تحریر

فصلت

آیات ۳۰ تا ۳۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

30-32

کل تعلیمات دینی کا خلاصہ وعطر استقامت

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾ نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾ نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِیۡمٍ ﴿٪۳۲﴾

آیت 30

اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا

’’بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے‘‘

اللہ پر ایمان لانا آسان ہے مگر اس پر جمے رہنا آسان نہیں ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کو اللہ پر پوری طرح توکل ہو‘وہ ہر حالت میں اس کی رضا پر راضی رہے۔ نہ اپنی کسی حالت کے بارے میں اس کی زبان پر حرفِ شکایت آئے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے کسی فیصلے پر اس کے دل میں ملال پیدا ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے آگے اس کا سر تسلیم بلا حیل و حجت جھکتا چلا جائے اور وہ اپنے تن من دھن کو ہتھیلی پر رکھے ‘اس کے درِ اطاعت پر ہمہ وقت کمر بستہ کھڑے رہ کرعملی طور پر ثابت کر دے کہ: {اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾} (الانعام) ’’یقینا میری نماز‘میری قربانی‘میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے‘‘۔اس استقامت کی اہمیت ایک حدیث سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتا دیں کہ آپؐ کے سوا کسی اور سے کچھ دریافت کرنے کی ضرورت نہ رہے۔‘‘ (یعنی مجھے اسلام کی حقیقت ایک جملے میں بتا دیجیے تا کہ میں اسے گرہ میں باندھ لوں۔) جواب میں آپﷺ نے فرمایا: حدیث((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ))۱’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس پر جم جاؤ!‘‘ اگر واقعی کوئی شخص غور کرے تو اس استقامت میں اسے قیامت مضمر دکھائی دے گی ۔ (واضح رہے کہ استقامت اور قیامت کا سہ حرفی مادہ ایک ہی ہے۔) یہ قیامت ہی تو ہے کہ ایک بندہ اللہ تعالیٰ کو نظریاتی طور پر اپنا رب مان لینے کے بعد عملی طور پر ساری دنیا سے بے نیاز ہو جائے اور اپنے ایک ایک عمل سے ثابت کردے کہ میرا پروردگار‘میرا حاجت روا‘میرا سہارا‘میرا مشکل کشا‘ میرے نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ ہے۔ دل کا یہ یقین اور عمل کا یہ رنگ گویا چوٹی ہے اس ایمان اور عمل صالح کی جس کا ذکر سورۃ العصر میں نجاتِ اُخروی کی پہلی دو شرائط کے طور پر اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے الفاظ میں ہوا ہے۔

اب اگلی آیت میں ان خوش قسمت لوگوں کا اللہ کے ہاں مقام ملاحظہ کیجیے جو اپنی دُنیوی زندگی میں ایمان و عمل کی اس چوٹی یعنی استقامت تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں :

تَتَنَزَّلُ عَلَیۡہِمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَلَّا تَخَافُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَ اَبۡشِرُوۡا بِالۡجَنَّۃِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾

’’ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو اور خوشیاں مناؤاس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے۔‘‘

فرشتوں کا نزول ان لوگوں پر کب ہوتا ہے؟ اس حوالے سے یہ امر تو متفق علیہ ہے کہ موت کے قریب ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہنے اور بشارت دینے کے لیے فرشتے نازل ہوتے ہیں‘ لیکن دُنیوی زندگی کے دوران بھی اہل ایمان کی مدد کے لیے فرشتوں کا آنا ثابت ہے ۔جیسے میدانِ بدر میں اہلِ ایمان مجاہدین کی مدد کے لیے فرشتے نازل ہوئے: {اِذۡ یُوۡحِیۡ رَبُّکَ اِلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیۡ مَعَکُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ } ( الانفال: ۱۲) ’’(یاد کریں) جب آپؐ کا ربّ وحی کر رہا تھا فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں‘توتم(جاؤاور) اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو‘‘۔ چنانچہ مؤمنین صادقین پر ملائکہ کا نزول اثنائے حیات میں بھی ہوتا ہے۔

(۱) مسند احمد‘ کتاب مسند المکیین‘ باب حدیث سفیان بن عبداللّٰہ الثقفی‘ ح:۱۴۸۶۹۔یہ حدیث صحیح مسلم(کتاب الایمان) میں ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ فَاسْتَقِمْ)) کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے‘ جبکہ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ کی نقل کردہ روایت میں الفاظ یہ ہیں: ((قُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَمْ)) ’’کہو میرا رب اللہ ہے اور پھر اس پر جم جاؤ!‘‘

آیت 31

نَحۡنُ اَوۡلِیٰٓؤُکُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ

’’ہم ہیں تمہارے رفیق دُنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘

ان الفاظ سے یہ مفہوم خود بخود واضح ہو رہا ہے کہ فرشتے حیاتِ دُنیوی کے دوران بھی ان خوش قسمت لوگوں کی ہمت بندھاتے ہیں اور انہیں یہ پیغامِ جانفرا پہنچاتے ہیں۔

وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ

’’اور تمہارے لیے اس (جنت) میں وہ سب کچھ ہو گا جو تمہارے جی چاہیں گے‘‘

تمہارے جی وہاں جو کچھ چاہیں گے وہ سب کچھ ہمارے علم میں ہے ‘کیونکہ تمہارے نفسوں کے تقاضوں اور تمہاری خواہشات کو بھی ہم نے خود ہی پیدا کیا ہے۔ لہٰذا ہم تمہاری خواہشات کی تسکین کا مکمل سامان وہاں فراہم کریں گے۔

وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾

’’اور تمہارے لیے اس میں وہ سب کچھ بھی ہو گا جو تم مانگو گے۔‘‘

تمہارے نفسوں کے تقاضوں کے مطابق تو سب کچھ وہاں پہلے سے ہی مہیا ہو چکا ہو گا۔ البتہ مانگنے اور طلب کرنے کے حوالے سے ہر شخص کا اپنی ذہنی سطح کے مطابق ایک معیار اور مخصوص ذوق ہوتا ہے۔ بچہ اپنی پسند کی کوئی چیز مانگے گا‘ایک سادہ لوح دیہاتی اپنے معیار کی کوئی چیز طلب کر ے گا‘ جبکہ ایک حکیم و فلسفی اپنے ذوق کے مطابق سوال کرے گا۔ غرض جو کوئی جو کچھ مانگے گا وہ سب کچھ ا س کے سامنے حاضر کر دیا جائے گا۔

آیت 32

نُزُلًا مِّنۡ غَفُوۡرٍ رَّحِیۡمٍ ﴿٪۳۲﴾

’’یہ ابتدائی مہمان نوازی ہو گی اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔‘‘

جنت کی جن نعمتوں کا ذکر ہمیں قرآن و حدیث میں ملتا ہے ان کا تعلق اہل جنت کی ابتدائی مہمان نوازی (نُزُل) سے ہے۔ جہاں تک ان کی اصل ضیافت کا تعلق ہے اس کی کیفیت ہمارے احاطہ شعور میں نہیں آ سکتی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ : اَعْدَدْتُ حدیثعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَ عَیْنٌ رَأَتْ‘ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ‘ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ …))۱ ’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے (جنت میں) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر اس کا گمان ہی گزرا…‘‘ پھر آپﷺ نے سورۃ السجدۃ کی یہ آیت تلاوت فرمائی : {فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾} ’’پس کوئی انسان نہیں جانتا کہ ان (اہل جنت) کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے‘وہ بدلہ ہو گا ان کے اعمال کا۔‘‘

اب اس کے بعد وہ آیت آ رہی ہے جو اپنے مضمون کے اعتبار سے اس سورت کا عمود ہے اور جس کو قبل ازیں ان سات آیات کے ہار کے درمیان ایک جگمگاتے ہیرے سے تشبیہہ دی گئی تھی۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق‘ باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ وانما مخلوقۃ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ واللفظ لہ ۔

33

بہترین بات دعوت اللہ

ویڈیو

وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾

آیت 33

وَ مَنۡ اَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللّٰہِ

’’اور اُس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف‘‘

جس خوش قسمت شخص کو ایمان کے بعد ’’استقامت‘‘ کا مقام حاصل ہو چکا ہو ‘ اسے بھلا اب کس بات کی دھن ہو گی؟ کیاوہ اب بھی مال و دولتِ دنیا کے پیچھے دوڑے گا ؟ یا کیا حکومت اور اقتدار کے حصول کی خواہش اب بھی اس کے دامن دل کو اپنی طرف کھینچے گی؟ نہیں! ہر گز نہیں!اس ’’متاعِ غرور‘‘ کو تو وہ ٹھکرا کر بہت آگے نکل آیا ہے۔ مسندِ استقامت پر رونق افروز ہونے کے بعد دنیا و مافیہا کے بارے میں اس کی ترجیحات بہت واضح ہوچکی ہیں۔ اب تووہ خوب سمجھتا ہے کہ یہ سب آنی جانی چیزیں ہیں‘آج ہیں تو کل نہیں ہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ دنیا اور اس کے لوازمات کی بہتات سے مسئولیت بڑھتی ہے اور حسابِ آخرت مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اب اس کے دل میں ایک ہی تڑپ ہے اوروہ ہے دعوت الی اللہ کی تڑپ۔ اب اس کی دوڑ دھوپ اور جدوجہد کا اگر کوئی ہدف ہے تو بس یہی کہ میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کو راہِ ہدایت پر لے آؤں۔

وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾

’’اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوںمیں سے ہوں۔‘‘

اعمالِ صالحہ کا مفہوم ’’استقامت‘‘ کے اندر بھی پوشیدہ ہے ‘لیکن یہاں پر اس کا علیحدہ ذکر بھی آ گیا ہے ‘اس لیے کہ دعوت الی اللہ اور عمل صالح لازم و ملزوم ہیں۔ اگر ایک داعی کا اپنا عمل درست نہیں ہو گا تو نہ صرف یہ کہ اس کی دعوت مؤثر نہیں رہے گی بلکہ وہ دعوت کی بدنامی کا باعث بھی بنے گا۔

34-36

برائی کا جواب اچھائی سے دو

ویڈیو

وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾ وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾ وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾

آیت 34

وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ

’’اور (دیکھو!) اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے۔‘‘

اب کون کہے گا کہ یہ دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ بات اس نکتے سے شروع کی جا رہی ہے جو سب کے ہاں متفق علیہ اور مسلم ہے ۔

اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ

’’ تم مدافعت کرو بہترین طریقے سے‘‘

لوگ بے شک آپ کو گالیاں دیں‘مگر آپ انہیں دعائیں دو‘اگر کوئی آپ کو پتھر مارے تو آپ جواب میں اسے پھول پیش کرو۔ یہ وہ حکمت عملی ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ اس طرزِ عمل کے سامنے بڑے سے بڑا کٹھور دل انسان بھی نرم پڑ جاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کے حوالے سے یہ نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اگلی سورت یعنی سورۃ الشوریٰ میں اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر آئے گا۔ لیکن یاد رہے کہ سورۃ الشوریٰ میں سختی کا جواب سختی سے دینے کی بات اقامت دین کے حوالے سے ہوئی ہے جبکہ یہاں دعوتِ دین کے مرحلے کی حکمت عملی بتائی جا رہی ہے۔ دونوں مرحلوں پر پالیسی کے اس فرق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال ’’دعوت‘‘ کے مرحلے کی پالیسی یہی ہے کہ جب تم دعوت کو لے کر چلو تو ایسے بے ضرر انسان بن جاؤ کہ بدھ مت کے بھکشو نظر آؤ۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اسی حکمت عملی کے بارے میں فرمایا تھا کہ تم سانپ کی مانند چوکنے اور فاختہ کی طرح بے ضرر بنو! یعنی ایک داعی کو ایسا احمق اور بدھو نہیں ہونا چاہیے کہ دوسرے اسے ضرر پہنچا جائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ خود اُس کی ذات سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس حوالے سے رسالت مآبﷺ کی سیرت ہمارے سامنے ہے۔ آپؐ نے گالیاں دینے والوں کو ہمیشہ دعائیں دیں‘ بلکہ آپؐ نے تو ابوجہل جیسے دشمنوں کی ہدایت کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں ؎

سلام اس ؐ پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اُسؐ پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں!

زیر مطالعہ موضوع یعنی’’دعوت توحید ‘‘کی اہمیت کو اقامت دین کی جدوجہد کے حوالے سے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ توحید عملی کے تدریجی مراحل کو اپنے ذہن میں ایک مرتبہ پھر سے تازہ کر لیں۔ اب تک ہم انفرادی سطح پر توحید عملی کے دو پہلوئوں کا مطالعہ کرچکے ہیں۔ سورۃ الزمر میں توحید کا خارجی یا ظاہری پہلو بیان ہوا ہے کہ عبادت صرف اللہ کی کرواُس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس کے بعد سورۃ المؤمن میں توحید کے داخلی پہلو کا ذکر آیا تھاکہ دعا صرف اللہ سے کرو ‘اور وہ بھی اُس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اب سورۂ حٰمٓ السجدہ میں توحید کو انفرادی سطح سے اجتماعیت کی طرف بڑھانے کی بات ہو رہی ہے۔ گویا ’’توحید‘‘ ایک فرد سے نکل کر دوسرے افراد تک پہنچنا شروع ہو گی اور دعوت کے ذریعے ’’متعدی‘‘ صورت اختیارکر کے معاشرے میں پھیلتی چلی جائے گی۔ سورۂ آل عمران میں اس بنیاد پر باقاعدہ ایک جماعت قائم کرنے کی ضرورت اور اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے: {وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾} ’’اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو خیر کی طرف دعوت دے‘نیکی کا حکم دیتی رہے اور بدی سے روکتی رہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

بہر حال زیر مطالعہ آیات کا موضوع دعوتِ توحید ہے اور اس حوالے سے داعیانِ حق کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ تم برائی کا جواب ہمیشہ نیکی اور خوش اخلاقی سے دو۔ اگر تم یہ روش اختیار کرو گے :

فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾

’’تو (تم دیکھو گے کہ) وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے وہ گویاگرم جوش دوست بن جائے گا۔‘‘

انسان آخر انسان ہے ۔ اگر کوئی شخص ہر وقت آپ کی مخالفت پر ہی کمر بستہ ہے اور آپ ہیں کہ ہمیشہ اُس کی بھلائی کے لیے کوشاں ہیں تو آخر وہ کب تک اپنے منفی طرزِعمل پر کاربند رہے گا۔ بالآخر اسے آپ کے اخلاق کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہی پڑیں گے۔

آیت 35

وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ

’’اور یہ مقام نہیں حاصل ہو سکتا مگر ان ہی لوگوں کو جو بہت صبر کرتے ہوں۔‘‘

اس خاص مقام تک صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جن میں صبر کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہو اور وہ اپنی عملی زندگی میں بھی ہمیشہ صبر کی روش پر کاربند ہوں۔

وَ مَا یُلَقّٰہَاۤ اِلَّا ذُوۡحَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾

’’اور یہ نہیں دیا جاتا مگر ان ہی کو جوبڑے نصیب والے ہوں۔‘‘

یہ حَظٍّ عَظِیْمٍ کیاہے اور اس کا حقیقی معیار کیا ہے؟ ہر انسان کے لیے اس کا صحیح ادراک حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے پہلے یہ لفظ ہم سورۃ القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بھی پڑھ آئے ہیں۔ قارون کے ٹھاٹھ باٹھ اور خدم و حشم سے متاثر ہو کر دنیا دار لوگوں نے حسرت بھرے انداز میں کہا تھا: {اِنَّہٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۷۹﴾} ( القصص) کہ یقینا یہ شخص بڑا صاحب نصیب ہے۔لیکن پھر جب وہ اپنے گھر بار سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا تو ان ہی لوگوں نے اس پر شکر و اطمینان کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر بڑی مہربانی کی کہ انہیں قارون جیسا مال و منال نہ دیا‘ورنہ انہیں بھی اسی طرح زمین میں دھنسا دیا جاتا۔ چنانچہ ایک بندۂ مؤمن کے لیے اصل کامیابی ‘حقیقی فوزو فلاح اور ’’حظِ عظیم ‘‘اسی عمل اور اسی کردار میں ہے جس کی نشاندہی اس آیت میں کی گئی ہے۔

آیت 36

وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ

’’اور اگر کبھی تمہیں شیطان کی طرف سے کو ئی چوک لگنے لگے تو اللہ کی پناہ طلب کر لیا کرو۔‘‘

اگر کبھی کسی کے ناروا سلوک اور مخالفانہ رویے پر غصہ آ جائے تو فوراًسمجھ لو کہ یہ شیطان کی اُکساہٹ ہے‘ شیطان تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے۔ چنانچہ ایسی کیفیت میں فوراً اللہ کی پناہ طلب کر لیا کرو ‘کیونکہ صرف اسی کی پناہ میں آ کر تم شیطان کے وار سے بچ سکتے ہو۔

اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾

’’یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا ‘سب کچھ جاننے والا۔‘‘

یہ آیت سورۃ الاعراف (آیت ۲۰۰) میں بھی آ چکی ہے۔ وہاں {اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} کے الفاظ ہیں۔ گویا یہاں اللہ تعالیٰ کی مذکورہ صفات (السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) کے بارے میں زیادہ زور اور تاکید کا انداز پایا جاتا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے