تحریر

الزمر

آیات ۹ تا ۳۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

9

علم کی فضیلت

ویڈیو

اَمَّنۡ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَۃَ وَ یَرۡجُوۡا رَحۡمَۃَ رَبِّہٖ ؕ قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ٪﴿۹﴾

آیت 9

اَمَّنۡ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یَّحۡذَرُ الۡاٰخِرَۃَ وَ یَرۡجُوۡا رَحۡمَۃَ رَبِّہٖ ؕ

’’بھلا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں ‘سجود و قیام کرتے ہوئے‘ وہ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے‘ اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے!‘‘

ان الفاظ کے بعد کی عبارت محذوف ہے اور یہ اسلوب اس سورت میں بار بار آتا ہے ۔ آگے چل کر متعددآیات ایسی ملیں گی جہاں جملوں کو نا مکمل چھوڑ دیا گیا ہے کہ سننے یا پڑھنے والا اپنے علم‘ ذہن اور ذوق کے مطابق خود مکمل کر لے۔ چنانچہ یہاں پر کَمَنْ ھُوَ غَافِلٌ؟ کے الفاظ سے اس جملے کو مکمل کیا جا سکتا ہے کہ کیا ایک ایسا شخص جو اللہ کا فرمانبردار ہے‘ وہ اپنی راتوں کی گھڑیاں اللہ کے حضور اس کیفیت میں گزارتا ہے کہ کبھی سجدے میں پڑا ہوا ہے اور کبھی حالت قیام میں ہے‘ اس کے دل میں آخرت کا خوف بھی ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید بھی‘ کیاوہ ایک ایسے شخص کے برابر ہو جائے گا جو بالکل غفلت میں پڑا ہوا ہے؟

قُلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ؕ

’’(اے نبیﷺ!)آپ کہہ دیجیے کہ کیا برابر ہو سکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے؟‘‘

اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ٪﴿۹﴾

’’حقیقی نصیحت اور سبق تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔‘‘

10

تقویٰ کے ثمرات

ویڈیو

قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ؕ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾

آیت 10

قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جوایمان لائے ہو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔‘‘

تم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہو تو اب تمہیں ہروقت اللہ کی رضا جوئی کی فکر ہونی چاہیے۔ لہٰذااللہ جو کام کرنے کا حکم دے وہ کرو اور جس سے وہ منع کرے اس سے باز رہو۔ یہاں پر مسلمانوں کو نبی اکرمﷺ کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر ذہن نشین کر لیں کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو مخاطب کرنے کا یہی انداز ملتا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہِ راست خطاب کا اسلوب صرف مدنی سورتوں میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ یہاں اہل ایمان سے براہِ راست خطاب کرنے کے بجائے حضورﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اے نبیﷺ! آپ میری طرف سے میرے اہل ایمان بندوں کو یہ پیغام پہنچا دیں:

لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ

’’جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے ‘ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے۔‘‘

وَ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ؕ

’’اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔‘‘

اگر مکہ میں رہتے ہوئے تمہارے لیے توحید پر کاربند رہنا ممکن نہیں رہا تو یہاں سے ہجرت کر جائو۔

اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾

’’یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر پورا پورا دیا جائے گا بغیر حساب کے۔‘‘

اجر کے حوالے سے یہاں پر یُوَفَّی کا اصول بھی بتایا گیا ہے اور بِغَیْرِ حِسَابٍ کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ یعنی پورا پورا بدلہ دینے کے بعد اللہ کا مزید فضل بھی ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے معاملے میں حساب کا کوئی سوال ہی نہیں !

11-16

اللہ کی ہی بندگی کرنے کا تاکیدی حکم

ویڈیو

قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ وَ اُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲﴾ قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳﴾ قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ ﴿ۙ۱۴﴾ فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ ؕ قُلۡ اِنَّ الۡخٰسِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَہۡلِیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اَلَا ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۵﴾ لَہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ ظُلَلٌ ؕ ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ ؕ یٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۱۶﴾

آیت 11

قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے مجھے توحکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اُس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘

یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے پہلے آیت ۲ میں بھی آ چکے ہیں۔ یہ مضمون اس سورت کا عمود ہے اوراس میں بار بار آئے گا۔ چنانچہ اس مضمون کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اس حوالے سے بنیادی طور پر یہ نکتہ ذہن نشین کر لیجیے کہ ہر چیز کی طرح عبادت کا بھی ایک ظاہر ہے اور ایک اس کی اصل حقیقت ہے۔ عبادت کا ظاہر اس کی رسومات ہیں۔ ’’رسم‘‘ کسی شے کی ظاہری شکل کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً یہ لکھائی میں جو حروف اور الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان کی ظاہری اشکال کو ’’رسم‘‘ (رسم الخط) کہتے ہیں۔ جیسے قرآن کا موجودہ رسم الخط ’’رسم عثمانی ‘‘کہلاتا ہے۔ اب اگر نماز کی مثال لیں تو نماز میں کھڑے ہونا‘ اللہ کی حمد و تسبیح کرنا‘ رکوع و سجدہ کرنا مراسم عبادت ہیں۔ بعض دوسرے مذاہب میں اپنے معبود کے سامنے مؤدب کھڑے ہونا ‘سلیوٹ کرنا اور ہاتھ جوڑناوغیرہ ان کی عبادت کے مراسم ہیں۔ چنانچہ عرف عام میں مراسمِ عبودیت (عبادت کی ظاہری شکل و صورت) کو ہی ’’عبادت‘‘ سمجھا جاتا ہے جبکہ عبادت کی اصل حقیقت کچھ اور ہے۔

اب عبادت کی اصل حقیقت کو یوں سمجھیں کہ یہ بھی دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک جسد ہے اور ایک اس کی روح۔ اصل عبادت کا جسد ’’اطاعت‘‘ ہے۔ لیکن عبادت کے حوالے سے اطاعت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے لفظ ’’عبادت ‘‘کے لغوی معنی کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔ عبادت کا لفظ ’’عبد‘‘ سے مشتق ہے اور عبد کے معنی غلام کے ہیں۔عبد یا غلام اپنے آقا کی ہمہ تن اور ہمہ وقت اطاعت (غلامی ) کا پابند ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن میں اس سے پہلے ہم یہ لفظ دو مرتبہ غلامی اور کلی اطاعت کے معنی میں پڑھ چکے ہیں۔ سورۃ المؤمنون میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے بارے میں فرعون کا یہ قول نقل ہوا ہے: {وَ قَوۡمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوۡنَ ﴿ۚ۴۷﴾} کہ ان کی قوم تو ہماری غلام ہے۔ اسی طرح سورۃ الشعراء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس مکالمے کا حوالہ آ چکا ہے جس میں آپؑ نے فرعون کو مخاطب کر کے فرمایا تھا: {وَ تِلۡکَ نِعۡمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۲۲﴾} ’’اور یہ احسان جو تو مجھے جتلا رہا ہے (کیا یہ اس کا بدلہ ہے) کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے؟‘‘ اب ظاہر ہے بنی اسرائیل فرعون یا قبطیوں کی پرستش یا پوجا تونہیں کرتے تھے‘ وہ ان کی نماز نہیں پڑھتے تھے اور انہیں سجدہ بھی نہیں کرتے تھے۔ البتہ وہ ان کے غلام تھے اور اس حیثیت میں ان کی ’’اطاعت‘‘ کے پابند تھے۔ لہٰذا متذکرہ بالا دونوں آیات میں عبد کا لفظ کلی اطاعت یا غلامی کے مفہوم میں ہی استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اطاعت یا غلامی دراصل عبادت کا جسد ہے جبکہ اس کی روح ’’محبت‘‘ ہے۔ یعنی اگر کسی کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی اطاعت کی جائے تووہ اس کی عبادت ہو گی‘جبکہ جبری اطاعت عبادت نہیں ہو سکتی۔ مثلاً ۱۹۴۷ء سے پہلے برصغیر میں ہم لوگ انگریز کی اطاعت کرتے تھے ‘لیکن ہماری اس اطاعت کو عبادت نہیں کہا جا سکتا‘اس لیے کہ یہ جبری اطاعت تھی۔

امام ابن تیمیہ ؒ اور ان کے شاگرد حافظ ابن قیم ؒنے عبادت کی تعریف یوں کی ہے: العبادۃ تجمع اََصْلَین : غایۃَ الحُبِّ مع غایۃ الذُّلِّ والخُضوع یعنی اللہ کی عبادت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے: اس کے ساتھ غایت درجے کی محبت اور اس کے سامنے غایت درجے کا تذلل اور عاجزی کا اظہار۔ دوسرے لفظوںمیں اللہ کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ انسان حد درجے کی محبت کے ساتھ خود کو اللہ کے سامنے بچھا دے اور اس کا مطیع و منقاد ہوجائے۔ چنانچہ اللہ کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس کی کلی اطاعت کرنا اصل عبادت ہے‘ جبکہ مراسم عبادت کی حیثیت عبادت کے ’’ظاہر‘‘ کی ہے۔

آیت زیر مطالعہ کا مضمون گویا اس سورت کا عمود ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اُس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اللہ کی اطاعت سے آزاد کسی دوسرے کی مستقل بالذات اطاعت تو شرک ہے ہی‘ لیکن اگر کسی نے اللہ کی اطاعت کے ساتھ کسی اور کی اطاعت کو بھی شریک کر لیا تو ایسی جزوی یا مشترکہ اطاعت اللہ کو قبول نہیں۔ ایسی اطاعت اللہ کی طرف سے ایسے اطاعت گزار کے منہ پر دے ماری جائے گی۔ اس حوالے سے سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۰۸ کا یہ حکم بہت واضح ہے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ } ’’اے اہل ایمان! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ!‘‘ یعنی اللہ کو کلی اطاعت مطلوب ہے۔ کسی کی پچیس فی صد‘ پچاس فی صد یا پچھتر (۷۵)فی صد اطاعت اسے قبول نہیں ۔

یہ تو ہے عبادت کی اصل روح اور اطاعت کی اصل کیفیت جو اللہ کو مطلوب ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں جو یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم پانچ یا دس فیصد اطاعت پر ہی اللہ کو (نعوذ باللہ ) ٹرخا دیں گے اور وہ اسی معیار کی اطاعت پر ہمیں جنت اور اس کی نعمتوں سے نواز دے گا۔ دراصل ہماری اسی ٹیڑھی سوچ کی وجہ سے آج ہمارے ذہنوں سے زندگی کے تمام گوشوں میں اللہ کی کلی اطاعت اور کلی بندگی کا تصور نکل چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کے اسی تصور کو زیر مطالعہ سورتوں میں ایک خاص ترتیب سے اجاگر کیا گیا ہے۔ اس طرح کہ اس مضمون کی جڑیں اس پہلی سورت میں ملیں گی اور اس کی چوٹی چوتھی سورت یعنی سورۃ الشوریٰ میں جا کر نظر آئے گی۔

آیت 12

وَ اُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲﴾

’’اور مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلا فرماں بردار میں خود بنوں۔‘‘

ایسا ممکن نہیں کہ میں تم لوگوں کو تواللہ کی فرماں برداری کی دعوت دوں اور خود مجھے اس کی پروا نہ ہو۔

آیت 13

قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳﴾

’’کہہ دیجیے کہ مجھے خود اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔‘‘

