تحریر

الزمر

آیات ۵۳ تا ۶۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

53

قرآنِ حکیم کی سب سے زیادہ امید افزا آیت

ویڈیو

قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾

آیت 53

قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ

’’(اے نبیﷺ!)آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے!‘‘

قُلْ یٰعِبَادِیْ کا اندازِ تخاطب اس سورت میں یہاں دوسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت ۱۰ میں ارشاد ہوا : {قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ } ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو‘‘۔ اب یہاں گویا پھر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اب تک کی زندگی اگر تم لوگوں نے غفلت میں گزار دی ہے تو اب بھی وقت ہے ‘اب بھی ہوش میں آ جاؤ! اور اگر تم نے اب تک اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو:

لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ

’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا‘ یقینا اللہ سارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘٭

لیکن اس معافی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ اُس کے حضور خلوصِ دل سے توبہ کرو‘ حرام خوری چھوڑ دو‘ معصیت کی روش ترک کر دو اور آئندہ کے لیے اپنے اعمال کو درست کر لو۔ ایسی توبہ کا انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملے گا کہ تمہارے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ سورۃ الفرقان میں اس بارے میں بہت واضح حکم موجود ہے: {اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۷۰﴾وَ مَنۡ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوۡبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا ﴿۷۱﴾} ’’سوائے اُس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اوراس نے نیک عمل کیے‘ تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دیتا ہے‘ اور اللہ غفور ہے‘ رحیم ہے۔اور جس نے توبہ کی اور نیک اعمال کیے تو یہی شخص توبہ کرتا ہے اللہ کی جناب میں جیسا کہ توبہ کرنے کا حق ہے‘‘۔چنانچہ سابقہ گناہوں کی معافی توبہ سے ممکن ہے ‘لیکن توبہ وہی قبول ہو گی جس کے بعد انسان کے اعمال درست ہو جائیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو رسمی اور زبانی توبہ بے معنی ہے۔

اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾

’’یقینا وہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

٭ توبہ کے موضوع پر یہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے --- توبہ کے حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمد کی کتاب ’’توبہ کی عظمت اور تاثیر‘‘ کا مطالعہ ان شاء اللہ بہت مفید رہے گا۔ (مرتب)

54-55

عذاب آنے سے پہلے سچی توبہ کرلو

ویڈیو

وَ اَنِیۡبُوۡۤا اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ اَسۡلِمُوۡا لَہٗ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۵۴﴾ وَ اتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَۃً وَّ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾

آیت 54

وَ اَنِیۡبُوۡۤا اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ اَسۡلِمُوۡا لَہٗ

’’اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو‘ اور اُس کے فرمانبردار بن جاؤ‘‘

مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۵۴﴾

’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب مسلط ہوجائے ‘پھر تمہاری کہیں سے مدد نہیں کی جائے گی۔‘‘

آیت 55

وَ اتَّبِعُوۡۤا اَحۡسَنَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ

’’اور پیروی کرو اس کے بہترین پہلو کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے‘‘

یہ مضمون اس سے پہلے آیت ۱۸ میں بھی آ چکا ہے‘ وہاں پر {فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ} کے الفاظ آئے ہیں۔ گویاقرآن جو راستہ تم لوگوں کو دکھا رہا ہے اس میں بھی مختلف درجات ہیں۔ ان درجات کا ذکر سورۃ التوبہ کی اس آیت میں بھی ہوا ہے: {وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ} (آیت۱۰۰) ’’اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ‘‘۔ سورۃ النساء کی آیت ۶۹ میں بھی چار مدارج کا ذکر ہے۔ ان میں پہلا درجہ انبیا ء کرام علیہم السلام کا ہے‘ دوسرے درجے پر صدیقین ہیں‘ تیسرے درجے پر شہداء اور چوتھے پر صالحین۔ سورۃ الحدید میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے اتباع میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کو پانے کی ترغیب دی گئی ہے۔

مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ الۡعَذَابُ بَغۡتَۃً وَّ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾

’’اس سے پہلے کہ تم پر عذاب اچانک آ دھمکے اور تمہیں اس کا گمان تک نہ ہو۔‘‘

56-59

توبہ نہ کرنے والوں کی حسرت

ویڈیو

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۶﴾ اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰىنِیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾ اَوۡ تَقُوۡلَ حِیۡنَ تَرَی الۡعَذَابَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ کَرَّۃً فَاَکُوۡنَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾ بَلٰی قَدۡ جَآءَتۡکَ اٰیٰتِیۡ فَکَذَّبۡتَ بِہَا وَ اسۡتَکۡبَرۡتَ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۵۹﴾

آیت 56

اَنۡ تَقُوۡلَ نَفۡسٌ یّٰحَسۡرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطۡتُّ فِیۡ جَنۡۢبِ اللّٰہِ

’’مبادا کہ اُس وقت کوئی جان یہ کہے کہ ہائے افسوس اس کوتاہی پر جومجھ سے اللہ کی جناب میں ہوئی‘‘

ہائے میری بدقسمتی کہ میں زندگی بھر اپنے دھندوں میں اس طرح مگن رہا کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو پہچان ہی نہ سکا۔ میرے سامنے اللہ کا دین مغلوب تھا مگر میں اس کی سربلندی کے لیے جدو جہد کرنے کے بجائے اپنی عیش و عشرت کے مواقع ڈھونڈنے اور اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے میں لگا رہا۔ میں نے دنیا کے مال و متاع کو ہی اپنا معبود سمجھ لیا اور عمر بھر اسی کے لیے اپنا تن من دھن کھپاتا رہا۔

وَ اِنۡ کُنۡتُ لَمِنَ السّٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۶﴾

’’اور میں تو مذاق اڑانے والوں ہی میں شامل رہا۔‘‘

میں نے اللہ تعالیٰ‘ اس کے دین اور آخرت کی باتو ں کو نہ کبھی دھیان سے سنا اور نہ ہی کبھی سنجیدگی سے ان پر غورکیا‘بلکہ میں تو ہمیشہ ان باتوں کا مذاق ہی اڑاتا رہا۔

آیت 57

اَوۡ تَقُوۡلَ لَوۡ اَنَّ اللّٰہَ ہَدٰىنِیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ۙ۵۷﴾

’’یا وہ یہ کہے کہ اگر اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی تو میں بھی متقین میں سے ہو جاتا!‘‘

اگر کوئی شخص ایسے کہے گا تو گویا وہ اپنے اس اختیار کی نفی کرے گا جو اسے انسان کی حیثیت سے دنیا میں عطا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے تو اسے اشرف المخلوقات بنایا تھا اور اختیار دیا تھا: {اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾} (الدھر) کہ چاہو تو میرے شکر گزار بندے بن کر رہو اور چاہو تو نافرمان اور ناشکرے بن جاؤ۔

آیت 58

اَوۡ تَقُوۡلَ حِیۡنَ تَرَی الۡعَذَابَ لَوۡ اَنَّ لِیۡ کَرَّۃً فَاَکُوۡنَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۸﴾

’’یا جب وہ عذاب کو دیکھے تو یوں کہے کہ اگر مجھے ایک بار لوٹنا نصیب ہو جائے تو میں محسنین میں سے ہو جاؤں!‘‘

یعنی اگر مجھے ایک دفعہ دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع مل جائے تو میں صرف مسلم‘ صرف مؤمن یا صرف متقی ہی نہیں بنوں گا بلکہ محسنین کی صف میں جگہ بنا لوں گا۔

آیت 59

بَلٰی قَدۡ جَآءَتۡکَ اٰیٰتِیۡ فَکَذَّبۡتَ بِہَا وَ اسۡتَکۡبَرۡتَ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۵۹﴾

’’کیوں نہیں! تیرے پاس میری آیات آئی تھیں تو تو نے ان کو جھٹلا دیا تھا اور تکبر کیا تھا اور تو کافروں میں سے تھا۔‘‘

60-61

روز ِقیامت اچھا اور برا انجام

ویڈیو

وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلَی اللّٰہِ وُجُوۡہُہُمۡ مُّسۡوَدَّۃٌ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۶۰﴾ وَ یُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِہِمۡ ۫ لَا یَمَسُّہُمُ السُّوۡٓءُ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۱﴾

آیت 60

وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلَی اللّٰہِ وُجُوۡہُہُمۡ مُّسۡوَدَّۃٌ ؕ

’’اور قیامت کے دن تم دیکھو گے اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔‘‘

اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۶۰﴾

’’تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے متکبرین کا؟‘‘

آیت 61

وَ یُنَجِّی اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا بِمَفَازَتِہِمۡ ۫

’’اور اللہ نجات دے گا ان لوگوں کو جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی (اور انہیں پہنچا دے گا) ان کی کامیابی کی جگہوں پر۔‘‘

جنت میں ان کے درجات اور مراتب کے مطابق اللہ تعالیٰ انہیں ان کے مقامات تک پہنچا دے گا۔ انبیاء کرام علیہم السلام اپنے مراتب پر پہنچیں گے اور اسی طرح صدیقین‘ شہداء اور صالحین اپنے اپنے مقامات کو پالیں گے۔

لَا یَمَسُّہُمُ السُّوۡٓءُ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۶۱﴾

’’نہ ان کو کوئی تکلیف چھو سکے گی اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

62-63

اللہ پر بھروسہ ہر مشکل سے نکال دیتا ہے

ویڈیو

اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۫ وَّ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۶۲﴾ لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿٪۶۳﴾

آیت 62

اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۫ وَّ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۶۲﴾

’’اللہ ہی ہر شے کا خالق ہے‘ اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔‘‘

آیت 63

لَہٗ مَقَالِیۡدُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’ اُسی کے لیے ہیں تمام کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿٪۶۳﴾

’’اور جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہی ہیں گھاٹے میں رہنے والے۔‘‘

اب اس سورت کے آخری دو رکوع ہمارے زیر مطالعہ ہوں گے۔ یہ دونوں رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں توحید فی العبادت کا مضمون بہت پر جلال انداز میں بیان ہوا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے