حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
’’ح‘ م۔‘‘
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۶
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سور ۃ المؤمن کا دوسرا نام ’’سورۂ غافر ‘‘بھی ہے۔ غافر (معاف کرنے والا) اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جو اس سورت کی تیسری آیت میں آیا ہے۔ اسی طرح اس سے اگلی سورت یعنی سورۂ حٰمٓ السّجدۃ کا دوسرا نام سورۂ فُصِّلَت ہے ۔ان دو سورتوں کے علاوہ کئی اور سورتیں بھی ایسی ہیں جن کے دو دو نام ہیں ۔ مثلاً سورۂ بنی اسرائیل کا دوسرا نام سورۃ الاسراء ہے ‘جو اس کی پہلی آیت سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ سے لیا گیا ہے۔ عرب ممالک میں چھپنے والے قرآن مجید کے نسخوں میں ان سورتوں کے نام الاسراء‘ غافر اور فُصِّلَتْ ہی لکھے جاتے ہیں۔
جیسا کہ قبل ازیں سورۃ الزمر کے تعارف میں بھی ذکر ہو چکا ہے ‘سورۃ الزمر اور سورۃ المؤمن کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ اس لحاظ سے ان میں ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ دونوں کے آغاز کی آیات (سورۃ الزمر کی پہلی اور سورۃ المؤمن کی دوسری آیت) ایک جیسی ہیں‘ ان میں صرف ’’الحکیم ‘‘ اور ’’العلیم ‘‘ کا فرق ہے --- سورۃ المؤمن ان سات سورتوں میں سے پہلی سورت ہے ‘جن کا آغاز حٰمٓ سے ہوتا ہے۔ اس نسبت سے ان سورتوں کو ’’حوامیم ‘‘کہا جاتا ہے۔ ان میں سے سورۃ الشوریٰ کو البتہ یہ تخصیص بھی حاصل ہے کہ اس کی دوسری آیت بھی حروفِ مقطعات (عٓسٓقٓ) پر مشتمل ہے اور یوں اس کے آغاز میں پانچ حروفِ مقطعات ہیں۔ سورۃ المؤمن کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں جو اسمائے حسنیٰ آئے ہیں ان میں سے اکثر مرکب اضافی کی صورت میں ہیں۔ مثلاً غَافِرِ الذَّنْبِ‘ قَابِلِ التَّـوْبِ اور شَدِیْدِ الْعِقَابِ ۔
سورۃ الزمر سے مکی سورتوں کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے ان کا مرکزی مضمون یا عمود توحید ہے۔ البتہ اس کے ساتھ ساتھ ان سب سورتوں میں مکی سورتوں کے عام مضامین مثلاًآخرت‘ رسالت‘ تذکیر بآلاء اللہ اور تذکیر بایام اللہ بھی تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔علاوہ ازیں اس گروپ کی پہلی چار سورتیں (سورۃ الزمر تا سورۃ الشوریٰ) ’’توحید عملی‘‘ کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔
’’توحید عملی ‘‘سے متعلق تفصیلی گفتگو اس سے پہلے سورۃ الزمر کے تمہیدی کلمات میں بھی کی جا چکی ہے۔ ہمارے ہاں خطبۂ جمعہ میں بالعموم یہ الفاظ پڑھے جاتے ہیں: یَا اَیُّـھَا النَّاسُ وَحِّدُوا اللّٰہ! یعنی اے لوگو!توحید کو اور کامل کرو‘ اور کامل کرو اور توحید اپنے عمل میں لاؤ! اس لیے کہ توحید صرف ایک عقیدہ ہی نہیں یا زبان سے چند الفاظ ادا کر دینے کا ہی نام نہیں بلکہ یہ بندۂ مؤمن کی عملی زندگی کا منشور ہے۔ چنانچہ ایک بندۂ مومن کو اس منشور کا ایک ایک نکتہ ہر وقت اپنے ذہن میں مستحضر رکھنے اورجہادِ زندگانی کے گھمسان میں اپنا ایک ایک قدم اس سے راہنمائی حاصل کر کے اٹھانے کی ضرورت ہے۔ لغوی اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو باب تَفْعِیْل میں لفظ’’توحید‘‘ بطور مصدر ’’تدریج‘‘ کے مفہوم کا حامل نظر آتا ہے۔ یعنی اس وزن پر دوسرے الفاظ مثلاً تعلیم‘ تبلیغ‘ ترویج وغیرہ کے اندر محنت اور مشقت سے کسی عمل کو مسلسل جاری رکھنے کا جو مفہوم پایا جاتا ہے لغوی طور پر وہی مفہوم لفظ توحید کے اندر بھی مضمر ہے۔چنانچہ یوں سمجھیں کہ ’’توحید‘‘ عمر بھر کا ریاض ہے اور اس پر کاربند رہنے کے لیے محنتِ شاقہ اور جہدِ مسلسل کی ضرورت ہے۔
زیر مطالعہ گروپ کی پہلی چار سورتیں (سورۃ الزمر‘ سورۃ المؤمن‘ سورۂ حٰمٓ السّجدۃ اور سورۃ الشوریٰ) توحید عملی کے مضمون کی وجہ سے آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ سورتوں کے اس نظم کے حوالے سے اس ’’بیان القرآن‘‘کے ابتدا میں تعارفِ قرآن کے تحت تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے۔ مختصراً اسے یوں سمجھ لیں کہ قرآن کی ہر آیت اپنی جگہ حکمت کا ایک موتی ہے۔ یہ موتی جب ایک لڑی (سورت) کی شکل میں پروئے جاتے ہیں تو ان کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ جس طرح آیات کے موتیوں کو پرونے سے سورتیں بنتی ہیں اسی طرح مضامین کی مشابہت اور مماثلت کی بنا پر سورتوں کے گروپس بنتے ہیں۔ سورۃ الزمر کی آیت ۲۳ میں قرآن کو اسی لیے کِتٰـبًا مُّتَشَابِہًا کہا گیا ہے کہ اس کے مضامین اور الفاظ کی آپس میں گہری مشابہت ہے۔البتہ جس طرح کسی خوبصورت ہار کو دیکھنے سے بظاہر اس کے موتی ہی نظر آتے ہیں اور ان موتیوں کو باہم مربوط کرنے والی ڈور نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے اسی طرح مختلف گروپس کی سورتوں کو باہم جوڑنے والے مضامین بھی عام طور پر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں اور انہیں تلاش کرنے کے لیے محنت اور تدبر درکارہے۔ بہر حال زیر مطالعہ گروپ کی پہلی چار سورتوں کے خوبصورت ہار کوجس ڈور نے باہم مربوط کر رکھا ہے وہ توحید عملی کا مضمون ہے۔
اب ان چار سورتوں کے مرکزی مضمون (توحید عملی) کے اندر موجود ایک خاص ترتیب اور تدریج کو بھی سمجھ لیجیے۔ ان سورتوں میں ’’توحید عملی‘‘ کے تقاضوں کو ایک فرد سے تدریجاً اجتماعیت کی طرف بڑھایا گیا ہے۔ سب سے پہلے سورۃ الزمر میں توحید عملی کے ظاہری پہلو (عبادت) پر زور دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی عبادت کرو‘ اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ پھر سورۃ المؤمن میں توحید عملی کے داخلی پہلو یعنی دعا کے بارے میں تاکید آئی ہے۔ اس اعتبار سے ان دونوں سورتوں کو آپس میں جوڑنے والی ڈور دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا وہ حکم ہے جو دونوں سورتوں میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ سورۃ الزمر میں {فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ﴿﴾} کے الفاظ کی تکرار ہے ‘جبکہ سورۃ المؤمن میں {فَادۡعُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ} کے الفاظ بار بار دہرائے گئے ہیں۔ اس طرح ان دونوں سورتوں میں توحید عملی کو عبادت اور دعا کی صورت میں معاشرے کے پہلے درجے یعنی انفرادی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے۔ پھر سورۂ حٰمٓ السّجدۃ میں دعوتِ توحید کی ترغیب دی گئی ہے تا کہ دعوت و تبلیغ کی بھر پور تحریک کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو توحید کا قائل کیا جائے اور ان کے دلوں میں توحید کا سبق جاگزیں کرایا جائے۔ اور جب لوگوں کی ایک معقول تعداد عملی طور پر توحید پر کاربند ہو جائے تو پھر ان لوگوں کو منظم کر کے نظام توحید کے قیام کی جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے ۔اس ترتیب کے حوالے سے ہم دیکھیں گے کہ سورۂ حٰمٓ السّجدۃ میں دعوتِ توحید کی بات ہو گی اور پھر سورۃ الشوریٰ میں معاشرے کے اندر اجتماعی طور پر نظامِ توحید کے قیام(اقامتِ دین) کا حوالہ آئے گا۔
