اَلَّذِیۡنَ یَحۡمِلُوۡنَ الۡعَرۡشَ وَ مَنۡ حَوۡلَہٗ
’’وہ (فرشتے) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو ان کے ارد گرد ہیں‘‘
اس آیت کو پڑھتے ہوئے سورۃ الزمر کی آخری آیت کو ذہن میں رکھیے جس میں میدانِ حشر میں عدالتِ الٰہی کا اختتامی منظر دکھایا گیا تھا: {وَ تَرَی الۡمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ ۚ } ’’اور تم دیکھو گے فرشتوں کو کہ وہ گھیرے ہوئے ہوں گے عرش کو اور اپنے ربّ کی تسبیح بیان کررہے ہوں گے حمد کے ساتھ‘‘۔ چنانچہ یہاں ان حاملین عرش اور ان کے ساتھی ملائکہ کا ذکر دوبارہ ہو رہا ہے کہ :
یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ
’’وہ سب تسبیح کر رہے ہوتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور اُس پر پورا یقین رکھتے ہیں‘‘
وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ
’’اور اہل ایمان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔‘‘
رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّ عِلۡمًا
’’اے ہمارے پروردگار! تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے‘‘
فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ
’’پس بخش دے تو اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی‘‘
اے پروردگار! ہم تجھ سے کیا عرض کریں؟ تجھے ہر شے کا علم ہے‘ تیری رحمت پہلے ہی ہر چیز کو اپنی گود میں لیے ہوئے ہے۔ پھر بھی ہم تجھ سے تیری رحمت کی درخواست کرتے ہیں اور اہل زمین میں سے جو مؤمنین اور نیک لوگ ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ اے پروردگار! تو ان کی خطائیں بخش دے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرما! اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن مؤمنین کے حق میں فرشتے بھی شفاعت کریں گے۔ یہ شفاعتِ حقہ ہے۔
وَ قِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ ﴿۷﴾
’’اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے۔‘‘