’’اور پرندے بھی‘جو کہ جمع کر دیے جاتے تھے۔ یہ سب کے سب اُس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔‘‘
یعنی حضرت داؤد علیہ السلام ‘پہاڑ اور پرندے سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے ‘یا یہ کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤدؑ کی طرف رجوع کرتے تھے اور پھر حضرت داؤدؑ ان سب کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ اس طرح وہ سب مل کر حضرت داؤدؑ کی آواز میں آواز ملا کر اللہ کی حمد کے ترانے الا پتے تھے۔
’’اور ہم نے اُس کی حکومت کو خوب مضبوط کیا تھا‘اور ہم نے اُسے حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بھی۔‘‘
یعنی ایسی واضح ‘فیصلہ کن اور دو ٹوک بات جو تمام مخاطبین و متعلقین کے لیے موجبِ اطمینان ہو۔
اب آگے اس سورت میں چند ایسے واقعات کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو مشکلات القرآن میں سے ہیں۔ دراصل ان واقعات کا بیان یہاں اشاروں کنایوں میں ہو ا ہے۔ تفصیلات کی تحقیق کے لیے اگر ہم تورات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو وہاں ان واقعات کے حوالے سے جو معلومات ملتی ہیں وہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے شایانِ شان نہیں ۔ یوں ہمارے لیے شش و پنج کی سی صورتِ حال بن جاتی ہے۔بہر حال ان واقعات کے مطالعے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں خطا یا لغزش کا کوئی معاملہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء و رسل علیہم السلام معصوم تھے ‘لیکن انسان تھے۔ایسا نہیں تھا کہ ان میں کبھی غلطی کا رجحان ہی پیدا نہ ہوا ہو ۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر وہ فرشتے ہوتے‘ا نسان نہ رہتے۔البتہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی بندے ہونے کے سبب تمام انبیاء و رسل علیہم السلام ہر وقت اللہ کی حفاظت میں رہتے تھے۔خود حضورﷺ کی زندگی میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ مثلاً کتب سیرت میں حضورﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ جوانی میں (ظہورِنبوت سے پہلے) دو مرتبہ ایسا ہوا کہ آپؐ نے کسی میلے میں جانے کا ارادہ کیا۔عرب میں ہر سال بہت سے ایسے میلے لگتے تھے جن میں فحش گوئی اور لہو و لعب کا سامان بھی ہوتا تھااور بے ہودہ مشاعرے بھی سجائے جاتے تھے۔ ان میلوں میں عکاظ کا بازار بہت مشہور تھا جوہر سال خصوصی اہتمام سے سجتا تھا اور اس میں شرکت کے لیے پورے عرب سے لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ روایات کے مطابق آپﷺنے دو مرتبہ ایسے کسی بازار یا میلے میں جانے کا ارادہ فرمایا‘مگر دونوں مرتبہ ایسا ہوا کہ راستے میں جہاں آپؐ آرام کے لیے رکے ‘وہاں آنکھ لگ گئی اور پھر ساری رات سوتے میں ہی گزر گئی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اس لہو و لعب میں شریک ہونے سے آپؐ کو کلیۃً محفوظ رکھا۔ اگرچہ یہ دونوں واقعات حضورﷺ کے منصبِ نبوت پر فائز ہونے سے پہلے کے ہیں‘ لیکن ایک نبی تو پیدائشی طور پر ہی نبی ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں حضورﷺ کا فرمان ہے : حدیث((کُنْتُ نَبِیًّا وَآدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ))۱’’میں اُس وقت بھی نبی تھا جبکہ آدمؑ کی روح ابھی ان کے جسد میں نہیں پھونکی گئی تھی‘‘۔ یعنی عالم ارواح میں بھی حضورﷺ کی روح مبارک کی ایک خصوصی امتیازی شان تھی۔ بہر حال آپؐ کی نبوت کا ظہور چالیس سال کی عمر میں ہوا لیکن آپؐ بچپن سے ہی براہِ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے اور اس حفاظت کا مطلب یہی ہے کہ بشری سطح پر اگر کبھی کوئی غلط ارادہ پیدا ہو بھی گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر عمل کی نوبت نہ آنے دی۔