میں خود بھی تو اللہ کا بندہ ہوں‘ اور اس حیثیت سے اس کی کلی اطاعت کا پابند ہوں۔ اس ضمن میں میرے لیے کوئی استثناء نہیں‘اور اگر بالفرض میں بھی اپنے رب کی نا فرمانی کروں تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہو گا۔ یہ شرطیہ فقرہ ہے اور یوں سمجھیں کہ اس کے درمیان کا ’’اگر‘‘ گویا ایک پہاڑ ہے جسے پھلانگنا ناممکنات میں سے ہے۔ دراصل یہ انداز مخالفین کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس دلانے کے لیے اختیار فرمایا گیا ہے‘ ورنہ حضورﷺ کے لیے اس کا ہر گز کوئی امکان نہیں تھا۔

آیت 14

قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ ﴿ۙ۱۴﴾

’’کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘

نوٹ کیجیے! اس مضمون کو یہاں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ اور ہر بار پڑھنے سے اس میں ایک نیا حسن نظر آتا ہے اور ایک نئی تاثیر کا احساس ہوتا ہے۔ جب کہ ہم انسانوں کی دنیا میں کسی عبارت کے اندر الفاظ یا مضمون کی تکرار‘ اس تحریر یاتصنیف کا بہت بڑا عیب بن جاتا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی فصاحت و بلاغت کا معجزہ ہے کہ اس کے ہاں تکرار سے کلام کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کی غیر معمولی تکرار کی غرض و غایت کو سمجھنے اور اس اسلوبِ خاص میں تاکید ( emphasis) کی شدت کو محسوس کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے سورت کے آغاز سے لے کر آیت زیر مطالعہ تک مذکورہ مضمون سے متعلقہ آیات کو ایک مرتبہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ آغاز میں فرمایا گیا: {اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؕ﴿۲﴾اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ } ’’(اے نبیﷺ!) ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ‘پس بندگی کرو اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔آگاہ ہو جاؤ کہ اطاعتِ خالص اللہ ہی کا حق ہے‘‘۔اس کے بعد آیت ۱۱ ملاحظہ کیجیے: {قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾} ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے مجھے حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اُس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے‘‘۔ اور اب زیرمطالعہ آیت کا مضمون دیکھئے: {قُلِ اللّٰہَ اَعۡبُدُ مُخۡلِصًا لَّہٗ دِیۡنِیۡ ﴿ۙ۱۴﴾} ’’کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اُس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے‘‘۔ گویا تکرار پر تکرار ہے‘ اصرار پر اصرار ہے اور تاکید پر تاکید ہے۔

آیت 15

فَاعۡبُدُوۡا مَا شِئۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ ؕ

’’تو تم جس کو چاہو پوجو اُس کے سوا!‘‘

قُلۡ اِنَّ الۡخٰسِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَہۡلِیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’آپؐ کہہ دیجئے کہ اصل میں خسارے میں رہنے والے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارے میں ڈالا قیامت کے دن۔‘‘

یہاں پر تو وہ حرام خوری کے ذریعے خود بھی مزے میں ہیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی عیش و عشرت کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔ لیکن اس روش کو اپنا کر وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ کوئی بھلائی یا خیر خواہی نہیں کررہے بلکہ حقیقت میں وہ خود کو اور ان کو جہنم کا ایندھن بنانے کے اسباب پیدا کر رہے ہیں۔سورۃ التحریم ‘آیت ۶میں اہل ایمان کو اس حوالے سے خصوصی طور پر حکم دیا گیا ہے : {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا…} ’’ اے اہل ایمان! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے…‘‘ لیکن اس کے برعکس جو شخص خود کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ کا مستحق بنا لے اس سے بڑھ کر اورکون گھاٹے میں ہو گا!

اَلَا ذٰلِکَ ہُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۵﴾

’’آگاہ ہو جاؤ یہی تو کھلا خسارا ہے۔‘‘

آیت 16

لَہُمۡ مِّنۡ فَوۡقِہِمۡ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَ مِنۡ تَحۡتِہِمۡ ظُلَلٌ ؕ

’’اُن کے لیے ان کے اوپر سے بھی آگ کے بادل ہوں گے تہہ بر تہہ اور نیچے سے بھی آگ کے بھبکے ہوں گے تہہ بر تہہ۔‘‘

ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللّٰہُ بِہٖ عِبَادَہٗ ؕ

’’یہ وہ شے ہے جس سے اللہ ڈراتا ہے اپنے بندوں کو۔‘‘

یٰعِبَادِ فَاتَّقُوۡنِ ﴿۱۶﴾

’’اے میرے بندو! پس تم مجھ سے ڈرو۔‘‘

میری ان وعیدوں سے ڈر کر تم اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔

17-20

اچھا اور برا کردار

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾ الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۸﴾ اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ ﴿ۚ۱۹﴾ لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِہَا غُرَفٌ مَّبۡنِیَّۃٌ ۙ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۲۰﴾

آیت 17

وَ الَّذِیۡنَ اجۡتَنَبُوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ یَّعۡبُدُوۡہَا

’’اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت سے کنارہ کشی کر لی (اس طرح) کہ اُس کی بندگی نہ کی‘‘

طاغوت کا لفظ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سب سے پہلے ہم نے یہ لفظ سورۃ البقرۃ کی اس آیت میں پڑھا تھا: {فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی ٭ } (آیت۲۵۷) ’’تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا‘‘۔ لفظ طاغوت کا مادہ ’’طغی ‘‘ہے اور اس کے معنی سرکشی کے ہیں ۔ اسی مادہ سے اردو لفظ ’’طغیانی‘‘ مشتق ہے۔ دریا اپنے کناروں کے اندر بہہ رہا ہو تو بہت خوبصورت منظر پیش کرتا ہے لیکن جب وہ اپنی ’’حدود ‘‘سے باہر نکل آئے تو ہم کہتے ہیں کہ دریامیں طغیانی آ گئی ہے۔ اسی طرح انسان اگر اللہ کی بندگی کی حدمیں رہے تو وہ اللہ کا بندہ ہے‘ اُس کا خلیفہ ہے اور اشرف المخلوقات ہے۔ لیکن اگر بندگی کی حد ودسے تجاوز کر جائے تو وہ ’’طاغوت‘‘ ہے۔ پھر چاہے ان حدود کو پھلانگنے کے بعد وہ اپنے نفس کا بندہ بن جائے یا کسی اور کو اپنا مطاع بنا لے‘ خود حاکم بن بیٹھے یا اللہ کے علاوہ کسی اور کی حاکمیت کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے ‘اللہ کی نظر میں وہ طاغوت ہی ہے۔چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے کنارہ کشی کر لی اس سے کہ وہ طاغوت کی اطاعت یا بندگی کریں:

وَ اَنَابُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾

’’اور انہوں نے رجوع کر لیا اللہ کی طرف‘ اُن کے لیے بشارت ہے‘ تو (اے نبیﷺ!) میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجیے۔‘‘

اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اب اگلی آیت بہت اہم ہے‘ اس میں ان بندوں کی صفت بیان کی گئی ہے جنہیں بشارت دی جا رہی ہے۔

آیت 18

الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ

’’جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں‘پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘

یعنی یہ دین جس کی طرف اللہ تمہیں بلا رہا ہے اس کے بھی مختلف مدارج ہیں۔ پہلاد رجہ اسلام ہے‘ اس سے اونچا درجہ ایمان اور پھر سب سے اونچا درجہ احسان ہے۔ درجہ احسان پر فائز لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے {وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾} ( المائدۃ) کی بشارت سنائی ہے۔چنانچہ ہمیں چاہیے کہ دین کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ محنت کریں اور ہر لمحہ بہتر سے بہتر درجے پر پہنچنے کی فکر میں رہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارا طرزِ عمل اس کے برعکس ہے ۔دُنیوی معاملات میں تو ہمارا ماٹو بقول حالیؔ یہ ہے کہ ـ: ؎

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں!

جبکہ دین کے معاملے میں نہ صرف یہ کہ ہم کم سے کم پر گزارا کرنا چاہتے ہیں بلکہ پسپائی اختیار کرنے کی فکر میں ہر وقت کسی گنجائش اور رعایت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ حالانکہ ایک بندۂ مؤمن کو چاہیے کہ دنیا کے معاملے میں تو کم سے کم پر گزارا کرے اور دین کے معاملے میں ہمیشہ عزیمت کا راستہ اختیار کرنے کی فکر میں رہے۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ ہَدٰىہُمُ اللّٰہُ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۸﴾

’’یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو عقل مند ہیں۔‘‘

آیت 19

اَفَمَنۡ حَقَّ عَلَیۡہِ کَلِمَۃُ الۡعَذَابِ ؕ

’’تو کیا وہ شخص جس پر ثابت ہو چکا ہے عذاب کا فیصلہ!‘‘

اس کے بعد یہ جملہ گویا محذوف ہے: کَمَنْ ھُوَ فِی الْجَنَّۃِ؟ یعنی جو شخص عذاب کا مستحق ہو چکا ہے کیا وہ اس شخص کے برابر ہو جائے گا جو کہ جنت میں جانے والا ہے؟

اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِی النَّارِ ﴿ۚ۱۹﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) کیا آپ اُس کو بچا سکیں گے جو آگ میں ہے؟‘‘

یہ وہ لوگ ہیں جو عذاب سے متعلق اللہ کے قانون کی زد میں آ چکے ہیں۔ اتمامِ حجت ہو جانے کے بعد ان کے دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں۔ وہ گمراہی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب ایمان کی طرف ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ چنانچہ اب وہ آگ کا ایندھن بننے والے ہیں اور اس مرحلے پر آپؐ ان کو اس بھیانک انجام سے نہیں بچا سکتے۔

آیت 20

لٰکِنِ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّہُمۡ لَہُمۡ غُرَفٌ مِّنۡ فَوۡقِہَا غُرَفٌ مَّبۡنِیَّۃٌ ۙ

’’لیکن وہ لوگ جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ہوں گے بالا خانوںپر بالا خانے (ایک دوسرے کے اوپر) چنے ہوئے۔‘‘

اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں کئی کئی منزلہ رہائش گاہیں (skyscrapers) عطا فرمائے گا۔

تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۬ؕ

’’ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔‘‘

وَعۡدَ اللّٰہِ ؕ لَا یُخۡلِفُ اللّٰہُ الۡمِیۡعَادَ ﴿۲۰﴾

’’یہ اللہ کا وعدہ ہے ‘اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘

21

انسان کی زندگی کھیتی کی مانند ہے

ویڈیو

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیۡعَ فِی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ حُطَامًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۲۱﴾

آیت 21

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیۡعَ فِی الۡاَرۡضِ

’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اُتارا آسمان سے پانی ‘ پھر اس کو چلا دیا چشموں کی شکل میں زمین میں‘‘

ثُمَّ یُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ

’’پھر اس کے ذریعے سے وہ نکالتا ہے کھیتی جس کے مختلف رنگ ہیں‘‘

ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصۡفَرًّا

’’پھر وہ پک کر تیار ہو جاتی ہے‘ پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی ہے‘‘

ثُمَّ یَجۡعَلُہٗ حُطَامًا ؕ

’’پھر وہ اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔‘‘

کچھ عرصہ پہلے جس کھیت میں فصل لہلہا رہی تھی اب وہاں خاک اُڑ رہی ہے اور خشک بھوسے کے کچھ تنکے ہیں جو اِدھر اُدھر بکھرے نظر آ رہے ہیں۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿٪۲۱﴾

’’یقینا اس میں یاد دہانی (اور سبق) ہے ہوشمند لوگوں کے لیے۔‘‘

یعنی اگر غور سے دیکھا جائے تو فصل کے اُگنے‘ نشوونما پا کر پوری طرح تیار ہونے ‘ پک کر سوکھ جانے اور پھر کٹ کر چورا چورا ہو جانے میں انسانی زندگی ہی کے مختلف مراحل کا نقشہ نظر آتا ہے۔ جس طرح فصل کے اُپچنے پر کسان خوش ہوتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں بچے کی پیدائش پر خوشیاں منا ئی جاتی ہیں۔ پھر وہ بچہ پرورش پا کر جوان ہوتا ہے‘ اس کے بعد آہستہ آہستہ بالوں میں سفیدی آنے لگتی ہے۔ جوانی کی طاقت گھٹنا شروع ہو جاتی ہے‘ قویٰ کمزور پڑنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن اسے قبر میں اتار دیا جاتا ہے‘ جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے۔ چنانچہ موسمی فصلوں اور انسانوں کا life cycle ایک سا ہے۔ دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ فصل کے اگنے سے لے کر کٹنے تک چند ماہ کا عرصہ درکار ہے جبکہ انسانی زندگی میں یہ دورانیہ پچاس ساٹھ سال کا ہے۔ بہر حال ’’زندگی‘‘ دونوں جگہ مشترک ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو نباتاتی زندگی (Botany) اورحیوانی زندگی (Zoology) دونوں حیاتیات (Biology) ہی کی شاخیں ہیں۔

22

نورِ ہدایت کیا ہے؟

ویڈیو

اَفَمَنۡ شَرَحَ اللّٰہُ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ فَوَیۡلٌ لِّلۡقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۲﴾

آیت 22

اَفَمَنۡ شَرَحَ اللّٰہُ صَدۡرَہٗ لِلۡاِسۡلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوۡرٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ

’’بھلا وہ شخص کہ جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لیے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے!‘‘

یہاں پھر وہی ’’حذف‘‘ کا اسلوب ہے۔ چنانچہ اس جملے کے بعد یہاں پر کَمَنْ ھُوَ فِی الظُّلُمٰت کا جملہ محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ایک وہ شخص ہے جسے اندرونی بصیرت حاصل ہے اور اس کا دل ایمان کے نور سے جگمگا رہا ہے‘ کیا وہ اس شخص کی طرح ہو جائے گا جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہے؟

فَوَیۡلٌ لِّلۡقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ

’’تو ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہو گئے ہیں اللہ کے ذکر سے۔‘‘

ان کے دل نرمی اور گداز سے محروم ہو چکے ہیں ‘چنانچہ اب نہ تو ان کے دلوں میں اللہ کے ذکر کا ذوق ہے اور نہ ہی اس کی طرف رجوع کرنے کا شوق۔

اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۲﴾

’’یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔‘‘

23

عظمت ِقرآن

ویڈیو

اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۲۳﴾

آیت 23

اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ

’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے کتاب کی صورت میں‘ جس کے مضامین باہم مشابہ ہیں اور بار بار دہرائے گئے ہیں‘‘

ہمارے ہاں لوگ عام طور پر لفظ ’’حدیث ‘‘کے صرف ایک ہی مفہوم سے آشنا ہیں جو کہ اس لفظ کا اصطلاحی مفہوم ہے‘ یعنی فرمانِ رسولؐ کو اصطلاحاً حدیث کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس لفظ کے لغوی معنی بات یا کلام کے ہیں اور قرآن میں لفظ ’’حدیث‘‘اسی مفہوم میں آیا ہے۔ جیسے سورۃ المرسلات میں فرمایا گیا: {فَبِاَیِّ حَدِیۡثٍۭ بَعۡدَہٗ یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۰﴾} کہ اس قرآن کے بعد اب یہ لوگ بھلااورکس بات پر ایمان لائیں گے؟ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کا مطلب ہے :بہترین کلام۔

مُّتَشَابِہًا سے مراد قرآن کے الفاظ‘ اس کی آیات اور اس کے مضامین کا باہم مشابہ ہونا ہے۔ یہ مشابہت قرآن کے اہم مضامین کی تکرار کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ قصہ آدمؑ و ابلیس قرآن میں سات مقامات پر مذکور ہے۔ بظاہر سب مقامات پر یہ قصہ ایک سا معلوم ہوتا ہے مگر ہر جگہ سیاق و سباق کے حوالے سے اس میں کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور سامنے آتی ہے۔ اگر ایک شخص اپنے معمول کے مطابق سات روز میں قرآن مجید ختم کرتا ہو تو وہ ہر روز کہیں نہ کہیں اس قصے کی تلاوت کرے گا۔ اس لحاظ سے اس قصے کی تفصیلات ‘ متعلقہ آیات اور ان آیات کے الفاظ اسے باہم مشابہ محسوس ہوں گے۔ اسی طرح بعض سورتوں کی بھی آپس میں گہری مشابہت ہے اور اسی مشابہت کی بنا پر انہیں جوڑوں میں تقسیم کیا گیا ہے ---- مَثَانِیَ کا معنی ہے دہرائی ہوئی یا جوڑوں کی صورت میں۔

تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ

’’اس (کی تلاوت) سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔‘‘

متقی لوگ جب قرآن مجید کو پڑھتے ہیں تو ان پر اللہ کا خوف طاری ہو جاتا ہے اور اس خوف کی وجہ سے ان کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے۔

ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ

’’پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے نرم پڑ جاتے ہیں۔‘‘

یعنی ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف جھک پڑتے ہیں۔

ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ

’’یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ ہدایت بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘

وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿۲۳﴾

’’اور جس کو اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔‘‘

جس کی گمراہی پر اللہ ہی کی طرف سے مہر ثبت ہو چکی ہو پھر اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟

24-26

گمراہوں کا بدترین انجام

ویڈیو

اَفَمَنۡ یَّتَّقِیۡ بِوَجۡہِہٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ وَ قِیۡلَ لِلظّٰلِمِیۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۲۴﴾ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۵﴾ فَاَذَاقَہُمُ اللّٰہُ الۡخِزۡیَ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۶﴾

آیت 24

اَفَمَنۡ یَّتَّقِیۡ بِوَجۡہِہٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’بھلا وہ شخص جو اپنے چہرے پر روکے گا بدترین عذاب قیامت کے دن!‘‘

یہ پھر وہی حذف کا اسلوب ہے کہ بھلا ایک شخص جس کا چہرہ قیامت کے دن بدترین عذاب کی زد میں ہو گا اور آگ کے تھپیڑوں کو اپنے چہرے پر روکنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہو گا‘ کیا وہ اس شخص کے برابر ہو جائے گا جو {فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾} (الواقعہ) کے مزے لے رہا ہو گا؟

وَ قِیۡلَ لِلظّٰلِمِیۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’اور کہہ دیا جائے گا اُن ظالموں سے کہ اب چکھو مزہ اس کا جو کچھ کمائی تم کرتے رہے تھے۔‘‘

انہیں جتلا دیا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جنہوں نے آج یہاں آگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔

آیت 25

کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَاَتٰىہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۵﴾

’’(اے نبیﷺ!) جھٹلایا تھا انہوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے ‘تو اُن پر آن دھمکا عذاب وہاں سے جہاں سے انہیں گمان تک نہیں تھا۔‘‘

آیت 26

فَاَذَاقَہُمُ اللّٰہُ الۡخِزۡیَ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ

’’تو اللہ نے انہیں د نیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا۔‘‘

وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَکۡبَرُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔کاش کہ انہیں معلوم ہوتا!‘‘

27-28

اللہ کا بہت بڑا انعام . . . عربی قرآن

ویڈیو

وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا غَیۡرَ ذِیۡ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۲۸﴾

آیت 27

وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ

’’اور ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں‘‘

مختلف احکام و مسائل کو قرآن میں کھول کھول کر اور اسلوب بدل بدل کر بیان کر دیا گیا ہے۔

لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾

’’شاید کہ وہ سبق حاصل کریں۔‘‘

آیت 28

قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا غَیۡرَ ذِیۡ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’(ہم نے اسے بنا دیا ہے) قرآنِ عربی‘ اس میں کوئی کجی نہیں ہے ‘شاید کہ وہ تقویٰ کی روش اختیار کریں۔‘‘

ہم نے اس قرآن کو فصیح و بلیغ عربی میں اتارا ہے۔ اس کی زبان بہت سادہ اور سلیس ہے۔ اس حوالے سے سورۃ القمر میں یہ آیت چار مرتبہ دہرائی گئی ہے: {وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿﴾} ’’اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا ہے ‘تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا؟‘‘

29

توحید کا تصور ایک بہت بڑی نعمت

ویڈیو

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۹﴾

آیت 29

ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ

’’اللہ نے مثال بیان فرمائی ہے ایک شخص کی جس میں بہت سے آپس میں ضد رکھنے والے آقا شریک ہیں اور ایک وہ شخص ہے جو پورے طور پر ایک ہی آقا کا غلام ہے۔‘‘

یہ تمثیل ’’توحید عملی ‘‘ کا مفہوم واضح کرنے کے لیے بیان فرمائی جا رہی ہے۔ یہ دو غلاموں کی حالت کا تقابل ہے۔ ایک غلام کے کئی آقا ہیں اور وہ بھی ضدی ‘ مختلف الاغراض اور مختلف مزاج رکھنے والے ۔ اور دوسرا غلام وہ ہے جس کا ایک ہی آقا ہے۔ مقامِ غور ہے کہ اگر چار آپس میں ضد رکھنے والے اور تند خو آدمیوں نے مل کر ایک غلام خرید رکھا ہے تو اس غلام کی جان توہر وقت مصیبت میں پھنسی رہے گی۔ ایک آقا اسے بیٹھنے کا کہے گا تو دوسرا اٹھنے کا حکم دے گا۔ تیسرا کوئی اور فرمائش کرے گا اور چوتھاکچھ اور کہے گا۔ وہ بے چارا ایک کو خوش کرنے کی کوشش کرے گا تو دوسرا ناراض ہو جائے گا۔ الغرض ایسے غلام کے لیے ایک وقت میں اپنے سب آقاؤں کو خوش رکھنا کسی طور بھی ممکن نہیں۔ اس کے برعکس اگرکسی غلام کا ایک ہی آقا ہو تو اس کے لیے اپنے اس آقا کو خوش کرنا اور مطمئن رکھنا بہت آسان ہو گا۔ اس مثال کی اہمیت انتظامی امور کے حوالے سے بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ اگر کسی ملک یا ادارے کا ایک مقتدر سربراہ ہو گا تو اس کا نظام درست رہے گا‘ لیکن جہاں متوازی حکم چلانے والے کئی سربراہ ہوں گے تو وہاں لازمی طور پر فساد مچ جائے گا۔

اب اس مثال کی روشنی میں شرک اور توحید کے معاملے کو دیکھیں تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اگر تم ایک اللہ کے بندے بن کر رہو گے تو سکون اور چین سے رہو گے ۔ اگر مختلف شخصیات اور دیوی دیوتاؤں کے پجاری بنو گے تو مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔ ایک کو خوش کرو گے تو دوسرا ناراض ہو جائے گا۔ آخر کس کس معبود کی پوجا کرو گے؟ کتنے آقاؤں کے حضور نذرانے پیش کرو گے ؟اور کہاں کہاں جا کر پیشانی رگڑو گے؟ اقبال نے کیا خوب کہا ہے ؎

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات!

ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ

’’کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں؟‘‘

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ۚ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۹﴾

’’کل تعریف اللہ کے لیے ہے ‘لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

یعنی بات واضح ہو گئی کہ توحید ہی صحیح راستہ ہے‘لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں یاجانتے بوجھتے ناسمجھ بنے بیٹھے ہیں۔

30-31

مخالفین کے ساتھ کشمکش عارضی ہے

ویڈیو

اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾ ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿٪۳۱﴾

آیت 30

اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّ اِنَّہُمۡ مَّیِّتُوۡنَ ﴿۫۳۰﴾

’’(اے نبیﷺ!) یقینا موت آپ پر بھی وارد ہو گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔‘‘

آیت 31

ثُمَّ اِنَّکُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ عِنۡدَ رَبِّکُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿٪۳۱﴾

’’پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس آپس میں جھگڑو گے۔‘‘

اس جھگڑے کی نوعیت کچھ یوں ہو گی کہ حضورﷺ شہادت دیں گے کہ اے اللہ! میں نے تیرا پیغام کما حقہ ان تک پہنچا دیا تھا۔ ممکن ہے وہاں ان میں سے کچھ لوگ انکار کریں کہ نہیں نہیں یہ بات ان تک نہیں پہنچی تھی اور بحث و تکرار کی نوبت آ جائے۔ ابلاغِ رسالت کے بارے میں پیغمبروں کی گواہی اور متعلقہ اُمتوں کے افراد سے جواب طلبی کے حوالے سے سورۃ الاعراف کی یہ آیت بہت اہم ہے: {فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾} ’’ ہم ان سے بھی پوچھیں گے جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا تھا اور ان سے بھی پوچھیں گے جنہیں رسول بنا کر بھیجا تھا‘‘۔ چنانچہ وہاں سب پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ لوگوں نے ہمارا پیغام اپنی اپنی قوموں تک پہنچا دیا تھا؟ جواب میں تمام پیغمبر گواہی دیں گے کہ اے اللہ ہم نے پہنچا دیا تھا۔ اسی لیے حضور اکرمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر موجود لوگوں سے استفسار فرمایا تھا: اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ کہ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دیا ؟ جواب میں پورے مجمعے نے یک زبان ہو کر کہا تھا: نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَ اَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ! ۱ کہ حضورؐ ہم گواہ ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ‘ امانت اور نصیحت کا حق ادا کر دیا! اس کے بعد حضورﷺ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہا: اللَّھُمَّ اشْھَدْ ! اللَّھُمَّ اشْھَدْ! اللَّھُمَّ اشْھَدْ! کہ اے اللہ! تو بھی گواہ رہ‘ یہ لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ میں نے ان تک تیرا پیغام پہنچاد یا۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا: حدیث((أَلَا لِیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ))۲ کہ ا ب جو لوگ موجود ہیں ان کا فرض ہے کہ یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ اس طرح آپؐ نے یہ فریضہ امت کی طرف منتقل فرما دیا ۔ اللہ کے رسولﷺ کے اس فرمان کے بعد یوں سمجھیں کہ اب یہ پوری امت اللہ کے رسول ؐکی رسول ہے (سورۂ یٰسٓ کی آیت ۱۴ کے تحت اس اصطلاح کی وضاحت کی جا چکی ہے)۔ یعنی اللہ کے رسولﷺ نے جو پیغام ان تک پہنچایا ہے اب انہوں نے اسے پوری نوعِ انسانی تک پہنچانا ہے۔

حضورﷺ کی اُمت کے اس اعزاز اور فریضہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں دو مقامات پر فرمایاہے‘ ہجرت سے متصلاً قبل سورۃ الحج میں اور ہجرت سے متصلاًبعد سورۃ البقرۃ میں۔ سورۃ الحج کی آخری آیت میں یوں فرمایا: {ہُوَ اجۡتَبٰىکُمۡ وَ مَا جَعَلَ عَلَیۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ مِنۡ حَرَجٍ ؕ مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ ؕ ہُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ۬ۙ مِنۡ قَبۡلُ وَ فِیۡ ہٰذَا لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۚۖ } ’’اُس نے تمہیں چن لیا ہے اور دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جاؤ اپنے جد امجد ابراہیم ؑ کی ملت پر۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ‘ اس سے پہلے بھی (تمہارا یہی نام تھا) اور اس (کتاب) میں بھی ‘ تا کہ پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ ہو‘‘۔ سورۃ البقرۃ میں اسی مضمون کو ان الفاظ میں پھر سے دہرایا گیا: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ } (آیت۱۴۳) ’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے‘ تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘‘۔ دونوں مقامات پرالفاظ ایک سے آئے ہیں صرف الفاظ کی ترتیب تبدیل ہوئی ہے۔

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الحج‘ باب حجۃ النبیﷺ۔

(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الاضاحی‘ باب من قال الاضحی یوم النحر۔وصحیح مسلم‘ کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات‘ باب تغلیظ تحریم الدماء والاعراض والاموال۔

32-35

دو کردار اور ان کا انجام

ویڈیو

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾ وَ الَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۳۳﴾ لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۴﴾ لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا وَ یَجۡزِیَہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۵﴾

آیت 32

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَذَبَ عَلَی اللّٰہِ وَ کَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَہٗ ؕ

’’اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور جھٹلائے سچی بات کو جبکہ اس کے پاس آ گئی ہو!‘‘

یہ دونوں خصوصیات ایک ہی شخص کے کردار میں بھی ہو سکتی ہیں کہ وہ ا للہ پر جھوٹ بھی باندھ رہا ہو اور اللہ کی طرف سے جو حق اس کے پاس آیا ہے اس کی تکذیب یا نفی بھی کر رہا ہو۔ اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دو الگ الگ کردار وں کا ذکر ہو۔ یعنی ایک وہ شخص جو اپنی کسی بات کو اللہ کی طرف منسوب کر کے دعویٰ کرے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ ظاہر ہے ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اسی درجے کا ظالم وہ شخص بھی ہو گاجس کے پاس اللہ کا کلام پہنچ جائے جو کہ سراسر حق ہے اور وہ اس حق کو جھٹلا دے۔

اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۲﴾

’’تو کیا جہنم ہی میں ٹھکانہ نہیں ہے ایسے کافروں کا!‘‘

اب اگلی آیت میں اس کے برعکس کردار کا ذکر ہے:

آیت 33

وَ الَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ

’’اور وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس کی تصدیق کی‘‘

گزشتہ آیت کی طرح یہاں بھی دونوں احتمالات موجود ہیں۔ یعنی یہ الگ الگ دو کردار بھی ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں خوبیاں کسی ایک ہی شخص میں پائی جائیں کہ وہ راست باز بھی ہے اور حق کی تصدیق کرنے والابھی۔ لیکن اس آیت کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ یہاں وَ الَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ سے مراد محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو اللہ کی طرف سے حق اور سچائی لے کر آئے ہیں اور وَ صَدَّقَ بِہٖۤ سے مرادحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے اس سچائی کی بلا حیل و حجت تصدیق کی۔

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’یہی لوگ ہیں کہ جو متقی ہیں۔‘‘

آیت 34

لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ؕ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۚۖ۳۴﴾

’’ان کے لیے اپنے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے جو یہ چاہیں گے۔ یہی بدلہ ہے نیکوکاروں کا!‘‘

آیت 35

لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِیۡ عَمِلُوۡا

’’تا کہ اللہ ان سے دور کر دے اُن کے برے اعمال کو‘‘

ظاہر بات ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام تو معصوم ہیں ۔ ان سے اگر بر بنائے طبع بشری کسی غلط بات کا امکان پیدا ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ انہیں اس کے صدور سے محفوظ رکھتا ہے ۔ لیکن انبیاء ؑ کے علاوہ تو ہر شخص سے غلطی اورخطا کا امکان ہے۔ چنانچہ اوپر کی آیات میں جن متقین اور محسنین کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ ان کی خطائوں اور لغزشوں کو معاف فرما کر ان کے نامہ ہائے اعمال کو برائیوں اور گناہوں سے بالکل پاک کر دے گا۔

وَ یَجۡزِیَہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِیۡ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۳۵﴾

’’اور ان کو اجر عطا فرمائے ان کے بہترین اعمال کے حساب سے۔‘‘

ظاہر بات ہے کہ ہر نیک شخص کے تما م نیک اعمال ایک جیسے نہیں ہوتے ‘یعنی نیکیوں کی بھی درجہ بندی ہے۔کوئی نیکی بہت اعلیٰ درجے کی ہے توکوئی نسبتاً نچلے درجے کی۔لہٰذا مذکورہ لوگوں کے اعمال کی جزا دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کے بلند ترین درجے کے اعمال کو مد نظر رکھے گا اور ان ہی اعمال کی مطابقت سے جنت میں انہیں مقام و مرتبہ عطا فرمائے گا‘ جبکہ ان کے برے اعمال کے منفی اثرات سے انہیں پاک کر دے گا۔

36-37

کیا اللہ بندے کے لئے کافی نہیں؟

ویڈیو

اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ ؕ وَ یُخَوِّفُوۡنَکَ بِالَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿ۚ۳۶﴾ وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّضِلٍّ ؕ اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِعَزِیۡزٍ ذِی انۡتِقَامٍ ﴿۳۷﴾

آیت 36

اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبۡدَہٗ ؕ

’’کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے؟‘‘

یہاں بالخصوص نبی اکرمﷺ اور تبعاً اہلِ ایمان کی تسلی مقصود ہے کہ آپ لوگ مطمئن رہیں‘ اللہ آپ کی مدد اور حفاظت کے لیے کافی ہے۔ لیکن بات میں زور پیدا کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا گیا ہے۔

وَ یُخَوِّفُوۡنَکَ بِالَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں اُن سے جو اُس کے علاوہ (ان کے معبود) ہیں۔‘‘

یہ لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کی طرف سے آپؑ کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ آپ پر ان کی کوئی پھٹکار پڑجائے گی۔ اسی طرح سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی آپؑ کی قوم نے دھمکی دی تھی کہ آپ نے ہمارے سارے معبودوں کی نفی کر کے انہیں ناراض کر دیا ہے‘ اب آپ پر ان کی پھٹکار پڑے گی اور ان کی طرف سے آپ کی پکڑ ہو گی۔ ان کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا (الانعام :۸۱) کہ ’’میں ان سے کیونکر ڈروں جن کو تم نے شریک ٹھہرایا ہے جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اُس نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی!‘‘ یعنی بدبختو! مجھے تم ان پتھر کے بتوں سے کیا ڈراتے ہو ‘جب کہ ڈرنا تو تم لوگوں کو چاہیے کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہو!

وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ ہَادٍ ﴿ۚ۳۶﴾

’’اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اُس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔‘‘

جس کی گمراہی پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دے اس کی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔

آیت 37

وَ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ مُّضِلٍّ ؕ

’’اور جس کو اللہ ہدایت دے دے تواُسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں۔‘‘

اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِعَزِیۡزٍ ذِی انۡتِقَامٍ ﴿۳۷﴾

’’تو کیا اللہ زبردست ‘انتقام لینے والا نہیں ہے؟‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے