تحریر

فصلت

آیات ۹ تا ۲۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

9-12

زمین اور آسمانوں کی تخلیق

ویڈیو

قُلۡ اَئِنَّکُمۡ لَتَکۡفُرُوۡنَ بِالَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَ تَجۡعَلُوۡنَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ ذٰلِکَ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۚ﴿۹﴾ وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ مِنۡ فَوۡقِہَا وَ بٰرَکَ فِیۡہَا وَ قَدَّرَ فِیۡہَاۤ اَقۡوَاتَہَا فِیۡۤ اَرۡبَعَۃِ اَیَّامٍ ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَ لِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ ﴿۱۱﴾ فَقَضٰہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ وَ اَوۡحٰی فِیۡ کُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَہَا ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ ٭ۖ وَ حِفۡظًا ؕ ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿۱۲﴾

آیت 9

قُلۡ اَئِنَّکُمۡ لَتَکۡفُرُوۡنَ بِالَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَرۡضَ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ

’’(اے نبیﷺ!) آپ ان سے کہیے کہ کیا تم لوگ کفر کر رہے ہو اس ہستی کا جس نے زمین کو بنایا دو دنوں میں؟‘‘

وَ تَجۡعَلُوۡنَ لَہٗۤ اَنۡدَادًا ؕ ذٰلِکَ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۚ﴿۹﴾

’’اور تم اس کے لیے مدمقابل ٹھہرا رہے ہو!وہ ہے تمام جہانوں کا رب۔‘‘

اَنْدَاد کا واحد ’’نِدّ‘‘ ہے جس کے معنی مد مقابل کے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا ہے تو اس کا مالک اور اصل حاکم بھی وہی ہے۔ لہٰذا دنیا میں اگر کوئی حاکم بنے گا تو اسے اللہ کا تابع اور ماتحت بن کر رہنا ہوگا۔ اس حیثیت سے وہ اللہ کا خلیفہ ہو گا۔ لیکن اگر کوئی اللہ کی اطاعت سے آزاد ہو کر حاکم بن بیٹھے اور خود کو مطلق اقتدار (sovereignty) کا حق دار سمجھنے لگے تو وہ گویا اللہ کا مدمقابل ہے ‘چاہے وہ ایک فرد ہو یا کسی ملک کے کروڑوں عوام ہوں۔

آیت 10

وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ مِنۡ فَوۡقِہَا

’’اور اس میں اس نے بنائے پہاڑوں کے لنگر اس کے اوپر سے‘‘

وَ بٰرَکَ فِیۡہَا وَ قَدَّرَ فِیۡہَاۤ اَقۡوَاتَہَا فِیۡۤ اَرۡبَعَۃِ اَیَّامٍ ؕ

’’اور اس میں برکات پیدا کیں اور اس میں اندازے مقررکیے اس کی غذاؤں کے ‘چار دنوں میں۔‘‘

یعنی دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا جو بذاتِ خود ایک بہت بڑی تخلیق ہے‘پھر مزید دو دنوںمیں اس کے اوپر سے اس پر پہاڑ جما دیے اور زمین کی مٹی کو روئیدگی کے قابل بنایا۔ زمین ابتدا میں تو آگ کے ایک کرے کی شکل میں تھی۔ آہستہ آہستہ یہ ٹھنڈی ہوئی۔ پہلے پہل اس کی مٹی میں صرف inorganic compounds پائے جاتے تھے۔ ہوتے ہوتے organic compounds پیدا ہوئے۔ اس کے بعداس میں وہ صلاحیت اور اہلیت پیدا ہوئی کہ یہ زندگی کا گہوارہ بن سکے۔ یہ سارا عمل چار دنوں میں مکمل ہوا۔ یہ آیت تا حال آیات متشابہات میں سے ہے‘ ابھی تک ہم ان چار دنوں کی حقیقت اور تفصیل کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾

’’تمام سائلین کے لیے برابر۔‘‘

زمین کی مختلف صلاحیتوں ‘اس کی پیداوار اور اس کے غذائی ذخائر پر ان سب کا حق برابر ہے جنہیں ان کی ضرورت ہے۔ اس میں کسی کے لیے کوئی خاص حصہ نہیں رکھا گیا۔

آیت 11

ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ

’’پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا‘اور ابھی وہ ایک دھواں سا تھا‘‘

