تحریر

الزمر

آیات ۳۸ تا ۵۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

38-40

خود ساختہ معبود بے اختیار اور لاچار ہیں

ویڈیو

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلۡ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖۤ اَوۡ اَرَادَنِیۡ بِرَحۡمَۃٍ ہَلۡ ہُنَّ مُمۡسِکٰتُ رَحۡمَتِہٖ ؕ قُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ؕ عَلَیۡہِ یَتَوَکَّلُ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۳۸﴾ قُلۡ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ اِنِّیۡ عَامِلٌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ یَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۴۰﴾

آیت 38

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ اللہ نے!‘‘

قُلۡ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلۡ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖۤ

’’تو ان سے کہیے کہ ذرا غور کرو! جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا‘ اگر اللہ نے میرے لیے کسی تکلیف کا فیصلہ کر لیا ہے تو کیا وہ (تمہارے معبود) اُس تکلیف کو دور کر سکیں گے؟‘‘

دراصل مشرکینِ مکہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑے معبود کے طور پر تو مانتے تھے لیکن ساتھ ہی انہوں نے بہت سے چھوٹے معبود بھی بنا رکھے تھے۔ چنانچہ اس آیت میں ان کے اسی عقیدے کے مطابق ایک منطقی سوال کیا گیاہے کہ اگر تمہارا بڑا معبود اللہ کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کرلے تو اس کے بعد کیا اس بڑے کا حکم چلتا ہے یا اس کے مقابلے میں تمہارے یہ چھوٹے معبود بھی اپنی من مرضی کرتے ہیں؟ اور اگر بالفرض اللہ نے میرے لیے کسی ضرر کا فیصلہ کر لیا ہے تو کیا تمہارے یہ معبود اس کے اس فیصلے کے آڑے آ سکتے ہیں؟

اَوۡ اَرَادَنِیۡ بِرَحۡمَۃٍ ہَلۡ ہُنَّ مُمۡسِکٰتُ رَحۡمَتِہٖ ؕ

’’یا اگر اُس نے میرے لیے رحمت کا کوئی فیصلہ کر لیا ہے تو کیا وہ اُس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟‘‘

قُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ؕ عَلَیۡہِ یَتَوَکَّلُ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۳۸﴾

’’آپ کہہ دیجیے کہ میرے لیے تو اللہ ہی کافی ہے! اور اُسی پر توکل کرتے ہیں توکل کرنے والے۔‘‘

آیت 39

قُلۡ یٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ

’’ آپ کہیے کہ اے میری قوم کے لوگو! تم اپنی جگہ پر جو کر سکتے ہو کر لو‘‘

تم لوگ اپنی پوری قوت مجتمع کر لو اور پھر میرے خلاف جو تدبیریں بروئے کار لا سکتے ہو‘ جو سازشیں کر سکتے ہو اور جو اقدام کر سکتے ہو کر گزرو!

اِنِّیۡ عَامِلٌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾

’’میں بھی اپنی سی محنت کر رہا ہوں‘ پس عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔‘‘

آیت 40

مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ یَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۴۰﴾

’’کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اُسے رسوا کر دے اور اُس پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو ہمیشہ رہنے والا ہو!‘‘

41

داعی کی ذمہ داری حق پہنچانا ہے منوانانہیں

ویڈیو

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالۡحَقِّ ۚ فَمَنِ اہۡتَدٰی فَلِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿٪۴۱﴾

آیت 41

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالۡحَقِّ ۚ

’’(اے نبیﷺ!) ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کر دی ہے لوگوں کے لیے حق کے ساتھ۔‘‘

فَمَنِ اہۡتَدٰی فَلِنَفۡسِہٖ ۚ

’’تو جو کوئی ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔‘‘

وَ مَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیۡہَا ۚ

’’اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔‘‘

وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِوَکِیۡلٍ ﴿٪۴۱﴾

’’اور آپ ان کے ذمہ دارنہیں ہیں۔‘‘

آپﷺان لوگوں کے انجام کے بارے میں جوابدہ نہیں ہیں۔ آپؐ کی ذمہ داری ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی حد تک ہے اور قیامت کے دن اسی کے بارے میں آپؐ سے پوچھا جائے گا۔

42

زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے

ویڈیو

اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا ۚ فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ وَ یُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۲﴾

آیت 42

اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا

’’اللہ قبض کر لیتا ہے جانوں کو ان کی موت کے وقت‘‘

وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا ۚ

’’اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں۔‘‘

یَتَوَفَّی (فعل مضارع) وفی مادہ سے باب تفعّل ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو پورا پورا قبضے میں لے لینا۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۵۵ میں یہ لفظ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے آیا ہے اور وہاں لغوی اعتبار سے اس کی تشریح کی جا چکی ہے۔ اس کے بعد قرآن حکیم کے اس مطالعہ کے دوران جہاں بھی اس مادہ سے کوئی لفظ آیا میں نے خصوصی طور پر اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ اس لفظ کی بنیاد پر قادیانیوں نے لوگوں کے ذہنوں میں جو اشکالات پیدا کر رکھے ہیں ان کا منطقی جواب مل سکے۔ چنانچہ اس کا مفہوم یوں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی موت کے وقت ان کی جانوں اور ان کے شعور کو قبض کر لیتا ہے۔

نیند کی کیفیت میں انسان کا فہم و شعوراور اختیار وارادہ سلب کر لیا جاتا ہے مگر روح موجود رہتی ہے۔ جبکہ موت کی حالت میں روح اور شعور دونوں چلے جاتے ہیں ‘صرف جسم پیچھے رہ جاتا ہے۔ چونکہ اس مادے میں کسی چیز کو مکمل اور پورے کا پورا لینے کا مفہوم پایا جاتا ہے اس لیے لفظ تَوفِیّ کا بتمام و کمال اطلاق تو حضرت مسیح علیہ السلام کے (روح‘ شعور اور جسم سمیت) رفع آسمانی کے حوالے سے ہوتا ہے۔ جبکہ نیند کے حوالے سے یہ لفظ استعارۃً بولا جاتا ہے۔

فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ وَ یُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ

’’تو جس کی موت کا وہ فیصلہ کر چکا ہو اس کو اپنے پاس روکے رکھتا ہے اور دوسروں کو واپس بھیج دیتا ہے ایک وقتِ معین تک کے لیے۔‘‘

یعنی سونے والا جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اس کا فہم وشعور اور اختیار و ارادہ واپس آ جاتا ہے اور ایک وقت معین یعنی اس کی موت تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ انسان کو ہر روز موت اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا مشاہدہ کراتا رہتا ہے۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔‘‘

43-44

شفاعت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

ویڈیو

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلۡ اَوَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَمۡلِکُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾ قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا ؕ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۴﴾

آیت 43

اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُفَعَآءَ ؕ

’’کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی سفارشی بنا رکھے ہیں؟‘‘

قُلۡ اَوَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَمۡلِکُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ ان سے کہیے اگرچہ انہیں سرے سے کوئی اختیار ہی نہ ہو اور نہ ہی انہیں کچھ سمجھ ہو (پھر بھی وہ تمہاری شفاعت کریں گے)؟‘‘

آیت 44

قُلۡ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا ؕ

’’آپؐ کہیے کہ شفاعت کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘

قیامت کے دن جو کوئی بھی کسی کی شفاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اجازت سے ہی کرے گا‘اور پھر کسی شفاعت کا قبول کرنا یا نہ کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی بات اللہ سے منوا لے۔

لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ثُمَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اُسی کے لیے ہے۔پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘

45-46

اعمال کی جوابدہی سے بچنے کے لیے شرک کا سہارا

ویڈیو

وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۴۵﴾ قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ عٰلِمَ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ اَنۡتَ تَحۡکُمُ بَیۡنَ عِبَادِکَ فِیۡ مَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾

آیت 45

وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ

’’اورجب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللہ کا تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں۔‘‘

یہ اصلاً تو کفار کا ذکر ہے‘ مگر مسلمانوں میں سے بھی جو مشرکانہ ذوق رکھتے ہیں ان کا یہی حال ہے کہ اگر کہیں صرف اللہ ہی کی بات ہو رہی ہو تو انہیں یہ اچھا نہیں لگتا۔ کسی تقریر یا وعظ میں اگر ساری گفتگو توحید پر ہی ہو تو عام طور پر لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ کیا بات ہوئی؟ یہ کیسی تقریر ہے جس میں نہ تو اولیاء اللہ کی کرامات کا ذکر کیا جارہا ہے اور نہ ہی شانِ نبوت بیان ہو رہی ہے!

وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۴۵﴾

’’اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب وہ خوش ہوجاتے ہیں۔‘‘

آیت 46

قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ عٰلِمَ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ

’’آپؐ کہیے: اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! غائب اور حاضر کے جاننے والے!‘‘

اَنۡتَ تَحۡکُمُ بَیۡنَ عِبَادِکَ فِیۡ مَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾

’’یقینا تو فیصلہ کرے گا اپنے بندوں کے مابین اُن تمام چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔‘‘

47-48

روز ِقیامت فدیہ سزا سے نہ بچا سکے گا

ویڈیو

وَ لَوۡ اَنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ مِنۡ سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَحۡتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾ وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۴۸﴾

آیت 47

وَ لَوۡ اَنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا وَّ مِثۡلَہٗ مَعَہٗ لَافۡتَدَوۡا بِہٖ مِنۡ سُوۡٓءِ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’اوراگران ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہوتا جو بھی زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہوتا تو وہ قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ میں دے دیتے۔‘‘

روزِ محشر اگر ان کے پاس تمام روئے زمین کی دولت ہو بلکہ اتنی اور بھی ہو تو وہ چاہیں گے کہ وہ سب کچھ دے دیں اور انہیں کسی طرح جہنم کے عذاب سے بچا لیا جائے۔ انسان کی اس کیفیت کا مشاہدہ تو یہاں دنیا میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب کبھی انسان کی جان پربن جاتی ہے تووہ ایک گھونٹ پانی کے لیے اپنا سب کچھ دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ بہر حال یہاں یہ اسلوب صرف انسانوں کے سمجھانے کے لیے آیا ہے‘ ورنہ اُس دن نہ تو کسی کے پاس کچھ دینے کو ہو گا اور نہ ہی کوئی کسی کو کچھ دے سکے گا۔

وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمۡ یَکُوۡنُوۡا یَحۡتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾

’’اور (اُس روز )ان کے سامنے اللہ کی طرف سے وہ کچھ آ جائے گا جس کا انہیں گمان بھی نہیں تھا۔‘‘

آج وہ سمجھتے ہیں کہ جہنم اور اس کے عذابوں کی حقیقت کچھ بھی نہیں ‘بلکہ ان کا خیا ل ہے کہ جس طرح بچوں کو کوئی بات منوانے کے لیے فرضی چیزوں سے ڈرایا جاتا ہے اسی طرح ہمیں بھی خالی ڈراوے دیے جا رہے ہیں اور جہنم کا ’ہوا‘ دکھایا جا رہا ہے۔ لیکن اس دن جہنم کو اس کے تمام تر عذابوں اور سختیوں کے ساتھ ان کے سامنے لایا جائے گا اور پھر ان سے پوچھا جائے گا: {اَلَیۡسَ ہٰذَا بِالۡحَقِّ ؕ قَالُوۡا بَلٰی وَ رَبِّنَا ؕ } ( الانعام :۳۰) کہ جو کچھ اب تم اپنے سامنے دیکھ رہے ہو کیا یہ حقیقت نہیں؟ تو اُس وقت وہ تسلیم کریں گے کہ ہاں کیوں نہیں‘ ہمارے پروردگار کی قسم! واقعی یہ تو ایک حقیقت ہے۔

آیت 48

وَ بَدَا لَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’اور ان کے سامنے آ جائیں گے اُن کی کمائی کے سارے برے نتائج اور ان کو گھیرے میں لے لے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔‘‘

49-52

اللہ کا احسان اور انسان کی ناشکری

ویڈیو

فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾ قَدۡ قَالَہَا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۰﴾ فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ؕ وَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیۡبُہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ۙ وَ مَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۵۱﴾ اَوَ لَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۲﴾

آیت 49

فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫

’’ تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے‘‘

ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ

’’پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں‘‘

قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ

’’تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر۔‘‘

وہ کہتا ہے کہ یہ تو میری سمجھ ‘ ذہانت و فطانت اور منصوبہ بندی کا کمال ہے۔ میں نے بہت پہلے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ عنقریب اس چیز کی ڈیمانڈ آنے والی ہے‘ چنانچہ میں نے بر وقت فیکٹری لگا لی اور یوں میرے وارے نیارے ہو گئے۔یہ مضمون سورۃ القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بڑی وضاحت کے ساتھ آچکا ہے۔ اس نے بھی اپنی دولت کے بارے میں کہا تھا: {اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ عِنۡدِیۡ ؕ } (آیت۷۸) کہ یہ سب کچھ تو مجھے میری ذہانت و فطانت کی وجہ سے ملا ہے۔

بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾

’’بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے ‘لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

آیت 50

قَدۡ قَالَہَا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ

’’ان سے پہلوں نے بھی یہی بات کہی تھی‘‘

مثلاً قارون بھی ایسے ہی دعوے کیا کرتا تھا۔

فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۰﴾

’’تو جو کچھ بھی انہوں نے کمائی کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آ سکی۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا تو اپنی اس دولت کے بل پر وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہ پایا۔

آیت 51

فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ؕ

’’پس انہیں اس کے بدنتائج پہنچ گئے جو وہ کماتے تھے۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ

’’اور اِن میں سے بھی جو لوگ ظلم (شرک) کی روش اختیار کریں گے‘‘

سَیُصِیۡبُہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوۡا ۙ وَ مَا ہُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۵۱﴾

’’ان کو پہنچ کر رہیں گے ان کے کرتوتوں کے برے نتائج‘ اور وہ (اللہ کو) عاجز کر دینے والے نہیں ہیں۔‘‘

آیت 52

اَوَ لَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ

’’کیا یہ جانتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو کشادہ کر دیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے (جس کے لیے چاہتا ہے)۔‘‘

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۲﴾

’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ماننے والے ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے