تحریر

فصلت

آیات ۳۷ تا ۵۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

37-38

مظاہرِ قدرت کو سجدہ نہ کرو

ویڈیو

وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَ النَّہَارُ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَ لَا لِلۡقَمَرِ وَ اسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۳۷﴾ فَاِنِ اسۡتَکۡبَرُوۡا فَالَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوۡنَ لَہٗ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ہُمۡ لَا یَسۡـَٔمُوۡنَ ﴿ٛ۳۸﴾

آیت 37

وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَ النَّہَارُ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ؕ

’’اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں رات‘ دن ‘سورج اور چاند۔‘‘

لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَ لَا لِلۡقَمَرِ

’’تم سورج کو سجدہ مت کرو اور نہ چاند کو‘‘

وَ اسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۳۷﴾

’’بلکہ اُس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا‘اگر تم واقعتا اُسی کی بندگی کرتے ہو۔‘‘

آیت 38

فَاِنِ اسۡتَکۡبَرُوۡا فَالَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ یُسَبِّحُوۡنَ لَہٗ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ہُمۡ لَا یَسۡـَٔمُوۡنَ ﴿ٛ۳۸﴾

’’پس (اے نبیﷺ!)اگر وہ استکبار کریں تو (پروا نہیں)وہ جو آپ کے رب کے پاس ہیں وہ دن رات اُس کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں اور وہ (اس سے )تھکتے نہیں۔‘‘

اگر یہ لوگ تکبر کی بنا پر مجھے سجدہ کرنے کو تیار نہیں تو مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے پاس تو فرشتوں کی فوجیں ہیں جو دن رات مسلسل میری تسبیح اور حمد میں لگے رہتے ہیں۔ اس بارے میں فرشتوں کا یہ بیان ہم سورۃ البقرہ کی آیت ۳۰ میں پڑھ چکے ہیں: {وَ نَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ؕ } ’’اور ہم آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘

39

زمین کو زندہ کرنے والا انسانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرے گا

ویڈیو

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنَّکَ تَرَی الۡاَرۡضَ خَاشِعَۃً فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاہَا لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾

آیت 39

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنَّکَ تَرَی الۡاَرۡضَ خَاشِعَۃً

’’اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہ دبی پڑی ہے‘‘

یعنی زمین کی وہ کیفیت کہ جب وہ بنجر اور ویران ہوتی ہے اور اس پر روئیدگی وغیرہ کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔

فَاِذَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہَا الۡمَآءَ اہۡتَزَّتۡ وَ رَبَتۡ ؕ

’’پھر جب ہم اس پر پانی برسادیتے ہیں تو اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ اُبھر آتی ہے۔‘‘

بارش کے برستے ہی زمین سے طرح طرح کے نباتات اگنے لگتے ہیں جیسے کہ مردہ زمین میں جان پڑ گئی ہو۔

اِنَّ الَّذِیۡۤ اَحۡیَاہَا لَمُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ؕ اِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾

’’یقینا وہ (اللہ) جس نے اس کو زندہ کیا ہے وہی مردوںکو بھی زندہ کرے گا۔یقینا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

40-42

عظمت ِقرآن

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴۰﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالذِّکۡرِ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۚ وَ اِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیۡزٌ ﴿ۙ۴۱﴾ لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ ﴿۴۲﴾

آیت 40

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُلۡحِدُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخۡفَوۡنَ عَلَیۡنَا ؕ

’’جو لوگ ہماری آیات کے بارے میں کج روی اختیار کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘

اَفَمَنۡ یُّلۡقٰی فِی النَّارِ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ یَّاۡتِیۡۤ اٰمِنًا یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’تو کیا وہ شخص جو آگ میں جھونک دیا جائے گا وہ بہتر ہو گا یا وہ کہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا!‘‘

اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۴۰﴾

’’تم کیے جاؤ جو بھی کرنا چاہتے ہو ‘وہ خوب دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔‘‘

قبل ازیں ہم آیت ۵ میں مشرکین کی طرف سے حضورﷺ کے لیے اس کھلے چیلنج کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ کہ آپ جو کرنا چاہتے ہیں کر لیں ‘ہم بھی آپ کی ہر کوشش کا توڑ کریں گے اور آپ کی اس دعوت کو چلنے نہیں دیں گے۔ زیر مطالعہ جملے میں دراصل اسی چیلنج کا جواب ہے۔

آیت 41

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِالذِّکۡرِ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۚ

’’یقینا وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کیا جبکہ یہ ان کے پاس آ گئی۔‘‘

اس سے آگے اس مفہوم کے الفاظ محذوف ہیں کہ ’’اب ان لوگوں کی شامت آنے والی ہے‘‘۔ نوٹ کیجیے کہ اس سورت میں یہاں تیسری مرتبہ قرآن کا ذکر آیا ہے۔ (اس سے پہلے آیت ۳ اور آیت ۲۶ میں بھی قرآن کا ذکر آ چکا ہے۔) یہاں قرآن کو ’’الذکر‘‘ یعنی یاد دہانی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب تو اس گواہی کو اُجاگر کرکے تمہارے سامنے لا رہی ہے جو پہلے سے تمہاری فطرت کے اندر مخفی ہے۔ اللہ کی معرفت اور اس کی محبت تو تمہاری ارواح کے اندر پہلے سے موجود تھی لیکن تمہاری عدم توجہی کی وجہ سے اس معرفت پر غفلت اور ذہول کے پردے پڑ گئے تھے‘ جس کے نتیجے میں تم اپنی فطرت کی اصل پہچان کو بھول کر اللہ ہی کو بھول گئے تھے۔ سورۃ الحشر کی آیت ۱۹ میں اہل ایمان کو اسی حوالے سے تاکید کی گئی ہے: {وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنۡسٰہُمۡ اَنۡفُسَہُمۡ ؕ } کہ اے اہل ایمان !تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیاتو نتیجتاً اللہ نے انہیں ایسا کر دیا کہ وہ خود اپنے آپ ہی کو بھول گئے۔ چنانچہ یہاں قرآن کو ’’الذکر ‘‘ کہہ کر گویا اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کتاب انسانی فطرت میں مضمرمعرفت خداوندی کے ابدی سبق کی یاد دہانی کے لیے آئی ہے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس یاد دہانی کا انکار کر دیا ہے اب ان کی شامت آنے والی ہے۔

وَ اِنَّہٗ لَکِتٰبٌ عَزِیۡزٌ ﴿ۙ۴۱﴾

’’(انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ) بلاشبہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔‘‘

آیت 42

لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ ؕ

’’باطل اس پر حملہ آور ہو ہی نہیں سکتا ‘نہ اس کے سامنے سے اورنہ ہی اس کے پیچھے سے۔‘‘

اس دورۂ ترجمہ قرآن کے دوران بار بار میں مثالیں دیتا رہا ہوں کہ قرآن کس طرح اپنی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح ان لوگوں کے عزائم کو ناکام بناتاہے جو اس کی آیات کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں یا کسی آیت کی تعبیر اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہیں۔

تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ ﴿۴۲﴾

’’اس کا اتارا جانا ہے ایک حکیم اور حمید ہستی کی طرف سے۔‘‘

43-46

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی

ویڈیو

مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدۡ قِیۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِکَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ وَّ ذُوۡ عِقَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۴۳﴾ وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا اَعۡجَمِیًّا لَّقَالُوۡا لَوۡ لَا فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ ؕ ءَؔاَعۡجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ ؕ قُلۡ ہُوَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہُدًی وَّ شِفَآءٌ ؕ وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرٌ وَّ ہُوَ عَلَیۡہِمۡ عَمًی ؕ اُولٰٓئِکَ یُنَادَوۡنَ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿٪۴۴﴾ وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِیۡہِ ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۴۵﴾ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۴۶﴾

آیت 43

مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدۡ قِیۡلَ لِلرُّسُلِ مِنۡ قَبۡلِکَ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی کچھ جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا تھا۔‘‘

اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ مَغۡفِرَۃٍ وَّ ذُوۡ عِقَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۴۳﴾

’’یقینا آپ کا رب مغفرت والا بھی ہے اور دردناک سزا دینے والا بھی ۔‘‘

آیت 44

وَ لَوۡ جَعَلۡنٰہُ قُرۡاٰنًا اَعۡجَمِیًّا

’’اور اگر ہم نے اسے عجمی قرآن بنایا ہوتا‘‘

نوٹ کیجیے یہ پانچویں مرتبہ قرآن کا ذکر آیا ہے اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ اگر ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کے بجائے کسی عجمی زبان میں نازل کیا ہوتا:

لَّقَالُوۡا لَوۡ لَا فُصِّلَتۡ اٰیٰتُہٗ ؕ

’’تو یہ کہتے کہ اس کی آیات واضح کیوں نہیں کی گئیں!‘‘

ءَؔاَعۡجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ ؕ

’’کیا کتاب عجمی اور مخاطب عربی؟‘‘

ایسی صورت میں اس پر یہ اعتراض وارد ہو سکتا تھا کہ جس کتاب کی اولین مخاطب ایک عربی قوم ہے وہ خود کسی اور زبان میں ہے!

قُلۡ ہُوَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہُدًی وَّ شِفَآءٌ ؕ

’’(اے نبیﷺ!)آپ کہیے کہ یہ ہدایت اور شفا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَقۡرٌ

’’اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے‘‘

وَّ ہُوَ عَلَیۡہِمۡ عَمًی ؕ

’’اور یہ (قرآن) ان کے حق میں اندھا پن ہے۔‘‘

یعنی یہ لوگ قرآن کی حقیقت کو نہیں دیکھ پا رہے۔

اُولٰٓئِکَ یُنَادَوۡنَ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿٪۴۴﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جو پکارے جاتے ہیں بہت دور کی جگہ سے۔‘‘

انہیں قرآن کی باتیں عجیب اور نا مانوس لگتی ہیں ۔ قرآن کی تعلیمات کے بارے میں انہیں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں کوئی بہت دور سے پکار رہا ہو۔

آیت 45

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡکِتٰبَ فَاخۡتُلِفَ فِیۡہِ ؕ

’’اور ہم نے موسیٰؑ کو بھی کتاب دی تھی ‘تو اس میں بھی اختلاف کیا گیا۔‘‘

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ

’’اور اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی تو ان کے مابین فیصلہ کر دیا جاتا۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی تقویم میں ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے‘ اسی طرح ان کے فیصلے کا بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وقت طے کررکھا ہے۔ اگر یہ وقت پہلے سے طے نہ ہوتا تو ان کا فیصلہ اب تک چکا دیا جاتا۔

وَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۴۵﴾

’’اور یقینا وہ اس کے بارے میں خلجان انگیز شک میں مبتلا ہیں۔‘‘

یہاں مِنْہُ سے مراد قرآن مجید ہے ۔یعنی پہلے انہوں نے خواہ مخواہ اختلافات کھڑے کیے۔ لیکن جب ہم نے ان اختلافات کی وضاحت کے لیے یہ کتاب بھیج دی تو اب وہ اس کے بارے میں ایسے شک و شبہ میں مبتلا ہوگئے ہیں جس نے انہیں سخت خلجان اور اُلجھن میں ڈال دیا ہے اور وہ اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آیت 46

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفۡسِہٖ وَ مَنۡ اَسَآءَ فَعَلَیۡہَا ؕ

’’جو کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اپنے ہی لیے کرتا ہے‘ اور جو کوئی برا کام کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔‘‘

وَ مَا رَبُّکَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿۴۶﴾

’’اور آپ کا رب کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے اپنے بندوں کے حق میں ۔‘‘

47-48

شرک کرنے کا حسرت ناک انجام

ویڈیو

اِلَیۡہِ یُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ؕ وَ مَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَکۡمَامِہَا وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ اَیۡنَ شُرَکَآءِیۡ ۙ قَالُوۡۤا اٰذَنّٰکَ ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَہِیۡدٍ ﴿ۚ۴۷﴾ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ وَ ظَنُّوۡا مَا لَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۴۸﴾

آیت 47

اِلَیۡہِ یُرَدُّ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ؕ

’’اُسی کی طرف لوٹتا ہے قیامت کا علم۔‘‘

یعنی قیامت کا علم صرف اُسی کے پاس ہے۔

وَ مَا تَخۡرُجُ مِنۡ ثَمَرٰتٍ مِّنۡ اَکۡمَامِہَا وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ

’’اور نہیں نکلتے کوئی پھل اپنے غلافوں سے اور نہ کسی مادہ کو حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اس کو جنتی ہے‘ مگر اُسی کے علم سے۔‘‘

یعنی صرف قیامت ہی نہیں بلکہ تمام امورِ غیب کا علم اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ جزئیات کا بھی اتنا تفصیلی علم رکھتا ہے کہ اُس کی نگاہ سے کسی شخص کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔

واضح رہے کہ یہاں پر اُنْثٰی کا لفظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے انسانوں کے علاوہ تمام حیوانات کی ماداؤں کا احاطہ بھی کرتا ہے۔

وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ اَیۡنَ شُرَکَآءِیۡ ۙ

’’اور جس دن وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک؟ ‘‘

قَالُوۡۤا اٰذَنّٰکَ ۙ مَا مِنَّا مِنۡ شَہِیۡدٍ ﴿ۚ۴۷﴾

’’ وہ کہیں گے :ہم نے تو آپ سے عرض کر دیا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں۔‘‘

اُس وقت وہ بے بسی کے عالم میں یہ بھی نہیں کہہ سکیں گے کہ دنیا میں ہم نے واقعتا کچھ سہارے ڈھونڈ کر ان سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔

آیت 48

وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ

’’اور وہ سب گم ہو جائیں گے اُن سے جنہیں وہ پکارا کرتے تھے اس سے پہلے‘‘

اس دن کی سختی کو دیکھ کر گویا اُن کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے ۔

وَ ظَنُّوۡا مَا لَہُمۡ مِّنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۴۸﴾

’’اور وہ یقین کر لیں گے کہ اب ان کے لیے کوئی جائے فرار نہیں۔‘‘

49-51

اکثر انسان نا شکرے اور بے صبرےہیں

ویڈیو

لَا یَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ ۫ وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴿۴۹﴾ وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنَّا مِنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ہٰذَا لِیۡ ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ وَّ لَئِنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰی رَبِّیۡۤ اِنَّ لِیۡ عِنۡدَہٗ لَلۡحُسۡنٰی ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا ۫ وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۰﴾ وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾

آیت 49

لَا یَسۡـَٔمُ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ دُعَآءِ الۡخَیۡرِ ۫

’’انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا‘‘

یہاں بھلائی (خیر) سے مراد دنیوی نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی ہے۔کسی انسان کے پاس جتنی چاہے دولت ہو اور جس قدر چاہے نعمتیں اسے میسر ہوں‘پھر بھی مزید حاصل کرنے کی اس کی خواہش کبھی ختم نہیں ہو تی۔

وَ اِنۡ مَّسَّہُ الشَّرُّ فَیَـُٔوۡسٌ قَنُوۡطٌ ﴿۴۹﴾

’’اور اگر کہیں اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو بالکل مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے۔‘‘

آیت 50

وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ رَحۡمَۃً مِّنَّا مِنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ

’’اور اگر اسے ہم اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیں اس کے بعد کہ اسے کوئی تکلیف پہنچی تھی‘‘

لَیَقُوۡلَنَّ ہٰذَا لِیۡ ۙ

’’تو وہ ضرور کہے گا کہ ہاں یہ تو میرا حق ہے‘‘

سختی کا وقت گزر جانے کے بعد حالات بہتر ہو جانے پر وہ بڑے فخر سے دعوے کرے گا کہ میں نے اپنے ناخن تدبیر سے تمام عقدے حل کر لیے ہیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بالآخرمیں نے اپنے تمام مسائل پر قابوپا لیاہے۔

وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃً ۙ

’’اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ قیامت وغیرہ کوئی قائم ہونے والی شے ہے۔‘‘

وَّ لَئِنۡ رُّجِعۡتُ اِلٰی رَبِّیۡۤ

’’اور اگر مجھے لوٹا ہی دیا گیا میرے رب کی طرف‘‘

یہ ہو بہو وہی الفاظ ہیں جو سورۃ الکہف کی آیت ۳۶میں ایک مالدار اور آسودہ حال شخص کے حوالے سے نقل ہوئے ہیں۔ ان دونوں مکالموں میں صرف رُدِدْتُ اور رُجِعْتُ کا فرق ہے۔ یہ جملہ دراصل ایک ایسے مادیت پسند انسان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو دنیا کی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھتا ہے اور ہمہ تن اسی کی زیب و زینت میں گم ہے۔ ایسے شخص کو اگر کسی وقت آخرت کی فکر پریشان کرتی ہے تو وہ اس خیال سے خود کو تسلی دے لیتا ہے کہ قیامت برپا ہونے کی یہ تمام باتیں اوّل تو محض ایک ڈھکوسلا ہیں ‘لیکن اگر بالفرض قیامت آ ہی گئی اور مجھے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہی پڑا تو:

اِنَّ لِیۡ عِنۡدَہٗ لَلۡحُسۡنٰی ۚ

’’یقینا میرے لیے اُس کے پاس بہتری ہی ہو گی۔‘‘

اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں مجھے دولت اور عزت دی ہے‘اولاد عطا کی ہے اور طرح طرح کی دوسری نعمتوں سے بھی مجھے نواز رکھا ہے تو اس کا یہی مطلب تو ہے کہ میں اس کا منظورِ نظر ہوں اور وہ مجھ پر مہربان ہے۔ چنانچہ اس زندگی کے بعد بھی اگر کوئی زندگی ہے تو میں وہاں بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کا منظورِ نظر ہی رہوں گا‘وہ وہاں بھی مجھ پر اسی طرح مہربان رہے گا اور جس طرح میں یہاں اس دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا ہوں وہاں بھی اسی طرح مزے اڑاؤں گا۔

فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِمَا عَمِلُوۡا ۫

’’تب ہم پوری طرح سے جتلادیں گے ان کافروں کو جو کچھ بھی اعمال انہوں نے کیے ہوں گے۔‘‘

وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۰﴾

’’اور انہیں ہم لازماً مزا چکھائیں گے بہت ہی گاڑھے عذاب کا۔‘‘

آیت 51

وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ

’’اور جب ہم انسان پر نعمتوں کی بارش کر دیتے ہیں تو وہ رخ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو بدل لیتا ہے۔‘‘

وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾

’’اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔‘‘

52-54

قرآن کی حقانیت واضح ہو کر رہے گی

ویڈیو

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۲﴾ سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ ﴿٪۵۴﴾

آیت 52

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کَانَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ثُمَّ کَفَرۡتُمۡ بِہٖ

’’(اے نبیﷺ!) ان سے کہیے: کیا تم نے غور کیا کہ اگر یہ (قرآن) واقعی اللہ ہی کی طرف سے ہو‘پھر تم نے اس کا کفر کیا‘‘

بے شک تم لوگ قرآن کو اللہ کا کلام ماننے کے لیے تیار نہیں ہو‘ لیکن تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لوکہ اگریہ واقعی اللہ کا کلام ہو اور تم لوگ اس کے منکر ہو رہے ہو تو:

مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ ہُوَ فِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۲﴾

’’توکون ہو گا اس سے بڑھ کر بھٹکا ہوا جو دور کی مخالفت میں پڑا ہو!‘‘

یہ بالکل وہی اسلوب ہے جو اس سے پہلے سورۂ سبا کی اس آیت میں اختیار فرمایا گیا ہے: {قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوَاحِدَۃٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ مَثۡنٰی وَ فُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوۡا ۟ مَا بِصَاحِبِکُمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ } (آیت۴۶) ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں‘یہ کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے‘پھر غور کرو‘نہیں ہے تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ۔‘‘

اب یہاں آخری مرتبہ پھر قرآن مجید کا ذکر آ رہا ہے اور یہ استدلال ہمارے اس موجودہ سائنسی دور کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔

آیت 53

سَنُرِیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا فِی الۡاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ

’’عنقریب ہم انہیں دکھائیں گے اپنی نشانیاں آفاق میں بھی اور ان کی اپنی جانوں کے اندر بھی‘‘

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جانوں اور زمین و آسمان کے اندر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مبرہن انداز میں ان لوگوں کے سامنے آتی چلی جائیں گی۔

حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُ الۡحَقُّ ؕ

’’یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔‘‘

اس آیت میں دراصل معلومات کے اس explosion کی طرف اشارہ ہے جو سائنسی ترقی کے باعث آج کے دور میں ممکن ہوا ہے۔ موجودہ دور سائنس کا دور ہے ۔ اس دور کی تاریخ زیادہ سے زیادہ دو سو برس پرانی ہے اور سائنسی ترقی میں یہ برق رفتاری جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اسے شروع ہوئے تو ابھی نصف صدی ہی ہوئی ہے۔ چنانچہ پچھلی نصف صدی سے سائنسی ترقی کے سبب مسلسل حیرت انگیز انکشافات ہو رہے ہیں اور آئے روز نت نئی ایجادات سامنے آ رہی ہیں۔ ان سائنسی معلومات کے اکتشافات اور حقائق کے بے نقاب ہونے سے بتدریج قرآن کا حق ہونا ثابت ہوتا چلا جا رہا ہے۔

دورۂ ترجمہ قرآن کے آغاز میں ’’تعارفِ قرآن‘‘ کے تحت اعجازِ قرآن کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو ہو چکی ہے۔ ان تمام پہلوؤں کا احصاء اور احاطہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔ نزولِ قرآن کے وقت اعجازِ قرآن کے جس پہلو نے اہلِ عرب کو سب سے زیادہ متاثر بلکہ مسحور کیا تھا وہ اس کی فصاحت‘بلاغت اور ادبیت تھی۔ اس وقت قرآن نے عرب بھر کے شعراء‘خطبا ء اور فصحا ء کو ان کے اپنے میدان میں چیلنج کیا کہ اگر تم لوگ دعویٰ کرتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے تو تم اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھاؤ۔ یہ چیلنج انہیں اس میدان میں دیا گیا تھا جس کے شہسوار ہونے پر انہیں خود اپنے اوپر ناز تھا اور جس کے نشیب و فراز کو وہ خوب اچھی طرح سے سمجھتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس چیلنج کا جواب نہ دے سکے۔

نزولِ قرآن کے وقت عربوں کے ہاں چونکہ شاعری اور سخن وری و سخن فہمی کا بہت چرچا تھا اس لیے اس دورمیں قرآن نے اپنے اسی ’’اعجاز‘‘ کو نمایاں کیا تھا۔ آج جبکہ سائنس کا دور ہے تو آج اعجازِ قرآن کے سائنسی پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ قرآن نے انسان کو کائنات میں بکھری ہوئی آیاتِ الٰہیہ کا مشاہدہ کرنے اور ان پر غور کرنے کی بار بار دعوت دی ہے‘ لیکن ظاہر بات ہے کہ اس میدان میں چودہ سو سال پہلے کے مشاہدے اور آج کے مشاہدے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پرانے زمانے کا انسان کائنات کے عجائبات کو ننگی آنکھ سے دیکھتا تھا جبکہ آج کے انسان کو بہت بڑی بڑی ٹیلی سکوپس‘الیکٹرانک مائیکرو سکوپس اور نہ جانے کون کون سی سہولیات میسرہیں۔ بہرحال آج خصوصی محنت اور کوشش سے یہ حقیقت دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ جن حقائق تک سائنس آج پہنچ پا رہی ہے قرآ ن نے بنی نوع انسان کو چودہ صدیاں پہلے ان سے متعارف کر ادیا تھا۔ لیکن مقامِ افسوس ہے کہ ابھی تک کسی مسلمان اسکالر کو قرآن اور سائنسی معلومات کا تقابلی مطالعہ (comparative study) کرکے یہ ثابت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ اب تک کے تمام سائنسی انکشافات قرآن کی فراہم کردہ معلومات کے عین مطابق ہیں۔ حال ہی میں فرانسیسی سرجن ڈاکٹر موریس بوکائی [Maurice Bucaile (1920-1998)] نے ’’بائبل‘قرآن اور سائنس‘‘ (The Bible, The Quran and Science) کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ‘جس میں اس نے ثابت کیا ہے کہ اب تک جو بھی سائنسی حقائق دنیا کے سامنے آئے ہیں وہ نہ صرف قرآن میں دی گئی تفصیلات کے عین مطابق ہیں بلکہ ان سب کے مطالعہ سے قرآن کی حقانیت بھی ثابت ہوتی ہے۔ اپنی اسی تحقیق کی بدولت موصوف سرجن کو ایمان کی دولت بھی نصیب ہوئی۔

قرآن کی بعض آیات تو اگرچہ آج بھی سائنسی حوالے سے تحقیق طلب ہیں ‘لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اب تک سامنے آنے والے سائنسی انکشافات کی روشنی میں قرآن کی متعلقہ آیات و عبارات کے مفاہیم و مطالب مزید نکھرکر سامنے آئے ہیں۔ بلکہ ایسا بھی ہوا ہے کہ قرآن کے بعض الفاظ کے جو معانی پرانے زمانے میں سمجھے گئے تھے وہ غلط ثابت ہوئے ہیں اور ان کی جگہ ان الفاظ کے زیادہ واضح اور زیادہ منطقی معانی سامنے آئے ہیں۔مثلاً لفظ عَلَقَہ کا وہ مفہوم جو قبل ازیں سورۃ المؤمنون کی آیت ۱۴ کے ضمن میں بیان ہوا ہے زیادہ بہتر اور درست ہے۔ اور لفظ ’’فائدہ‘‘اور’’فواد ‘‘کی وہ وضاحت جو سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۳۶ کے تحت دی گئی ہے زیادہ واضح اور منطقی ہے۔

اسی طرح اجرام سماویہ کے بارے میں قرآنی الفاظ {وَ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿۴۰﴾} (یٰسٓ) کا وہ مفہوم جو آج کے انسان کو معلوم ہوا ہے وہ پرانے زمانے کے انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا‘ بلکہ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ اجرامِ فلکی اور ان کی گردش سے متعلق مختلف زمانوں میں مختلف موقف اختیارکیے گئے۔ کسی زمانے میں انسان سمجھتا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج حرکت میں ہے۔ پھر اسے یوں لگا جیسے سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے۔ حتیٰ کہ آج کے انسان نے اپنی تحقیق و جستجوسے یہ ثابت کر دیا کہ سچ یہی ہے : {وَ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ ﴿﴾} کہ یہ سب ہی اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ بلکہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ متحرک ہے‘ حتیٰ کہ ہر ایٹم (atom) کے اندر اس کے اجزاء (الیکٹرانز‘ پروٹانز اور نیوٹرانز) بھی بے تابانہ مسلسل گردش میں ہیں۔اقبالؔ نے اپنے اس شعر میں اسی حقیقت کی ترجمانی کی ہیں ـ: ؎

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات اِک تغیر کو ہے زمانے میں !

موجودہ دورمیں اگرچہ مسلمانوںکو قرآن اور سائنس کے حوالے سے خصوصی اہتمام کے ساتھ تحقیق و تدقیق کرنے کی ضرورت ہے‘ لیکن ایسی کسی تحقیق کے دوران خواہ مخواہ تکلف کرنے اور زبردستی کھینچ تان کر کے قرآن کے دور ازکار مفاہیم نکالنے کی کوشش میں نہیں رہنا چاہیے۔ بلکہ جہاں پر عقلی اور سائنسی طور پر بات سمجھ میں نہ آئے وہاں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ابھی بات واضح نہیں ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے: {کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ} ( آل عمران:۷) ۔ایک وقت ضرور آئے گا کہ جو بات آج واضح نہیں ہے وہ واضح ہو جائے گی‘اور خارج کی دنیا میں اس حوالے سے جو حقائق بھی منکشف ہوں گے وہ قرآن کے الفاظ کے عین مطابق ہوں گے۔ ان شا ء اللہ !البتہ جن سائنسی حقائق کی اب تک قرآن کے ساتھ مطابقت ثابت ہو چکی ہے انہیں عام کر کے قرآن کی حقانیت کے سائنٹفک ثبوت کے طور پر لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آیت زیر مطالعہ میں فعل مضارع (سَنُرِیْہِمْ) سے پہلے ’’س‘‘ کی وجہ سے اس لفظ کے مفہوم میں خصوصی طور پر مستقبل کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ یعنی مستقبل میں ہم انہیں اپنی ایسی نشانیاں دکھائیں گے جن سے قرآن کی حقانیت واضح ہوجائے گی۔ اس ’’مستقبل‘‘ کا احاطہ کرنے کی کوشش میں اگر چشم تصور کو جنبش دی جائے تو اس کی حدود نزولِ قرآن کے دَور کی فضائوں سے لے کر زمانہ قیامت کی دہلیز تک وسعت پذیر نظر آئیں گی۔ آج وقت کی شاہراہ پر انسانی علم کی برق رفتاری کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ انسانی تحقیق کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خلاء کی پہنائیوں کے راز اس کے سامنے ایک ایک کر کے بے نقاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سمندروں کی اتھاہ گہرائیاں اس کی عمیق نظری کے سامنے سرنگوں ہیں۔ قطب شمالی (Arctic) اورقطب جنوبی (Antarctic) سمیت زمین کا چپہ چپہ ہر پہلو سے نت نئی تحقیق کی زد میں آ چکا ہے۔ غرض سائنسی ترقی کا یہ ’’جن‘‘ کہکشاؤں کی بلندیوں سے لے کر تحت الثریٰ کی گہرائیوں تک معلومات کے خزانے اکٹھے کر کے بنی نوعِ انسان کے قدموں میں ڈالتا چلا جا رہا ہے۔ لیکن الحمد للہ !اس تحقیق کے ذریعے سے اب تک جو حقائق بھی سامنے آئے ہیں وہ سب کے سب قرآن کی حقانیت پر گواہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے علم و تحقیق کا یہ قافلہ وقت کی شاہراہ پر اپنا سفر قیامت تک جاری رکھے گا۔ ہمارا ایمان ہے کہ اس سفر کے دوران ایجادو دریافت کے میدان میں انسان کو جو کامیابیاں بھی نصیب ہوں گی اور انفس و آفاق کی دنیاؤں کے جو جو راز بھی منکشف ہوں گے وہ سب کے سب بالآخر قرآن حکیم کی حقانیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے چلے جائیں گے۔

اَوَ لَمۡ یَکۡفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۵۳﴾

’’کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ آپ کا ربّ ہر چیز پر گواہ ہے!‘‘

کائنات کی ہر چیز اس کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ لیکن اس نے قرآن میں صرف اسی حد تک حقائق کا ذکر کیا ہے جس حد تک انسان انہیں سمجھ سکتا ہے اور اسی انداز میں ان کا ذکر کیا ہے جس انداز میں د انسانی فہم و شعور کی رسائی ان تک ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے وہ حقائق جن تک آج کے انسان کی تدریجاً رسائی ہوئی ہے اگر وہ آج سے پندرہ سو سال پہلے من و عن بیان کر دیے جاتے تو اس وقت انہیں کون سمجھ سکتاتھا۔

آیت 54

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡ لِّقَآءِ رَبِّہِمۡ ؕ

’’آگاہ ہو جاؤ! یہ لوگ اپنے رب کے ساتھ ملاقات سے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘

اَلَاۤ اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍ مُّحِیۡطٌ ﴿٪۵۴﴾

’’آگاہ ہو جاؤ! بے شک وہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے