تحریر

الزمر

آیات ۶۷ تا ۷۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

67-70

قیامت کے مناظر

ویڈیو

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾ وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿۶۸﴾ وَ اَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ وَ جِایۡٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۹﴾ وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾

آیت 67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ

’’اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا‘‘

یہ لوگ اللہ کی قدرت‘ اُس کی قوت اور اُس کی صفات کا اندازہ نہیں کر پائے۔ اس معاملے میں یہ بہت اہم نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اگرچہ ہم انسان اللہ تعالیٰ کے علم‘ اُس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات کو ناپ تول نہیں سکتے‘اگرہم اس کی کوشش بھی کریں گے تو یوں سمجھیں کہ اس کوشش کی مثال سنارکی ترازو میں ٹنوں کے وزن کو تولنے جیسی ہو گی‘ لیکن ہم یہ تو جان سکتے ہیں کہ و ہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی ہے۔ اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جن کے اَذہان اللہ کو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْـرٌ ماننے سے بھی عاجز ہیں۔ اب اللہ کی قدرت اور عظمت کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:

وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ

’’اور زمین پوری کی پوری اُس کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن اور آسمان اُس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘

کیا اس کیفیت کا اندازہ کرنا انسانی فکر اور سوچ کے بس کی بات ہے؟ آسمانوں کی پہنائیاں! کائنات میں موجود کہکشاؤں‘ ستاروں اور سیاروں کی تعداد! ایک ایک کہکشاں کی وسعت! ایک ایک ستارے کی جسامت! ان کہکشاؤں اور ستاروں کے باہمی فاصلے! ان فاصلوں اور وسعتوں کو ناپنے کے لیے انسان کے فرض کیے ہوئے نوری سالوں کے پیمانے! ایک نوری سال کے فاصلے کا تصور! اور پھر اربوں کھربوں نوری سالوں کی وسعتوں کا تخیل ! اور پھر یہ تصور کہ یہ سب کچھ لپٹا ہواہو گا اللہ کے داہنے ہاتھ میں !! بہر حال یہ ایسا موضوع ہے جس پر سوچتے ہوئے انسانی فکر اور اس کی قوتِ متخیلہ بھی تھک ہار کر رہ جاتی ہے۔ اور انسان کی عقل جو اللہ کی تخلیق کی ہوئی کائنات کے کسی ایک کونے کا احاطہ کرنے سے بھی عاجز ہے ‘وہ اللہ کی قدرت کا کیا اندازہ کرے گی!

سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾

’’وہ پاک ہے اور بہت بلند و بالا اُس تمام شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ

’’اور صور میں پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جو کوئی بھی ہیں آسمانوں میں اور زمین میں ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے گا۔‘‘

یہ منظر بہت دہشت ناک ہو گا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ فرشتوں کے علاوہ باقی تمام فرشتے بھی صور کی اس آواز سے بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے ۔دراصل یہ تین نفخے ہوں گے۔ پہلا نفخہ وہ ہو گا جسے قرآن میں ’’السَّاعۃ ‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں شدید زلزلے ‘ ہلچل اور طوفان کی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ سورج اور چاند آپس میں ٹکرا جائیں گے۔ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے۔ پھر دوسرا نفخہ ہو گا جس کے نتیجے میں تمام جانداروں پر موت طاری ہو جائے گی۔ اس آیت میں اسی دوسرے نفخہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد نفخہ ثالثہ کی کیفیت یوں ہو گی:

ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿۶۸﴾

’’پھر اس (صور ) میں دوبارہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ سب کے سب کھڑے ہو جائیں گے دیکھتے ہوئے۔‘‘

اس تیسرے نفخے کے نتیجے میں تمام انسان دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ یہ گویا بعث بعد الموت کا نفخہ ہو گا اور اسی کا نام قیامت (کھڑے ہونا) ہے۔

آیت 69

وَ اَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا

’’اور زمین جگمگا اُٹھے گی اپنے رب کے نور سے‘‘

اس وقت کی کیفیت کو سورۃ الفرقان میں یوں بیان فرمایا گیا ہے: {وَ یَوۡمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالۡغَمَامِ وَ نُزِّلَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ تَنۡزِیۡلًا ﴿۲۵﴾} ’’اور جس دن آسمان پھٹ جائے گا بادلوں کی مانند اور فرشتے نازل کیے جائیں گے لگاتار‘‘۔ پھر اللہ تعالیٰ زمین پر نزول فرمائیں گے اور فرشتے صفیں باندھے نیچے اتریں گے: {وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾ } ( الفجر)۔

وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ

’’اور اَعمال نامہ لا کر رکھ دیا جائے گا‘‘

لوگوں کے اعمال نامے کا سر محشر لا کر رکھے جانے کی صورتِ حال کا نقشہ سورۃ الکہف کی آیت ۴۹ میں یوں کھینچا گیا ہے: {وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ فَتَرَی الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُشۡفِقِیۡنَ مِمَّا فِیۡہِ وَ یَقُوۡلُوۡنَ یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الۡکِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحۡصٰہَا ۚ } ’’ اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ‘چنانچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ وہ لرزاں و ترساں ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہو گااور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ کیسا اعمال نامہ ہے کہ اس نے نہ توکسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو‘ مگر اس کو محفوظ کر کے رکھا ہے ‘‘۔اس کے بعد کی کیفیت کا نقشہ آگے دکھایا جا رہا ہے:

وَ جِایۡٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّہَدَآءِ

’’اور لائے جائیں گے انبیاء اور شہید‘‘

یہاں ’’شہید‘‘ سے مراد اوّلاً تو رسول ہیں کہ وہ اپنی اپنی اُمتوں پر سب سے پہلے گواہی دیں گے۔ سورۃ الحج کی آخری آیت میں حضورﷺ کی اپنی امت پر گواہی کے بارے میں فرمایا گیا: {لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۚۖ } ’’تا کہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو‘‘۔ لیکن یہاں انبیاء کے ذکر کے بعد شہید کا لفظ خصوصی طور پر اس لیے لایا گیا ہے کہ وہاں ان لوگوں کو بھی گواہ کے طور پر بلایا جائے گا جو انبیاء و رسل علیہم السلام کی طرف سے تبلیغ کر تے رہے ہوں گے۔ جیسے عشرہ مبشرہ میں سے چھ چوٹی کے صحابہ وہ ہیں جو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی تبلیغ کے نتیجے میں ایمان لائے۔ اسی طرح حضورﷺ نے بہت سے علاقوں اور قبیلوں کی خواہش پر اپنے بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن اور دین کی تعلیم کے لیے بھیجا۔ایسے مبلغ اور معلم صحابہؓ زیادہ تر اصحابِ صفہّj میں سے تھے۔ ان صحابہؓ نے حضورﷺ کی طرف سے جن لوگوں کو دعوت دی تھی ‘قیامت کے دن ان پر وہ گواہی دیں گے کہ اے اللہ !تیرے نبیﷺ نے تیرے دین کا جو پیغام ہم تک پہنچایا تھا ہم نے وہ ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔

پھر حضورﷺ کے بعد دین کی دعوت و تبلیغ کی یہ ذمہ داری آپؐ کی امت کی طرف منتقل ہو گئی اور اس لحاظ سے آج ہم سب اس ذمہ داری کے مکلف ہیں۔ چنانچہ ہمیں وہاں بطور گواہ بلایا جائے گا کہ محمد (ﷺ) کی طرف سے اللہ کا جو دین تم تک وراثتاً پہنچا تھا کیا تم لوگوں نے اسے آگے نوعِ انسانی تک پہنچا دیا تھا؟ اگر خدانخواستہ ہم یہ گواہی دینے میں ناکام رہے تو ان تمام لوگوں کی گمراہی اور ضلالت کا وبال بھی ہماری گردن پر آئے گا جو ہمارے حلقہ اثر اور دائرۂ اختیار میں تھے اور ہم انہیں دعوت نہیں دے سکے تھے۔ لیکن اگر ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق یہ حق ادا کر دیا ہو گا تو ہم اس گواہی سے سرخرو ہوں گے اور وہ لوگ اپنے اعمال کے لیے اللہ کے ہاں خود جوابدہ ہوں گے۔ بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کا منظر دکھایا گیا ہے جو سر محشر سجائی جائے گی۔ تمام بنی نوع انسان کا اعمال نامہ بھی لا کر اس عدالت کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پھر انبیاء و رُسل علیہم السلام اور دوسرے گواہوں کو بھی لا یا جائے گا۔

وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۹﴾

’’اور ان کے مابین فیصلہ کر دیا جائے گا حق کے ساتھ اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘

آیت 70

وَ وُفِّیَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾

’’اور پورا پورا دے دیا جائے گا ہر جان کو جو کچھ کہ اس نے عمل کیا ہو گا‘ اور اللہ خوب جانتا ہے جو عمل یہ لوگ کر رہے ہیں۔‘‘

اس موضوع سے متعلق قرآن کے مختلف مقامات پر جو اشارے ملتے ہیں ان سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میدانِ حشر اسی زمین پر ہو گا۔ اس کے لیے زمین کو کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا ‘جیسا کہ سورۃ الانشقاق کی اس آیت میں فرمایا گیا ہے: {وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ ۙ﴿۳﴾} ۔ پھر اسے بالکل ہموار اور چٹیل میدان کی شکل دے دی جائے گی ‘ اس طرح کہ : {لَّا تَرٰی فِیۡہَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمۡتًا ﴿ؕ۱۰۷﴾} (طٰہٰ) ’’تم نہیں دیکھو گے اس میں کوئی ٹیڑھ اور نہ کوئی ٹیلا‘‘۔ پھریہیں پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہو گا اور یہیں پر فرشتے اتریں گے: {وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾} (الفجر) اور یہیں پر حساب کتاب ہوگا۔ گویا قصۂ زمین برسرزمین چکایا جائے گا۔

فیصلوں کے بعد اہل جنت کو جنت کی طرف لے جایا جائے گا اور اہلِ جہنم کو جہنم کی طرف۔ یہ میدانِ حشر کا آخری منظر ہو گا جس کا نقشہ اگلے رکوع میں بڑے پر جلال انداز میں کھینچا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ قرآن کا خاص مقام ہے۔

71-72

کافروں کی جہنم کی طرف روانگی

ویڈیو

وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ رَبِّکُمۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ لٰکِنۡ حَقَّتۡ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۱﴾ قِیۡلَ ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۲﴾

آیت 71

وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی جَہَنَّمَ زُمَرًا ؕ

’’اور ہانک کر لے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘

اس طرح کہ ایک اُمت کے بعد دوسری اُمت اور پھر تیسری اُمت۔ غرض تمام اُمتوں کے مجرم لوگ اپنے اپنے لیڈروں کی قیادت میں جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔ سورۂ ہود میں فرعون اور اس کی قوم کے حوالے سے ایک نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے: {یَقۡدُمُ قَوۡمَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فَاَوۡرَدَہُمُ النَّارَ ؕ وَ بِئۡسَ الۡوِرۡدُ الۡمَوۡرُوۡدُ ﴿۹۸﴾} ’’قیامت کے دن وہ آئے گا آگے چلتا ہوا اپنی قوم کے‘پھر وہ آگ کے گھاٹ پر انہیں اتار دے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتارے جائیں گے‘‘۔تو یوں اہل جہنم کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا۔

حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا

’’یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں گے جہنم پر تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے‘‘

جیسے جیل کے دروازے صرف نئے قیدیوں کے داخلے کے لیے ہی کھولے جاتے ہیں‘ اسی طرح جہنم کے بند دروازے بھی مجرموں کی آمد پر ہی کھولے جائیں گے۔

وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَاۤ

’’اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے‘‘

ان مجرمین کی آمد پر جہنم پر مامور فرشتے ان سے پوچھیں گے:

اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ رَبِّکُمۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ؕ

’’کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسولؑ نہیں آئے تھے جو تمہیں سناتے تھے تمہارے رب کی آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہاری آج کے دن کی اس ملاقات سے!‘‘

قَالُوۡا بَلٰی وَ لٰکِنۡ حَقَّتۡ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ عَلَی الۡکٰ فِرِیۡنَ ﴿۷۱﴾

’’وہ کہیں گے کیوں نہیں! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہو کررہا۔‘‘

یعنی پیغمبروں نے تودعوت و تبلیغ کا حق ادا کر دیا‘ لیکن یہ لوگ انکار اور کفر پر اڑے رہے اور یوں انہوں نے خود کو عذاب کا مستحق ثابت کر دکھایا۔

آیت 72

قِیۡلَ ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۲﴾

’’کہہ دیا جائے گا ان سے کہ داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں ‘اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے ۔ تو بہت برا ہے یہ ٹھکانہ متکبرین کا۔‘‘

پیغمبروں کی دعوت کے جواب میں جو اکڑفوں تم لوگ دکھاتے رہے تھے اس کی وجہ سے آج تم اس انجام سے دو چار ہوئے ہو۔

73-74

متقیوں کی جنت کی طرف آمد

ویڈیو

وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾ وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا وَعۡدَہٗ وَ اَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡجَنَّۃِ حَیۡثُ نَشَآءُ ۚ فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿۷۴﴾

آیت 73

وَ سِیۡقَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ اِلَی الۡجَنَّۃِ زُمَرًا ؕ

’’اور لے جایا جائے گا ان لوگوں کو جنت کی طرف جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کیے رہے تھے گروہ در گروہ۔‘‘

حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡہَا وَ فُتِحَتۡ اَبۡوَابُہَا

’’یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے (پہلے ہی) کھولے جا چکے ہوں گے‘‘

یہاں پر ’’و‘‘ بہت معنی خیز ہے۔ اس ’’و‘‘ کی وجہ سے فقرے میں یہ مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ یعنی اہل جنت کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ ہو رہا ہو گا۔ اس حوالے سے سورۂ ص کی آیت ۵۰ میں {مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الۡاَبۡوَابُ ﴿ۚ۵۰﴾} کے الفاظ بھی اسی مفہوم کو واضح کرتے ہیں۔

وَ قَالَ لَہُمۡ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ طِبۡتُمۡ

’’اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے :آپ پر سلام ہو‘ آپ لوگ کتنے پاکباز ہیں!‘‘

فَادۡخُلُوۡہَا خٰلِدِیۡنَ ﴿۷۳﴾

’’اب داخل ہو جائیے اس میں ہمیشہ ہمیش رہنے کے لیے۔‘‘

آیت 74

وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا وَعۡدَہٗ

’’اور وہ کہیں گے کہ کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کر دیا‘‘

وَ اَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡجَنَّۃِ حَیۡثُ نَشَآءُ ۚ

’’اور ہمیں اس زمین کا وارث بنا دیا کہ اب ہم گھر بنا لیں جنت میں جہاں چاہیں۔‘‘

فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿۷۴﴾

’’تو بہت ہی اچھا ہو گا اجر عمل کرنے والوں کا!‘‘

گواہوں نے گواہیاں دے دیں‘ آخری فیصلے صادر کر دیے گئے‘ سزا پانے والوں کو جہنم کی طرف بھیج دیا گیا‘ کامیاب ہونے والوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔

اب آخری آیت میں گویا عدالتِ محشر کا اختتامی منظر (ڈراپ سین) دکھایا جا رہا ہے:

75

فرشتوں کے درمیان اختلافات کا فیصلہ

ویڈیو

وَ تَرَی الۡمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ ۚ وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ قِیۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۷۵﴾

آیت 75

وَ تَرَی الۡمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ ۚ

’’اور تم دیکھو گے‘فرشتوں کو کہ وہ عرشِ الٰہی کو گھیرے ہوئے ہوں گے ‘اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اُس کی حمدکے ساتھ۔‘‘

وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ

’’اور ان کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا‘‘

یہاں پر بَیْنَہُمْ سے کچھ مفسرین نے تو انسان ہی مرادلیے ہیں اور ان کی رائے یہ ہے کہ یہاں گویا وہی بات دہرائی گئی ہے جو قبل ازیں چھٹے رکوع میں بایں الفاظ بیان ہوچکی ہے:ـ {وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۹﴾} ۔ لیکن ایک دوسری رائے کے مطابق یہاں پر وَقُضِیَ بَیْنَہُمْ کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے فیصلوں کے بعد فرشتوں کے درمیان بھی فیصلہ کر دیا جائے گا۔

قبل ازیں سورۂ صٓ کی آیت ۶۹ کے ضمن میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ فرشتے عاقل ہستیاں ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی اپنی سوچ اور اپنی رائے رکھتا ہے۔ اس بنا پرا ن میں اختلافات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کے بارے میں بحث کرتے ہوئے ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی رائے دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فلاں فیصلے میں یہ حکمت ہے ‘وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ اس جملے کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخر میں فرشتوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا بھی حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا۔

وَ قِیۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۷۵﴾

’’اور پکارا جائے گا کہ کل کی کل حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے!‘‘

یعنی آخر میں وہی اللہ تعالیٰ کی جے بلند کی جائے گی کہ کل شکر اور کل تعریف اللہ کے لیے ہے‘ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے!

یوٹیوب پر دیکھیے