بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الزمر

آیات ۱ تا ۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۂ صٓ کے اختتام پر زیر مطالعہ گروپ کی پہلی پانچ سورتیں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس گروپ کے اندر ان پانچ سورتوں (سورۂ سبا تا سورۂ صٓ) پر مشتمل ایک ضمنی گروپ بنتا ہے جس کے بالکل وسط میں سورۂ یٰسٓ ہے۔ یعنی سورۂ سبا اور سورۂ فاطر (یہ دونوں سورتیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع ہوتی ہیں) ایک طرف ہیں جبکہ سورۃ الصّٰفّٰت اور سورۂ صٓ (ان دونوں سورتوں کے آغاز میں حرف ’’ص‘‘ مشترک ہے) دوسری طرف جبکہ عین وسط میں سورۂ یٰسٓ ہے۔

اس گروپ کی بقیہ آٹھ سورتیں( سورۃ الزمر تا سورۃ الاحقاف ) ایک لحاظ سے گزشتہ گروپ کی سورۃ الفرقان سے لے کر سورۃ السجدۃ تک کی آٹھ سورتوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔ مذکورہ آٹھ سورتوں میں بھی ایک سورۃ (الفرقان) حروفِ مقطعات کے بغیر ہے جبکہ باقی سات سورتوں کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے۔ یعنی سورۃ الشعراء اور سورۃ القصص کا آغاز طٰسٓمٓ سے‘ سورۃ النمل کا طٰسٓ سے اور باقی چار سورتوں (العنکبوت‘ الروم‘ لقمان اور السجدۃ) کا آغاز الٓمّٓ سے ہوتا ہے۔ اسی طرح زیر مطالعہ گروپ کی آٹھ سورتوں میں بھی ایک سورۃ (الزمر ) ایسی ہے جس کے آغاز میں حروفِ مقطعات نہیں ہیں‘ جبکہ باقی ساتوں سورتیں حروفِ مقطعات (حٰمٓ)سے شروع ہو رہی ہیں۔ حٰمٓ سے آغاز ہونے کی وجہ سے ان سورتوں کو ’’حوامیم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سورۃ الشوریٰ البتہ ایک ایسی سورت ہے جس کی دوسری آیت بھی حروفِ مقطعات (عٓسٓق) پر مشتمل ہے۔ مضمون کے اعتبار سے یہ آٹھوں سورتیں ایک خاص ترتیب (sequence) میں ہیں ۔ واضح رہے کہ اس سلسلۂ حوامیم میں معنوی طور پر سورۃ الزمر بھی شامل ہے۔ ان میں سے پہلی چار سورتوں کا مرکزی مضمون ’’توحید عملی ‘‘ہے۔

’’توحیدِ عملی ‘‘ چونکہ بہت اہم مضمون ہے‘ اس لیے ضروری ہے کہ اسے اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔ عقیدے کے طور پر توحید کو تو ہم سب جانتے ہیں‘ یعنی اللہ کو ایک ماننا اور یہ ماننا کہ وہ اکیلا اور تنہا ہے (لَا ضِدَّ لَہٗ وَلَا نِدَّ لَہٗ وَلَا مِثْلَ لَہٗ وَلَا مِثَالَ لَہٗ وَلَا مَثِیْلَ لَـہٗ) ۔اُس کا کوئی کُفْو نہیں‘ اُس جیسا کوئی نہیں‘ نہ تو ذات میں اورنہ ہی صفات کے اعتبار سے۔ اسی عقیدہ کی وضاحت ہمیں بہت جامع اور خوبصورت انداز میں سورۃ الاخلاص میں ملتی ہے:

قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ٪﴿۴﴾

عقیدئہ توحید کا عملی پہلو ’’توحید فی العمل ‘‘ہے ‘جس کے لیے امام ابن تیمیہؒ نے ’’توحید فی الطلب ‘‘کی خوبصورت اصطلاح استعمال کی ہے۔ ’’طلب‘‘ کا تعلق انسان کی عملی زندگی سے ہے۔ کسی انسان کی ’’طلب‘‘ کے انتخاب ا ور معیار سے عملی زندگی میں اس کی ترجیحات کا پتا چلتاہے۔ اس لحاظ سے ہر انسان گویا ’’طالب‘‘ ہے اور ہر انسان اپنا کوئی نہ کوئی مطلوب بھی رکھتا ہے۔ سورۃ الحج کی آیت ۷۳ میں بتوں اور ان کے پجاریوں کے حوالے سے طالب اور مطلوب کے اس رشتے کی اہمیت اور نوعیت کو {ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الۡمَطۡلُوۡبُ ﴿۷۳﴾} کے الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ بہر حال ایک ذی شعور مخلوق ہونے کی حیثیت سے لازمی ہے کہ ہر انسان کا کوئی مطلوب‘ کوئی آئیڈیل یا کوئی آدرش ہو‘ جسے وہ اپنا مقصدِ حیات سمجھے۔ مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ عملی طور پر انسانوں کی عظیم اکثریت کا کوئی اعلیٰ مقصدِ حیات ہے ہی نہیں اور وہ محض اپنی جبلت (instinct) کے محرکات کے تحت حیوانی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔ جس طرح حیوانات اپنی جبلی خواہشات پوری کرتے ہیں اسی طرح وہ بھی کھاتے پیتے ہیں‘ بچے پیدا کرتے ہیں اور ان کی پرورش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی مقصد ان کی زندگی میں نہیں ہے۔ قرآن کی رائے میں ایسے لوگ انسان نہیں ‘ حیوان ہیں‘ بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر ہیں: {اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ } ( الاعراف :۱۷۹) اس زاویہ سے دیکھا جائے تو انسان کہلانے کا مستحق صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو محض اپنی جبلی خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ گیا ہو بلکہ اس نے اس سطح سے برترہو کر اپنی زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد متعین کر رکھا ہو۔ اس حوالے سے جو اصل مقام و مرتبہ ایک انسان کے شایانِ شان ہے وہ یہ ہے کہ اس کا مقصد حیات اس کا خالق اور اس کا مالک ہو۔ یعنی صرف اللہ ہی اس کا مقصود ہو‘ وہی اس کا محبوب ہو اور وہی اس کا مطلوب ہو: لَا مَطْلُوْبَ اِلاَّ اللّٰہُ، لَا مَقْصُوْدَ اِلاَّ اللّٰہُ، لَا مَحْبُوْبَ اِلاَّ اللّٰہُ۔ زندگی میں ہر ہر قدم اور ہر ہر موڑ پر اس کی نگاہیں اس شان سے اللہ کی رضا مندی کی متلاشی ہوں کہ اس کی زندگی اس فرمانِ الٰہی کی عملی تصویر بن جائے : {قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾} (الانعام) ’’ آپؐ کہیے میری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘

یہ ہے توحید عملی یا توحید فی الطلب کا اصل مفہوم و مدعا۔ لیکن جو شخص صرف ’’عقیدئہ توحید‘‘ کا دعوے دار ہے اور عملی طور پر وہ توحید پر کاربند نہیں‘ وہ شرک فی العمل کا مرتکب ہے۔ سورۃ الفرقان میں ہم یہ آیت پڑھ چکے ہیں : {اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾} ’’کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟ تو (اے نبیﷺ) کیا آپ ایسے شخص کی ذمہ داری لے سکتے ہیں!‘‘ ایسا شخص کہتا تو خود کو مواحد ہے اور وہ نظریۂ توحید پر ایمان کا دعویٰ بھی کرتا ہے ‘مگر عملی زندگی میں وہ اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے اللہ کے احکام کو پامال کرنے سے دریغ نہیں کرتا اور حلال و حرام کے ضمن میں حدود اللہ کی سرے سے کوئی پروا نہیں کرتا۔ ایسے ہی شخص کو حضورﷺ نے ’’درہم و دینار کا بندہ‘‘ قرار دیا ہے۔ آپﷺ کا فرمان ہے: حدیث((تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ…))۱ یہ ایک ایسا کردار ہے جس کا نام تو عبداللہ یا عبدالرحمن ہے ‘ زبان سے وہ لا اِلہ اِلاَّ اللّٰہ کا اقرار بھی کرتا ہے‘ اس کلمہ توحید کے ورد کا اہتمام بھی کرتا ہے اور مسجد میں جا جا کر با جماعت نمازیں بھی پڑھتا ہے‘ مگر اُس کی عملی زندگی میں توحید کہیں نظر نہیں آتی۔ عملی زندگی میں اس نے اپنا مقصدِ حیات حصولِ دولت کو بنا رکھا ہے‘ اس کی فکر کا محور اور اس کی ساری دوڑ دھوپ کا ہدف ہی یہ ہے کہ اسے دولت ملنی چاہیے ‘جہاں سے بھی ملے ‘جیسے بھی ملے۔ جائز طریقے سے ملے یا ناجائز طور سے۔گویا اس نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ اصل میں وہ ’’عبداللہ‘‘ یا ’’عبدالرحمن ‘‘نہیں ’’عبدالدینار ‘‘ہے اور عملی طور پر اس کا معبود اللہ نہیں بلکہ روپیہ ‘ دینار یا ڈالر ہے۔

اس میدان میں ہم مسلمان ایک لحاظ سے ہندوؤں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ ہندودولت حاصل کرنے کے لیے دولت کی دیوی لکشمی بائی کی پوجا کرتے ہیں‘ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کیِ کرپا ہو جائے گی تودولت کے دروازے کھل جائیں گے۔ ہم دیوی بنا نے اور اس کو پوجنے کو تو شرک تصور کرتے ہیں‘ مگر براہِ راست دولت کی پوجا کو روا سمجھتے ہیں ۔چنانچہ ہندو دولت کی دیوی کے پجاری بنے تھے‘ لیکن ہم براہِ راست دولت کے پجاری بن گئے۔

توحید عملی کا پہلا نکتہ توحید فی العبادت ہے۔ یعنی بندگی اور اطاعت کل کی کل اللہ کے لیے ہو۔باقی سب اطاعتیں اس اطاعت کے تابع ہوں۔ ماں‘ باپ اور استاد کی اطاعت ضرورہو‘ مگر شریعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔ حاکم کا حکم بھی مانا جائے مگر صرف وہ جو اللہ کے کسی حکم کے خلاف نہ ہو۔ اس حوالے سے بنیادی اصول اور قانون یہ ہو گا: حدیث((لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ))۱ یعنی مخلوق میں سے ایسی اطاعت کسی کی نہیں ہو سکتی جس سے خالق کی معصیت لازم آتی ہو۔ اگر ایسا ہوا تو یہ شرک ہو گا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جس کسی کو بھی ’’مطاع ‘‘مانا گیا ‘ وہ چاہے کسی کا اپنا نفس ہو‘ حاکم وقت ہو‘ کوئی ادارہ ہو یا جو کوئی بھی ہو وہ ’’طاغوت‘‘ ہے۔سورۃ الزمر میں یہ مضمون بہت تکرار سے آئے گا کہ ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرے تو اُ س کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کرے۔

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب الحراسۃ فی الغزو فی سبیل اللّٰہ۔

(۱) المعجم الاوسط للطبرانی : ۴/۱۸۱

1-4

اللہ کی بندگی کرو! خالص اطاعت کے ساتھ

ویڈیو

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؕ﴿۲﴾ اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ۬ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ ﴿۳﴾ لَوۡ اَرَادَ اللّٰہُ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰی مِمَّا یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿۴﴾

تمہید

آیت 1

تَنۡزِیۡلُ الۡکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَکِیۡمِ ﴿۱﴾

’’اس کتاب کا نازل کیا جانا ہے اُس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘

سورۃ الزمر اور سورۃ المؤمن کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چنانچہ ان دونوں سورتوں کا آغاز بھی ایک جیسے الفاظ سے ہو رہا ہے‘ صرف ’’الحکیم‘‘ اور ’’العلیم‘‘ کا فرق ہے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ زیر مطالعہ ضمنی گروپ کی ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی سورت یعنی سورۃ الزمر کے آغاز میں حروفِ مقطعات نہیں ہیں جبکہ باقی ساتوں سورتیں (سورۃ المؤمن تا سورۃ الاحقاف) حٰمٓ کے حروف سے شروع ہوتی ہیں۔

آیت 2

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ

’’(اے نبیﷺ!) ہم نے آپ پر یہ کتاب اُتاری ہے حق کے ساتھ‘‘

فَاعۡبُدِ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ؕ﴿۲﴾

’’پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اُس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔‘‘

اس حکم کے برعکس آج عملی طور پر ہماری زندگیوں کا نقشہ یہ ہے کہ اللہ کی بندگی بھی ہو رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ طاغوت کو بھی پوجا جا رہا ہے۔ ایک طرف نمازیں پڑھی جا رہی ہیں‘ حج اور عمرے ادا کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حرام خوری بھی جاری ہے اور سودی کاروبار بھی چل رہا ہے۔ اللہ کو ایسی آلودہ (polluted) بندگی کی ضرورت نہیں۔ وہ تو اپنے بندوں سے خالص بندگی کا تقاضا کرتا ہے۔

آیت 3

اَلَا لِلّٰہِ الدِّیۡنُ الۡخَالِصُ ؕ

’’آگاہ ہو جاؤ کہ اطاعتِ خالص اللہ ہی کا حق ہے۔‘‘

اللہ کے ہاں صرف دین خالص ہی مقبول ہے ۔اللہ کو یہ ہر گز منظور نہیں کہ اُس کا کوئی بندہ اُس کی بندگی بھی کرے اور اپنی بندگی کا کچھ حصہ کسی دوسرے کے لیے بھی مختص کر لے۔ اللہ تعالیٰ بہت غیورہے‘ وہ شراکت کی بندگی کو واپس اس بندے کے منہ پر دے مارتا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ میرا بننا ہے تو خالصتاً میرے بنو: {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ } ( البقرہ:۲۰۸) ’’ اے اہل ایمان! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ‘‘۔اللہ تعالیٰ کے کچھ احکام ماننے اور کچھ نہ ماننے کے حوالے سے سورۃ البقرۃ کی اس آیت میں بہت سخت وعید آئی ہے:

دوسرے مقام کی آیت

اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡکِتٰبِ وَ تَکۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ یَّفۡعَلُ ذٰلِکَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡیٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یُرَدُّوۡنَ اِلٰۤی اَشَدِّ الۡعَذَابِ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸۵﴾

’’تو کیا تم (ہماری) کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک حصے کا انکار کر دیتے ہو؟تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو تم میں سے یہ حرکت کرے سوائے دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے ‘اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘

سیاق و سباق کے لحاظ سے اگرچہ اس آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں لیکن آج ہمارے لیے بھی اللہ کا حکم اور قانون یہی ہے۔ بلکہ یہ آیت ہمارے لیے آئینے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں آج ہم اپنی تصویر واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں ۔ دنیا کی جس رسوائی کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے وہ آج ہمارے ماتھے پر جلی حروف میں لکھی ہوئی صاف نظر آ رہی ہے۔ اس وقت مسلمان تعداد میں ڈیڑھ سو کروڑ سے بھی زائد ہیں مگر عزت نام کی کوئی چیز اس وقت ان کے پاس نہیں ہے۔ بین الاقوامی معاملات میں کسی کو ان سے ان کی رائے پوچھنا بھی گوارا نہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ

’’اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا کچھ ا ور کو اولیاء بنا یا ہوا ہے‘‘

مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ

’’( وہ کہتے ہیں کہ ) ہم تو ان کو صرف اس لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں ۔‘‘

یعنی اصل میں تو ہم اللہ ہی کو پوجتے ہیں‘جبکہ دوسرے معبودوں کو تو ہم اللہ تک پہنچنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا صرف وسیلہ سمجھتے ہیں۔

اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ۬ؕ

’’یقینا اللہ فیصلہ کر دے گا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ ﴿۳﴾

’’اللہ ہر گز ہدایت نہیں دیتا جھوٹے اور نا شکرے لوگوں کو۔‘‘

آیت 4

لَوۡ اَرَادَ اللّٰہُ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصۡطَفٰی مِمَّا یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ۙ

’’اگر اللہ کا واقعی ارادہ ہوتا کہ کسی کو اولاد بنائے تو وہ چن لیتا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ‘‘

اللہ کی نہ تو کوئی اولاد ہے اور نہ ہی اس کے ہاں اولاد کا کوئی تصور ہے۔ وہ اکیلا خالق ہے اور باقی ہر چیز اس کی مخلوق ہے‘ فرشتے بھی اُس کی مخلوق ہیں۔ اسے کسی کو بیٹا یا بیٹی بنانے کی کوئی ضرورت یا حاجت نہیں ہے۔

سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿۴﴾

’’وہ پاک ہے۔ وہ اللہ ہے اکیلا اور (کل کائنات پر) چھایا ہوا۔‘‘

کل کائنات اور تمام مخلوقات پر اُس کی حکومت قائم ہے۔وہ سب پر قابو رکھنے والا اور غالب ہے۔

5-6

اللہ کی قدرتِ تخلیق کے مظاہر

ویڈیو

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ۚ یُکَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیۡلِ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اَلَا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۵﴾ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزۡوَاجٍ ؕ یَخۡلُقُکُمۡ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ خَلۡقًا مِّنۡۢ بَعۡدِ خَلۡقٍ فِیۡ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۶﴾

آیت 5

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ۚ

’’ اُس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ۔‘‘

یعنی یہ کائنات ایک نہایت منظم‘ بامقصد اور نتیجہ خیز تخلیق ہے‘ یہ کوئی کارِ عبث نہیں ہے۔

یُکَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّہَارِ وَ یُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیۡلِ

’’وہ رات کو لپیٹ دیتا ہے دن پر اور دن کو لپیٹ دیتا ہے رات پر‘‘

یہ مضمون قرآن حکیم میں تکرار کے ساتھ آیا ہے ۔ متعدد مقامات پر یہی الفاظ دہرائے گئے ہیں‘ جبکہ بعض جگہوں پر {یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۙ } کے الفاظ بھی آئے ہیں ۔بہر حال مقصود اس سے یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ رات اور دن کے الٹ پھیر کا یہ منضبط اور منظم نظام بے مقصد اور عبث نہیں ہے۔ اس حقیقت کوسمجھنے کے لیے عالم نباتات کے نظامِ تنفس (respiration system) کی مثال لی جا سکتی ہے جو کلی طور پر دن رات کے ادلنے بدلنے کے ساتھ متعلق و مشروط ہے یا پھرروئے زمین پر پھیلے ہوئے پورے نظامِ زندگی کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس گردشِ لیل و نہار کا مرہونِ منت ہے۔ غرض اس کائنات کی کوئی چیزیا کوئی تخلیق بھی بے مقصد و بے کار نہیں۔ اور اگر ایسا ہے اور یقینا ایسا ہی ہے تو پھر انسان ا ور انسان کی تخلیق کیونکر بے مقصد و بے کار ہو سکتی ہے ‘ جس کے لیے یہ سب کچھ پیدا کیا گیا ہے؟

یہاں پر ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں یہ سوال خود بخود پیدا ہونا چاہیے کہ جب کائنات اور اس کی تمام چیزیں انسان کے لیے پیدا کی گئی ہیں تو آخر انسان کا مقصدِ تخلیق کیا ہے؟ ایک حدیث میں الفاظ آئے ہیں: حدیث((فَاِنَّ الدُّنْیَا خُلِقَتْ لَـکُمْ وَاَنْتُمْ خُلِقْتُمْ لِلْآخِرَۃِ))۱ یعنی دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے اور تم آخرت کے لیے پیدا کیے گئے ہو۔ بہر حال اگر عقل اور منطق کی عینک سے بھی دیکھا جائے تو بھی آخرت کے تصور کے بغیر انسان کی تخلیق کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ خصوصاً انسان کو نیکی اور بدی کا جو شعور ودیعت ہوا ہے وہ ایک ایسی دنیا کا تقاضا کرتا ہے جہاں اچھائی کا نتیجہ واقعی اچھا نکلے اور برائی کا انجام واقعی برا ہو۔ جبکہ اس دنیا میں ہر جگہ اور ہر وقت ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ انسان کی اخلاقی حس (moral sense) کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے بھی ایک دوسری زندگی کا ظہور نا گزیر ہے۔

وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ

’’اور اُس نے مسخر کر دیا سورج اور چاند کو۔‘‘

کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ

’’یہ سب کے سب چل رہے ہیں ایک وقت معین تک کے لیے۔‘‘

اَلَا ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۵﴾

’’آگاہ ہو جاؤ !وہ زبردست ہے ‘ بہت بخشنے والا۔‘‘

(۱) تخریج الاحیاء للعراقی : ۳/۲۵۲

آیت 6

خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا

’’اُس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے‘ پھر اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا‘‘

جو لوگ نظریہ ارتقاء (evolution theory) کو مانتے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ساتھ اس کے بعض اجزاء کی مطابقت ہے‘ وہ اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں کہ ابتدا میں پیدا کیے جانے والے حیوانات (lower animals) میں نر اور مادہ کی تقسیم نہیں تھی۔ جیسے امیبا (Amoeba) ہے جو دوحصوں میں تقسیم ہو کر اپنے جیسے ایک نئے وجود کو جنم دے دیتا ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے پر ان کا خیال ہے کہ ایسے جانور پیدا کیے گئے جن کے اندر بیک وقت مذکر اور مؤنث دونوں جنسیں (sexes) موجود تھیں۔ جیسے کہ برسات کے موسم میں زمین سے نکلنے والے کینچووں (earth worms) میں سے ہر ایک کیڑا مذکر و مؤنث دونوں جنسوں کا حامل (hermaphrodite) ہوتا ہے۔ اس کے بعدرفتہ رفتہ دونوں جنسوں میں مزید تفریق ہوئی اور پھر تیسرے مرحلے میں دونوں جنسیں علیحدہ علیحدہ پیدا ہونا شروع ہوئیں۔

وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزۡوَاجٍ ؕ

’’اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے اتار دیے‘‘

مویشیوں کے آٹھ جوڑوں کے بارے میں قبل ازیں ہم سورۃ الانعام (آیت ۱۴۳‘۱۴۴) میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ ان میں اونٹ نر اور مادہ‘ گائے نر اور مادہ‘ بھیڑ نر اور ماد ہ اور بکری نر اور مادہ آٹھ مویشی شامل ہیں جو اُس وقت عرب میں عموماًپائے جاتے تھے۔

یَخۡلُقُکُمۡ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ خَلۡقًا مِّنۡۢ بَعۡدِ خَلۡقٍ

’’وہ پیدا کرتا ہے تمہیں تمہارے ماؤں کے پیٹوں میں ایک خلق کے بعد دوسری خلق‘‘

یہاں پر خَلْقًا مِّنْم بَعْدِ خَلْقٍ سے تخلیق کے مختلف مراحل مراد ہیں۔ ان مراحل کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر نُطْفَۃ ‘عَلَقَۃ ‘مُضْغَۃ ‘مُضْغَۃ مُخَلَّقَۃ وَّغَیْرِ مُخَلَّقَۃ اور خَلْقًا اٰخَرَ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ البتہ سورۃ المؤمنون کے پہلے رکوع کی آیات اس موضوع پر قرآن کے ذروۂ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔

فِیۡ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ؕ

’’(یہ تخلیق ہوتی ہے) تین اندھیروں کے اندر‘‘

ماں کے پیٹ میں بچے کی تخلیق کا یہ عمل تین پردوں کے اندر ہوتا ہے۔ یعنی ایک پردہ تو پیٹ کی بیرونی دیوار (abdominal wall) کا ہے ۔دوسرا پردہ رحم (uterus) کی موٹی دیوار ہے‘ جبکہ تیسرا پردہ رحم کے اندر کی وہ جھلی (مَشِیمہ) ہے جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ اس میں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ تین پردوں کی یہ بات قرآن نے صدیوں پہلے اس وقت کی جس وقت علم جنینیات (Embryology) کے بارے میں انسان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر کیتھ ایل مور (جسے ایمبریالوجی پر دنیا بھر میں سند مانا جاتا ہے) نے تسلیم کیا ہے کہ قرآن نے علم جنین کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں وہ واقعتا حیران کن ہیں اور یہ کہ ماں کے پیٹ کے اندر انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کی جو تعبیر قرآن نے کی ہے اس سے بہتر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ تین پردوں کے اندر انسان کی تخلیق فرماتا ہے۔ اس کے اعضا ء اور اس کی شکل کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے۔

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۶﴾

’’وہ ہے اللہ تمہارا رب‘ اُسی کی بادشاہی ہے‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ تو تم لوگ کہاں سے پھرائے جا رہے ہو! ‘‘

7-8

انسانوں کی ناشکری

ویڈیو

اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنۡکُمۡ ۟ وَ لَا یَرۡضٰی لِعِبَادِہِ الۡکُفۡرَ ۚ وَ اِنۡ تَشۡکُرُوۡا یَرۡضَہُ لَکُمۡ ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾ وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعۡمَۃً مِّنۡہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدۡعُوۡۤا اِلَیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِکُفۡرِکَ قَلِیۡلًا ٭ۖ اِنَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ﴿۸﴾

آیت 7

اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنۡکُمۡ ۟

’’اگر تم کفر کرتے ہو تو یقینا اللہ تم سے بے نیاز ہے۔‘‘

وہ غنی ہے‘ اسے تمہاری کوئی احتیاج نہیں‘ تمہاری طرف سے انکار یا کفرانِ نعمت کی صورت میں اس کی سلطنت میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔

وَ لَا یَرۡضٰی لِعِبَادِہِ الۡکُفۡرَ ۚ

’’لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر پر راضی نہیں ہے‘‘

اگرچہ اس نے انسان کو اختیار دے رکھا ہے: {اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا ﴿۳﴾} ( الدھر) کہ تم چاہو تو شکرگزار بندے بنو اور چاہو تو کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ ہے ‘مگر یہ جان رکھو کہ اسے اپنے بندوں کی طرف سے کفر کا رویہ ہر گز پسند نہیں ہے۔

وَ اِنۡ تَشۡکُرُوۡا یَرۡضَہُ لَکُمۡ ؕ

’’اور اگر تم شکر کرو تو وہ تم سے راضی ہو گا۔‘‘

اگر تم اس کا شکر ادا کرتے رہو‘ اس کی حمد و ثنا کے ترانے گاتے رہو اور اس کی بندگی کی روش اختیار کیے رکھو تو وہ تم سے خوش رہے گا۔وہ اسی طرزِعمل کو پسند کرتا ہے۔

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ

’’اور نہیں اٹھائے گی بوجھ اٹھانے والی کوئی جان کسی دوسرے کے بوجھ کو۔‘‘

ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمۡ مَّرۡجِعُکُمۡ

’’پھر تمہارا لوٹنا ہے تمہارے رب ہی کی طرف‘‘

فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ؕ

’’پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے۔‘‘

اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۷﴾

’’یقینا وہ جاننے والا ہے سینوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں کا۔‘‘

جو راز تمہارے سینوں کے اندر مخفی ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے۔

آیت 8

وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ

’’اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے‘‘

ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعۡمَۃً مِّنۡہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدۡعُوۡۤا اِلَیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ

’’پھر جب وہ عطا کر دیتا ہے اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو وہ جس چیز کے لیے پہلے اس کے حضور دعائیں کر رہا تھا سب بھول جاتا ہے‘‘

خَوَّلَ کے لفظی معنی اوڑھانے اورلپیٹنے کے ہیں۔ اردو لفظ ’’خول‘‘ اسی سے مشتق ہے ۔یعنی اللہ تعالیٰ اس کے گرد اپنی نعمت کا خول بنا دیتا ہے‘اسے اپنی نعمت اوڑھا دیتا ہے یااپنی نعمت کے اندر اسے لپیٹ لیتا ہے۔

وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اَنۡدَادًا

’’اور وہ اللہ کے مدِ مقابل ٹھہرا لیتا ہے‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کے بعد وہ قبل ازاں مانگی ہوئی اپنی دعاؤں کو بھول جانے اور اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنے پر ہی بس نہیں کرتا ‘بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اللہ کے مد مقابل جھوٹے معبود بنانے کی جسارت بھی کر گزرتا ہے۔

لِّیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ

’’تا کہ بہکائے لوگوں کو اُس کے راستے سے۔‘‘

قُلۡ تَمَتَّعۡ بِکُفۡرِکَ قَلِیۡلًا ٭ۖ اِنَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ﴿۸﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ مزے اڑا لو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑی دیر‘ یقینا تم آگ والوں میں سے ہو!‘‘

کفر کی جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے ‘ اس کے ساتھ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو عیش کر سکتے ہو کر لو‘ اس کے بعد تمہارامستقل ٹھکانہ جہنم ہے۔ بالآخر اسی کی آگ میں تمہیں جھونک دیا جائے گا۔

یوٹیوب پر دیکھیے