو بھی روزِ محشر توسب اکٹھے ہو جائیں گے۔

چنانچہ ان سب کو آپس میں تنقید کرنے کے بجائے زیر مطالعہ آیت کے الفاظ میں ایک دوسرے سے یوں کہنا چاہیے کہ دیکھو بھئی ہم سب اللہ کی رضا کے متلاشی ہیں۔ ہمارا رب بھی اللہ ہے اور تمہارا بھی۔ باقی جہاں تک ہمارے باہمی اختلاف کا تعلق ہے اس حوالے سے ہمیں آپس میں کوئی حجت بازی نہیں کرنی چاہیے۔ تم لوگ اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق جدوجہد کرتے جائو ‘ہم اپنے طریق کار اور لائحہ عمل کے مطابق کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا توہم سب اپنی اپنی کوششوں کے لیے ماجورہوں گے۔ تم لوگوں کو تمہاری جدوجہد کا صلہ مل جائے گا اور ہم اپنی محنت کا پھل پا لیں گے۔ لیکن چونکہ ہم سب اپنے مشن اور اپنی جدوجہد میں مخلص ہیں اس لیے آج نہیں تو کل ہم سب ایک ہوجائیں گے۔ اگر ہمارا طریق کار غلط ہوا تو ایک دن حقیقت ہم پر واضح ہو جائے گی اور ہم رجوع کر لیں گے اور اگر آپ لوگوں کے لائحہ عمل میں کوئی کمی ہوئی تو کبھی نہ کبھی آپ کو بھی وہ نظر آہی جائے گی اور آپ بھی ضرور اس کی تلافی کر لیں گے ‘اِن شاء اللہ !

وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿ؕ۱۵﴾

’’اور اُسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔‘‘

وہاں اللہ کی عدالت میں سب انسان اکٹھے کھڑے ہوں گے اور وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

16

اقامتِ دین کی جدوجہد سے گریز کرنے والوں کا کوئی عذر قبول نہ ہوگا

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ یُحَآجُّوۡنَ فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِیۡبَ لَہٗ حُجَّتُہُمۡ دَاحِضَۃٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ عَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۶﴾

آیت 16

وَ الَّذِیۡنَ یُحَآجُّوۡنَ فِی اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِیۡبَ لَہٗ

’’اور وہ لوگ جو اللہ کے بارے میں حجت بازی میںلگے رہے‘اس کے بعد کہ اُس کی دعوت پر لبیک کہہ دی گئی ہے‘‘

یعنی اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ تو روزِ اوّل ہی سے استقامت کے پہاڑ بنے کھڑے ہیں اور اب تو انتظار ہے وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ کے قافلے کا کہ ہر طرف سے لوگ جوق درجوق اور فوج در فوج دین میں داخل ہوں۔ لیکن جو لوگ اب بھی ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور ہٹ دھرمی کی اپنی پرانی مسند یں سنبھالے حجت بازی کیے جا رہے ہیں:

حُجَّتُہُمۡ دَاحِضَۃٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ

’’ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک بالکل پسپا ہے‘‘

وَ عَلَیۡہِمۡ غَضَبٌ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۱۶﴾

’’اوران پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے بہت سخت عذاب بھی ہے ۔‘‘

17-18

نزوک کتاب اور شریعت کا مقصد

ویڈیو

اَللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَ الۡمِیۡزَانَ ؕ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیۡبٌ ﴿۱۷﴾ یَسۡتَعۡجِلُ بِہَا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِہَا ۚ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡہَا ۙ وَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہَا الۡحَقُّ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُمَارُوۡنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۱۸﴾

آیت 17

اَللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ وَ الۡمِیۡزَانَ ؕ

’’اللہ ہی ہے جس نے اتاری ہے کتاب بھی اور میزان بھی حق کے ساتھ۔‘‘

قرآن میں صرف دو ہی مقامات ایسے ہیں جہاں کتاب اور میزان کے الفاظ ایک ساتھ اکٹھے آئے ہیں۔ ایک تو آیت زیر مطالعہ اور دوسری سورۃ الحدید کی یہ آیت: {لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلَنَا بِالۡبَیِّنٰتِ وَ اَنۡزَلۡنَا مَعَہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡمِیۡزَانَ لِیَقُوۡمَ النَّاسُ بِالۡقِسۡطِ ۚ …} (آیت ۲۵) ’’ہم نے بھیجے اپنے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ اورہم نے نازل کی ان کے ساتھ کتاب اور میزان تا کہ قائم رہیں لوگ عدل پر‘‘۔ میزان دراصل دین حق کے عملی نظام کا نام ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ’’کتاب‘‘ ہر ایک کا حق مقرر کرتی ہے اور ’’میزان ‘‘ ناپ تول کر کے یہ حق حقدار کو دیتی ہے۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ کے ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے تمہیں دین بھی دیا ہے اور نظام بھی ۔ اگر نظام نہ ہوتا تو دین کے مطابق فیصلے کیسے ہوتے اور پھر ان فیصلوں پر عمل درآمد کیونکر ہوتا؟

وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیۡبٌ ﴿۱۷﴾

’’اور تمہیں کیا معلوم کہ قیامت قریب ہی ہو!‘‘

’’السَّاعۃ ‘‘ سے مراد قیامت کی گھڑی ہے ‘اگرچہ انفرادی سطح پر دیکھا جائے تو ہر شخص کی موت ہی گویا اس کی قیامت ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں آتا ہے : حدیث((مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُـہٗ))۱’’جس کو موت آ گئ پس اس کی قیامت تو قائم ہوگئی‘‘۔مقامِ غور ہے کہ اس حوالے سے ہمیں کس قدر مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ ایک طرف ہم میں سے ہر ایک کی ’’قیامت ‘‘اس کے سر پر کھڑی ہے اور دوسری طرف اللہ کی ’’میزان ‘‘کو نصب کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے جو ہم سب کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ اب اگر ہم نے ابھی اور اسی وقت اس ذمہ داری کا احساس نہ کیا اور اس کے لیے فوری طور پر ہم اپنا تن من دھن لگا دینے کے لیے میدانِ عمل میں نہ اترے تو نہ معلوم ہم میں سے کس کس کی مہلتِ عمل کچھ کیے بغیر ہی ختم ہو جائے۔ آج ہم میں سے کون کہہ سکتا ہے کہ اسے کل کا سورج بھی دیکھنا نصیب ہو گا یا نہیں! اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم مزید وقت ضائع کیے بغیر اسِ جدوجہد میں جت جائیں۔ اس فیصلے کے لیے تاخیر اور تاجیل میں وقت ضائع کرنا سب سے بڑی حماقت ہے:

(۱) تخریج الکشاف للزیلعی:۱/۴۳۶۔ وتخریج الاحیاء للعراقی : ۴/۷۹۔ سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی، ح:۱۱۶۶۔ راوی : انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔

آیت 18

یَسۡتَعۡجِلُ بِہَا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِہَا ۚ

’’اس (قیامت) کے لیے جلدی تو وہی مچا رہے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مُشۡفِقُوۡنَ مِنۡہَا ۙ وَ یَعۡلَمُوۡنَ اَنَّہَا الۡحَقُّ ؕ

’’اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو اس سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے۔‘‘

قیامت کے تصور سے اللہ کے مقرب بندوں کے خوف کی کیفیت کا ذکر سورۃ النور میں یوں آیا ہے: {یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَ الۡاَبۡصَارُ ﴿٭ۙ۳۷﴾} ’’ وہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں اس دن کے تصور سے جس دن الٹ جائیں گے دل اور نگاہیں ۔‘‘

اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُمَارُوۡنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۱۸﴾

’’آگاہ ہو جاؤ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں‘وہ بڑی دور کی گمراہی میں پڑ چکے ہیں۔‘‘

19

گھبراؤ نہیں! اللہ مدد فرمائےگا

ویڈیو

اَللّٰہُ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ الۡقَوِیُّ الۡعَزِیۡزُ ﴿٪۱۹﴾

آیت 19

اَللّٰہُ لَطِیۡفٌۢ بِعِبَادِہٖ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ

’’اللہ اپنے بندوں کے حق میں بہت مہربان ہے‘ وہ رزق دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘

لفظ ’’لَطِیْفٌ‘‘ میں لطف و کرم اور شفقت و مہربانی کے علاوہ باریک بین ہونے کا مفہوم بھی ہے۔ یعنی وہ بڑی باریک بینی کے ساتھ ان کی دقیق ترین ضروریات پر بھی نگاہ رکھتا ہے۔

آیت زیر مطالعہ کے مندرجہ بالا الفاظ کو اقامت دین کی جدوجہد کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی اقامت دین کی جدوجہد میں تمہیں یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ہم کھائیں گے کہاں سے‘پہنیں گے کیا اور ہماری دوسری ضروریات کیسے پوری ہوں گی؟ اس حوالے سے قبل ازیں (سورۃ العنکبوت ‘آیت ۶۰ کے ذیل میں) متی کی انجیل سے حضرت مسیح علیہ السلام کے وعظ کا درج ذیل اقتباس ہم پڑھ چکے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام اپنے شاگردوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے۔ نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟ تم میں ایسا کون ہے جو فکر کرکے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟ اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو؟جنگلی سوسن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے نہ کاتتے ہیں۔ تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی کے مانند ملبس نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تواے کم اعتقادو‘ تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟ اس لیے فکر مند ہوکر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے؟ کیونکہ ان سب چیزوں کی تلاش میں غیر قومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کو تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔ پس کل کے لیے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دن اپنے لیے آپ فکر کر لے گا۔ آج کے لیے آج ہی کا دکھ کافی ہے۔‘‘ (متی ‘باب۶:۲۵۔۳۴‘بحوالہ تدبر قرآن‘ جلد پنجم‘ ص۶۰)

اس میں کیا شک ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کا رازق بھی ہے اوروہ اپنے بندوں کی ایک ایک حاجت سے باخبر اور ان کی ایک ایک خواہش سے آگاہ بھی ہے۔ آپ ایک دفعہ یکسو ہو کر فیصلہ تو کرو‘کہ اب اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کر دینا ہے۔ پھر دیکھنا اللہ تعالیٰ تمہاری ضروریات کا خیال کیسے رکھتا ہے۔ اس کا وعدہ ہے: {وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا ۙ﴿۲﴾وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ؕ } (الطلاق:۳) ’’ اور جو کوئی اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے ‘اور وہ اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا‘‘۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس راستے میں طرح طرح کی آزمائشوں اور سختیوں کا سامنا بھی کرناپڑتا ہے۔لیکن جب بندہ اس مرحلے میں بھی صبر و استقامت کے مظاہرے سے اپنی وفاداری اور یکسوئی ثابت کر دے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے نئے نئے راستے کھول دیتا ہے اور ان راستوں پر چلنا اس کے لیے آسان کر دیتا ہے۔

وَ ہُوَ الۡقَوِیُّ الۡعَزِیۡزُ ﴿٪۱۹﴾

’’اور وہ تو بہت قو ی ہے ‘بہت زبردست ہے۔‘‘

20

طلبگار کس کے ہو؟ دنیا کے یا آخرت کے ؟

ویڈیو

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾

آیت 20

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الۡاٰخِرَۃِ نَزِدۡ لَہٗ فِیۡ حَرۡثِہٖ ۚ

’’جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘

اس مضمون کا کلائمکس سورۂ بنی اسرائیل میں بایں الفاظ بیان ہوا ہے: {مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعَاجِلَۃَ عَجَّلۡنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلٰىہَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ﴿۱۸﴾} ’’جو کوئی طلب گار بنتا ہے جلدی والی (دنیا) کا‘ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں جو کچھ ہم چاہتے ہیں‘جس کے لیے چاہتے ہیں‘پھر ہم مقرر کر دیتے ہیں اس کے لیے جہنم‘وہ داخل ہو گا اس میں ملامت زدہ‘دھتکارا ہوا۔‘‘

وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرۡثَ الدُّنۡیَا نُؤۡتِہٖ مِنۡہَا وَ مَا لَہٗ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ ﴿۲۰﴾

’’اور جو کوئی دنیا کی کھیتی کا طالب بن جاتا ہے تو ہم اس کو اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں‘ اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘

21-23

کیا خود ساختہ معبودوں نے کوئی شریعت دی ہے؟

ویڈیو

اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃُ الۡفَصۡلِ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۱﴾ تَرَی الظّٰلِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا وَ ہُوَ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ۚ لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۲﴾ ذٰلِکَ الَّذِیۡ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ؕ وَ مَنۡ یَّقۡتَرِفۡ حَسَنَۃً نَّزِدۡ لَہٗ فِیۡہَا حُسۡنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۲۳﴾

آیت 21

اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ

’’کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین کا کوئی ایسا راستہ طے کر دیا ہو جس کا اِذن اللہ نے نہیں دیا؟‘‘

شرک کے حوالے سے یہ نکتہ قرآن میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ مشرک لوگ جنہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اللہ نے ان کے لیے نہ تو کوئی سند اتاری ہے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب میں ان کے لیے کوئی دلیل موجود ہے۔ اس سورت کا عمود چونکہ نظامِ شریعت (میزان) سے متعلق ہے اس لیے یہاں شرک کا ابطال اس مضمون کی دلیل کے ساتھ بالکل منفرد انداز میں آیا ہے کہ اللہ نے تو اپنے بندوں کے لیے ایک مکمل ضابطہ حیات نازل کیا ہے۔ تو ذرا یہ لوگ بھی بتائیں کہ ان کے معبودوں نے ان کے لیے زندگی میں کیا راہنمائی فراہم کی ہے؟ کیا ان معبودوں نے بھی اپنے پجاریوں کو باقاعدہ کوئی کتاب دی ہے؟ کیا لات‘منات اور ہبل نے بھی اپنے عقیدت مندوں کے لیے کوئی شریعت وضع کی ہے یا انہیں باقاعدہ کوئی نظام دیا ہے؟اور اگر ان نام نہاد معبودوں نے اپنا کوئی دین یا ضابطہ حیات اپنے ماننے والوں کو کبھی دیا ہی نہیں تو وہ کس حیثیت سے آخر معبود بنے بیٹھے ہیں؟اور ان کے پجاری آخر کس بنیاد پر ان کی پوجا کیے جا رہے ہیں؟

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃُ الۡفَصۡلِ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۲۱﴾

’’اور اگر ایک قطعی حکم پہلے سے طے نہ ہو چکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔اور ظالموں کے لیے تو بہت دردناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 22

تَرَی الظّٰلِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا کَسَبُوۡا

’’تم دیکھو گے ان ظالموں کو کہ وہ اپنے کرتوتوں کے سبب ڈر رہے ہوں گے‘‘

قیامت کے دن کفار و مشرکین اپنے غلط عقائد اور برے اعمال کے سبب خوف زدہ ہوں گے۔ دراصل نیکی و بدی کے بارے میں انسان کا ضمیر بہت حساس ہے: {بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾} (القیامۃ) ’’بلکہ انسان اپنے نفس پر خود گواہ ہے‘‘۔ یہ آیت بہت واضح انداز میں ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی ضمیر اپنے اندر کی گہرائیوں میں جھانک کر بغیر کسی مصلحت اور تعصب کے غلط اور درست کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن تمام غلط کار انسان اپنے اعمال کو دیکھتے ہوئے حساب و کتاب سے پہلے ہی خوف سے کانپ رہے ہوں گے۔

وَ ہُوَ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ؕ

’’اور وہ ان کے اوپر پڑنے والا ہو گا۔‘‘

ان کے عقائد و افعال کا وبال ان کے سروں پر گرنے والا ہو گا۔ لیکن دوسری طرف اہلِ ایمان کی کیفیت اس کے برعکس ہو گی:

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیۡ رَوۡضٰتِ الۡجَنّٰتِ ۚ

’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمالِ صالحہ پر کاربند رہے وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے۔‘‘

لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَضۡلُ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۲﴾

’’ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے۔ یہی (ان کے لیے) بہت بڑی فضیلت ہو گی۔‘‘

آیت 23

ذٰلِکَ الَّذِیۡ یُبَشِّرُ اللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ

’’یہ ہے وہ (انجامِ نیک) جس کی بشارت دے رہا ہے اللہ اپنے اُن بندوں کوجو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔‘‘

قُلۡ لَّاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ اَجۡرًا

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا‘‘

میں سالہا سال سے تم تک یہ پیغام پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہا ہوں مگر میں نے کبھی تم لوگوں سے اس کا کوئی صلہ یا انعام طلب نہیں کیا۔

اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی ؕ

’’سوائے قرابت داری کے لحاظ کے۔‘‘

اہلِ تشیع نے ان الفاظ کا یہ مطلب نکال لیا ہے کہ حضورﷺ کی طرف سے اپنے قرابت داروں (حضرت علی ‘حضرت فاطمہ اور حسنین رضوان اللہ علیہم اجمعین )سے محبت کا تقاضا کیا گیا ہے۔ لیکن جس وقت مکہ معظمہ میں سورۃ الشوریٰ نازل ہوئی اُس وقت حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہماکی شادی تک نہیں ہوئی تھی۔ سیاق و سباق میں اس آیت کا درست اور منطقی مفہوم یہ ہے کہ میں تم لوگوں سے کسی اور صلے کا تقاضا نہیں کرتا ‘لیکن یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم لوگ (یعنی قریش) اُس قرابت داری کا تو لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔آخر میں تمہارے قبیلے اور تمہاری برادری کا ایک فرد ہوں اور عرب روایات کے مطابق اس تعلق اور قرابت کے خصوصی حقوق متعین ہیں۔ چنانچہ عرب تہذیب و روایات کے مطابق تمہاری شرافت و نجابت سے مجھے یہ توقع تھی کہ تم لوگ میرے معاملے میں قرابت داری کے فطری تقاضوں کا لحاظ رکھو گے ‘لیکن مقامِ افسوس ہے کہ تم لوگوں نےِ ضدم ضدا میں ان تمام تقاضوں کو بھی بالائے طاق رکھ دیا ہے اور قرابت داری کے میرے فطری اور بنیادی حقوق کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔

وَ مَنۡ یَّقۡتَرِفۡ حَسَنَۃً نَّزِدۡ لَہٗ فِیۡہَا حُسۡنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ ﴿۲۳﴾

’’اور جو کوئی بھلائی کمائے گا تو ہم ا س کے لیے اس میں بھلائی کا اضافہ کرتے رہیں گے۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا‘بہت قدردان ہے۔‘‘

24

کیا قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے؟

ویڈیو

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۚ فَاِنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخۡتِمۡ عَلٰی قَلۡبِکَ ؕ وَ یَمۡحُ اللّٰہُ الۡبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۴﴾

آیت 24

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ۚ

’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ کے اوپر جھوٹ گھڑلیا ہے؟‘‘

یعنی یہ کہ محمد(ﷺ) نے قرآن خود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے۔

فَاِنۡ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخۡتِمۡ عَلٰی قَلۡبِکَ ؕ

’’تو اگر اللہ چاہے تو آپ کے قلب پر مہر لگا دے۔‘‘

یہ خطاب بظاہر محمد رسول اللہﷺ سے ہے لیکن اصل میں مخالفین کو سنانا مقصود ہے کہ یہ قرآن وحی کی صورت میں محمد(ﷺ) کے قلب پر نازل ہو رہا ہے۔ یہ خالص ایک وہبی صلاحیت ہے اور آپؐ کو اس بارے میں ہر گز کوئی اختیار نہیں ہے۔ کجا یہ کہ آپؐ خود اس کو گھڑیں یا تصنیف کریں۔ چنانچہ اگر اللہ چاہے تو یہ صلاحیت آپؐ سے واپس لے کر آپؐ کے قلب پر مہر کر دے اور آپؐ پر وحی آنا بند ہو جائے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے: {وَ لَئِنۡ شِئۡنَا لَنَذۡہَبَنَّ بِالَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیۡنَا وَکِیۡلًا ﴿ۙ۸۶﴾} ’’اور (اے نبیﷺ) اگر ہم چاہیں تو لے جائیں اس (قرآن) کو جو ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف‘ پھر آپ نہ پائیں گے اپنے لیے اس پر ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔‘‘

وَ یَمۡحُ اللّٰہُ الۡبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ؕ

’’اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کا حق ہونا ثابت کر دیتا ہے اپنے کلمات سے۔‘‘

یہ اللہ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے ‘لیکن اس کے ظہور میں اللہ کی مشیت کے مطابق وقت لگتا ہے۔ جیسے حضورﷺ کی دعوت کے حوالے سے اللہ کی اس سنت کا ظہور پہلی دفعہ غزوۂ بدر کے میدان میں اس وقت عمل میں آیا جبکہ دعوت کو شروع ہوئے چودہ برس گزر چکے تھے۔ چنانچہ غزوۂ بدر کے ذریعے حق و باطل کے مابین فرق کو واضح اور مبرہن کر کے نہ صرف یومِ بدرکو یوم الفرقان ( الانفال : ۴۱ )قرار دیا گیا بلکہ اس غزوہ کا بنیادی مقصد بھی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل ہی بتایا گیا: {لِیُحِقَّ الۡحَقَّ وَ یُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۚ﴿۸﴾} (الانفال) ’’تا کہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو‘ خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۲۴﴾

’’یقینا وہ واقف ہے اس سے بھی جو کچھ سینوں کے اندر پوشیدہ ہے۔‘‘

25-26

دعائیں کن کی قبول ہوتی ہیں

ویڈیو

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۙ۲۵﴾ وَ یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۲۶﴾

آیت 25

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَعۡفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعۡلَمُ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۙ۲۵﴾

’’اور وہی ہے کہ جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کی بہت سی برائیوں سے درگزر کرتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۔‘‘

آیت 26

وَ یَسۡتَجِیۡبُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیۡدُہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ

’’اور وہ دعائیں قبول کرتاہے ان لوگوں کی جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور اپنے فضل سے انہیں (ایمان واعمالِ صالحہ میں )ترقی بھی دیتاہے۔‘‘

وَ الۡکٰفِرُوۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ﴿۲۶﴾

’’اور کافروں کے لیے بہت سخت عذاب ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے