تحریر

غافر

آیات ۵۱ تا ۸۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

51-55

اللہ اہل ِحق کی ضرور مدد فرمائے گا

ویڈیو

اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ ﴿ۙ۵۱﴾ یَوۡمَ لَا یَنۡفَعُ الظّٰلِمِیۡنَ مَعۡذِرَتُہُمۡ وَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۵۲﴾ وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡہُدٰی وَ اَوۡرَثۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ ﴿ۙ۵۳﴾ ہُدًی وَّ ذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۵۴﴾ فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿۵۵﴾

تمہید

آیت 51

اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ ﴿ۙ۵۱﴾

’’ہم لازماً مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور اُن لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی ‘اور اُس دن بھی (مدد کریں گے) جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔‘‘

آیت 52

یَوۡمَ لَا یَنۡفَعُ الظّٰلِمِیۡنَ مَعۡذِرَتُہُمۡ

’’جس دن کہ ظالموں کو اُن کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی‘‘

وَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۵۲﴾

’’اور ان کے لیے لعنت ہو گی اور ان کے لیے بہت برا گھرہو گا۔‘‘

آیت 53

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا مُوۡسَی الۡہُدٰی وَ اَوۡرَثۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ ﴿ۙ۵۳﴾

’’اورہم نے موسیٰؑ کو ہدایت دی تھی اور ہم نے وارث بنایا تھا بنی اسرائیل کو کتاب کا ۔‘‘

آیت 54

ہُدًی وَّ ذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۵۴﴾

’’جو ہدایت اور یاد دہانی تھی ہوشمندوں کے لیے ۔‘‘

آیت 55

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ صبر کیجیے! یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے‘‘

وَّ اسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۡۢبِکَ

’’اور اپنے قصور کی معافی چاہیں‘‘

اگرآپ خیال کرتے ہیں کہ کسی درجے میں بھی آپ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ سے استغفار کیجیے۔ یہاں پر حضورﷺکے حوالے سے لفظ ’’ذنب‘‘ کے مفہوم اور اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی روحانی کیفیات اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مستقل استحضار کا مخصوص انداز اور معیار ہے۔ اگر استحضار کے اس مخصوص معیار میں کسی لمحے کوئی کمی آ جائے تو اپنے احساس کی شدت کی وجہ سے انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے۔ یہ گویا ’’حَسَنَاتُ الابرَارِ سِیِّـــٔاتُ المُقرَّبین‘‘ والا معاملہ ہے۔ یعنی مقربینِ بارگاہ کا مقام اتنا بلند ہے کہ عام آدمی کے معیار کی نیکی ان کے معاملے میں شاید کوتاہی شمار ہو جائے۔

وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ بِالۡعَشِیِّ وَ الۡاِبۡکَارِ ﴿۵۵﴾

’’اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے شام کو بھی اور صبح کو بھی۔‘‘

56-57

حق کے دشمنوں کے لیے وعید

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ۙ اِنۡ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ اِلَّا کِبۡرٌ مَّا ہُمۡ بِبَالِغِیۡہِ ۚ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۵۶﴾ لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ اَکۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾

آیت 56

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ۙ

’’یقینا وہ لوگ جو اللہ کی آیات میں جھگڑے ڈالتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو‘‘

اِنۡ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ اِلَّا کِبۡرٌ مَّا ہُمۡ بِبَالِغِیۡہِ ۚ

’’نہیں ہے ان کے دلوں میں کچھ ‘مگر تکبر جس تک وہ پہنچنے والے نہیں ہیں۔‘‘

ان کے دلوں میں صرف بڑائی کی خواہش ہے‘ جو کبھی پوری نہیں ہو گی۔

فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۵۶﴾

’’پس آپ اللہ کی پناہ طلب کیجیے‘ یقینا وہ سب کچھ سننے والا ‘ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔‘‘

آیت 57

لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ اَکۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ

’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق یقینا زیادہ بڑا کام ہے انسانوں کی تخلیق سے‘‘

اس مفہوم کو جتنا آج ہم سمجھ سکتے ہیں آج سے چودہ سو سال پہلے انسان نہیں سمجھ سکتا تھا۔ اس لیے کہ زمین و آسمان کی وسعتوں کے بارے میں آج کا انسان جو کچھ جانتا ہے اُس دور کا انسان تو اس کے مقابلے میں بہت کم جانتا تھا۔ یہ کائنات اس قدر وسیع و عریض ہے کہ سائنس کی تمام تر ترقی اور بڑی بڑی ٹیلی سکوپس (telescopes) ایجاد کر لینے کے باوجود آج کے سائنس دان یہ تک نہیں جان سکے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز کہاں ہے اور یہ ختم کہاں پر ہوتی ہے۔ تو جس اللہ نے اتنی وسیع کائنات تخلیق کی ہے اس کے لیے تمہاری تخلیق کیا معنی رکھتی ہے!

وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۷﴾

’’لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

58-59

اللہ کے باغی اور اللہ کے وفاداربرابر نہیں ہیں

ویڈیو

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸﴾ اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۹﴾

آیت 58

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ۬ۙ

’’اور برابر نہیں ہو سکتے اندھے اور آنکھوں والے‘‘

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الۡمُسِیۡٓءُ ؕ

’’اور (نہ برابر ہو سکتے ہیں) وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور وہ جو بدکار ہیں۔‘‘

قَلِیۡلًا مَّا تَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۸﴾

’’بہت ہی کم ہے جو کہ تم سبق حاصل کرتے ہو۔‘‘

آیت 59

اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۹﴾

’’(اوردیکھو !) یقیناقیامت آ کر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے ‘لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔‘‘

60

اللہ کا حکم ہے کہ مجھے پکارو

ویڈیو

وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾

آیت 60

وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ؕ

’’اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو‘ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘

ابتدا میں بتایا گیاتھا کہ اس سورت کا مرکزی مضمون دعا ہے۔ چنانچہ نوٹ کیجیے یہاں پھر فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے بندے ہوتو مجھ سے مانگو! انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اُس سے مانگا جائے تو اس پر گراں گزرتا ہے‘جبکہ اللہ سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتاہے۔ گویا عطائے خداوندی خود سائلوں کی تلاش میں رہتی ہے ؏

’’ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں! ‘‘

نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے کہ رات کے پچھلے پہر اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتے ہیں اور ایک ندا ہوتی ہے: حدیثھَلْ مِنْ سَائِلٍ فَاُعْطِیَہُ، ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاَغْفِرَلَـہٗ ، ھَلْ مِنْ تَائِبٍ فَاَتُوْبَ عَلَیْہِ ، ھَلْ حدیثمِنْ دَاعٍ فَاُجِیْبَہٗ۱’’ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ میں اس کی پکار قبول کروں؟‘‘

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِیۡ سَیَدۡخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾

’’یقینا وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کی بنا پر اعراض کرتے ہیں وہ داخل ہوں گے جہنم میں ذلیل و خوار ہو کر۔‘‘

قبل ازیں عبادت اور دعا کے لازم و ملزوم ہونے کے بارے میں گفتگو ہو چکی ہے اور اس حدیث کا ذکر بھی ہو چکا ہے جس میں حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ چنانچہ اس آیت میں یہ نکتہ مزید واضح ہوگیا ہے۔ یہاں پر پہلے دعا کا ذکر کیا گیا ہے (ادْعُوْنِیْٓ ) اور پھر اسی کے لیے عبادت کا لفظ لایا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں دعا اور عبادت مترادف الفاظ کے طور پر آئے ہیں۔

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب الترغیب فی الدعاء والذکر فی آخر اللیل … ومسند احمد‘ کتاب باقی مسند المکثرین‘ باب باقی مسند السابق‘ ح۹۲۲۰۔ راوی:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ- واللفظ لہ۔

61-65

دعا اسی سے مانگو جو محسن ِحقیقی ہے

ویڈیو

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶۱﴾ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ۚ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۲﴾ کَذٰلِکَ یُؤۡفَکُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۶۳﴾ اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚۖ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۴﴾ ہُوَ الۡحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۵﴾

آیت 61

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ

’’اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی ہے تا کہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن بنا دیا ہے دیکھنے کے لیے۔‘‘

اُس نے رات کو تاریک بنایا ہے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اس میں کام کرو۔

اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۶۱﴾

’’یقینا اللہ تو اپنے بندوں پر بہت فضل والا ہے‘ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔‘‘

آیت 62

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۘ

’’وہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہر چیز کا خالق ہے۔‘‘

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ۚ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۲﴾

’’ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ تو کہاں سے تم پھرائے جارہے ہو!‘‘

آیت 63

کَذٰلِکَ یُؤۡفَکُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۶۳﴾

’’اسی طرح وہ لوگ بھی اُلٹے پھرائے گئے تھے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔‘‘

آیت 64

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً

’’اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت‘‘

وَّ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ

’’اور تمہاری صورت گری کی‘ تو کیا ہی عمدہ تمہاری صورتیں بنائیں‘‘

وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ

’’اور تمہیں رزق بہم پہنچایا پاکیزہ چیزوں سے۔‘‘

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚۖ

’’ وہ ہے اللہ تمہارا رب!‘‘

فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۴﴾

’’تو بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

آیت 65

ہُوَ الۡحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ

’’وہ زندہ و جاوید ہستی ہے اُس کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘

ایک وہی ذات ہے جو خود زندہ ہے ‘ صرف اُسی کی حیات ذاتی ہے۔ باقی زندگی جہاں بھی ہے ‘ جس شکل میں بھی ہے اُسی کی عطا کردہ ہے۔ ہمیں بھی زندگی کے یہ چار دن اُسی نے مستعار دیے ہیں۔ ع ’’عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن!‘‘

فَادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؕ

’’پس اُسی کو پکارو! اُس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘

نوٹ کیجیے‘ پھر وہی حکم دہرایا جا رہا ہے کہ دُعا اُسی سے مانگو ‘وہ قبول بھی کرے گا‘ مگر شرط یہ ہے کہ تمہاری اطاعت خالص اُسی کے لیے ہونی چاہیے۔

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۵﴾

’’کل حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگارہے۔‘‘

66

باطل کے ساتھ مصالحت نہیں ہو سکتی

ویڈیو

قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ لَمَّا جَآءَنِیَ الۡبَیِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّیۡ ۫ وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۶﴾

آیت 66

قُلۡ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے: مجھے توروک دیا گیا ہے کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو تم پکار رہے ہو اللہ کے سوا‘‘

آیت ۶۰ کی طرح یہاں بھی عبادت (اَعْبُدَ ) اور دعا (تَدْعُوْنَ ) کے الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔

لَمَّا جَآءَنِیَ الۡبَیِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّیۡ ۫

’’جبکہ میرے پاس آ چکی ہیں واضح تعلیمات میرے رب کی طرف سے‘‘

وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۶﴾

’’اور مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میںِ سرتسلیم خم کر دوں تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے۔‘‘

جہاں تک سورۃ المؤمن میں توحیدِ عملی کے داخلی پہلو یعنی دعا کے مضمون کا تعلق ہے وہ اس سورت کی آیت۶۵ پر اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اس کے بعد اس سورت میں بھی انہیں مضامین کی جھلک نظر آئے گی جو عام طور پر مکی سورتوں میں آئے ہیں۔ البتہ یہاں پر یہ مضامین قدرے مختلف اسلوب اور ترتیب میں نظر آئیں گے۔ ان ہی مضامین میں سے ایک انسان کی تخلیق کا ذکر ہے:

67-68

غور کرو اللہ انسان کو کیسے تخلیق کرتا ہے

ویڈیو

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾ ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۚ فَاِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۶۸﴾

آیت 67

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ

’’ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے‘ پھر نطفے سے ‘ پھر علقہ سے‘‘

عَلَقَہ کے لغوی معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق ہو۔ اس لفظ میں بچے کی تخلیق کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے جب نطفہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک جونک کی سی شکل اختیار کر لیتا ہے------- لفظ ’’عَلَقَہ‘‘ کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ المؤمنون کی آیت ۱۴ کی تشریح۔

ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا

’’پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے‘‘

ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ

’’پھر (تمہیں پروان چڑھاتا ہے ) تا کہ تم پہنچ جاؤ اپنی جوانی کو‘‘

ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ

’’پھر (تمہیں مزید عمر دیتا ہے ) تا کہ تم ہو جاؤ بوڑھے۔‘‘

یعنی حیاتِ انسانی کا دورانیہ (life cycle) عام طور پر اسی نہج پر چلتا ہے۔

وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ

’’اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے‘‘

بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی بچپن میں فوت ہو جاتا ہے اور کوئی جوانی میں۔

وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾

’’اور (بعض کو مہلت دیتا ہے) تا کہ تم ایک وقت معین کو پہنچ جاؤ اور (یہ اس لیے ہے ) تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘

چاہے کوئی بچپن میں ہی انتقال کر جائے‘ کوئی جوانی میں فوت ہو یا کوئی بہت طویل عمر پا لے‘ ہر شخص نے اپنی موت تک بہر صورت زندہ رہنا ہے اور ہر شخص کی موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر اور طے شدہ ہے۔

آیت 68

ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۚ

’’وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت وارد کرتا ہے۔‘‘

فَاِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۶۸﴾

’’چنانچہ (اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ) جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘

69-77

جھٹلانے والوں کا برا انجام

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ اَنّٰی یُصۡرَفُوۡنَ ﴿ۖۛۚ۶۹﴾ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِالۡکِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرۡسَلۡنَا بِہٖ رُسُلَنَا ۟ۛ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۷۰﴾ اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ وَ السَّلٰسِلُ ؕ یُسۡحَبُوۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾ فِی الۡحَمِیۡمِ ۬ۙ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسۡجَرُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾ ثُمَّ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا بَلۡ لَّمۡ نَکُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَیۡئًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۴﴾ ذٰلِکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾ اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۶﴾ فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۷۷﴾

آیت 69

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ

’’کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے حال پر جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں!‘‘

اَلَمْ تَرَ کا لفظی ترجمہ تو یہ ہو گا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں؟ لیکن اس کا مفہوم یہی ہے کہ کیا تم نے غور نہیں کیا؟

اَنّٰی یُصۡرَفُوۡنَ ﴿ۖۛۚ۶۹﴾

’’وہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں؟‘‘

یعنی وہ حق کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں محمد ﷺ کا دور نصیب ہوا ‘ آپؐ کے ساتھ ایک شہر اور ایک جگہ اکٹھے رہنے کا موقع ملا۔ لیکن ان کی بد قسمتی ملاحظہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انعام کے باوجود بھی یہ لوگ ہدایت سے محروم رہ گئے۔ مقامِ عبر ت ہے! دیکھو‘ یہ لوگ کہاں تک پہنچ کر ناکام لوٹے ہیں: ؎

قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند

دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا!

آیت 70

الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِالۡکِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرۡسَلۡنَا بِہٖ رُسُلَنَا ۟ۛ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۷۰﴾

’’وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو اور ان چیزوں کو جن کے ساتھ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو‘ تو عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘

بس کچھ ہی وقت کی بات ہے ‘اصل حقیقت ان پر منکشف ہو جائے گی۔

آیت 71

اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ وَ السَّلٰسِلُ ؕ یُسۡحَبُوۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾

’’جب ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے‘ (اس حالت میں )انہیں گھسیٹا جائے گا۔‘‘

آیت 72

فِی الۡحَمِیۡمِ ۬ۙ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسۡجَرُوۡنَ ﴿ۚ۷۲﴾

’’کھولتے پانی میں‘ پھر انہیں آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘

آیات 73–74

ثُمَّ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’پھر ان سے کہا جائے گا:کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے اللہ کے سوا؟‘‘

قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا بَلۡ لَّمۡ نَکُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَیۡئًا ؕ

’’وہ کہیں گے :سب گم ہو گئے ہم سے‘ بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔‘‘

اے اللہ! آج اس وقت ہم پر یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ جنہیں معبود سمجھ کر ہم پکاراکرتے تھے ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۴﴾

’’اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔‘‘

آیت 75

ذٰلِکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾

’’اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں نا حق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔‘‘

تم لوگ دنیا کے مال و متاع پر خواہ مخواہ اکٹرفوں دکھاتے تھے۔ گویا تم ہلدی کی گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھے تھے۔ حالانکہ دنیا میں تمہارا وہ سارا مال و متاع ہمارا ہی عطا کیا ہوا تھا جس پر اترانے اور فخر جتلانے کا تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔

آیت 76

اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ

’’اب داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے ۔‘‘

فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۶﴾

’’تو یہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے متکبرین کا۔‘‘

اب اگلی آیت میں حضورﷺ سے خطاب کر کے آپؐ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے:

آیت 77

فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ ۚ

’’تو (اے نبیﷺ!)آپ صبرکیجیے‘ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے۔‘‘

اللہ کا وعدہ ہے کہ اُس کا دین ضرور غالب ہو گا: {مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰۤی ۙ﴿۲﴾} (طٰہ) ’’ہم نے یہ قرآن آپؐ پر اس لیے تو نازل نہیں کیا کہ آپؐ ناکام ہو جائیں‘‘ (معاذ اللہ!)

فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ

’’تو اگر ہم آپؐ کو دکھا دیں اس میں سے کچھ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں‘‘

یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے کہ جس عذاب کے بارے میں انہیں خبردار کیا جا رہا ہے وہ ان پر آپؐ کی زندگی میں بھی آ سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان پر وہ برا وقت آپ ؐکے دنیا سے چلے جانے کے بعد آئے۔

فَاِلَیۡنَا یُرۡجَعُوۡنَ ﴿۷۷﴾

’’پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘

مجھے انہیں پکڑنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہ بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ انہوں نے آنا تو بہر حال میرے ہی پاس ہے۔

78

معجزہ اللہ ہی عطا فرماتا ہے

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ ؕ وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالۡحَقِّ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿٪۷۸﴾

آیت 78

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِکَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَیۡکَ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَیۡکَ ؕ

’’اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپؐ سے پہلے‘ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔‘‘

یعنی ان رسولوں میں سے بعض کے حالات آپ کو سنا دیے ہیں اور بعض کے نہیں سنائے۔

وَ مَا کَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ یَّاۡتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ۚ

’’اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے۔‘‘

کبھی کوئی رسول اپنی مرضی اور ذاتی کوشش سے اپنی قوم کو کوئی معجزہ نہیں دکھا سکا۔ یہ مضمون اکثر مکی سورتوں میں آیا ہے۔ گویا اس مضمون کی ڈور کا تسلسل زیر مطالعہ مکی سورتوں میں بھی نظر آ رہا ہے۔

فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ قُضِیَ بِالۡحَقِّ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿٪۷۸﴾

’’پھر جب اللہ کا حکم آ گیا تو فیصلہ چکا دیا گیا حق کے ساتھ اور اُس وقت خسارے میں پڑ گئے جھٹلانے والے۔‘‘

79-81

چوپائے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں

ویڈیو

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَنۡعَامَ لِتَرۡکَبُوۡا مِنۡہَا وَ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۷۹﴾ وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ وَ لِتَبۡلُغُوۡا عَلَیۡہَا حَاجَۃً فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَ عَلَیۡہَا وَ عَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴿ؕ۸۰﴾ وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ ٭ۖ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنۡکِرُوۡنَ ﴿۸۱﴾

آیت 79

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَنۡعَامَ لِتَرۡکَبُوۡا مِنۡہَا وَ مِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۷۹﴾

’’اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے چوپائے بنا دیے تا کہ تم سواری کرو ان میں سے بعض پر اور ان میں سے بعض کا تم گوشت بھی کھاتے ہو۔‘‘

آیت 80

وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ

’’اور ان میں تمہارے لیے اور بھی بہت سی منفعتیں ہیں‘‘

یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ النحل میں بہت تفصیل سے آ چکا ہے۔

وَ لِتَبۡلُغُوۡا عَلَیۡہَا حَاجَۃً فِیۡ صُدُوۡرِکُمۡ وَ عَلَیۡہَا وَ عَلَی الۡفُلۡکِ تُحۡمَلُوۡنَ ﴿ؕ۸۰﴾

’’اور تا کہ ان پر سوا ر ہو کر تم اپنی وہ ضرورتیں پوری کرو جو تمہارے دل میں ہوتی ہیں اور اُن پر بھی اور کشتیوں پر بھی تمہیں سوار کرایا جاتا ہے۔‘‘

آیت 81

وَ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ ٭ۖ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُنۡکِرُوۡنَ ﴿۸۱﴾

’’اور وہ تمہیں اپنی آیات دکھاتا رہتا ہے ‘تو تم اللہ کی کون کون سی آیات کا انکار کرو گے؟‘‘

گزشتہ تین آیات میں آیاتِ آفاقیہ کا ذکر ہوا ۔ اب آگے ’’ایام اللہ ‘‘یعنی عبرت آموز تاریخی حقائق کا تذکرہ ہے۔

82-85

مشرک قوموں کے انجام سے سبق حاصل کرو

ویڈیو

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡہُمۡ وَ اَشَدَّ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾ فَلَمَّا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۸۳﴾ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۸۴﴾ فَلَمۡ یَکُ یَنۡفَعُہُمۡ اِیۡمَانُہُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۵﴾

آیت 82

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’تو کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ غور کرتے کہ کیسا انجام ہوا اُن کا جو ان سے پہلے تھے!‘‘

کَانُوۡۤا اَکۡثَرَ مِنۡہُمۡ وَ اَشَدَّ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ

’’وہ ان سے کہیں زیادہ تھے تعداد میں اور زیادہ شدید تھے طاقت میں بھی اور زمین میں نشانات چھوڑنے کے اعتبار سے بھی‘‘

فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾

’’تو ان کے کچھ کام نہ آیا وہ سب کچھ جو وہ کماتے رہے تھے۔‘‘

ان کے یہ سارے کارنامے اور ساری کمائی انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔

آیت 83

فَلَمَّا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ

’’تو جب آ گئے ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر‘‘

الْبَیِّنٰتِ سے مراد حسی معجزات بھی ہیں اور واضح تعلیمات اور دلائل بھی۔

فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۸۳﴾

’’تو وہ اتراتے رہے اسی پر جو بھی علم ا ن کے پاس تھا اور گھیرے میں لے لیا انہیں اُسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔‘‘

وہ لوگ اپنے آبائی عقائد و توہمات پر جمے رہے اور انہی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے رہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس حق کا بھی مذاق اڑایا جو ان کے رسولوںؑ نے ان کے سامنے پیش کیا اور عذاب کی وعیدوں کا بھی جس سے انہیں خبردار کیا گیا۔ بالآخر انہیں اپنے کرتوتوں کی سزامل کر رہی۔

آیت 84

فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحۡدَہٗ

’’پھر جب انہوں نے دیکھ لیا ہمارا عذاب تب انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اللہ واحد پر‘‘

تب کہنے لگے کہ اب ہم توحید کے قائل ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدا نیت کو تسلیم کرتے ہیں۔

وَ کَفَرۡنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشۡرِکِیۡنَ ﴿۸۴﴾

’’اور ہم نے انکار کیا ان (معبودوں) کا جنہیں ہم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے تھے۔‘‘

آیت 85

فَلَمۡ یَکُ یَنۡفَعُہُمۡ اِیۡمَانُہُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ

’’تو پھر ان کا ایمان لانا ان کے لیے ہر گز مفید نہیں ہوا جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔‘‘

عذاب کے واضح آثار سامنے آ جانے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اور ایسے وقت کا ایمان اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے اور اس قانون سے استثناء نوعِ انسانی کی پوری تاریخ میں صرف ایک ہی قوم کو ملا اوروہ تھی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم۔ اس استثناء کا ذکر ہم سورۂ یونس کی آیت ۹۸ میں پڑھ چکے ہیں۔ دراصل حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی واضح اجازت آنے سے پہلے ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ چنانچہ نبی ؑ کے کھاتے میں جو debit آیا وہ قوم کے لیے credit بن گیا۔ جدید اکاؤنٹنگ کے ماہرین خوب جانتے ہیں کہ ایک طرف کا debit دوسری طرف کا credit کیسے بن جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے عذاب کے واضح آثار دیکھ لینے کے بعد توبہ کر لی اور ان کی یہ توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی۔

سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ قَدۡ خَلَتۡ فِیۡ عِبَادِہٖ ۚ وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿٪۸۵﴾

’’یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو اُس کے بندوں میں جاری رہا ہے ‘اور اُس وقت کافرلوگ خسارے میں رہے۔‘‘

واقعہ یہ ہے کہ اصل خسارہ تو کافروں ہی کے لیے ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے