تحریر

الزمر

آیات ۶۴ تا ۶۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

64-66

باطل کے ساتھ سمجھوتے کی زوردار نفی

ویڈیو

قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾ وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾ بَلِ اللّٰہَ فَاعۡبُدۡ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾

آیت 64

قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجئے کہ اے جاہلو! کیا تم مجھے بھی یہ مشورہ دے رہے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کروں؟‘‘

یہ انداز اس آیت کے علاوہ پورے قرآن میں اور کہیں نہیں پایا جاتا اور یہ خاص اسلوب دراصل مشرکینِ مکہ کے اس دباؤ کا جواب ہے جو انہوں نے حضورﷺ پر ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی پالیسی اختیار کرنے کے لیے ڈال رکھا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ آپ اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کریں اور ہمارے معبودوں میں سے کچھ کو تسلیم کر لیں تو اس کے جواب میں ہم بھی آپ کی کچھ باتیں مان لیں گے‘ بلکہ آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیں گے۔ اس طرح ایک درمیانی راہ نکل آئے گی اور جھگڑا ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ان کے اس مطالبے کا جواب بہت سخت انداز میں دیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ عربی میں ’جاہل‘ اس کو کہتے ہیں جو علم اور عقل کے بجائے جذبات اور خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔

آیت 65

وَ لَقَدۡ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ

’’اور (اے نبیﷺ!)آپ کی طرف تو وحی کی جا چکی ہے اور جو (رسول) آپ سے پہلے تھے ان کی طرف بھی (وحی کر دی گئی تھی)‘‘

آگے ا س وحی کا لب لباب بیان کیا جا رہاہے۔ ملاحظہ کیجیے:

لَئِنۡ اَشۡرَکۡتَ لَیَحۡبَطَنَّ عَمَلُکَ وَ لَتَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۶۵﴾

’’اگر آپ بھی (بالفرض) شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال بھی ضائع ہو جائیں گے اور آپ بھی نہایت خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘

یہ سخت اسلوب دراصل حضورﷺ کے لیے نہیں بلکہ مشرکین کے لیے ہے ۔ آپؐ کو مخاطب کر کے دراصل انہیں سنانا مقصود ہے کہ قانونِ خداوندی اس سلسلے میں بہت واضح اوراٹل ہے۔ شرک جو کوئی بھی کرے گا اسے اس کی سزا ضرور ملے گی‘ کسے باشد! اللہ کا قانون کسی کے لیے تبدیل نہیں کیا جاتا : {وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبۡدِیۡلًا ﴿۶۲﴾} ( الاحزاب) ’’اور تم ہر گز نہیں پائو گے اللہ کے طریقے میں کوئی تبدیلی!‘‘

آیت 66

بَلِ اللّٰہَ فَاعۡبُدۡ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾

’’بلکہ آپؐ صرف اللہ ہی کی بندگی کیجیے اور بن جائیے شکر گزار بندوں میں سے!‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے