تحریر

غافر

آیات ۱۰ تا ۲۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

10-12

اہل ِجہنم کی عبرتناک بیزاری

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ مِنۡ مَّقۡتِکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ اِذۡ تُدۡعَوۡنَ اِلَی الۡاِیۡمَانِ فَتَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰﴾ قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾ ذٰلِکُمۡ بِاَنَّہٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

تمہید

گزشتہ آیات میں مؤمنینِ صادقین کے حالات کا نقشہ دکھایا گیاہے کہ قیامت کے دن حاملینِ عرش ملائکہ ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے۔ نہ صرف ان کے لیے بلکہ وہ ان کے آباء و اَجداد اور اہل و عیال کے لیے بھی سفارش کریں گے کہ ان میں سے اگر کوئی جنت کے نچلے درجے میں ہے تو اے پروردگار! تو اس کے درجات کو بھی بلند فرما دے تا کہ وہ اپنے ان عزیز و اقارب کے ساتھ مل جائے جنہیں بلند تر درجات عطا ہوئے ہیں۔ اب ان آیات میں اس کے برعکس کفار و مشرکین کے حالات کا منظر دکھایا جا رہا ہے:

آیت 10

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُنَادَوۡنَ لَمَقۡتُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ مِنۡ مَّقۡتِکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ

’’جن لوگوں نے کفر کیا تھا انہیں پکارا جائے گا کہ آج تم جس قدر اپنی جانوں سے بے زار ہوگئے ہو اللہ کی بیزاری تم سے اس سے کہیں بڑھ کر تھی‘‘

اِذۡ تُدۡعَوۡنَ اِلَی الۡاِیۡمَانِ فَتَکۡفُرُوۡنَ ﴿۱۰﴾

’’ جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔‘‘

آج عذاب کی حالت میں تمہاری جان پر بنی ہوئی ہے اور تم اپنی جانوں سے بیزار ہو کر موت کی دعائیں کررہے ہو۔ مگر یاد کرو وہ وقت جب اللہ کا رسول تمہیں اللہ کی طرف اور قرآن کی طرف بلا رہا تھا اور تمہیں ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ دکھا رہاتھا تو تم مسلسل انکار کیے جا رہے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ تم سے جس قدر بیزاری محسوس کر رہا تھا وہ تمہاری اس بیزاری سے کہیں زیادہ تھی جو تم لوگ آج اپنی جانوں سے محسوس کر رہے ہو۔

آیت 11

قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَیۡنِ وَ اَحۡیَیۡتَنَا اثۡنَتَیۡنِ

’’وہ فریاد کریں گے : اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا‘‘

فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَہَلۡ اِلٰی خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿۱۱﴾

’’تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے‘ تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے؟‘‘

یعنی اگرہم اس سے پہلے اتنے مراحل سے گزر آئے ہیں تو اب اس مرحلے سے بھی گزرنے کا کوئی طریقہ تو ہو گا۔ تو اے پروردگار! ایک دفعہ ہمیں اس عذاب سے جان چھڑانے کا موقع بھی فراہم کر دے۔

تخلیقِ انسانی اور حیاتِ انسانی کی حقیقت کے ضمن میں اس آیت کا مضمون پورے قرآن میں ذروۂ سنام کا درجہ رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آ چکا ہے لیکن اس قدر واضح انداز میں اورکہیں نہیں آیا۔ مثلاً سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا: {کَیۡفَ تَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ کُنۡتُمۡ اَمۡوَاتًا فَاَحۡیَاکُمۡ ۚ ثُمَّ یُمِیۡتُکُمۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡکُمۡ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۸﴾} ’’تم کیسے کفر کرتے ہو اللہ کا ‘حالانکہ تم مردہ تھے تواُس نے تمہیں زندہ کیا‘ پھر وہ تمہیں مارے گا‘ پھر زندہ کرے گا‘ پھر تم اُسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے‘‘۔ اگرچہ سورۃ البقرۃ کی اس آیت میں بھی دو احیاء اور دو اموات کا ذکر ہے مگر مختلف مفسرین نے ان الفاظ کی تاویل مختلف انداز میں کی ہے۔ البتہ آیت زیر مطالعہ اپنے مفہوم میں اس قدر واضح ہے کہ اس کی وضاحت کے لیے کسی تعبیر اور تاویل کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ اس آیت کے حوالے سے یہاں حیاتِ انسانی کے مختلف ادوار کو اچھی طرح سے سمجھ لیجیے۔

ہر انسان کی پہلی تخلیق اُس وقت عمل میں آئی جب عالم ارواح میں اس کی روح پیدا کی گئی۔ عالم ارواح کی یہ زندگی پورے شعور کے ساتھ تھی۔ اسی لیے تو وہاں تمام ارواح سے وہ عہد لیا گیا تھا جس کا ذکر سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۲ میں {اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ } کے الفاظ کے ساتھ ہوا ہے۔اس عہد کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی رُوح سے لے کر دنیا کے آخری انسان کی روح تک تمام ارواح حاضر و موجود تھیں۔ عالم ارواح میں ارواح کے اس عظیم الشان اجتماع کی کیفیت ایک حدیث میں ’’جُنُوْدٌ مُّجَنَّدَۃ‘‘ ۱ (لشکروں کے لشکر) کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ مذکورہ عہد لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ ہر انسان کی پہلی موت (اماتۂ اولیٰ) تھی جو عالم ارواح میں اس پر وارد ہوئی ۔اس طرح تمام ارواح کو گویا ایک کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر دیا گیا۔ چنانچہ جو ارواح ابھی تک دنیا میں نہیں آئیں وہ ابھی تک اسی کیفیت میں ہیں۔علامہ اقبال ؔ نے اس کیفیت کا عجیب نقشہ کھینچا ہے مگر یہ ایسی تفصیل کا موقع نہیں۔

پھر جب عالم خلق (ماں کے پیٹ) میں کسی انسان کے جسم کا لوتھڑا تیار ہو جاتا ہے تو اس کی روح کو عالم ارواح سے اس لوتھڑے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس جسم میں منتقل ہونے کے بعد جب روح ’’آنکھ‘‘ کھولتی ہے تویہ اس روح کا ’’احیائے اوّل‘‘ ہے۔ اس کے بعد وہ انسان ماں کے پیٹ سے دنیا میں وارد ہوتا ہے۔ ایک معین عرصے تک دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے اور اس کے بعد مر جاتا ہے۔چنانچہ دُنیوی زندگی کی یہ موت اس انسان یا روح کی دوسری موت (اماتۂ ثانیہ) ہے۔ اس موت کے بعد وہ روح عالم برزخ میں چلی جاتی ہے‘ جبکہ جسم اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے یعنی مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پوری نوعِ انسانی کی ارواح اپنی اپنی باری پر زندہ ہو کر دنیا میں آتی جائیں گی اور یہاں اپنے اپنے جسم کے ساتھ زندگی گزار کر ’’دوسری موت‘‘ کے بعد عالم برزخ کو سدھارتی جائیں گی۔

اس کے بعد جب قیامت برپا ہو گی تو ہر انسان کی روح کو ایک دفعہ پھر اس کے دنیوی جسم سے ملا کر زندہ کردیا جائے گا۔ یہ تمام انسانوں کا ’’احیائے ثانی ‘‘ہو گا۔ چنانچہ جب میدانِ حشر میں اللہ کی عدالت لگے گی تو مجرم لوگ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار !تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو دفعہ زندہ کیا۔ عالم ارواح سے دنیا کی زندگی تک اور دنیا کی موت کے بعد قیامت کے اس دن تک کئی ادوار ہم پر گزر چکے ‘تواے ہمارے پروردگار! اب ایک دور اور سہی۔ ایک مرتبہ پھر ہم پر کرم فرمایا جائے اور ہمیں ایک موقع اور دے دیا جائے۔ یعنی وہ لوگ اپنی سابقہ زندگی کے مختلف ادوار کو دلیل بنا کر ایک اور دور کی رعایت حاصل کرنے کی درخواست کریں گے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب الارواح جنود مجندۃ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب الارواح جنود مجندۃ۔

آیت 12

ذٰلِکُمۡ بِاَنَّہٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ

’’یہ اس لیے ہے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھاتو تم انکار کرتے تھے۔‘‘

وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ

’’اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے۔‘‘

فَالۡحُکۡمُ لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾

’’تو اب کل اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جو بہت بلند ‘ بہت عظمت والا ہے۔‘‘

13-15

اللہ ہی سے دعا کرو

ویڈیو

ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُنَزِّلُ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ وَ مَا یَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾ فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾ رَفِیۡعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الۡعَرۡشِ ۚ یُلۡقِی الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ لِیُنۡذِرَ یَوۡمَ التَّلَاقِ ﴿ۙ۱۵﴾

آیت 13

ہُوَ الَّذِیۡ یُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُنَزِّلُ لَکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ

’’وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور اتارتا ہے تمہارے لیے آسمان سے روزی۔‘‘

اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے اور بارش کا پانی زمین سے روزی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

وَ مَا یَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنۡ یُّنِیۡبُ ﴿۱۳﴾

’’اور نہیں نصیحت حاصل کرتا مگر وہی جو رجوع کرتا ہے (اللہ کی طرف)۔‘‘

آیت 14

فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’پس تم پکارو اللہ کو اُسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے ‘ خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کے یہ کلمات سورۃ الزمر اور اس سورت کے درمیان مماثلت اور مشابہت کی علامت ہیں۔ دونوں سورتوں میں یہ کلمات بار بار آئے ہیں۔ ظاہر ہے توحید خالص کا عملی مظاہرہ اللہ کے نافرمانوںاور طاغوتی کارندوں کو تو کبھی بھی اچھا نہیں لگے گا۔وہ تو چاہیں گے کہ ’’اللہ کا حصہ اللہ کو دیا جائے اور قیصر کا حصہ قیصرکو!‘‘ یعنی توحید کا ذکر بھی ہوتا رہے اور کاروبارِ شرک بھی چلتا رہے۔ کبھی کبھارکوئی حکم اللہ کا بھی مان لیا جائے‘ مگر ساتھ ہی ساتھ دوسرے خداؤں اور حاجت رواؤں کو بھی خوش رکھا جائے۔

آیت 15

رَفِیۡعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الۡعَرۡشِ ۚ

’’(وہی اللہ ہے) درجات کو بلندکرنے والا‘ عرش کا مالک۔‘‘

یہاں پھر اللہ کی شان کا بیان مرکب اضافی کی شکل میں ہوا ہے۔

یُلۡقِی الرُّوۡحَ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ لِیُنۡذِرَ یَوۡمَ التَّلَاقِ ﴿ۙ۱۵﴾

’’وہ القا کرتا ہے روح کو اپنے امر میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تا کہ وہ خبردار کر دے (لوگوں کو) ملاقات کے دن سے۔‘‘

تا کہ اللہ تعالیٰ کے وہ بندے لوگوں کو یاد دہانی کرائیں کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ یہاں پر الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ سے وحی مراد ہے۔ فرشتہ ‘وحی اور انسانی روح تینوں کا تعلق عالم امر سے ہے‘ لہٰذا ’’روح‘‘ کا لفظ ان تینوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

16-17

روزِ قیامت اللہ کے سامنے حاضری

ویڈیو

یَوۡمَ ہُمۡ بٰرِزُوۡنَ ۬ۚ لَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡہُمۡ شَیۡءٌ ؕ لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾ اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾

آیت 16

یَوۡمَ ہُمۡ بٰرِزُوۡنَ ۬ۚ لَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡہُمۡ شَیۡءٌ ؕ

’’جس روز یہ سامنے نکل کھڑے ہوں گے‘ ان کی کوئی چیز بھی اللہ سے مخفی نہیں ہو گی۔‘‘

لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ

’’(اُس روز پوچھاجائے گا:) کس کے لیے ہے بادشاہی آج کے دن؟

لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ ﴿۱۶﴾

’’(جواب ملے گا:) اکیلے اللہ کے لیے ہے جو تمام کائنات پر چھایا ہوا ہے۔‘‘

آیت 17

اَلۡیَوۡمَ تُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ ؕ

’’آج ہر جان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جو اُس نے کمایا۔‘‘

لَا ظُلۡمَ الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ ﴿۱۷﴾

’’آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ یقینا اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔‘‘

18-20

آخرت کا ہلا دینے والا منظر

ویڈیو

وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡاٰزِفَۃِ اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَی الۡحَنَاجِرِ کٰظِمِیۡنَ ۬ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾ یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾ وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَقۡضُوۡنَ بِشَیۡءٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿٪۲۰﴾

آیت 18

وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡاٰزِفَۃِ

’’اور (اے نبیﷺ!) انہیں خبردار کر دیجئے اس نزدیک آ جانے والے دن سے‘‘

اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَی الۡحَنَاجِرِ کٰظِمِیۡنَ ۬ؕ

’’جبکہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم کو دبا رہے ہوں گے۔‘‘

مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾

’’ان ظالموں کا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہو گا جس کی بات مانی جائے۔‘‘

آیت 19

یَعۡلَمُ خَآئِنَۃَ الۡاَعۡیُنِ وَ مَا تُخۡفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾

’’وہ جانتا ہے نگاہوں کی چوری کو بھی‘ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے اس کو بھی۔‘‘

آیت 20

وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ ؕ

’’اور اللہ فیصلہ کرے گا حق کے ساتھ۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَقۡضُوۡنَ بِشَیۡءٍ ؕ

’’اورجن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں‘ وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿٪۲۰﴾

’’یقینا اللہ سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔‘‘

21-22

تاریخ سے عزت

ویڈیو

اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَانُوۡا ہُمۡ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۲۱﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَکَفَرُوۡا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۲﴾

آیت 21

اَوَ لَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے!‘‘

کَانُوۡا ہُمۡ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ قُوَّۃً وَّ اٰثَارًا فِی الۡاَرۡضِ

’’وہ کہیں زیادہ بڑھ کر تھے ان سے قوت میں اور زمین میں آثار کے حوالے سے بھی‘ ‘

انہوں نے زمین میں بڑی بڑی عمارتیں اور بہت سی دوسری ایسی یادگاریں بنائیں جو ان کے بعد بھی ان کی نشانیوں کے طور پر موجود رہی ہیں۔ اقوامِ ماضی کے ایسے بہت سے آثار آج بھی دنیا میں جا بجا موجود ہیں جنہیں ہم آثارِ قدیمہ کہتے ہیں۔

فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ

’’تو اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔‘‘

وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۲۱﴾

’’اور پھر کوئی نہ ہوا انہیں اللہ سے بچانے والا۔‘‘

آیت 22

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ

’’یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس آتے رہے ان کے رسول بہت واضح نشانیوں کے ساتھ‘‘

فَکَفَرُوۡا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۲﴾

’’لیکن انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا‘ یقینا وہ بہت طاقتور ‘سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے