بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الشورى

آیات ۱ تا ۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الشوریٰ کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش نظر رہنا چاہیے کہ توحیدِ عملی کا وہ مضمون جو سورۃ الزمر سے شروع ہوا تھا‘سورۃ المؤمن اور سورۂ حٰمٓ السجدۃ میں ایک خاص ترتیب وتدریج سے آگے بڑھتا ہوا اس سورت میں آ کر ’’اجتماعی عملی توحید ‘‘کی شکل میں اپنے نقطہ عروج (climax) پر پہنچ رہا ہے۔ چنانچہ اس مضمون کا صحیح ادراک اور شعور حاصل کرنے کے لیے توحید عملی اور اجتماعیت کے باہمی ربط و لزوم کے بارے میں جاننا بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے یہ حقیقت تو بہر حال کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ فرد اور معاشرے کا وجود ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ انسان ایک متمدن حیوان ہے‘وہ اکیلا زندگی بسر نہیں کر سکتا‘اس لیے دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا اس کی مجبوری ہے۔ چنانچہ جب بہت سے انسان مل جل کر رہتے ہیں تو ایک اجتماعی نظام تشکیل پاتا ہے۔ پھر اس اجتماعی نظام کے اندر حسب ضرورت چھوٹے چھوٹے کئی نظام اور شعبے وجود میں آ جاتے ہیں ‘جیسے کہ آج ہر معاشرے میں عائلی نظام‘معاشرتی نظام‘معاشی نظام ‘سیاسی نظام وغیرہ موجود ہیں۔

اس تمہید کے حوالے سے موضوع کے بارے میں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ جب تک کسی انسانی اجتماعیت میں موجود تمام نظام اللہ کی حاکمیت کے تابع نہ ہو جائیں تب تک اجتماعی سطح پر توحید قائم نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اگر کسی معاشرے میں انفرادی طور پر تمام لوگ توحید پرست بھی ہوںلیکن معاشرے کے اجتماعی نظام پر باطل کا غلبہ ہو تو اس معاشرے کو اسلامی معاشرہ نہیں کہا جا سکتا۔ ایسی صورت میں ان تمام توحید پرست افراد پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے معاشرے یاملک سے باطل نظام کو اکھاڑ پھینکنے اور وہاں اللہ کا نظام قائم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں۔ ان لوگوں کی انفرادی توحید بھی تب ہی قابل قبول ہو گی جب وہ اپنے تن من دھن سے باطل نظام کا قلع قمع کرنے کے لیے اپنی جدوجہد مسلسل جاری رکھیں گے۔ لیکن اگر وہ باطل نظام کے تحت اطمینان کے ساتھ گزر بسر کر رہے ہوں ‘دن رات اپنے کیرئیر زسنوار نے‘کاروبار بڑھا نے اور جائیدادیں بنانے میں مصروف و مشغول ہوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ طاغوت کی اطاعت کو قبول کر کے اللہ کی حاکمیت کا انکار کر چکے ہیں۔ اس حالت میں اگروہ صوم و صلوٰۃ کے پابند بھی ہوں اور بہت سے دوسرے نیک اعمال کا اہتمام بھی کرتے ہوں تو بھی وہ اللہ کے ہاں سرخرو نہیں ہو سکتے۔

سورۃ الشوریٰ کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی نوٹ کرلیجیے کہ معاشرے میں اجتماعی سطح پر توحید کے نفاذ کے لیے ’’اقامتِ دین ‘‘کی اصطلاح صرف اسی سورت (آیت ۱۳) میں آئی ہے۔ چنانچہ اقامت دین کے موضوع پر یہ سورت قرآن حکیم کا ذروۂ سنام ہے۔

1-6

عظمتِ باری تعالیٰ

ویڈیو

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾ عٓسٓقٓ ﴿۲﴾ کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۴﴾ تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِہِنَّ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵﴾ وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہُ حَفِیۡظٌ عَلَیۡہِمۡ ۫ۖ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۶﴾

آیت 1

حٰمٓ ۚ﴿۱﴾

’’ ح ‘م۔‘‘

آیت 2

عٓسٓقٓ ﴿۲﴾

’’ ع‘ س ‘ ق۔‘‘

سورۃ الشوریٰ قرآن کی ان دو سورتوں میں سے ایک ہے جن کے آغاز میں پانچ پانچ حروفِ مقطعات آئے ہیں‘لیکن اس زمرے میں بھی یہ سورت اس لحاظ سے منفرد و یکتا ہے کہ ا س کے آغاز میں حروفِ مقطعات کی دو آیات ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس سورت سے بھی خصوصی نسبت ہے اور اس کی وجہ بھی سورۃ الحدید کے ساتھ میری نسبت ہی ہے۔ دراصل مضامین کے حوالے سے مدنی قرآن میں جو مقام سورۃ الحدید کا ہے بعینہٖ وہی مقام سورۃ الشوریٰ کا مکی قرآن میں ہے۔ سورۃ الشوریٰ حجم (۵۳ آیات) کے لحاظ سے سورۃ الحدید (۲۹ آیات) سے تقریباً دو گنا ہے ‘اور مکی قرآن چونکہ حجم کے اعتبار سے مدنی قرآن سے دو گنا ہے اس لیے ان دونوں سورتوں کے مابین حجم کے اس تناسب سے بھی یہی لگتا ہے کہ مکی قرآن کے اندر سورۃ الشوریٰ گویا سورۃ الحدید کا بدل ہے۔

آیت 3

کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾

’’(اے نبیﷺ!)اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان کی طرف بھی کرتا رہا ہے جو آپ سے پہلے تھے وہ اللہ جو بہت زبردست ‘بہت حکمت والا ہے۔‘‘

رسول اللہﷺ سے خطاب کرتے ہوئے دراصل آپؐ کے مخاطبین کو بتایا جارہا ہے کہ یہ مضامین جس طرح آپؐ کی طرف وحی کیے جارہے ہیں اسی طرح آپؐ سے پہلے آنے والے انبیاء کرامؑ کو بھی وحی کیے جا چکے ہیں۔

کَذٰلِکَ میں وحدتِ مدعا کی طرف بھی اشارہ ہے اور طریقۂ وحی کی یکسانیت کی طرف بھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کو انہی باتوں کی تعلیم دی ہے جن کی تعلیم آپؐ کو دی جا رہی ہے۔ اس کی وضاحت آگے آیت ۱۳ میں آ رہی ہے : {شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ …} نیز اس تعلیم کے لیے پہلے بھی یہی طریقہ اختیار فرمایا جو آپؐ کے لیے اختیار فرمایا ہے ‘ یعنی وحی کا نزول۔ اس کی وضاحت آیت ۵۱ میں آ رہی ہے۔ مذکورہ آیت میں وحی کی اقسام کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کن کن طریقوں سے انسانوں پر وحی بھیجتا رہا ہے۔ وحی کی ان اقسام کا ذکر میں نے اپنے لیکچر ’’تعارفِ قرآن ‘‘میں بھی کیا ہے‘ جو ’’بیان القرآن‘‘ حصہ اول میں بھی شامل ہے۔

آیت 4

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ ﴿۴﴾

’’اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ۔اور وہ بہت بلند و بالا ‘بہت عظمت والا ہے۔‘‘

آیت 5

تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِہِنَّ

’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں‘‘

آسمان فرشتوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔ اتنے بڑے اجتماع کی وجہ سے آسمان پھٹنے کے قریب ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ آسمانوں میں کوئی ایک بالشت برابر بھی جگہ خالی نہیں کہ جہاں کوئی فرشتہ سربسجود نہ ہویا قیام میں مصروف نہ ہو۔سورۃ المدثر (آیت ۳۱) میں فرشتوں کی کثرتِ تعداد سے متعلق ان الفاظ میں اشارہ فرمایا گیاہے: {وَ مَا یَعۡلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ ؕ} کہ آپ کے رب کے لشکروں کے بارے میں سوائے خود اس کے اور کوئی نہیں جانتا۔

وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور زمین میں جو (اہل ایمان) ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔‘‘

سورۃ المؤمن آیت ۷ میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں کہ حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا ئیں کرتے ہیں۔

اَلَاۤ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵﴾

’’آگاہ ہو جاؤ! یقینا اللہ ہی بخشنے والا‘ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

آیت 6

وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ

’’اور جن لوگوں نے اُس کے سوا دوسرے مددگار بنا رکھے ہیں‘‘

اللّٰہُ حَفِیۡظٌ عَلَیۡہِمۡ ۫ۖ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿۶﴾

’’اللہ ان پر نگران ہے ‘اور (اے نبیﷺ!) آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔‘‘

وہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ معبود ان کی شفاعت کریں گے اور ان کے ذریعے سے انہیں اللہ کا قرب حاصل ہو جائے گا‘ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ان کے سارے افعال کی نگرانی کر رہا ہے اور ان کا نامۂ اعمال تیار ہو رہا ہے۔ ان کا محاسبہ اور مواخذہ کرنا اُسی کا کام ہے۔

7-9

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ ہے پہنچانا اور اللہ کے ذمے ہے حساب لینا

ویڈیو

وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا وَ تُنۡذِرَ یَوۡمَ الۡجَمۡعِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ فَرِیۡقٌ فِی الۡجَنَّۃِ وَ فَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ ﴿۷﴾ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَہُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ وَ الظّٰلِمُوۡنَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۸﴾ اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۚ فَاللّٰہُ ہُوَ الۡوَلِیُّ وَ ہُوَ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ٪﴿۹﴾

آیت 7

وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا

’’اور اسی طرح ہم نے وحی کیا ہے آپ کی طرف یہ قرآن عربی‘‘ آیت ۳ کی طرح یہاں پر بھی وحی کے ذکر کے ساتھ لفظ کَذٰلِکَ آیا ہے۔ اس کی وضاحت قبل ازیں کی جاچکی ہے۔

لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا

’’تا کہ آپ خبردار کر دیں بستیوں کے مرکز اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کو‘‘

بالکل یہی الفاظ سورۃ الانعام کی آیت ۹۲ میں بھی آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی قوم پر اتمامِ حجت کرنے کا یہ وہی طریقہ اور اصول ہے جس کا ذکر سورۃ القصص کی آیت ۵۹ میں اس طرح ہوا ہے: {وَ مَا کَانَ رَبُّکَ مُہۡلِکَ الۡقُرٰی حَتّٰی یَبۡعَثَ فِیۡۤ اُمِّہَا رَسُوۡلًا } ’’اور نہیں ہے آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا‘ جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہیں بھیجتا‘‘۔جزیرہ نمائے عرب کی ’’اُمّ القری ‘‘یعنی مرکزی بستی چونکہ مکہ ہے اس لیے مذکورہ اصول کے تحت اس مرکزی بستی میں نبی آخر الزماںﷺ کو مبعوث فرمایا گیا۔ بلکہ ایک اعتبار سے تو مکہ پوری دنیا کا ’’اُمّ القریٰ ‘‘ہے۔ اس لیے کہ حَوْلَ کے معنی اردگرد کے ہیں اور’’ اردگرد‘‘ کی حدود کسی خاص نقطے تک محدود نہیں کی جا سکتیں۔ چنانچہ ایک مرکزی مقام کے ارد گرد کے دائرے کو اگر بڑھاتے جائیں تو یہ دائرہ پوری دنیا تک پھیل جائے گا۔اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے سورۃ الانعام کی آیت ۹۲ کے تحت بھی گزر چکی ہے۔

وَ تُنۡذِرَ یَوۡمَ الۡجَمۡعِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ

’’اور آپ ؐخبردار کر دیں اُس جمع ہونے والے دن سے جس میں کوئی شک نہیں۔‘‘

فَرِیۡقٌ فِی الۡجَنَّۃِ وَ فَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ ﴿۷﴾

’’(اُس دن) ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں۔‘‘

آیت 8

وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَہُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً

’’اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ایک ہی امت بنا دیتا‘‘

اللہ ایسے بھی کر سکتا تھا کہ دنیا کے تمام انسان مؤمن ہوتے۔

وَّ لٰکِنۡ یُّدۡخِلُ مَنۡ یَّشَآءُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

’’لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے۔‘‘

ان الفاظ کا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے : ’’لیکن اللہ داخل کرتا ہے اپنی رحمت میں اس کو جو چاہتا ہے‘‘۔یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت یا مغفرت اور جنت کی نعمتیں صرف اسی کو عطا کرتا ہے جو ان کی خواہش رکھتا ہو اور اپنی محنت کی صورت میں ان کی قیمت بھی ادا کرنے کو تیار ہو۔ اس حوالے سے سورۃ التوبہ کی آیت ۱۱۱ کے یہ الفاظ بھی ہر اہلِ ایمان کے پیش نظررہنے چاہئیں: {اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ } ’’یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے ۔‘‘

وَ الظّٰلِمُوۡنَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۸﴾

’’اور جو ظالم (کافر و مشرک) ہوں گے ان کے لیے نہ کوئی حمایتی ہو گا اور نہ کوئی مددگار۔‘‘

آیت 9

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۚ

’’کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی اور حمایتی بنا لیے ہیں؟‘‘

یہاں پر پھر وہی بات دہرائی گئی ہے جوپیچھے ہم آیت ۶ میں پڑھ آئے ہیں۔

فَاللّٰہُ ہُوَ الۡوَلِیُّ

’’سو حمایتی تو صرف اللہ ہی ہے‘‘

اے کم عقلو! اللہ کو چھوڑ کر تم کدھر بھٹک رہے ہو؟ اصل حمایتی ‘ مددگار اور کارساز تو بس وہی ہے۔ اسی کو اپنا سہارا بناؤ اور اسی کو اپنا ولی مانو! اس حوالے سے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۷ کے یہ الفاظ اہل ایمان کے لیے بہت بڑی خوشخبری کی حیثیت رکھتے ہیں: {اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ۬ؕ } ’’ اللہ ولی ہے اہل ایمان کا وہ انہیں گمراہیوں کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔‘‘

وَ ہُوَ یُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ۫ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ٪﴿۹﴾

’’اور وہی ہے جو زندہ کرے گا مردوں کو‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے