ہٰذَا ذِکۡرٌ ؕ وَ اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿ۙ۴۹﴾
’’یہ ایک ذکر ہے‘ اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
ہٰذَا ذِکۡرٌ ؕ وَ اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿ۙ۴۹﴾ جَنّٰتِ عَدۡنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الۡاَبۡوَابُ ﴿ۚ۵۰﴾ مُتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیۡرَۃٍ وَّ شَرَابٍ ﴿۵۱﴾ وَ عِنۡدَہُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ اَتۡرَابٌ ﴿۵۲﴾ ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿ؓ۵۳﴾ اِنَّ ہٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَہٗ مِنۡ نَّفَادٍ ﴿ۚۖ۵۴﴾
ہٰذَا ذِکۡرٌ ؕ وَ اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿ۙ۴۹﴾
’’یہ ایک ذکر ہے‘ اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘
جَنّٰتِ عَدۡنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الۡاَبۡوَابُ ﴿ۚ۵۰﴾
’’(یعنی) رہنے والے باغات جن کے دروازے ان کے لیے کھلے رکھے جائیں گے۔‘‘
اہلِ جنت کے لیے جنت کے دروازے کھلے رکھے جانے کا ذکر سورۃ الزمر کے آخری رکوع میں بھی آیا ہے‘ بلکہ وہاں اس حوالے سے اہل جنت اور اہل جہنم کے استقبال کا فرق اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ اہل جنت کے لیے تو جنت کے دروازے پہلے سے ہی کھلے ہوں گے۔ جیسے کسی مہمان کا انتظار کھلے دروازوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یعنی جس مہمان کا باقاعدہ انتظار ہو اس کے لیے یوں نہیں ہوتا کہ پہلے دروازہ بند ہو اور اس کے آنے پر ہی اسے کھولا جائے۔ چنانچہ جنتی مہمانوں کے لیے جنت کے دروازوں کو پہلے سے ہی کھول کر رکھا جائے گا۔ اس کے برعکس اہل جہنم کو ہانک کر جب جہنم کے دروازے پر لے جایا جائے گا تب دروازوں کو کھولا جائے گا۔ یہ اس لیے کہ جہنم کی مثال جیل کی سی ہے اور جیل کے دروازوں کو معمول کے مطابق بند رکھا جاتا ہے۔ البتہ جب کوئی نیا مجرم آتا سے تو اسے داخل کرنے کے لیے اس کے کھولنے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔
مُتَّکِـِٕیۡنَ فِیۡہَا یَدۡعُوۡنَ فِیۡہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیۡرَۃٍ وَّ شَرَابٍ ﴿۵۱﴾
’’ اس میں وہ تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے‘طلب کریں گے اس میں میوے بہت سے اورمشروبات بھی۔‘‘
وَ عِنۡدَہُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ اَتۡرَابٌ ﴿۵۲﴾
’’اور ان کے پاس ہوں گی (ان کی بیویاں) نیچی نگاہوں والی‘ان کی ہم عمر۔‘‘
ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِیَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿ؓ۵۳﴾
’’یہ کچھ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے حساب کے دن کے لیے !‘‘
اِنَّ ہٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَہٗ مِنۡ نَّفَادٍ ﴿ۚۖ۵۴﴾
’’یہ ہیں ہماری عطا کی ہوئی چیزیں‘جو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔‘‘
ہٰذَا ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیۡنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ ﴿ۙ۵۵﴾ جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۵۶﴾ ہٰذَا ۙ فَلۡیَذُوۡقُوۡہُ حَمِیۡمٌ وَّ غَسَّاقٌ ﴿ۙ۵۷﴾ وَّ اٰخَرُ مِنۡ شَکۡلِہٖۤ اَزۡوَاجٌ ﴿ؕ۵۸﴾
ہٰذَا ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیۡنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ ﴿ۙ۵۵﴾
’’(متقین کے لیے تو) یہ ہے!اور یقیناسرکشوں کے لیے لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔‘‘
جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۵۶﴾
’’(یعنی) جہنم‘جس میں وہ داخل ہوں گے‘ پس وہ بہت ہی برا بچھونا ہو گا۔‘‘
ہٰذَا ۙ فَلۡیَذُوۡقُوۡہُ حَمِیۡمٌ وَّ غَسَّاقٌ ﴿ۙ۵۷﴾
’’یہ ہے (ان کے لیے )‘ پس اس کو چکھیں‘ کھولتا ہوا پانی اور پیپ!‘‘
جہنم میں لے جا کر اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جگہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اب اس میں رہو اور اس کے عذاب کو برداشت کرو۔ اس میں ان کو کھولتے ہوئے پانی اور زخموں کے خون اور پیپ کا مزہ بھی چکھنا ہو گا۔ گویا انہیں کھانے اور پینے کے لیے ایسی چیزیں دی جائیں گی جن کو انسان کی طبیعت بہت ناگوار محسوس کرتی ہے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک!
وَّ اٰخَرُ مِنۡ شَکۡلِہٖۤ اَزۡوَاجٌ ﴿ؕ۵۸﴾
’’اور اسی طرح کی کئی دوسری چیزیں بھی۔‘‘
اور اسی طرح کی مزید خوفناک‘گندی اور بدذائقہ چیزیں بھی اہل جہنم کو کھانے اورپینے کے لیے دی جائیں گی۔
ہٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَکُمۡ ۚ لَا مَرۡحَبًۢا بِہِمۡ ؕ اِنَّہُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴿۵۹﴾ قَالُوۡا بَلۡ اَنۡتُمۡ ۟ لَا مَرۡحَبًۢا بِکُمۡ ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡہُ لَنَا ۚ فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۶۰﴾ قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا ہٰذَا فَزِدۡہُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِی النَّارِ ﴿۶۱﴾ وَ قَالُوۡا مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ ﴿ؕ۶۲﴾ اَتَّخَذۡنٰہُمۡ سِخۡرِیًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡہُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴿۶۳﴾ اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَہۡلِ النَّارِ ﴿٪۶۴﴾
ہٰذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَکُمۡ ۚ
’’یہ ایک فوج ہے جو تمہارے ساتھ دھنسی چلی آ رہی ہے۔‘‘
جہنم میں پہلے سے موجود لوگ ہر نئے آنے والے گروہ کے بارے میں یوں کہیں گے کہ ہم تو پہلے ہی یہاں انتہائی مصیبت میں ہیں۔ جگہ بھی تنگ ہے‘گرمی اور حبس بھی بہت ہے اور اوپر سے تم بھی ہمارے اوپر دھنسے چلے آرہے ہو۔
لَا مَرۡحَبًۢا بِہِمۡ ؕ
’’ان کے لیے کوئی کشادگی نہ ہو!‘‘
یعنی یہ جونئی کھیپ آ رہی ہے ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔ ’’مرحبا‘‘ کے لغوی معنی فراخی اور کشادگی کے ہیں۔ یہ کسی کو خوش آمدید کہنے کا کلمہ (greeting) ہے۔ یعنی آئیے آئیے !آپ کے لیے یہاں بہت جگہ اور ہر قسم کی سہولت موجود ہے (چشمِ ما روشن دلِ ماشاد!) لیکن ان کے لیے وہاں کوئی خیر مقدم نہیں ہو گا۔یعنی نہ تو کوئی ’’مرحبا‘‘ (خوش آمدید) کہنے والا ہو گا اور نہ ہی ’’مرحبا ‘‘کہنے کے لائق وہ ماحول ہو گا۔
اِنَّہُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴿۵۹﴾
’’یہ ہیں آگ میں گھسے آنے والے ۔‘‘
قَالُوۡا بَلۡ اَنۡتُمۡ ۟ لَا مَرۡحَبًۢا بِکُمۡ ؕ
’’وہ (نئے آنے والے) کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم ایسے ہو! تمہارے لیے نہ ہو کوئی کشادگی!‘‘
تمہارے لیے کوئی ’’مرحبا‘‘ نہیں‘ کوئی خیر مقدم اور خوش آمدید نہیں!
اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡہُ لَنَا ۚ فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴿۶۰﴾
’’تم نے ہی اسے ہمارے لیے پہلے بھیجا ہے ‘ تو یہ بہت ہی بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔‘‘
تم نے ہی ہمارے لیے یہ سارا سامان فراہم کیا ہے۔ یہ سارا تمہارا کیا دھرا ہے۔ تم ہماری پہلی نسل ہو اور تم نے ہی ہمیں گمراہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے ہی ہمیں تمام غلط عقائد اور برے اعمال سکھائے تھے۔ تمہارے کرتوتوں کے باعث اور تمہاری پیروی کرنے کی وجہ سے ہی آج ہم یہاں جہنم میں آئے ہیں۔
قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا ہٰذَا فَزِدۡہُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِی النَّارِ ﴿۶۱﴾
’’وہ کہیں گے: پروردگار ! جس نے یہ سب کچھ ہمارے لیے آگے بھیجا ہے تو اُس کے لیے عذاب کو آگ میں دوگنا بڑھا دے۔‘‘
جس نے ہمارے لیے یہ سارا سامان فراہم کیا ہے‘ جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا ہے اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے!
وَ قَالُوۡا مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ ﴿ؕ۶۲﴾
’’اور وہ کہیں گے :کیا بات ہے ہم یہاں ان کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم (دنیا میں) برے لوگوں میں شمار کرتے تھے؟‘‘
دنیا میں ہمارے ساتھ کچھ گھٹیا اور کم حیثیت لوگ بھی توتھے جو محمد (ﷺ) پر ایمان لے آئے تھے۔ وہاں ہم انہیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آج وہ لوگ یہاں جہنم میں نظر نہیں آرہے‘معلوم نہیں کہاں چلے گئے ہیں!
اَتَّخَذۡنٰہُمۡ سِخۡرِیًّا
’’کیا ہم نے انہیں خواہ مخواہ ہنسی مذاق بنا لیا تھا‘‘
یعنی کیا ہم نے ا نہیں غلط سمجھا تھا ؟اور ہم ان کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے کیا وہ سب بلاوجہ اور بے محل تھا؟ اور کیا اصل میں وہ برے لوگ نہیں تھے؟
اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡہُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴿۶۳﴾
’’یا ہماری نگاہیں ان سے چوک رہی ہیں؟‘‘
یعنی کیا وہ لوگ یہاں جہنم میں موجود ہی نہیں یا پھرہم انہیں دیکھ نہیں پا رہے۔ اہل جہنم کی یہ ساری گفتگو اہلِ ایمان کے بارے میں ہو گی جو اس وقت جنت کی نعمتوں سے فیض یاب ہو رہے ہوں گے۔
اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَہۡلِ النَّارِ ﴿٪۶۴﴾
’’یقینا یہ حق ہے اہل جہنم کے مابین جھگڑا!‘‘ تم لوگوں کو یقین رکھنا چاہیے کہ جیسے ہم یہ سب کچھ بیان کر رہے ہیں‘اُس روز اہلِ جہنم کے مابین بالکل اسی طرح سے بحث و تکرار ہو گی۔
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ٭ۖ وَّ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ۚ۶۵﴾ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۶۶﴾ قُلۡ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۶۷﴾ اَنۡتُمۡ عَنۡہُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۶۸﴾ مَا کَانَ لِیَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤی اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۶۹﴾ اِنۡ یُّوۡحٰۤی اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۰﴾
قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنۡذِرٌ ٭ۖ وَّ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ۚ۶۵﴾
’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں ‘اور نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے ‘وہ اکیلا ہے اور ہر چیز پر پوری طرح چھایا ہوا ہے۔‘‘
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۶۶﴾
’’وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے مابین ہے‘ اور وہ بہت زبردست ‘بہت بخشنے والا ہے۔‘‘
قُلۡ ہُوَ نَبَؤٌا عَظِیۡمٌ ﴿ۙ۶۷﴾
’’آپ کہہ دیجیے کہ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔‘‘
اَنۡتُمۡ عَنۡہُ مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۶۸﴾
’’تم اس سے اعراض کر رہے ہو۔‘‘
دیکھو! ہمارے یہ رسول(ﷺ) تمہارے پاس بہت بڑی اور فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں‘ لیکن تم لوگ ہو کہ مسلسل اس سے اعراض کیے جا رہے ہو۔
مَا کَانَ لِیَ مِنۡ عِلۡمٍۭ بِالۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰۤی اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۶۹﴾
’’مجھے کچھ علم نہیں ملأاعلیٰ کے بارے میں ‘جب وہ باہم بحث و تکرار کررہے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ مضمون سورۃ الزمر کی آخری آیت میں بھی آئے گا۔ فرشتے چونکہ عاقل ہستیاں ہیں اس لیے تکوینی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ مثلاً ممکن ہے کسی وقت کوئی فرشتہ کسی ملک یا قوم کے بارے میں کہتا ہو کہ اب تو ان لوگوں پر عذاب آ جانا چاہیے اور اس کے جواب میں کوئی دوسرا کہتا ہو کہ نہیں ابھی انہیں کچھ مزید مہلت ملنی چاہیے۔ آخری فیصلہ تو ہر کام میں اللہ تعالیٰ ہی کا ہوتا ہے ‘لیکن فرشتے بھی مختلف امور کے بارے میں باہم گفتگو کرتے ہیں اور اس طرح ان کی آراء میں کبھی کبھی اختلاف بھی ہو جاتا ہے۔
اِنۡ یُّوۡحٰۤی اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۰﴾
’’میری طرف تو بس یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں صرف واضح طور پر خبردار کر دینے والا ہوں۔‘‘