وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤۡمِنٌ ٭ۖ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَکۡتُمُ اِیۡمَانَہٗۤ
’’اور آلِ فرعون میں سے ایک مؤمن مرد نے ‘جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا‘کہا:‘‘
اس مرحلے پر اس مردِ مؤمن نے صورتِ حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کلمۂ حق زبان پر لانے کا فیصلہ کر لیا ۔ چنانچہ اس نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بھرے دربار میں اس مطلق العنان فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر ’’حق گوئی و بے باکی‘‘ کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور جملے گویا ؏
’’موتی سمجھ کے شانِ کریمی نے چن لیے !‘‘
اور پھر ان موتیوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے جاں نثارانِ حق کی آنکھوں کی طراوت کے لیے صفحاتِ قرآن کی زینت بنا دیا۔ چنانچہ فرعون نے جونہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی قرارداد پیش کی ‘ یہ مردِ مؤمن فوراً بول اٹھا اور اس نے فرعون اور تمام اہل دربار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
اَتَقۡتُلُوۡنَ رَجُلًا اَنۡ یَّقُوۡلَ رَبِّیَ اللّٰہُ
’’کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے!‘‘
کیا کسی شخص کا اللہ کو رب ماننا تمہارے نزدیک اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں تم اس کی جان کے درپے ہو گئے ہو؟
ایک مرتبہ جب مشرکین مکہ نے حضورﷺ کی سر عام ہجوکی اور آپؐ پر حملہ آور ہوئے تو اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیچ میں آ گئے اور انہوںؓ نے مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے یہی الفاظ دہرائے تھے: اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ ۱ ’’کیا تم لوگ ایک شخص (محمدﷺ)کی جان کے درپے صرف اس لیے ہو رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے!‘‘
وَ قَدۡ جَآءَکُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ؕ
’’حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔‘‘
وَ اِنۡ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیۡہِ کَذِبُہٗ ۚ
’’اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اُسی پر آئے گا۔‘‘
وَ اِنۡ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبۡکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ یَعِدُکُمۡ ؕ
’’اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔‘‘
ایسی صورت میں تم پر عذابِ الٰہی کی مار پڑے گی اور تم تباہ و برباد کر دیے جاؤ گے۔
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ مُسۡرِفٌ کَذَّابٌ ﴿۲۸﴾
’’یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا‘ بہت جھوٹا ہو۔‘‘
(۱) صحیح البخاری‘ کتاب المناقب‘ باب قول النبیﷺ {لوکنت متّخذا خلیلاً} وکتاب تفسیر القرآن‘ ح : ۳۶۷۸‘۴۸۱۵۔
یٰقَوۡمِ لَکُمُ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ظٰہِرِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۫
’’اے میری قوم کے لوگو! آج تو تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور تم ہر طرح سے زمین میں غالب ہو۔‘‘
آج تو تم ایک عظیم الشان سلطنت کے مالک ہو اور پوری دنیا میں تمہاری طاقت کا ڈنکا بج رہا ہے۔
فَمَنۡ یَّنۡصُرُنَا مِنۡۢ بَاۡسِ اللّٰہِ اِنۡ جَآءَنَا ؕ
’’لیکن اگر کہیں ہم پر اللہ کا عذاب آ گیا توا س سے بچانے کے لیے ہماری مدد کون کرے گا؟‘‘
قَالَ فِرۡعَوۡنُ مَاۤ اُرِیۡکُمۡ اِلَّا مَاۤ اَرٰی
’’فرعون نے کہا: میں تو تمہیں وہی کچھ دکھا رہا ہوں جو مجھے نظر آ رہا ہے‘‘
مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ اگر اب بھی موسیٰؑ کا قصہ پاک نہ کیا گیا تو پانی ہمارے سروں سے گزر جائے گا اور یہ مصر کے طول و عرض میں فسادبرپا کر دے گا۔ اس طرح جو تباہی آئے گی وہ ہمارا سب کچھ برباد کر کے رکھ دے گی۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تو تمہارے سامنے اپنی وہی رائے پیش کی ہے جو مجھے مناسب نظر آتی ہے ---- مردِ مؤمن کی کھری کھری باتوں کے جواب میں فرعون کا یہ معذرت خواہانہ ردِ عمل حیران کن ہے۔ فرعون کی مطلق العنانی کا تصور ذہن میں رکھیے اور پھر اس مختصر سے جملے کے ایک ایک لفظ سے ٹپکتی ہوئی بے بسی اور بے چارگی ملاحظہ کیجیے۔
وَ مَاۤ اَہۡدِیۡکُمۡ اِلَّا سَبِیۡلَ الرَّشَادِ ﴿۲۹﴾
’’اور میں نہیں راہنمائی کر رہا تمہاری مگر کامیابی کے راستے کی طرف۔‘‘