یہ اس وقت کا ذکر ہے جب آسمان ایک دھویں کی شکل میں تھا اور ابھی سات آسمانوں کی الگ الگ صورتیں وجود میں نہیں آئی تھیں۔ان آیات میں کائنات کی تخلیق کے ابتدائی مرحلے سے متعلق کچھ اشارے پائے جاتے ہیں۔ سائنسی شواہد کے مطابق Big Bang کے بعد آگ کا ایک بہت ہی بڑا گولا وجود میں آیا۔ پھر اس گولے میں مزید دھماکے ہوئے اور اس طرح اس مادے کے جو حصے علیحدہ ہوئے ان سے کہکشائیں بننا شروع ہوئیں۔

فَقَالَ لَہَا وَ لِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ

’’تو اُس نے آسمان اور زمین سے کہا کہ تم دونوں چلے آؤ خوشی سے یا جبراً!‘‘

قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ ﴿۱۱﴾

’’ان دونوں نے کہا کہ ہم حاضر ہیں پوری آمادگی کے ساتھ۔‘‘

آیت 12

فَقَضٰہُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِیۡ یَوۡمَیۡنِ

’’پھر اُس نے ان کو سات آسمانوں کی شکل دے دی‘دو دنوں میں۔‘‘

قرآن حکیم میں سات مقامات پر یہ ذکر ملتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق چھ دنوں میںہوئی‘ لیکن یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں نہ صرف ان چھ دنوں کی مزید تفصیل (break up) دی گئی ہے بلکہ اس تخلیقی عمل کی ترتیب (sequence) کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔ یعنی پہلے زمین بنی اور سات آسمان اس کے بعد وجود میں آئے۔ لیکن ابھی تک ہم نہ تو مذکورہ چھ دنوں کے مفہوم کو سمجھ سکے ہیں اور نہ ہی زمین و آسمان کے تخلیقی عمل کی ترتیب سے متعلق سائنٹیفک انداز میں کچھ جان سکتے ہیں۔ بہر حال ہمارا یمان ہے کہ مستقبل میں کسی وقت سائنس ضرور ان معلومات تک رسائی حاصل کرے گی اور انسان اس حقیقت کی تہہ تک ضرور پہنچ جائے گا کہ زمین و آسمان کے وجود میں آنے کی صحیح ترتیب وہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی ہے۔

وَ اَوۡحٰی فِیۡ کُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَہَا ؕ

’’اور اس نے وحی کر دیا ہرآسمان پر اس کا حکم‘‘

سات آسمان بنانے کے بعد ہر آسمان پر اس سے متعلق تفصیلی احکامات بھیج دیے گئے۔

وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِمَصَابِیۡحَ ٭ۖ وَ حِفۡظًا ؕ

’’اور ہم نے آسمانِ دُنیا کو چراغوں سے مزین کردیا اور اس کی خوب حفاظت کی۔‘‘

چراغوں سے مراد ستارے ہیں۔ ستارے زمین سے قریب ترین آسمان کے لیے باعث زینت بھی ہیں اور شیاطین جن کی سرگرمیوں کے خلاف حفاظتی چوکیوں کا کام بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ جو شیاطین جن غیب کی خبریں حاصل کرنے کے لیے ممنوعہ حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان پر ان ستاروں سے میزائل داغے جاتے ہیں۔ (اس موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سورۃ الحجر کی آیت ۱۷ اور سورۃ الانبیاء کی آیت ۳۲ کی تشریح۔)

ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿۱۲﴾

’’یہ اُس ہستی کا بنایا ہوا اندازہ ہے جو زبردست ہے اور کل علم رکھنے والا ہے۔‘‘

13-18

قرآن کی دعوت جھٹلانے والوں کا برا انجام

ویڈیو

فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُکُمۡ صٰعِقَۃً مِّثۡلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۳﴾ اِذۡ جَآءَتۡہُمُ الرُّسُلُ مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِکَۃً فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾ فَاَمَّا عَادٌ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ قَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ؕ اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَہُمۡ ہُوَ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً ؕ وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۱۵﴾ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیۡقَہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَخۡزٰی وَ ہُمۡ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾ وَ اَمَّا ثَمُوۡدُ فَہَدَیۡنٰہُمۡ فَاسۡتَحَبُّوا الۡعَمٰی عَلَی الۡہُدٰی فَاَخَذَتۡہُمۡ صٰعِقَۃُ الۡعَذَابِ الۡہُوۡنِ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾ وَ نَجَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿٪۱۸﴾

آیت 13

فَاِنۡ اَعۡرَضُوۡا فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُکُمۡ صٰعِقَۃً مِّثۡلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ﴿ؕ۱۳﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) اگر یہ لوگ اعراض کریں تو آپ کہہ دیجیے کہ میں نے تو تمہیں خبردار کر دیا ہے ایک ایسی خوفناک کڑک سے جیسی کہ قومِ عاد اور قومِ ثمود کی کڑک تھی ۔‘‘

میں نے تو تم لوگوں کو آگاہ کر دیا ہے کہ جیسے قومِ عاد اور قومِ ثمود پر عذاب آیا تھا ‘تمہاری تکذیب کے باعث ویسا ہی کوئی عذاب تم پر بھی ٹوٹ سکتا ہے۔

آیت 14

اِذۡ جَآءَتۡہُمُ الرُّسُلُ مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ

’’جبکہ ان کے پاس رسول ؑآئے ان کے سامنے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی‘‘

یہاں پر قومِ عاد اور قومِ ثمود کا ذکر کر کے عرب کا وہ پورا علاقہ مراد لیا گیا ہے جہاں مختلف قوموں کی طرف پے در پے پیغمبر آئے۔ ان پیغمبروں اور ان کی اقوام کا ذکر قرآن میں بہت تکرار سے آیا ہے۔

اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ

’’(اس دعوت کے ساتھ )کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔‘‘

قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَلٰٓئِکَۃً

’’(جواب میں ہر قوم کے) لوگوں نے یہی کہا کہ اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتوں کو نازل کر دیتا‘‘

فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’پس جو چیز دے کر آپ بھیجے گئے ہیں ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘

آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کو اللہ نے کوئی خاص پیغام دے کر ہماری طرف بھیجا ہے تو آپ اس حوالے سے ہمارا جواب بھی سن لیں اور وہ یہ کہ آپ کے دعوے کے مطابق جس چیز کے ساتھ بھی آپ کو بھیجا گیا ہے ہم اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔

آیت 15

فَاَمَّا عَادٌ فَاسۡتَکۡبَرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ

’’عاد کا معاملہ یہ تھا کہ انہوں نے زمین میں بہت تکبر کیا بالکل نا حق‘‘

وَ قَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ؕ

’’اور انہوں نے کہا کہ کون ہے ہم سے بڑھ کر قوت میں؟‘‘

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیۡ خَلَقَہُمۡ ہُوَ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً ؕ

’’کیا انہوں نے غور نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے بہت بڑھ کر ہے قوت میں!‘‘

اگر انہیں اپنے مدمقابل کوئی اور قوم اس وقت دنیا میں نظر نہیں آ رہی تھی تو کیا انہیں اللہ کی طاقت بھی نظر نہیں آ رہی تھی؟ ایک وہ طاقتور ہستی تو بہر حال موجود تھی جس نے انہیں پیدا کیا تھا۔

وَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۱۵﴾

’’اور وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے۔‘‘

آیت 16

فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ

’’تو ہم نے ان پر چھوڑ دی بہت زور کی ہوا نحوست کے دنوں میں‘‘

سورۃ الحاقہ میں تند و تیز ہوا کے اس عذاب کا ذکر یوں آیا ہے: {سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ } (آیت ۷) یعنی انتہائی تیز اور شدید ہوا کا یہ جھکڑ ان لوگوں پر سات راتوں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتا رہا۔

لِّنُذِیۡقَہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ

’’تا کہ ہم انہیں مزہ چکھائیں رسوا کن عذاب کا اس دنیا کی زندگی میں۔‘‘

وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَخۡزٰی وَ ہُمۡ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾

’’اور آخرت کا عذاب توکہیں زیادہ رسوا کن ہو گا اور وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہو گا۔‘‘

آیت 17

وَ اَمَّا ثَمُوۡدُ فَہَدَیۡنٰہُمۡ

’’اور جو قومِ ثمود تھی‘ان کو ہم نے ہدایت کی راہ دکھائی‘‘

ان کی طرف ہم نے اپنا رسول بھی بھیجا اور اونٹنی کی صورت میں انہیں واضح معجزہ بھی دکھا دیا۔

فَاسۡتَحَبُّوا الۡعَمٰی عَلَی الۡہُدٰی

’’لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کو ہی پسند کیا‘‘

ہماری واضح تعلیمات ان تک پہنچ گئی تھیں ‘لیکن اس کے باوجود انہوں نے حقائق کی طرف سے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں ۔

فَاَخَذَتۡہُمۡ صٰعِقَۃُ الۡعَذَابِ الۡہُوۡنِ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿ۚ۱۷﴾

’’توا نہیں بھی آ پکڑا ذلت کے عذاب کی ہولناک کڑک نے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں۔‘‘

آیت 18

وَ نَجَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿٪۱۸﴾

’’اور ہم نے نجات دے دی ان کو جو (ان میں سے) ایمان لائے تھے اور جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی۔‘‘

19-24

مجرمین کے خلاف ان کی آنکھوں. کان اور کھالوں کی گواہی

ویڈیو

وَ یَوۡمَ یُحۡشَرُ اَعۡدَآءُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۹﴾ حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ اَبۡصَارُہُمۡ وَ جُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾ وَ قَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ خَلَقَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَ لَا جُلُوۡدُکُمۡ وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾ وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾ فَاِنۡ یَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّسۡتَعۡتِبُوۡا فَمَا ہُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِیۡنَ ﴿۲۴﴾

آیت 19

وَ یَوۡمَ یُحۡشَرُ اَعۡدَآءُ اللّٰہِ اِلَی النَّارِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’اور جس دن اللہ کے یہ دشمن جمع کیے جائیں گے آگ کی طرف تو ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔‘‘

ظاہر ہے کردار و اعمال کے حوالے سے اہل جہنم سب برابر نہیں ہوں گے۔ ہر مجرم کا عذاب اس کے جرم کے مطابق ہو گا۔ چنانچہ وہاں جرائم اور سزاؤں کی اقسام کے مطابق اہل جہنم کو الگ الگ جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

آیت 20

حَتّٰۤی اِذَا مَا جَآءُوۡہَا شَہِدَ عَلَیۡہِمۡ سَمۡعُہُمۡ وَ اَبۡصَارُہُمۡ وَ جُلُوۡدُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۰﴾

’’یہاں تک کہ جب یہ وہاں پہنچیں گے تو ان کے خلاف گواہی دیں گے ان کے کان‘ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں اس بارے میں جو کچھ کہ وہ کرتے رہے تھے ۔‘‘

’’شہادت‘‘ کے بارے میں یہ بات بتکرار و اعادہ بیان کی جا چکی ہے کہ شہادت کسی کے خلاف ہوتی ہے اور کسی کے حق میں۔ چنانچہ شَھِدَ کے بعد اگر عَلٰی کا صلہ ہو تو اس کے معنی کسی کے خلاف گواہی دینے کے ہوں گے(جیسا کہ آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے) جبکہ شَھِدَ کے ساتھ ’’ل‘‘کا صلہ آنے کی صورت میں کسی کے حق میں گواہی کا مفہوم نکلے گا۔ مثلاً: {کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ } (المائدہ:۸) اور {کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ} (النسائ:۱۳۵) ۔ ان دونوں آیات میں لفظ اللہ کے ساتھ ’’ل‘‘اللہ کے لیے گواہی کا مفہوم دے رہا ہے ‘کہ تم لوگ اللہ کے لیے کھڑے ہو کر گواہی دینے والے بن جاؤ! بقول اقبالؔ: ؏

’’دے تو بھی محمدﷺ کی صداقت کی گواہی !‘‘

آیت 21

وَ قَالُوۡا لِجُلُوۡدِہِمۡ لِمَ شَہِدۡتُّمۡ عَلَیۡنَا ؕ

’’اور وہ کہیں گے اپنی کھالوں سے کہ تم نے کیوں ہمارے خلاف گواہی دی؟‘‘

قَالُوۡۤا اَنۡطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَنۡطَقَ کُلَّ شَیۡءٍ

’’وہ کہیں گی کہ ہمیں بھی اُس اللہ نے بولنے کی صلاحیت عطا کر دی ہے جس نے ہر شے کو قوتِ گویائی عطا کی ہے‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے حسب حال ’’زبان‘‘ عطا کر رکھی ہے جس سے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل کے یہ الفاظ اس حوالے سے بہت واضح ہیں: {وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ} (آیت۴۴) ’’اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ لیکن تم لوگ نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔‘‘

وَّ ہُوَ خَلَقَکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’اور اُسی نے تمہیں پیدا کیا پہلی مرتبہ اور اُسی کی طرف تم لوٹا دیے جاؤگے۔‘‘

آیت 22

وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَتِرُوۡنَ اَنۡ یَّشۡہَدَ عَلَیۡکُمۡ سَمۡعُکُمۡ وَ لَاۤ اَبۡصَارُکُمۡ وَ لَا جُلُوۡدُکُمۡ

’’اور تم (اس خیال سے) پردہ داری نہیں کرتے تھے کہ تمہارے خلاف گواہی دیں گے تمہارے اپنے کان‘ تمہاری اپنی آنکھیں اور تمہاری اپنی کھالیں‘‘

انسان دنیا میں جرائم کرتے ہوئے لوگوں سے چھپنے کی کوشش کرتا ہے‘ مگر خود اپنے ہی اَعضاء و جوارح سے کیونکرچھپ سکتا ہے؟

وَ لٰکِنۡ ظَنَنۡتُمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَعۡلَمُ کَثِیۡرًا مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’بلکہ تمہیں تو یہ گمان ہو گیا تھا کہ بہت سی باتیں تو اللہ کے علم میں ہی نہیں ہیں جو تم کر رہے ہو۔‘‘

گویا ایسے جہلاء بھی اس دنیا میں پائے جاتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کرتوتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو کچھ معلوم نہیں۔ قبل ازیں اس حوالے سے مشائین (ارسطو اور اس کے پیروکاروں) کا ذکر بھی گزر چکا ہے جن کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ عالم کلیات ہے ‘وہ جزئیات کا عالم نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات اور اس کی اشیاء کے متعلق قوانین بنا دیے ہیں اور وہ انہی قوانین کو جانتا ہے‘ جبکہ ان قوانین کے تحت رونما ہونے والے واقعات و حادثات کی جزئیات سے اسے کوئی سروکار نہیں --- اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ!

آیت 23

وَ ذٰلِکُمۡ ظَنُّکُمُ الَّذِیۡ ظَنَنۡتُمۡ بِرَبِّکُمۡ اَرۡدٰىکُمۡ

’’اور تمہارا یہی وہ گمان ہے جو تم نے اپنے رب کے بارے میں کیا تھا ‘جس نے تمہیں غارت کیا ہے‘‘

اس حوالے سے ہمیں خود اپنے بارے میں بھی غور کرنا چاہیے ۔ اگرچہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ایک ایک حرکت کو دیکھتا اور جانتا ہے لیکن اپنے اس ایمان کے مطابق ہمارے دلوں میں اس بارے میں یقین پیدا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم غلط کام کرتے ہوئے اس حقیقت سے لاپرواہی برت جاتے ہیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے‘ ورنہ اگر واقعی کسی کے دل میں یقین ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے تو بھلاوہ کوئی غلط حرکت کیسے کر سکتا ہے۔

فَاَصۡبَحۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾

’’تو آج تم ہو گئے خسارہ پانے والوں میں۔‘‘

آیت 24

فَاِنۡ یَّصۡبِرُوۡا فَالنَّارُ مَثۡوًی لَّہُمۡ ۚ

’’تو اب اگر یہ لوگ صبر کریں(یا نہ کریں) پس ان کا ٹھکانہ آگ ہی ہے۔‘‘

وَ اِنۡ یَّسۡتَعۡتِبُوۡا فَمَا ہُمۡ مِّنَ الۡمُعۡتَبِیۡنَ ﴿۲۴﴾

’’اور اگر وہ معافی مانگیں تو اب انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔‘‘

قیامت کے دن وہ چاہیں گے کہ انہیں معافی مانگنے پر چھوڑ دیا جائے مگر اس وقت یہ ممکن نہیں ہو گا۔ معافی مانگنے اور استغفار کرنے کا موقع تو دنیا میں ہے۔ انفرادی طور پر ہر آدمی کی موت کے وقت تک اور اجتماعی طور پر قیامت کے آثار نمایاں ہونے تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘لیکن اس کے بعد عالم برزخ یا عالم آخرت میں توبہ کا کوئی سوال نہیں۔

25

برے لوگوں کے ساتھی بھی برے ہوتے ہیں

ویڈیو

وَ قَیَّضۡنَا لَہُمۡ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوۡا لَہُمۡ مَّا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۚ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾

آیت 25

وَ قَیَّضۡنَا لَہُمۡ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوۡا لَہُمۡ مَّا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ

’’اور ہم نے ان کے لیے ایسے ساتھی مقرر کر دیے جنہوں نے ان کو مزین کر کے دکھلائی ہر وہ چیز جو ان کے سامنے تھی اور جوان کے پیچھے تھی‘‘

جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ فرشتے مقرر کر رکھے ہیں ایسے ہی ہر انسان کے ساتھ شیاطینِ جن بھی لگا دیے گئے ہیں۔ انسانوں کے ساتھ فرشتوں کی موجودگی کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت ۶۱ میں {وَ یُرۡسِلُ عَلَیۡکُمۡ حَفَظَۃً ؕ } کے الفاظ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے انسانوںکی حفاظت کا انتظام فرماتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے (کراماً کاتبین) اس کے اعمال کاریکارڈ رکھنے کے لیے بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان فرشتوں کا ذکر سورۃ الانفطار میں اس طرح آیا ہے: {وَ اِنَّ عَلَیۡکُمۡ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾یَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾} اسی طرح انسانوں کے ساتھ شیاطینِ جن بھی ہر وقت موجود رہتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ ایک ساتھی جنات (شیاطین) میں سے اور ایک ساتھی ملائکہ میں سے مقر ر نہ کر دیا گیا ہو‘‘۔ اس پر صحابہ کرامؓ نے دریافت فرمایا: اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ بھی؟ آپﷺ نے فرمایا: حدیث((وَاِیَّایَ، لٰـکِنْ اَعَانَنِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فَاَسْلَمَ))۱’’ ہاں! میرے ساتھ بھی (ایک شیطان ہے) مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر نصرت عطا فرمائی ہے اور میں نے اسے مسلمان کر لیا ہے‘‘۔ یعنی میں نے اسے اپنا تابع بنا لیا ہے اور اب وہ مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ بہر حال اس آیت میں غلط کار انسانوں کے ان شیطان ساتھیوں کا ذکر ہے جو دنیا میں ان کے غلط عقائد اور برے اعمال کو خوش نما بنا کر انہیں دکھاتے رہتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ گناہوں کی لذت اور دنیا کی رنگینیوں میں ہی گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔

وَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الۡقَوۡلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۚ

’’اور ان پر سچ ثابت ہوئی (اللہ کے عذاب کی) بات‘(اور وہ شامل ہو گئے) ان امتوں میں جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں جنوں اور انسانوں کی۔‘‘

ان پر بھی بالآخر وہی بات پوری ہو کر رہی جو جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں پر پوری ہوئی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی وہ اللہ کے عذاب کے مستحق قرار پائے۔

اِنَّہُمۡ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾

’’یقینا وہ خسارہ پانے والے لوگ تھے۔‘‘

(۱) مختصر المقاصد للزرقانی ‘ ح ۹۰۵۔

26-29

تبلیغ ِقرآن سے دشمنی کا انجام

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ الۡغَوۡا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ ﴿۲۶﴾ فَلَنُذِیۡقَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِیۡدًا ۙ وَّ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾ ذٰلِکَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰہِ النَّارُ ۚ لَہُمۡ فِیۡہَا دَارُ الۡخُلۡدِ ؕ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۲۸﴾ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ نَجۡعَلۡہُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِیَکُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِیۡنَ ﴿۲۹﴾

تمہید

اب اگلی آیت میں قرآن مجید کا ذکر بہت عظیم الشان انداز میں ہو رہا ہے:

آیت 26

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسۡمَعُوۡا لِہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ وَ الۡغَوۡا فِیۡہِ

’’اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ مت سنو اس قرآن کو اور اس (کی تلاوت کے دوران) میں شور مچایا کرو‘‘

رسول اللہﷺ کی دعوت کا آلہ اور ذریعہ چونکہ قرآن تھا اس لیے منکرین حق نے آپس میں ایک دوسرے کو یہ مشورہ دینا شروع کر دیا کہ جب محمد (ﷺ) قرآن پڑھا کریں تو تم لوگ اسے مت سنا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دلوں پر اس کا اثر ہو جائے اور اس کی وجہ سے تم اپنے آبائی دین سے برگشتہ ہو جائو۔ اس لیے جب بھی وہ تمہیں قرآن سنانے کی کوشش کریں تم شور مچانا (hooting) شروع کر دیا کروتاکہ اس کی آواز کسی کے کان میں نہ پڑے۔ حضورﷺ کی زبان مبارک سے قرآن مجید کی تلاوت چو نکہ غیر معمولی تاثیر کی حامل تھی اور اس کی وجہ سے آپؐ کی دعوت کا پیغام تیزی سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر رہا تھا‘ اس لیے مشرکینِ مکہ اس عمل کو روکنے کے لیے اپنے زعم میں گویاایک جامع منصوبہ بندی کے ساتھ خم ٹھونک کر آپؐ کے مقابلے میں آ گئے۔

اس حوالے سے یہ نکتہ بھی اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ قرآن کا پڑھنا پڑھانا‘سننا سنانا اور سیکھنا سکھانا چونکہ شیطان پر بہت بھاری ہے اس لیے جہاں کہیں بھی یہ کام مؤثر انداز میں ہو رہا ہو گا شیطانی قوتیں اسے روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت کے ساتھ میدان میں آجائیں گی۔البتہ اگر کہیں قرآن کا کوئی پروگرام محض رسمی انداز میں ہورہا ہو‘ یعنی اس میں علمی اور عقلی سطح پر کوئی مؤثر پیغام لوگوں تک نہ پہنچ رہا ہو تو ایسی تقریبات‘ ٹی وی پروگرامز اور قرآنی سیمینارز پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ دورِ حاضر میں ٹی وی پروگرام ’’الہدیٰ‘‘ کی بندش اس کی زندہ مثال ہے۔ یہ پروگرام ’’پی ٹی وی‘‘ کا مقبول ترین ہفتہ وار دینی پروگرام تھا‘ جو بہت اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی وقت پر ٹیلی کاسٹ ہوتا تھا(اُس وقت ابھی کیبل نیٹ ورک کا آغاز نہیں ہوا تھا)۔ اس میں مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب پیش کیا جاتا تھا۔ جب یہ پروگرام بہت مؤثر انداز میں چلنا شروع ہوا اور قرآن کا اصل پیغام ایک تدریج اور منطقی ترتیب کے ساتھ گھر گھر پہنچنے لگا تو شیطانی قوتیں ’’لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ‘‘ کا نعرہ لگا کر سامنے آ کھڑی ہوئیں اور انہوں نے اس پروگرام کو بند کر اکے ہی دم لیا۔ یہ پروگرام اس حد تک مقبول ہوا تھا کہ بھارت میں بھی بڑے ذوق و شوق سے دیکھا جاتا تھا --- بلکہ پی ٹی وی پراس پروگرام کی بندش کے بعد یہ بھارت میں کیبل نیٹ ورک پر دکھایا جانے لگا تھا‘بلکہ کبھی کبھی ’’دور درشن‘‘ پر بھی پیش کر دیا جاتا تھا۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ’’پی ٹی وی‘‘ پر میرے پروگراموں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

لَعَلَّکُمۡ تَغۡلِبُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’تا کہ تم غالب رہو۔‘‘

ان کا آپس میں ایک دوسرے کے لیے یہی مشورہ تھا کہ اگر تم اپنی ’’سیادت‘‘ کو برقرار رکھنا چاہتے ہو تو خود کو اور اپنے عوام کو اس قرآن سے دور رکھو۔ بالکل یہی انداز منافقین کے اس مشورے میں بھی نظر آتا ہے جو انہوں نے غزوۂ احزاب کے موقع پر مدینہ کے عام لوگوں کو دینا شروع کیا تھا۔ان کا مشورہ تھا: {یٰۤاَہۡلَ یَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَکُمۡ فَارۡجِعُوۡا ۚ } ( الاحزاب: ۱۳) کہ اے اہل یثرب! تمہارے یہاں ٹھہرنے کی اب کوئی صورت نہیں ہے‘ لہٰذا اب تم واپس پلٹ جاؤ۔ بہر حال حضورﷺ کی زبان مبارک سے قرآن کے پیغام کو گھر گھر پہنچتے دیکھ کر مشرکین نے بجا طور پر محسوس کیا کہ اگر اس دعوت کو بر وقت نہ روکا گیا تو پھر عرب کی سر زمین میں ان کے لیے کوئی ٹھکانہ نہیں بچے گا۔

آیت 27

فَلَنُذِیۡقَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا عَذَابًا شَدِیۡدًا ۙ

’’تو ہم لازماً مزہ چکھائیں گے ان کافروں کو بہت سخت عذاب کا‘‘

یہ بہت سخت جواب ہے اور اس جملے کا اسلوب بھی بہت زور دار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ میرا کلام ہے‘اسے میں نے {ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ ۚ} ( البقرۃ :۱۸۵) کی حیثیت سے نازل فرمایا ہے۔ اگر یہ لوگ میری اس عظیم نعمت کو ٹھکرا رہے ہیں اور میرے بندوں تک اس کے ابلاغ کو روکنے کی سازشیں کر رہے ہیں تو میں انہیں اس بغاوت اور سرکشی کامزہ ضرور چکھاؤں گا۔

وَّ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اور ہم انہیں سزادیں گے ان کے بدترین اعمال کے حساب سے۔‘‘

یعنی ان کی سزا معین کرتے ہوئے ان کے سب سے برے اعمال کو بطور ’’معیار‘‘ مد نظر رکھا جائے گا۔

آیت 28

ذٰلِکَ جَزَآءُ اَعۡدَآءِ اللّٰہِ النَّارُ ۚ

’’یہ ہے بدلہ اللہ کے دشمنوں کا (یعنی) آگ!‘‘

یہ لوگ قرآن کے دشمن ہیں تو قرآن چونکہ اللہ کا کلام ہے اس لیے یہ اللہ کے دشمن ہیں۔ اور اللہ کے دشمنوں کی سزا آتش دوزخ کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے!

لَہُمۡ فِیۡہَا دَارُ الۡخُلۡدِ ؕ

’’ان کے لیے اسی میں ہمیشگی کا ٹھکانہ ہو گا۔‘‘

جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’یہ بدلہ ہو گا اس کا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے تھے۔‘‘

آیت 29

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَیۡنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ

’’اور جوکافر ہیں وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار !ذرا ہمیں دکھا دےِ جنوں اور انسانوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا‘‘

وہاں جہنم میں بڑے بڑے سرداروں اور لیڈروں کے خلاف ان کے عوام واویلا کر رہے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ اے پروردگار ! اس وقت ہم ان لوگوں کو دیکھنا چاہتے ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ وہ لوگ جو ہمیں قرآن سننے سے روکتے رہے‘جنہوں نے ہماری عقلوں پر پردے ڈال دیے تھے‘ جنہوں نے محمد (ﷺ) کے بارے میں ہمیں ورغلایا‘ان کے بارے میں ہمارے دلوں میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے‘ اور ہمارے اور ان کی دعوت کے درمیان آڑ بن گئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت انہیں ہمارے سامنے لایا جائے تاکہ:

نَجۡعَلۡہُمَا تَحۡتَ اَقۡدَامِنَا لِیَکُوۡنَا مِنَ الۡاَسۡفَلِیۡنَ ﴿۲۹﴾

’’ہم انہیں اپنے قدموں کے نیچے روندیں‘تا کہ وہ ہو جائیں سب سے نیچے والے۔‘‘

اگلی سات آیات اپنے مضمون کے لحاظ سے بہت اہم ہیں۔ ’’مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب‘‘کے پہلے حصے کا چوتھا درس انہی آیات پر مشتمل ہے۔ منتخب نصاب کے اس حصے میں چار جامع اسباق ہیں اور ان چاروں اسباق یادروس میں مضمون کے اعتبار سے ایک خاص ترتیب اور تدریج پائی جاتی ہے۔ ان میں پہلا درس سورۃ العصر پر مشتمل ہے: {وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾} ۔ یہ سورت قرآن حکیم کی تین مختصر ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں اُخروی نجات کے لیے چار شرائط بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد دوسرا درس آیت البر (سورۃالبقرۃ کی آیت ۱۷۷) پر مشتمل ہے۔ اس آیت میں وہی چار نکات قدرے وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر سورۃ العصر میں ہوا ہے۔ تیسرے درس کے لیے سورۂ لقمان کے دوسرے رکوع کو منتخب کیا گیا ہے۔ اس رکوع میں یہی مضمون ذرا مختلف انداز میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتوں کے حوالے سے بیا ن ہوا ہے۔ اس طرح سورۃ العصر کا مضمون ایک خاص ترتیب اور تدریج کے ساتھ چوتھے درس (زیر مطالعہ سورت کی آیات ۳۰ تا ۳۶)میں اپنے نقطہ عروج تک پہنچ گیا ہے ۔ چنانچہ ان سات آیات کے اندر آپ کو سورۃ العصر کے چاروں موضوعات (ایمان‘اعمالِ صالحہ‘ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر)میں سے ہر ایک کی چوٹی نظر آئے گی ‘اور پھر انہی سات آیات کے عین درمیان میں وہ آیت بھی (آیت ۳۳)آئے گی جو اس سورت کا عمود ہے۔ اس آیت کی مثال ایک بہت بڑے ہیرے کی سی ہے جوان سات آیات کے خوبصورت ہار کے عین وسط میں اپنی خصوصی آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہا ہے۔ اس تمہید کے بعد آئیے اب ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں :

یوٹیوب پر دیکھیے