تحریر

ص

آیات ۷۱ تا ۸۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

71-74

عظمتِ انسان

ویڈیو

اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۱﴾ فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۷۲﴾ فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾ اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اِسۡتَکۡبَرَ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۴﴾

آیت 71

اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۱﴾

’’جب کہا تھا آپؐ کے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں ایک بشر کو مٹی سے۔‘‘

قصۂ آدم و ابلیس کے ذکر کے حوالے سے یہ قرآن کریم کا ساتواں اور آخری مقام ہے۔

آیت 72

فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ

’’تو جب میں اس کو پوری طرح درست کر دوں‘‘

’’تسویہ‘‘ کے معنی کسی تخلیق کو ہر لحاظ سے درست کر کے اس کی تکمیل کردینے کے ہیں۔ انگریزی میں اسے finishing touch دینا کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ’’تسویہ ‘‘ کا مرحلہ بنیادی تخلیق کے بعد آتا ہے ‘جیسا کہ سورۃ الاعلیٰ میں فرمایا گیا: {سَبِّحِ اسۡمَ رَبِّکَ الۡاَعۡلَی ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡ خَلَقَ فَسَوّٰی ۪ۙ﴿۲﴾} ’’آپؐ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی‘جس نے تخلیق کیا ‘پھر تسویہ کیا‘‘۔ سورۃ الاعلیٰ کے مطالعہ کے دوران اس موضوع پر ان شا ء اللہ تفصیل سے گفتگو ہو گی۔

وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۷۲﴾

’’اور میں اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم گر پڑنا اس کے سامنے سجدے میں۔‘‘

یہاں پر رُوْحِیْ (میری روح) کا لفظ نوٹ کیجیے اور اس نکتے کو ذہن نشین کر لیجیے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا مسجودِ ملائک ہونا اس روحِ ربانی کی بنیاد پر تھاجو اللہ تعالیٰ نے اُن کے جسم میں پھونکی تھی۔ اس سے قبل نہ تو وہ مسجودِ ملائک تھے ‘اور نہ ہی ان کا وہ مقام و مرتبہ تھا جو بعد میں اشرف المخلوقات کی حیثیت سے ان کو ملا۔

آیت 73

فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾

’’تو سجدہ کیا سب کے سب فرشتوں نے‘اکٹھے ہو کر۔‘‘

یہ بہت پر زور اسلوب ہے۔ یہ آیت اس سے پہلے جوں کی توں سورۃ الحجر (آیت ۳۰) میں بھی آ چکی ہے۔

آیت 74

اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اِسۡتَکۡبَرَ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۴﴾

’’سوائے ابلیس کے‘اُس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا۔‘‘

اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ کافروں میں سے تھا۔ کفر اور تکبر اس کے اندر پہلے سے موجود تھا جو اس موقع پر کھل کر سامنے آ گیا۔ جیسے غزوۂ احزاب کے موقع پر بہت سے منافقین کا نفاق واضح ہو کر ان کی زبانوں پر آگیا تھا۔

75-78

اللہ نے انسان کو دونوں ہاتھوں سے بنایا

ویڈیو

قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَا مَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡنَ ﴿۷۵﴾ قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ؕ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۶﴾ قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۚۖ۷۷﴾ وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ لَعۡنَتِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۷۸﴾

آیت 75

قَالَ یٰۤاِبۡلِیۡسُ مَا مَنَعَکَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِمَا خَلَقۡتُ بِیَدَیَّ ؕ

’’اللہ نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اُس کو سجدہ کرتا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟‘‘

یہاں پر آدم علیہ السلام کی تخلیق کو اللہ تعالیٰ کا اپنے دونوں ہاتھوں سے نسبت دینا بہت اہم اور قابل غور ہے۔ قرآن کریم میں اللہ کی قدرت کے استعارے کے طور پر اللہ کے ہاتھوں کا ذکر متعدد بار آیا ہے۔ جیسے سورۂ یٰـسٓ کی آیت ۷۱ میں فرمایا گیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں (اَیدِینَا) سے ان کے لیے چوپائے بنائے ہیں‘ لیکن آیت زیر مطالعہ میں ’’دونوں ہاتھوں ‘‘کا ذکر خصوصی اہتمام کے ساتھ ہوا ہے۔ میرے نزدیک اس سے دو عالم یعنی عالمِ خلق اور عالم امر مراد ہیں‘جنہیں اللہ تعالیٰ نے آدم یعنی انسان میں جمع کر دیا ہے۔ سورۃ الاعراف کی آیت ۵۴ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ} یعنی خلق اور امر کے دونوں عالم اُسی کے ہیں‘ان دونوں پر اسی کا تسلط اوراسی کی حکومت ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی کچھ مخلوق تو ایسی ہے جس کا تعلق صرف عالم امر سے ہے۔ مثلاً فرشتے جو حیوانی جسم یاحیوانی خواہشات نہیں رکھتے اور نر یا مادہ کی تفریق سے بھی منزہ و مبرا ہیں۔ دوسری طرف جنات اور تمام ارضی حیوانات ہیں جو عالم خلق کی مخلوق ہیں۔ ان میں ’’روح‘‘ نہیں پائی جاتی۔ اس لحاظ سے انسان گویا اللہ تعالیٰ کی واحد مخلوق ہے جس کا تعلق ان دونوں عالم سے ہے۔ اس کا حیوانی جسم مٹی سے بنا ہے‘ اس لحاظ سے یہ ’’عالم خلق ‘‘کی چیز ہے ‘جبکہ اس کے جسم میں پھونکی گئی روح ’’عالم امر ‘‘کی امانت ہے۔ جیسا کہ سورۃ الاحزاب کی اس آیت میں فرمایا گیا: {اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ۷۲﴾} ’’یقینا ہم نے امانت کو پیش کیا آسمانوں پراور زمین پر اور پہاڑوں پرتو انہوں نے انکار کر دیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے‘اور انسان نے اسے اٹھالیا۔یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا جاہل ہے‘‘۔(امانت کے اس تصور کی وضاحت اس آیت کے مطالعے کے دوران کی جا چکی ہے۔)

چنانچہ تخلیقِ آدم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا ذکر گویا استعارہ ہے اس کی تخلیق میں عالمِ خلق اور عالم امر کو جمع کرنے کا۔ انسان کو دونوں ہاتھوں سے بنانے کا یہ مفہوم بھی لیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو خصوصی اہتمام سے بنایا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے ا ور اس لحاظ سے یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کا نقطہ عروج (climax) ہے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔

اَسۡتَکۡبَرۡتَ اَمۡ کُنۡتَ مِنَ الۡعَالِیۡنَ ﴿۷۵﴾

’’کیا تو نے تکبر کیا یا تو عالی مرتبہ لوگوں میں سے ہے؟‘‘

آیت 76

قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ؕ

’’اُس نے کہا :میں اس سے بہتر ہوں!‘‘

اُس نے کہا ہاں !یہ بات صحیح ہے کہ میں اس سے بہتر اور بر تر ہوں۔ دراصل شیطان کا یہ دعویٰ اس کے مشاہدے کی بنیاد پر تھا۔ اس کے پیش نظر صرف حضرت آدم ؑکا جسدِ خاکی تھا۔ اس کے اندر پھونکی گئی روح کا اسے علم نہیں تھا۔ چنانچہ اس کا یہ دعویٰ کہ ’’میں اس خاکی وجود سے بہتر ہوں ‘‘ اُس کے مشاہدے کے اعتبار سے کچھ ایسا غلط بھی نہیں تھا۔

خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۶﴾

’’مجھے بنایا تو نے آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے!‘‘

آیت 77

قَالَ فَاخۡرُجۡ مِنۡہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿ۚۖ۷۷﴾

’’اللہ نے فرمایا :نکل جاؤ یہاں سے !اب تم مردود ہو گئے ہو۔‘‘

آیت 78

وَّ اِنَّ عَلَیۡکَ لَعۡنَتِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ الدِّیۡنِ ﴿۷۸﴾

’’اور اب تم پر میری لعنت رہے گی جزا اور سزا کے دن تک ۔‘‘

79-85

ابلیس کے ناپاک عزائم

ویڈیو

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۷۹﴾ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾ اِلٰی یَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿۸۱﴾ قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغۡوِیَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾ اِلَّا عِبَادَکَ مِنۡہُمُ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۸۳﴾ قَالَ فَالۡحَقُّ ۫ وَ الۡحَقَّ اَقُوۡلُ ﴿ۚ۸۴﴾ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکَ وَ مِمَّنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۸۵﴾

آیت 79

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۷۹﴾

’’اُس نے کہا :پروردگار! پھر مجھے مہلت دے‘اُس دن تک جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔‘‘

آیت 80

قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿ۙ۸۰﴾

’’اللہ نے فرمایا: ٹھیک ہے تمہیں یہ مہلت دے دی گئی۔‘‘

اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں بھی ’’استحقار ‘‘کا وہی انداز محسوس کیا جا سکتا ہے جو اوپر آیت ۷۷ میں پایا جاتا ہے ۔

آیت 81

اِلٰی یَوۡمِ الۡوَقۡتِ الۡمَعۡلُوۡمِ ﴿۸۱﴾

’’اُس دن تک جس کا وقت طے شدہ ہے۔‘‘

تمہارے کہنے کے مطابق تمہیں اُس دن تک مہلت دے دی گئی ہے جس دن آدمؑ اور اس کی پوری نسل کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

آیت 82

قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغۡوِیَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾

’’اُس نے کہا :پس تیری عزت کی قسم !میں ان سب کو گمراہ کر کے رہوں گا۔‘‘

آیت 83

اِلَّا عِبَادَکَ مِنۡہُمُ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۸۳﴾

’’سوائے ان میں سے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہو۔‘‘

آیت 84

قَالَ فَالۡحَقُّ ۫ وَ الۡحَقَّ اَقُوۡلُ ﴿ۚ۸۴﴾

’’اللہ نے فرمایا : توحق یہ ہے‘اور میں تو حق ہی کہتا ہوں۔‘‘

آیت 85

لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکَ وَ مِمَّنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۸۵﴾

’’کہ پھر میں بھی بھر کر رہوں گا جہنم کو تجھ سے اور ان سب سے جو تیری پیروی کریں گے۔‘‘

86-88

قرآن اور صاحبِ قرآن (ﷺ) کی عظمت

ویڈیو

قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَکَلِّفِیۡنَ ﴿۸۶﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۷﴾ وَ لَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعۡدَ حِیۡنٍ ﴿٪۸۸﴾

آیت 86

قُلۡ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا ‘‘

یہ واقعہ سنا کر اب حضورﷺ سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے کہ آپؐ انہیں جتلائیں کہ میں تم لوگوں کو یہ غیب کی خبریں سنا رہاہوں‘ازل میں رو نما ہونے والے واقعات کی تفصیلات سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں‘لیکن تم ذرا یہ بھی توسوچو کہ میں نے اس سب کچھ کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجر یا انعام تو طلب نہیں کیا۔

وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَکَلِّفِیۡنَ ﴿۸۶﴾

’’اور میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔‘‘

مُتَـکَلِّف (تکلف کرنے والا) کا مفہوم سمجھنے کے لیے دو ایسے اشخاص کی مثال سامنے رکھیں جن میں سے ایک شاعر ہے اور دوسرا متشاعر۔ ایک شخص فطری طور پر شاعر ہے ‘شاعری اس کی طبیعت میں گندھی ہوئی ہے اور اس پر اشعار کی آمد ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص (متشاعر)کی طبیعت شعر کے لیے بالکل موزوں نہیں ہے۔ البتہ وہ محنت کرتا ہے ‘علم عروض کے امور سیکھنے کی کوشش کرتا ہے‘ذخیرۂ الفاظ جمع کرتا ہے‘قافیے جوڑتا ہے اور یوں تصنع اور تکلف سے شعر کہتا ہے۔ چنانچہ یہ شخص شاعری کے میدان میں گویا ’’مُتَکَلِّف‘‘ ہے۔چنانچہ ان آیات میں حضورﷺ کی زبانِ اطہر سے مشرکینِ مکہ کے لیے کہلوایا جا رہا ہے کہ لوگو! کچھ تو عقل سے کام لو‘تم لوگ مجھے بچپن سے جانتے ہو: {فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ } (یونس:۱۶) ’’میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے بھی‘‘۔میرے عادات و اطوار اور میری طرزِ زندگی سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ تم خوب جانتے ہو کہ میں کوئی تکلف اور تصنع پسند شخص نہیں ہوں۔ تم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو کہ میں نے اب تک کی عمر میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا‘ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے خطابت کا فن سیکھنے کے لیے کبھی کوئی مشقت یا ریاضت نہیں کی۔ تو تم لوگوں نے یہ کیسے سوچ لیا ہے کہ اب میں نے اچانک تکلف اور تصنع کا سہارا لے کر شاعری میں طبع آزمائی شروع کر دی ہے اور تم لوگوں کو وحی کے نام پر میں اپنا کلام سنا رہا ہوں؟

آیت 87

اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۷﴾

’’نہیں ہے یہ مگر ایک یاد دہانی اور نصیحت تمام جہان والوں کے لیے ۔‘‘

آیت 88

وَ لَتَعۡلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعۡدَ حِیۡنٍ ﴿٪۸۸﴾

’’اور تم ضرور جان لوگے اس کی اصل خبر ایک وقت کے بعد۔‘‘

ان لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچ چکا ہے‘ انہیں خاطر خواہ طور پر یاد دہانی کرادی گئی ہے‘ ہر لحاظ سے ان پر حجت قائم ہو چکی ہے۔ اب بہت جلد اس اتمامِ حجت کا نتیجہ ان کے سامنے آ جائے گا۔ سورۃ الطارق میں قرآن کے بارے میں یوں فرمایاگیا ہے: {اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾وَّ مَا ہُوَ بِالۡہَزۡلِ ﴿ؕ۱۴﴾} یعنی یہ قرآن کوئی بے مقصد کلام نہیں ہے‘ بلکہ یہ فیصلہ کن قول بن کر آیا ہے۔ اب اس کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۱۰۵ میں قرآن کا تعارف اِن الفاظ میں کرایا گیا ہے: {وَ بِالۡحَقِّ اَنۡزَلۡنٰہُ وَ بِالۡحَقِّ نَزَلَ ؕ } کہ ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔اب اسی کے ترازو میں قوموں کی تقدیریں تلیں گی اور اسی کی عدالت میں ان کے عروج و زوال سے متعلق فیصلے ہوں گے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی روایت سے نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے: حدیث((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ))۱’’اللہ تعالیٰ اسی کتاب کی بدولت بعض اقوام کو عروج پر پہنچائے گا اور اس کو ترک کر نے کی وجہ سے بعض کو قعرمذلت میں گرا دے گا۔‘‘

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا‘ باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ وفضل من تعلم حکمۃ۔

یوٹیوب پر دیکھیے