ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ
’’ وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے‘ پھر نطفے سے ‘ پھر علقہ سے‘‘
عَلَقَہ کے لغوی معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق ہو۔ اس لفظ میں بچے کی تخلیق کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے جب نطفہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک جونک کی سی شکل اختیار کر لیتا ہے------- لفظ ’’عَلَقَہ‘‘ کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۃ المؤمنون کی آیت ۱۴ کی تشریح۔
ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا
’’پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے‘‘
ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ
’’پھر (تمہیں پروان چڑھاتا ہے ) تا کہ تم پہنچ جاؤ اپنی جوانی کو‘‘
ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا ۚ
’’پھر (تمہیں مزید عمر دیتا ہے ) تا کہ تم ہو جاؤ بوڑھے۔‘‘
یعنی حیاتِ انسانی کا دورانیہ (life cycle) عام طور پر اسی نہج پر چلتا ہے۔
وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ
’’اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے‘‘
بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی بچپن میں فوت ہو جاتا ہے اور کوئی جوانی میں۔
وَ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
’’اور (بعض کو مہلت دیتا ہے) تا کہ تم ایک وقت معین کو پہنچ جاؤ اور (یہ اس لیے ہے ) تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘
چاہے کوئی بچپن میں ہی انتقال کر جائے‘ کوئی جوانی میں فوت ہو یا کوئی بہت طویل عمر پا لے‘ ہر شخص نے اپنی موت تک بہر صورت زندہ رہنا ہے اور ہر شخص کی موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر اور طے شدہ ہے۔
ہُوَ الَّذِیۡ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۚ
’’وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت وارد کرتا ہے۔‘‘
فَاِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿٪۶۸﴾
’’چنانچہ (اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ) جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔‘‘