تحریر

غافر

آیات ۴۷ تا ۵۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

47-50

اہل ِجہنم کی فریاد

ویڈیو

وَ اِذۡ یَتَحَآجُّوۡنَ فِی النَّارِ فَیَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِیۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴿۴۷﴾ قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُلٌّ فِیۡہَاۤ ۙ اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ حَکَمَ بَیۡنَ الۡعِبَادِ ﴿۴۸﴾ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّکُمۡ یُخَفِّفۡ عَنَّا یَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴿۴۹﴾ قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ تَکُ تَاۡتِیۡکُمۡ رُسُلُکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ؕ قَالُوۡا فَادۡعُوۡا ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿٪۵۰﴾

آیت 47

وَ اِذۡ یَتَحَآجُّوۡنَ فِی النَّارِ فَیَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا

’’اور جب وہ آگ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ بڑے بننے والوں سے کہیں گے‘‘

اِنَّا کُنَّا لَکُمۡ تَبَعًا فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِیۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴿۴۷﴾

’’ہم تو تمہاری پیروی کرتے تھے‘ تو کیا تم لوگ ہم سے آگ کے عذاب کا کوئی حصہ کم کروا سکتے ہو؟‘‘

دنیا میں تو تمہارا ہر جگہ حکم چلتا تھا۔ تواگر یہاں پر بھی تمہارا کچھ اختیار ہے توہمارے عذاب میں کچھ کمی کروا دو۔ آخر ہم تمہاری پیروی کر کے ہی اس حال کو پہنچے ہیں۔

آیت 48

قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا کُلٌّ فِیۡہَاۤ ۙ

’’وہ بڑے بننے والے کہیں گے کہ ہم سبھی اس کے اندر پڑے ہوئے ہیں‘‘ یعنی ابوجہل اور عتبہ بن ابی معیط جیسے بڑے بڑے سردار اپنی بے بسی اور بے چارگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیروکاروں سے یوں معذرت کریں گے۔

اِنَّ اللّٰہَ قَدۡ حَکَمَ بَیۡنَ الۡعِبَادِ ﴿۴۸﴾

’’اللہ نے تو اپنے بندوں کے مابین فیصلہ کر دیا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری فیصلہ ہو چکا ہے اور ہم تم سب چونکہ مجرم تھے اس لیے اس عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں۔

آیت 49

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّکُمۡ یُخَفِّفۡ عَنَّا یَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴿۴۹﴾

’’اور کہیں گے وہ لوگ جو آگ میں ہوں گے جہنم کے داروغوں (فرشتوں) سے ‘ آپ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم سے بس ایک دن ہی عذاب میں تخفیف کر دے۔‘‘

آیت 50

قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ تَکُ تَاۡتِیۡکُمۡ رُسُلُکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ؕ

’’وہ جواب میں کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول ؑنہیں آتے رہے تھے واضح نشانیوں (اور واضح تعلیمات) کے ساتھ؟‘‘

قَالُوۡا بَلٰی ؕ

’’ وہ کہیں گے :ہاں (آئے تو تھے)!‘‘

قَالُوۡا فَادۡعُوۡا ۚ وَ مَا دُعٰٓؤُا الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿٪۵۰﴾

’’وہ کہیں گے : تو اب تم خود ہی پکارو! اور کافروں کی دعانہیں ہے مگر بھٹک کر رہ جانے والی۔‘‘