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾ تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوۡبِ شَدِیۡدِ الۡعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوۡلِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾
حٰمٓ ۚ﴿۱﴾
’’ح‘ م۔‘‘
تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
’’نازل کیا جانا ہے اس کتاب کا اُس اللہ کی جانب سے جو زبردست ہے‘ صاحب علم ہے۔‘‘
غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوۡبِ شَدِیۡدِ الۡعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوۡلِ ؕ
’’(وہ اللہ کہ جو) بخشنے والا ہے گناہ کا‘ قبول کرنے والا ہے توبہ کا‘ سزا دینے میں بہت سخت ہے ‘ وہ بہت طاقت اور قدرت والا ہے۔‘‘
یہاں اللہ تعالیٰ کی چار شانوں کا ذکر مرکب اضافی کی صورت میں ہوا ہے۔ آگے چل کر بھی اس سورت میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے یہ انداز اور اسلوب نظر آئے گا۔
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾
’’اُس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ‘اور اُسی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔‘‘
یہاں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ اس سورت میں ’’توبہ‘‘ اور ’’استغفار‘‘ کا ذکر بار بار آئے گا‘ بلکہ اس حوالے سے فرشتوں کا ذکر بھی آئے گا کہ وہ بھی بندوں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔سورۃ المؤمن کا سورۃ الزمر کے ساتھ چونکہ جوڑے کا تعلق ہے اس لیے ان دونوں سورتوں کے بنیادی اور مرکزی مضمون میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس مماثلت کے حوالے سے قبل ازیں تمہیدی کلمات میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ سورۃ الزمر کا مرکزی مضمون ’’توحید فی العبادت ‘‘ہے اور سورۃ المؤمن کا مرکزی مضمون ’’توحید فی الدعاء ‘‘ ہے۔ ’’دعا‘‘کے بارے میں حضورﷺ کا فرمان ہے: حدیث((اَلدُّعَائُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ))۱ یعنی دعا عبادت کا جوہر ہے۔ ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں: حدیث((اَلدُّعُائُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ))۲ کہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔اس لحاظ سے توحید فی العبادت اور توحید فی الدعاء آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ چنانچہ جس طرح عبادت کے حوالے سے سورۃ الزمر میں بار بار ’’مُخْلِصًا لَّـہُ الدِّیْنَ‘‘ کی تکرار ہے‘ اسی طرح اس سورت میں {فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ} کی بار بار تاکید ہے۔یعنی دعا کرو اللہ سے اُس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایسا نہ ہو کہ دعا تو اللہ سے مانگو اور اطاعت کسی اور کی کرو۔اگر ایسا ہو گا تو یہ انتہائی بے تکی حرکت ہو گی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کو جزوی اطاعت قبول نہیں اسی طرح اسے اس شخص کی دعا سننا بھی منظور نہیں جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ کسی اور کی اطاعت کا طوق بھی اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہے۔ چنانچہ ایسے شخص کو چاہیے کہ جس ’’معبود‘‘ کی وہ اطاعت کرتا ہے ‘ دعا بھی اُسی سے کرے۔
آج ہم پاکستانیوں کو من حیث القوم اس تناظر میں اپنی حالت کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آج ہم ہر میدان میں ذلیل و رسوا کیوں ہو رہے ہیں اور روز بروز ہمارے قومی و ملکی حالات بد سے بد تر کیوں ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں نہ صرف ہمارا ملک دولخت ہو گیا بلکہ بد ترین شکست کا داغ بھی ہمارے ماتھے پر لگ گیا۔ آج ہماری حالت پہلے سے بھی بدتر ہے۔ اس وقت ہمارے باقی ماندہ ملک کی سلامتی بھی ڈانواں ڈول ہے۔ انتہائی خضوع و خشوع کے ساتھ مانگی گئی ہماری دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں اور رو رو کر کی گئی فریادیں بھی نہیں سنی جاتیں۔ یہ دراصل کوئی غیر متوقع اور غیر معمولی صورتِ حال نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی و قومی رویے کا منطقی نتیجہ ہے۔ اور یہ رویہ یا طرزِ عمل کیا ہے؟ آج ہم نے اپنی ترجیحات بدل لی ہیں ‘ ہماری اطاعت اللہ کے لیے خالص نہیں رہی‘ بلکہ ہم اللہ کی اطاعت کو چھوڑ کر بہت سی دوسری اطاعتوں کے غلام بن گئے ہیں۔ ہم نے اللہ کے نام پر یہ ملک اس وعدے کے ساتھ حاصل کیا تھا کہ اس ملک میں ہم اللہ کے دین کا بول بالا کریں گے۔ مگر آج ہم اللہ کے ساتھ کیے گئے اس وعدے سےِ پھر چکے ہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ ہماری دعائیں کیونکر سنے گا؟ کیوں وہ ہماری فریاد رسی کرے گا اور کیوں ہماری مدد کو پہنچے گا؟ چنانچہ آج اصولی طور پر ہمیں چاہیے کہ ہم دعائیں بھی اُسی ’’سپر پاور‘‘ سے کریں جس کی اطاعت کا طوق اپنی گردنوں میں ڈالے پھرتے ہیں۔
مَا یُجَادِلُ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَلَا یَغۡرُرۡکَ تَقَلُّبُہُمۡ فِی الۡبِلَادِ ﴿۴﴾ کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۪ وَ ہَمَّتۡ کُلُّ اُمَّۃٍۭ بِرَسُوۡلِہِمۡ لِیَاۡخُذُوۡہُ وَ جٰدَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۵﴾ وَ کَذٰلِکَ حَقَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۘ﴿ؔ۶﴾
مَا یُجَادِلُ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَلَا یَغۡرُرۡکَ تَقَلُّبُہُمۡ فِی الۡبِلَادِ ﴿۴﴾
’’نہیں جھگڑتے اللہ کی آیات میں مگر وہی لوگ جو کفر کرتے ہیں‘ تو (اے نبیﷺ!) زمین میں ان کی چلت پھرت آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔‘‘
یہاں حضورﷺ کو مخاطب کر کے سب مسلمانوں کو سمجھانا مقصود ہے کہ اے مسلمانو! ان غیر مسلموں کے مادی وسائل ‘اُن کی طاقت ‘ترقی اور ٹیکنالوجی تمہیں مرعوب نہ کرے۔ دیکھو! کسی دنیوی ’’سپر پاور‘‘کے دھوکے میں آ کر کہیں تم اللہ کی قدرت اور طاقت کو بھول نہ جانا!
کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۪
’’ان سے پہلے نوحؑ کی قوم نے جھٹلایا تھا اور ان کے بعد بہت سی دوسری قوموں نے بھی ۔‘‘
وَ ہَمَّتۡ کُلُّ اُمَّۃٍۭ بِرَسُوۡلِہِمۡ لِیَاۡخُذُوۡہُ
’’اور ہر قوم نے اپنے رسول کے متعلق ارادہ کیا کہ اُسے پکڑ لے (اور قتل کر دے)‘‘
وَ جٰدَلُوۡا بِالۡبَاطِلِ لِیُدۡحِضُوۡا بِہِ الۡحَقَّ فَاَخَذۡتُہُمۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ عِقَابِ ﴿۵﴾
’’اور وہ باطل (دلیلوں) کے ساتھ جھگڑتے رہے تا کہ اس کے ذریعے حق کو پسپا کر دیں‘ بالآخر میں نے انہیں پکڑ لیا‘ تو کیسی رہی میری سزا؟‘‘
وَ کَذٰلِکَ حَقَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۘ﴿ؔ۶﴾
’’اور اسی طرح ان کافروں پر بھی آپ کے رب کی بات پوری ہو چکی ہے کہ یہ سب کے سب جہنمی ہیں۔‘‘
اللہ کے جس قانون کی زد میں زمانہ ماضی کے کفار آئے تھے اب وہی قانون مشرکین عرب پر بھی لاگو ہو چکا ہے۔