اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنۡکُمۡ ۟
’’اگر تم کفر کرتے ہو تو یقینا اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘
وہ غنی ہے‘ اسے تمہاری کوئی احتیاج نہیں‘ تمہاری طرف سے انکار یا کفرانِ نعمت کی صورت میں اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
وَ لَا یَرۡضٰی لِعِبَادِہِ الۡکُفۡرَ ۚ
’’لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے‘‘
اگرچہ اس نے انسان کو اختیار دے رکھا ہے: {اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾} ( الدھر) کہ تم چاہو تو شکرگزار بندے بنو اور چاہو تو کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے ‘مگر یہ جان رکھو کہ اسے اپنے بندوں کی طرف سے کفر کا رویہ ہر گز پسند نہیں ہے۔
وَ اِنۡ تَشۡکُرُوۡا یَرۡضَہُ لَکُمۡ ؕ
’’اور اگر تم شکر کرو تو وہ تم سے راضی ہو گا۔‘‘
اگر تم اس کا شکر ادا کرتے رہو‘ اس کی حمد و ثنا کے ترانے گاتے رہو اور اس کی بندگی کی روش اختیار کیے رکھو تو وہ تم سے خوش رہے گا۔وہ اسی طرزِعمل کو پسند کرتا ہے۔
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ
’’اور نہیں اٹھائے گی بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسرے کے بوجھ کو۔‘‘
ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ
’’پھر تمہارا لوٹنا ہے تمہارے رب ہی کی طرف‘‘
فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ؕ
’’پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے۔‘‘
اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾
’’یقینا وہ جاننے والا ہے سینوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں کا۔‘‘
جو راز تمہارے سینوں کے اندر مخفی ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے۔
وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ
’’اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے‘‘
ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعۡمَۃً مِّنۡہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدۡعُوۡۤا اِلَیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ
’’پھر جب وہ عطا کر دیتا ہے اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو وہ جس چیز کے لیے پہلے اس کے حضور دعائیں کر رہا تھا سب بھول جاتا ہے‘‘
خَوَّلَ کے لفظی معنی اوڑھانے اورلپیٹنے کے ہیں۔ اردو لفظ ’’خول‘‘ اسی سے مشتق ہے ۔یعنی اللہ تعالیٰ اس کے گرد اپنی نعمت کا خول بنا دیتا ہے‘اسے اپنی نعمت اوڑھا دیتا ہے یااپنی نعمت کے اندر اسے لپیٹ لیتا ہے۔
وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اَنۡدَادًا
’’اور وہ اللہ کے مدِ مقابل ٹھہرا لیتا ہے‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کے بعد وہ قبل ازاں مانگی ہوئی اپنی دعاؤں کو بھول جانے اور اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنے پر ہی بس نہیں کرتا ‘بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اللہ کے مد مقابل جھوٹے معبود بنانے کی جسارت بھی کر گزرتا ہے۔
لِّیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ
’’تا کہ بہکائے لوگوں کو اُس کے راستے سے۔‘‘
قُلۡ تَمَتَّعۡ بِکُفۡرِکَ قَلِیۡلًا ٭ۖ اِنَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ﴿۸﴾
’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ مزے اڑا لو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑی دیر‘ یقینا تم آگ والوں میں سے ہو!‘‘
کفر کی جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے ‘ اس کے ساتھ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو عیش کر سکتے ہو کر لو‘ اس کے بعد تمہارامستقل ٹھکانہ جہنم ہے۔ بالآخر اسی کی آگ میں تمہیں جھونک دیا جائے گا۔