تحریر

غافر

آیات ۲۳ تا ۴۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

23-25

آلِ فرعون کی سرکشی

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۲۳﴾ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ وَ قَارُوۡنَ فَقَالُوۡا سٰحِرٌ کَذَّابٌ ﴿۲۴﴾ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوا اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ وَ اسۡتَحۡیُوۡا نِسَآءَہُمۡ ؕ وَ مَا کَیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۲۵﴾

تمہید

اب آئندہ آیات میں ’’مؤمنِ آلِ فرعون‘‘ کا واقعہ بیان ہو رہا ہے جو اس سورت کا خاص مضمون ہے ۔ وہ فرعون کے دربار میں بہت بڑے مرتبے پر فائز تھے۔ ظاہر ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ اُن تک بھی پہنچی ہو گی۔ اس دعوت کے جوا ب میں اللہ نے ان کا سینہ کھول دیا اور وہ ایمان لے آئے۔ البتہ مصلحت کے تحت انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا۔ پھر ایک موقع پر جب فرعون نے اپنی کابینہ کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تجویز رکھی تو اس مردِ حق سے خاموش نہ رہا گیا۔ چنانچہ فرعون کی اس تجویز کے جواب میں انہوں نے بھرے دربار میں ایک بہت مدلل اور مؤثر تقریر کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ’’حق گوئی و بے باکی‘‘ کی پذیرائی یوں فرمائی کہ ان کی پوری تقریر کو قرآن کا حصہ بنا دیا۔ وہ نہ نبی تھے اور نہ رسول‘ لیکن ان کی طویل تقریر جس شان سے اللہ تعالیٰ نے نقل فرمائی ہے اس کی کوئی مثال قرآن میں کسی نبی یا رسول کے حوالے سے بھی نہیں ملتی۔ ان کے اس خصوصی اعزاز سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس شان سے اپنے بندوں کی قدر افزائی فرماتا ہے۔

آیات 23–24

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَا وَ سُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۲۳﴾اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ وَ قَارُوۡنَ

’’اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ‘ فرعون‘ ہامان اور قارون کی طرف‘‘

فَقَالُوۡا سٰحِرٌ کَذَّابٌ ﴿۲۴﴾

’’تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے انتہائی جھوٹا۔‘‘

یہی الفاظ مشرکینِ مکہ نے حضورﷺ کے لیے کہے تھے جو سورۂ صٓ کی آیت ۴ میں نقل ہوئے ہیں۔

آیت 25

فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوا اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ وَ اسۡتَحۡیُوۡا نِسَآءَہُمۡ ؕ

’’تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو۔‘‘

وَ مَا کَیۡدُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۲۵﴾

’’لیکن کافروں کا دائو بھٹک کر ہی رہ جاتا ہے۔‘‘

اس سے پہلے ہم سورۃ الاعراف کے پندرھویں رکوع میں بھی سردارانِ قومِ فرعون کے اس مطالبے کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپ موسیٰؑ کو کب تک ڈھیل دیتے رہیں گے؟ لوگ دھڑا دھڑ اس پر ایمان لا رہے ہیں‘روز بروز اس کی طاقت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے نتیجے میں ملک کے اندر فساد پھیل رہا ہے۔ آپ اسے قتل کیوں نہیں کروا دیتے؟لیکن جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے کہ فرعون ایک وقت تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی سخت اقدام کرنے سے کتراتا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گویا اپنا بڑا بھائی سمجھتا تھا اور اس تعلق کی وجہ سے وہ دل میں آپؑ کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰؑ کی پیدائش سے لے کر بحیثیتِ رسول ؑفرعون کے سامنے آنے تک کے واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیجیے۔ ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت رعمسیس دوم فرعون برسر اقتدار تھا۔ حضرت موسیٰؑ کو دریا سے نکال کر جب اس کے محل میں لایا گیا تو اس کی بیوی نے کسی طرح اسے قائل کر لیا کہ اس بچے کو قتل نہ کیا جائے۔ اس موقع پر فرعون کی بیوی کے اپنے شوہر کے ساتھ مکالمے کو سورۃ القصص میں یوں نقل کیا گیا ہے: {وَ قَالَتِ امۡرَاَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَیۡنٍ لِّیۡ وَ لَکَ ؕ لَا تَقۡتُلُوۡہُ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا } (آیت۹) ’’اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لیے بھی اور تمہارے لیے بھی۔ تم اسے قتل مت کرو‘ ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں‘‘۔غالب گمان یہی ہے کہ وہ خاتون حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا ہی تھیں جن کا ذکر سورۃ التحریم میں آیا ہے۔ اس وقت تک فرعون بے اولاد تھا۔ بعد میں اس کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ چنانچہ فرعون کا حقیقی بیٹا اورحضرت موسیٰ علیہ السلام سگے بھائیوں کی طرح اکٹھے رہے اور ایک ساتھ جوانی کی عمر کو پہنچے۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ہو گیا تو آپؑ مدین چلے گئے۔ مدین سے آپؑ کی واپسی کے زمانے میں بڑا فرعون اگرچہ زندہ تھا مگر بڑھاپے کی وجہ سے اس نے تمام امور سلطنت اپنے بیٹے (منفتاح) کو سونپ رکھے تھے ۔ اس طرح عملی طور پر اس کا بیٹاہی حکمران تھا جو ایک طرح سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھائی اور بچپن کا ساتھی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اپنے بڑے بڑے سرداروں کے پر زور مطالبے کے باوجود بھی وہ کئی سال تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف انتہائی اقدام کرنے سے گریز کرتا رہا۔ پھرجب اُس نے کسی سخت اقدام کو ناگزیر سمجھا بھی تو آپؑ کی ذات کے بجائے آپؑ کی قوم کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس منصوبے کے تحت اس نے ایک دفعہ پھر حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کر دیا جائے اور صرف ان کی بیٹیوں کو ہی زندہ رہنے دیا جائے۔ اس کا خیال تھا کہ اس طرح وہ اس تحریک کو کچلنے اور بنی اسرائیل کی طاقت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اس کے اسی منصوبے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ کے مخالفین کی کوئی چال بھی اللہ کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

26-27

حضرت موسی علیہ السلام کو شہید کرنے کا ناکام منصوبہ

ویڈیو

وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُوۡنِیۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰی وَ لۡیَدۡعُ رَبَّہٗ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴿۲۶﴾ وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤۡمِنُ بِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿٪۲۷﴾

آیت 26

وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُوۡنِیۡۤ اَقۡتُلۡ مُوۡسٰی وَ لۡیَدۡعُ رَبَّہٗ ۚ

’’اور فرعون نے کہا: مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰؑ کو قتل کر دوں اور وہ (بچاؤ کے لیے) پکارلے اپنے رب کو۔‘‘

فرعون کے اس فقرے کے اندر بہت سی اَن کہی تفصیلات کی جھلک بھی نظر آ رہی ہے۔ اَوّلاًاس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک فرعون بھانپ چکا تھا کہ پانی سر سے گزرنے کو ہے اور یہ کہ اس مرحلے پر اگر موسیٰؑ کو قتل کر کے راستے سے نہ ہٹایا گیا تو یہ طوفان اس کے اقتدار سمیت مصر کی ’’عظیم الشان تہذیب ‘‘اور ’’مثالی روایات ‘‘ کو بھی بہا لے جائے گا۔ ثانیاً اس فقرے سے اس کی بے چارگی بھی عیاں ہو رہی ہے۔ وہ مطلق العنان بادشاہ تھا مگر اس کے باوجود اس نے اپنے وزراء اور امراء سے اس قرارداد کی منظوری کی درخواست کی۔ اس کی ضرورت اسے کیوں محسوس ہوئی؟ در اصل وہ دیکھ رہا تھا کہ حضرت موسیٰؑ کی دعوت سے ہر طبقے کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لیے اسے اندیشہ تھا کہ اگر اس تجویز پر تمام درباریوں کو اعتماد میں نہ لیا گیا تو ردِ عمل کے طو ر پر کہیں سے کوئی بغاوت بھی جنم لے سکتی ہے۔

اِنِّیۡۤ اَخَافُ اَنۡ یُّبَدِّلَ دِیۡنَکُمۡ اَوۡ اَنۡ یُّظۡہِرَ فِی الۡاَرۡضِ الۡفَسَادَ ﴿۲۶﴾

’’مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یازمین میں فساد برپا کر دے گا۔‘‘

’’دین‘‘ سے مراد یہاں نظامِ حکومت ہے‘ اور فرعون کو اب سب سے بڑا اندیشہ یہی تھا کہ مصر کا اقتدارِ اعلیٰ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

فرعون کی مذکورہ قرارداد کی اطلاع حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچی تو آپؑ نے خود کو اللہ کی پناہ میں دینے کے عزم کا اظہار کیا:

آیت 27

وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنِّیۡ عُذۡتُ بِرَبِّیۡ وَ رَبِّکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤۡمِنُ بِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿٪۲۷﴾

’’اورموسیٰؑ نے کہا کہ میں پناہ پکڑتا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر اُس متکبر شخص کے مقابلے میں ‘ جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘

28-29

مومن آلِ فرعون کا ایمان افروز کلمہ حق

ویڈیو

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ وَ اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ ﴿۲۸﴾ یٰقَوۡمِ لَکُمُ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ظٰہِرِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫ فَمَنۡ یَّنۡصُرُنَا مِنۡۢ بَاۡسِ اللّٰہِ اِنۡ جَآءَنَا ؕ قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَاۤ اُرِیۡکُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰی وَ مَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿۲۹﴾

آیت 28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ

’’اور آلِ فرعون میں سے ایک مؤمن مرد نے ‘جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا‘کہا:‘‘

اس مرحلے پر اس مردِ مؤمن نے صورتِ حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کلمۂ حق زبان پر لانے کا فیصلہ کر لیا ۔ چنانچہ اس نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بھرے دربار میں اس مطلق العنان فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر ’’حق گوئی و بے باکی‘‘ کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور جملے گویا ؏

’’موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے !‘‘

اور پھر ان موتیوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے جاں نثارانِ حق کی آنکھوں کی طراوت کے لیے صفحاتِ قرآن کی زینت بنا دیا۔ چنانچہ فرعون نے جونہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی قرارداد پیش کی ‘ یہ مردِ مؤمن فوراً بول اٹھا اور اس نے فرعون اور تمام اہل دربار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:

اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ

’’کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے!‘‘

کیا کسی شخص کا اللہ کو رب ماننا تمہارے نزدیک اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں تم اس کی جان کے درپے ہو گئے ہو؟

ایک مرتبہ جب مشرکین مکہ نے حضورﷺ کی سر عام ہجوکی اور آپؐ پر حملہ آور ہوئے تو اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیچ میں آ گئے اور انہوںؓ نے مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے یہی الفاظ دہرائے تھے: اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ ۱ ’’کیا تم لوگ ایک شخص (محمدﷺ)کی جان کے درپے صرف اس لیے ہو رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے!‘‘

وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ

’’حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔‘‘

وَ اِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ

’’اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اُسی پر آئے گا۔‘‘

وَ اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ

’’اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔‘‘

ایسی صورت میں تم پر عذابِ الٰہی کی مار پڑے گی اور تم تباہ و برباد کر دیے جاؤ گے۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ ﴿۲۸﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا‘ بہت جھوٹا ہو۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب المناقب‘ باب قول النبیﷺ {لوکنت متّخذا خلیلاً} وکتاب تفسیر القرآن‘ ح : ۳۶۷۸‘۴۸۱۵۔

آیت 29

یٰقَوۡمِ لَکُمُ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ظٰہِرِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫

’’اے میری قوم کے لوگو! آج تو تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور تم ہر طرح سے زمین میں غالب ہو۔‘‘

آج تو تم ایک عظیم الشان سلطنت کے مالک ہو اور پوری دنیا میں تمہاری طاقت کا ڈنکا بج رہا ہے۔

فَمَنۡ یَّنۡصُرُنَا مِنۡۢ بَاۡسِ اللّٰہِ اِنۡ جَآءَنَا ؕ

’’لیکن اگر کہیں ہم پر اللہ کا عذاب آ گیا توا س سے بچانے کے لیے ہماری مدد کون کرے گا؟‘‘

قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَاۤ اُرِیۡکُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰی

’’فرعون نے کہا: میں تو تمہیں وہی کچھ دکھا رہا ہوں جو مجھے نظر آ رہا ہے‘‘

مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ اگر اب بھی موسیٰؑ کا قصہ پاک نہ کیا گیا تو پانی ہمارے سروں سے گزر جائے گا اور یہ مصر کے طول و عرض میں فسادبرپا کر دے گا۔ اس طرح جو تباہی آئے گی وہ ہمارا سب کچھ برباد کر کے رکھ دے گی۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تو تمہارے سامنے اپنی وہی رائے پیش کی ہے جو مجھے مناسب نظر آتی ہے ---- مردِ مؤمن کی کھری کھری باتوں کے جواب میں فرعون کا یہ معذرت خواہانہ ردِ عمل حیران کن ہے۔ فرعون کی مطلق العنانی کا تصور ذہن میں رکھیے اور پھر اس مختصر سے جملے کے ایک ایک لفظ سے ٹپکتی ہوئی بے بسی اور بے چارگی ملاحظہ کیجیے۔

وَ مَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿۲۹﴾

’’اور میں نہیں راہنمائی کر رہا تمہاری مگر کامیابی کے راستے کی طرف۔‘‘

30-35

مومن آلِ فرعون کی لرزہ والی حق سے تنبیح

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡۤ اٰمَنَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ مِّثۡلَ یَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ ﴿ۙ۳۰﴾ مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴿۳۱﴾ وَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ یَوۡمَ التَّنَادِ ﴿ۙ۳۲﴾ یَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِیۡنَ ۚ مَا لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾ وَ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ یُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَیِّنٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّا جَآءَکُمۡ بِہٖ ؕ حَتّٰۤی اِذَا ہَلَکَ قُلۡتُمۡ لَنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رَسُوۡلًا ؕ کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابُۨ ﴿ۚۖ۳۴﴾ الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ؕ کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عِنۡدَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلۡبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿۳۵﴾

آیت 30

وَ قَالَ الَّذِیۡۤ اٰمَنَ یٰقَوۡمِ

’’اور مردِ مؤمن نے (اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے)کہا : اے میری قوم کے لوگو!‘‘

اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ مِّثۡلَ یَوۡمِ الۡاَحۡزَابِ ﴿ۙ۳۰﴾

’’مجھے اندیشہ ہے تم پر ایسے دن کا جیسے دن پہلی قوموں پر آئے تھے۔‘‘

آیت 31

مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ

’’ جیسا کہ معاملہ ہوا تھا قومِ نوحؑ کا اور قومِ عاد اور قومِ ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کا۔‘‘

وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴿۳۱﴾

’’اور اللہ تو اپنے بندوں پر کسی ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘

یہ تو خود بندے ہی ہیں جو رسولوں کی تکذیب اور اپنی کوتاہیوں اور شرارتوں کی وجہ سے عذابِ الٰہی کو دعوت دیتے ہیں‘ ورنہ اللہ عزوجل تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

آیت 32

وَ یٰقَوۡمِ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ یَوۡمَ التَّنَادِ ﴿ۙ۳۲﴾

’’اور اے میری قوم کے لوگو! مجھے اندیشہ ہے تم پر چیخ پکار کے دن کا۔‘‘

جس دن ہر طرف فریاد و فغاں اور چیخ وپکار مچی ہو گی اور لوگ ایک دوسرے کو پکار رہے ہوں گے۔

آیت 33

یَوۡمَ تُوَلُّوۡنَ مُدۡبِرِیۡنَ ۚ مَا لَکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ

’’جس دن تم پیٹھ موڑ کر بھاگو گے‘ لیکن اللہ کی پکڑ سے تمہیں بچا نے والا کوئی نہیں ہو گا۔‘‘

وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۳۳﴾

’’اور جسے اللہ ہی گمراہ کر دے پھر اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔‘‘

آیت 34

وَ لَقَدۡ جَآءَکُمۡ یُوۡسُفُ مِنۡ قَبۡلُ بِالۡبَیِّنٰتِ

’’اور (دیکھو!) اس سے پہلے تمہارے پاس یوسف ؑ آئے تھے واضح نشانیاں لے کر‘‘

تمہارے اسی ملک مصر میں اس سے پہلے حضرت یوسف علیہ السلام بھی اللہ کے نبی کی حیثیت سے تمہارے آباء و اَجداد کے پاس آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تاویل الاحادیث کا علم عطا کیا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو اس کے خواب کی تعبیر بتلا کر آنے والی قحط سالی کے تدارک کی تدبیر بھی بتائی تھی اور اس طرح اس ملک کو تباہی سے بچایا تھا۔ اس کے باوجود تمہاری قوم نے نہ تو ان کی نصیحتوں پر کان دھرا اور نہ ہی انہیں ؑاللہ کا نبی مانا۔اس آیت سے ضمنی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے درمیان بنی اسرائیل میں کوئی اور نبی نہیں آئے ۔ اگر حضرت یوسف ؑکے بعد کوئی اور نبی بھی آئے ہوتے تو مؤمنِ آلِ فرعون اُن کا بھی ذکر کرتے۔ البتہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک چودہ سو سال کے دوران بنی اسرائیل میں بغیر کسی وقفے کے مسلسل نبوت رہی۔ یہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یہ نکتہ بھی مد نظر رہے کہ آپؑ رسول نہیں ‘ صرف نبی تھے۔

فَمَا زِلۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّا جَآءَکُمۡ بِہٖ ؕ

’’لیکن تم شکوک و شبہات میں ہی پڑے رہے ان تعلیمات کے بارے میں جو وہ ؑتمہارے پاس لے کر آئے تھے۔‘‘

حَتّٰۤی اِذَا ہَلَکَ قُلۡتُمۡ لَنۡ یَّبۡعَثَ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رَسُوۡلًا ؕ

’’یہاں تک کہ جب وہ فوت ہو گئے تو تم نے کہا کہ اب ان کے بعد اللہ کسی اور کو رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔‘‘

یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں تو انہیں اللہ کا پیغمبر تسلیم نہ کیا مگر فوت ہونے پر ان کا ذکر پیغمبر کے طور پر ہی کیا۔

کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ مُّرۡتَابُۨ ﴿ۚۖ۳۴﴾

’’اسی طرح اللہ گمراہ کر دیتا ہے ان لوگوں کو جو حدسے بڑھنے والے اور شکوک و شبہات میں مبتلا رہنے والے ہوں۔‘‘

آیت 35

الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیۡرِ سُلۡطٰنٍ اَتٰہُمۡ ؕ

’’جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو۔‘‘

کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ عِنۡدَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ

’’بڑی بیزاری کی بات ہے یہ اللہ کے نزدیک بھی اور اہلِ ایمان کے نزدیک بھی۔‘‘

کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلۡبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿۳۵﴾

’’اسی طرح اللہ مہر لگا دیا کرتا ہے ہر اُس شخص کے دل پر جو متکبر اور سرکش ہو۔‘‘

اللہ کے اس فیصلے کے بعد پھر ایسے لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب نہیں ہوتی۔

مؤمنِ آلِ فرعون کی اس تقریر کو پڑھتے ہوئے فرعون کے دربار کا نقشہ ذہن میں لائیے اور درو دیوار کے درمیان سے اُبھرنے والی اس تصویر کو غور سے دیکھئے! فرعون نظریں زمین پر گاڑے بت بنا بیٹھا ہے۔ اس کے دائیں بائیں سب کے سب درباری مبہوت ہو چکے ہیں‘ پورے دربار میں سناٹے کا عالم ہے۔ فضامیں صرف ایک آواز گونج رہی ہے اور وہ ہے حق کی آواز! مردِ مؤمن پر جلال انداز میں اپنی تقریر جاری رکھے ہوئے ہے۔ تقریر نہایت مؤثر اور مربوط ہے۔ اس میں عقلی دلائل بھی ہیں اور تاریخی شواہد بھی۔ دعوت کا انداز بھی ہے اور عبرت کا سامان بھی۔ماحول پر گہری سنجیدگی طاری ہو چکی ہے۔ اس صورتِ حال میں فرعون کرے تو کیا کرے۔ نہ تو اسے چپ رہنے کا یارا ہے اورنہ بولنے کا حوصلہ۔ اندیشہ ہائے دور دراز کے جھرمٹ میں اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ ’’فرعون‘‘ ہے۔ پھر کچھ دیر کے بعد جب وہ اس کیفیت سے باہر آتا بھی ہے تو مردِ مؤمن کو جواب دینے کے بجائے اپنے وزیر سے مخاطب ہونا مناسب سمجھتا ہے:

36-37

حق سے ہٹانے کے لیے فرعون کی سازش

ویڈیو

وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ یٰہَامٰنُ ابۡنِ لِیۡ صَرۡحًا لَّعَلِّیۡۤ اَبۡلُغُ الۡاَسۡبَابَ ﴿ۙ۳۶﴾ اَسۡبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤی اِلٰہِ مُوۡسٰی وَ اِنِّیۡ لَاَظُنُّہٗ کَاذِبًا ؕ وَ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا کَیۡدُ فِرۡعَوۡنَ اِلَّا فِیۡ تَبَابٍ ﴿٪۳۷﴾

آیت 36

وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ یٰہَامٰنُ ابۡنِ لِیۡ صَرۡحًا لَّعَلِّیۡۤ اَبۡلُغُ الۡاَسۡبَابَ ﴿ۙ۳۶﴾

’’اور فرعون نے کہا:اے ہامان !میرے لیے ایک بلند عمارت بنواؤ تاکہ میں پہنچ جاؤں راستوں تک۔‘‘

آیت 37

اَسۡبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤی اِلٰہِ مُوۡسٰی

’’یعنی آسمان کے راستوں تک‘پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے الٰہ کو‘‘

یہ موسیٰ جس الٰہ کا ذکر کرتا ہے میں اس تک پہنچ کر خود اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔

وَ اِنِّیۡ لَاَظُنُّہٗ کَاذِبًا ؕ

’’اور میرا گمان تو یہ ہے کہ وہ جھوٹاہے۔‘‘

وَ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ

’’اور اس طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل بھی مزین کر دیا گیا‘‘

یعنی فرعون کی نگاہوں میں اُس کی بدعملی خوشنما بنا دی گئی۔

وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیۡلِ ؕ وَ مَا کَیۡدُ فِرۡعَوۡنَ اِلَّا فِیۡ تَبَابٍ ﴿٪۳۷﴾

’’اور اسے روک دیا گیا سیدھی راہ سے۔اور فرعون کی یہ چال نہیں تھی مگر تباہ ہونے کے لیے ۔‘‘

فرعون کی بے بسی کی ایک تصویر تو ہم قبل ازیں آیت ۲۹ میں دیکھ آئے ہیں : {مَاۤ اُرِیۡکُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰی وَ مَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿۲۹﴾} کہ دیکھو بھئی ! یہ تو میری رائے ہے ‘ مجھے جو بات صحیح محسوس ہوئی وہ میں نے آپ لوگوں کے سامنے رکھ دی۔ اب آیت زیر مطالعہ میں جو منظر دکھایا گیا ہے اس میں وہ پہلے سے بھی زیادہ بے بس نظر آ رہا ہے۔ یہ جملے بولتے ہوئے نہ تو اس نے مردِ مؤمن کی کسی بات کا جواب دیااور نہ ہی وہ اس سے نظریں ملا سکا ۔ ایک طویل خاموشی کے بعد اس نے بات کی بھی تو اپنے وزیر سے کی اور بات بھی نہایت بے تکی اور لایعنی کی! کہ مجھے کوئی اونچا سامینار بنا دو تا کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کو دیکھ سکوں! واہ رے بادشاہ سلامت واہ! اسے کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے!

اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف ایسی ہی ایک ’’پختہ دلیل ‘‘موجودہ دور کے لال بجھکڑوں کو بھی سوجھی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو چاندتک بھی ہو آئے ہیں‘ ہمیں تو کہیں کوئی خدا نظر نہیں آیا۔ مردِ مؤمن نے بہر حال فرعون کی اس فضول اور بے محل بات کو نظر انداز کر کے کمال سنجیدگی سے اپنی تقریر کو جاری رکھا:

38-40

مومن آلِ فرعون کا رقت آمیز وعظ

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡۤ اٰمَنَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَہۡدِکُمۡ سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿ۚ۳۸﴾ یٰقَوۡمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا مَتَاعٌ ۫ وَّ اِنَّ الۡاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴿۳۹﴾ مَنۡ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا ۚ وَ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ یُرۡزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۴۰﴾

آیت 38

وَ قَالَ الَّذِیۡۤ اٰمَنَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَہۡدِکُمۡ سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿ۚ۳۸﴾

’’ اور کہا اُس مؤمن نے کہ اے میری قوم کے لوگو! تم میری پیروی کرو‘ میں تمہاری راہنمائی کروں گا نیکی کے راستے پر۔‘‘

یہ گویا فرعون کی اس بات کا جواب ہے جو اُس نے کہا تھا: {وَ مَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿۲۹﴾} ’’اور میں تمہاری راہنمائی نہیں کر رہا مگر کامیابی کے راستے کی طرف‘‘۔ جواب میں مردِ مؤمن نے فرعون ہی کے الفاظ دہراتے ہوئے اہلِ دربار کو مخاطب کیا ہے کہ اگر کوئی ’’سبیل الرشاد ‘‘کی بات کرتا ہے تو آؤ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ’’سبیل الرشاد‘‘کیا ہے۔ تم میری بات مانو‘ میرے پیچھے آؤ ‘میں تمہاری راہنمائی کرتا ہوں کہ بھلائی اور کامیابی کیا ہوتی ہے اور کون سا راستہ رشد و ہدایت اور فلاح و کامیابی کی طرف جاتا ہے۔

آیت 39

یٰقَوۡمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا مَتَاعٌ ۫ وَّ اِنَّ الۡاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الۡقَرَارِ ﴿۳۹﴾

’’اے میری قوم کے لوگو! یہ دنیا کی زندگی تو بس (چند روزہ) برتنے کا سامان ہے اور مستقل رہنے کی جگہ تو آخرت ہے۔‘‘

آیت 40

مَنۡ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَلَا یُجۡزٰۤی اِلَّا مِثۡلَہَا ۚ

’’جس نے کوئی بدی کمائی ہو گی تو اُسے بدلہ ملے گا اُسی کے مانند۔‘‘

وَ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ

’’اور جو کوئی نیک عمل کرے گا‘ چاہے مرد ہو یا عورت ‘لیکن ہو وہ مؤمن‘‘

فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ یُرۡزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۴۰﴾

’’تو وہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے ‘ وہاں انہیں رزق ملے گا بغیر حساب کے۔‘‘

41-45

آل ِفرعون کا بندہ مومن کے خلاف جارحانہ رویہ

ویڈیو

وَ یٰقَوۡمِ مَا لِیۡۤ اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی النَّجٰوۃِ وَ تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَی النَّارِ ﴿ؕ۴۱﴾ تَدۡعُوۡنَنِیۡ لِاَکۡفُرَ بِاللّٰہِ وَ اُشۡرِکَ بِہٖ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ۫ وَّ اَنَا اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی الۡعَزِیۡزِ الۡغَفَّارِ ﴿۴۲﴾ لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ لَیۡسَ لَہٗ دَعۡوَۃٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَا فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَنَّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ﴿۴۳﴾ فَسَتَذۡکُرُوۡنَ مَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمۡرِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۴۴﴾ فَوَقٰىہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوۡا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴿ۚ۴۵﴾

آیت 41

وَ یٰقَوۡمِ مَا لِیۡۤ اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی النَّجٰوۃِ وَ تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَی النَّارِ ﴿ؕ۴۱﴾

’’اور اے میری قوم کے لوگو! مجھے کیا ہے کہ میں تمہیں پکار رہا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے دعوت دے رہے ہو آگ کی !‘‘

تم اللہ کے رسول ؑکو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہو اور مجھ سے چاہتے ہو کہ میں بھی اس گناہ میں تمہارے ساتھ شریک ہو کر جہنم کا مستحق بن جاؤں‘ جبکہ میں چاہتا ہوں کہ تم سب میرے ساتھ آؤ‘ میرا راستہ اپناؤ‘ اللہ کے حضور توبہ کرو اور جہنم سے نجات پا کر جنت میں چلے جاؤ۔

آیت 42

تَدۡعُوۡنَنِیۡ لِاَکۡفُرَ بِاللّٰہِ وَ اُشۡرِکَ بِہٖ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ۫

’’تم مجھے دعوت دے رہے ہو اس بات کی کہ میں اللہ کا کفر کروں اور شریک ٹھہراؤں اس کے ساتھ جس کا مجھے کوئی علم نہیں‘‘

وَّ اَنَا اَدۡعُوۡکُمۡ اِلَی الۡعَزِیۡزِ الۡغَفَّارِ ﴿۴۲﴾

’’اور میں تمہیں بلا رہا ہوں اُس ذات کی طرف جو زبردست ہے ‘بخشش کرنے والا ہے۔‘‘

آیت 43

لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ لَیۡسَ لَہٗ دَعۡوَۃٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَا فِی الۡاٰخِرَۃِ

’’بلاشبہ جن (معبودوں) کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو ‘ ان کے لیے کوئی دعوت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں‘‘

یہ سب تمہارے خود ساختہ معبود ہیں۔ نہ تو دنیا میں کہیں ان کی رسائی ہے اور نہ ہی آخرت میں انہیں کوئی اختیار ہے۔

وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَی اللّٰہِ

’’اور یہ کہ ہم سب کو لوٹنا تو اللہ ہی کی طرف ہے‘‘

یاد رکھو! خواہی نخواہی ہمیں ایک دن حاضر تو اللہ ہی کے حضور ہونا ہے۔

وَ اَنَّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ﴿۴۳﴾

’’اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہی جہنمی ہیں۔‘‘

آیت 44

فَسَتَذۡکُرُوۡنَ مَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ ؕ

’’تو عنقریب تم یاد کرو گے (یہ باتیں) جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔‘‘

میں جانتا ہوں کہ تم میری ان باتوں کو نہیں مانو گے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم موسیٰؑ اور اس کی قوم کے خلاف اپنی ساری چالیں چل کر رہو گے۔ مگر یاد رکھو ! اگر تم نے ایسا کیا تو یقینا تم اپنی تباہی اور بربادی کو دعوت دو گے۔ بہر حال میری یہ باتیں تمہیں اس وقت ضرور یاد آئیں گی جب تمہارا بھیانک انجام تمہارے سامنے آن کھڑا ہو گا۔

وَ اُفَوِّضُ اَمۡرِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ

’’اور میں تو اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔‘‘

یہ مردِ مؤمن کی تقریر کے اختتامی الفاظ ہیں ۔ اس جملے کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ فرعون کے دربار میں کلمۂ حق بلند کرنے کے بعد مردِ مؤمن ذہنی طور پر کسی بھی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ اس ’’گستاخی‘‘ کے بعد انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام اس خوبصورت جملے پر کیا۔ سورۂ یٰسٓ میں بھی ایک مردِ مؤمن کی ’’حق گوئی و بے باکی‘‘ کا ذکر ہوا ہے‘جس نے اپنی قوم کو رسولوں کی پیروی کرنے کا مشورہ دیا تھا اور اپنے ایمان کا ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا تھا۔ اس ’’اعلانِ بغاوت‘‘ کے نتیجے میں اس کو اسی لمحے شہید کر دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اسے جنت میں داخل فرما دیا تھا۔ قرآن حکیم میں اس کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں : {قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿۲۷﴾} (یٰسٓ) ’’اس نے کہا کاش !میری قوم کو معلوم ہو جاتا میرے رب نے جس طرح میری مغفرت فرمائی ہے اور جس طرح مجھے باعزت لوگوں میں شامل کر لیا ہے!‘‘مؤمنِ آلِ فرعون نے بھی اپنی شہادت کے امکان کو دیکھتے ہوئے کمال اطمینان سے اپنا معاملہ اللہ کو سونپ دیا۔

اِنَّ اللّٰہَ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۴۴﴾

’’اللہ یقینا اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘

اسے یقین تھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہے۔وہ جسے چاہے ظلم و زیادتی کا شکار ہونے سے بچا سکتا ہے۔

آیت 45

فَوَقٰىہُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِ مَا مَکَرُوۡا

’’تو بچا لیا اللہ نے اُس کو ان کی چالوں کی برائیوں سے ‘‘

یہاں پر ہُ کی ضمیر کا مرجع مؤمنِ آلِ فرعون بھی ہو سکتا ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس سے مراد مؤمن آلِ فرعون ہے کہ اللہ نے اسے فرعون کے انتقام کا نشانہ بننے سے بچا لیا‘ لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ اس سے حضرت موسیٰؑ مراد ہیں۔ چونکہ اس بات کا آغاز فرعون کی اس قراردادسے ہوا تھا جو اس نے حضرت موسیٰؑ کو قتل کرنے کی اجازت کے لیے اپنے درباریوں کے سامنے پیش کی تھی۔اس لیے زیادہ قرینِ قیاس یہی ہے کہ اس پوری تفصیل کے اختتام پر آیت زیر مطالعہ میں فرعون کے مذکورہ منصوبے کی ناکامی پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ مؤمنِ آلِ فرعون کی اس تقریر کے بعد دربار کا ماحول ایسا نہ رہا کہ اس میں حضرت موسیٰؑ کے قتل کی قرارداد پاس ہو سکتی۔ چنانچہ فرعون اور اس کے درباری اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر سکے اور یوںاللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔

وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ ﴿ۚ۴۵﴾

’’اور گھیر لیا آلِ فرعون کو بدترین عذاب نے۔‘‘

46

عذابِ قبر کی طرف اشارہ

ویڈیو

اَلنَّارُ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا ۚ وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ ۟ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴿۴۶﴾

آیت 46

اَلنَّارُ یُعۡرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا ۚ

’’ آگ ہے جس پر وہ پیش کیے جاتے ہیں صبح وشام۔‘‘

یہ قرآن مجید کی دوسری آیت ہے جس سے عذابِ قبر سے متعلق دلیل ملتی ہے (نیز ملاحظہ ہو: سورۃ الفرقان کی آیت ۶۹ کی تشریح۔)

وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ ۟ اَدۡخِلُوۡۤا اٰلَ فِرۡعَوۡنَ اَشَدَّ الۡعَذَابِ ﴿۴۶﴾

’’اور جس دن قیامت قائم ہوگی (اُس دن کہہ دیا جائے گاکہ) داخل کر دو فرعون کی قوم کو شدید ترین عذاب میں۔‘‘

اس آیت کے مفہوم کے مطابق آلِ فرعون کو شدید ترین عذاب میں تو قیامِ قیامت کے بعد داخل کیا جائے گا‘ لیکن اس سے پہلے قبر کی زندگی کے دوران صبح وشام انہیں آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے --- عذابِ قبر کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کے فرمودات بہت واضح ہیں۔ آپؐ کا فرمان ہے: حدیث((اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ))۱’’قبریا تو جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ‘‘۔ منکرین حدیث البتہ عذابِ قبر کی نفی کرتے ہیں۔ در اصل قبر کا معاملہ ایک دوسرے جہان کا معاملہ ہے جو عالم غیب ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ قبر سے مراد وہ مخصوص گڑھا نہیں جہاں میت کو دفن کیا جاتا ہے ‘بلکہ اس سے مراد عالم برزخ ہے۔ سورۃ المُطفِّفِین میں عالم برزخ کی دو کیفیات عِلِّیِیْن اور سِجِّیْن کا ذکر ملتا ہے ۔ اس عالم میں انسان نیم شعوری کی کیفیت میں ہو تا ہے۔ اگر کوئی خوش قسمت ’’عِلِّیِیْن‘‘ میں ہے تو وہاں جنت کی کھڑکی کھلی ہوتی ہے اور وہ جنت کی ٹھنڈی ہوائوں کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ’’سِجِّیْن ‘‘ میں جہنم کی کھڑکی میں سے آگ کی لپٹ آ رہی ہوتی ہے۔

(۱) سنن الترمذی‘ ابواب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع‘ ح:۲۴۶۰۔

یوٹیوب پر دیکھیے