دنیا کی زندگی میں جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی تھی آج ان کی دعا بالکل صدا بصحرا ثابت ہو گی۔ان لوگوں کی دعا کا نہ کوئی اثر ہو گا اور نہ ہی اس کی کہیں شنوائی ہو گی۔ بالکل یہی کیفیت ان لوگوں کی بھی ہے جو دنیا میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں تومانگتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی حرام خوری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ باطل کی چاکری بھی کیے جا رہے ہیں‘ طاغوت کے حمایتی بھی بنے ہوئے ہیں اور اپنی سوچ اور فکر کو باطل طور طریقوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے نت نئی راہیں بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ گویا ان کی وفاداری اور دوستی تو شیطان اور اس کے چیلوں سے ہوتی ہے مگر دعا اللہ سے کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ حدیث پہلے بھی بیان ہو چکی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جوبڑا طویل سفر کر کے (حج یا عمرہ کے لیے) آتا ہے۔ اس کے کپڑے بھی میلے ہو چکے ہیں اور بال بھی غبار آلودہ ہیں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر ’’یارب! یارب!‘‘ پکارتا ہے۔ لیکن اُس کا کھانا بھی حرام کا ہے‘ اُس کا پینا بھی حرام کا ہے‘ اُس نے جو کپڑے پہن رکھے ہیں وہ بھی حرام کمائی کے ہیں‘ اور اس کے جسم نے حرام غذا سے نشوونما پائی ہے --- تو اُس کی دعا کیونکر قبول ہو؟ حدیث((فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ!))۱

۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی نصرت کے لیے حرمین شریفین میں قنوتِ نازلہ پڑھی جاتی تھی اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگی جاتی تھیں‘ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے کرتوتوں کی وجہ سے اپنے گھر کے اندر مانگی گئی ان دعاؤں کو بھی ٹھکرا دیا اور جو ہونا تھا وہ ہو کر رہا۔

لفظ ’’کافر‘‘ کو اس کے وسیع مفہوم کے تناظر میں رکھ کر غور کیجیے کہ اس کی زد کہاں کہاں پڑتی ہے۔ اس کا مصداق قانونی کفار کے علاوہ وہ لوگ بھی ٹھہرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سورۂ آل عمران کی آیت ۹۷ کے آخر میں سنائی گئی وعید بہت واضح ہے۔ مذکورہ آیت میں حج کا حکم دینے کے بعد فرمایا گیا: {وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۷﴾} ’’ اور جس نے کفر کیا تو (وہ جان لے کہ) اللہ بے نیاز ہے تمام جہان والوں سے‘‘۔ یعنی جس نے صاحب استطاعت ہو کر بھی حج ادا نہیں کیا اس نے گویا کفر کیا۔ اسی طرح تارکِ صلوٰۃ کے بارے میں حضورﷺ کا بہت مشہور فرمان ہے: حدیث(( مَنْ تَرَکَ الصَّلاَۃَ مُتَعَمِدًا فَقَدْ کَفَرَجِھَارًا ))۱’’جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی اُس نے علانیہ کفر کیا۔‘‘

پس ایک کفر تو وہ ہے جس سے ایک مسلمان باقاعدہ مرتد ہو کر سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے اور ایک کفر یہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے کسی خاص حکم کی نافرمانی سے سرزد ہوتا ہے اور جس کو کسی صاحب نظر نے ’’جو دم غافل سو دم کافر ‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ اس زاویئے سے دیکھا جائے تو آج پوری دنیا کے مسلمان اس کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ آج دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں اللہ کے قانون کی حکمرانی ہو‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو اس بارے میں یہ ہے: {وَ مَنۡ لَّمۡ یَحۡکُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۴﴾} ( المائدۃ) ’’ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں‘‘۔ چنانچہ ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ اس حوالے سے آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم جس ملک کے شہری ہیں کیا وہاں شریعت اسلامی کی حکمرانی ہے؟ کیا ہمارے دیوانی و فوجداری معاملات قرآن کے قانون کے مطابق طے پا رہے ہیں؟ کیا ہمارا نظامِ معیشت اللہ کی مرضی کے مطابق چل رہا ہے؟ اور اگر ایسا نہیں ہے اور یقینا نہیں ہے تو کیا ہم سورۃ المائدۃ کی مذکورہ آیت کے مصداق نہیں بن چکے ہیں۔

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الزکاۃ‘ باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا۔

(۱) المعجم الاوسط للطبرانی : ۳/۳۴۳۔ الترغیب والترہیب للمنذری :۱/۲۶۱۔ مجمع الزوائد للھیثمی:۱/۳۰۰۔ الجامع الصغیر للسیوطی‘ ح :۸۵۸۷۔ عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔

یوٹیوب پر دیکھیے