آئندہ آیات میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس کی جوتفصیل محرف شدہ تورات میں ملتی ہے اس میں حضرت داؤد علیہ السلام پر بہت شرمناک الزامات عائد کیے گئے ہیں‘ جو عصمتِ انبیاء ؑ کے یکسر منافی ہیں۔ قرآن حکیم کے اشارات سے اصل بات یوں معلوم ہوتی ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی بہت سی بیویاں تھیں (واضح رہے کہ چار بیویوں کی پابندی شریعتِ محمدیؐ میں ہے‘ اس سے قبل ایسی کوئی پابندی نہیں تھی)۔ اس کے باوجود آپؑ کے دل میں ایک ایسی عورت سے نکاح کی رغبت پیدا ہوئی جو کسی دوسرے شخص کے نکاح میں تھی۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اس پر متنبہ فرمایا اور اس سے روکنے کی ایک صورت پیدا فرما دی۔
(۱)الاجوبۃ المرضیۃ للسخاوی : ۱/۱۶۷۔ اتحاف الخیرۃ المھرۃ : ۷/۸۔ الرد علی البکری لابن تیمیۃ :۶۰۔ مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ : ۲/۱۴۷ راوی : میسرۃ الفجر رضی اللہ عنہ۔
یہ ایک مقدمہ تھا جو دو دعویداروں نے فیصلے کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔
اِذۡ تَسَوَّرُوا الۡمِحۡرَابَ ﴿ۙ۲۱﴾
’’جب وہ دیوار پھلانگ کر محراب میں داخل ہو گئے۔‘‘
حضرت دائود علیہ السلام تنہائی میں محو عبادت تھے کہ دو اشخاص اچانک آپؑ کے حجرے میں آ دھمکے۔
آیت 22
اِذۡ دَخَلُوۡا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنۡہُمۡ
’’جب وہ داؤدؑ کے پاس آئے تو وہ ان سے ڈرا۔‘‘
تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود دو افراد کا آپؑ کی خلوت گاہ میں اچانک در آناایک انتہائی غیر معمولی واقعہ تھا۔ چنانچہ آپؑ کو بجا طور پر تشویش ہوئی کہ نہ معلوم یہ لوگ کس نیت سے آئے ہیں۔
’’یہ میرا بھائی ہے‘اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میری ایک ہی دنبی ہے۔‘‘
اگر ہم اس کی توجیہہ تورات کے مطابق کریں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مدعی نے کنائے کے انداز میں بات کی ۔وہ دراصل یہ کہنا چاہتا تھا کہ میری ایک ہی بیوی ہے جبکہ میرے مخالف کی ننانوے بیویاں ہیں۔
’’اور یقینا مشترک معاملہ رکھنے والوں میں سے اکثر ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں‘‘
قریبی رشتہ داروں کے باہمی اشتراک کو پنجابی میں ’’شریکا‘‘ کہا جاتا ہے اور شریکے والوں میں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ جس کسی کو جہاں موقع ملتا ہے وہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرنے میں نہیں چوکتا۔
’’سوائے ان لوگوں کے جو صاحبِ ایمان اور نیک عمل والے ہوں اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔‘‘
وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰہُ
’’اور دائودؑ کو اچانک خیال آیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے‘‘
حضرت داؤد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ان دو اشخاص کا ان کے پاس آنا اور آ کر مقدمہ پیش کرنا اللہ کی طرف سے تھا اور اللہ نے یہ ساری صورت حال انہیں متنبہ کرنے کے لیے پیدا فرمائی تھی ۔
’’تو اُس نے (فوراً) اپنے رب سے استغفار کیا اور اُس کے حضور جھک گیا پوری طرح متوجہ ہو کر۔‘‘
رکوع کے لغوی معنی جھکنے کے ہیں ‘لہٰذا یہاں رَاکِعًا سے رکوع بھی مراد ہو سکتا ہے اور سجدہ بھی۔
اس واقعہ کے حوالے سے جو اسرائیلی روایت دستیاب ہے اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک اثر (قول) بھی موجود ہے جس کے مرفوع ہونے کے بارے میں کوئی واضح اشارہ یا ثبوت موجود نہیں۔ ہوسکتا ہے انہوں نے حضورﷺ سے اس بارے میں سنا ہو اوریہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اسرائیلی روایت سنی ہو اور اسی کو بیان کر دیا ہو (واللہ اعلم)۔ بہر حال میری رائے اس حوالے سے یہی ہے کہ انبیاء کے معاملے میں بشری تقاضوں کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت ۵۲ ہم پڑھ چکے ہیں‘ جس میں حضورﷺ سے فرمایا گیا ہے : {لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ } ’’اس کے بعد اب مزید عورتیں آپؐ کے لیے (نکاح میں لانا) جائز نہیں اور نہ یہ کہ آپ ان کی جگہ دوسری بیویاں بدل لیں اگرچہ ان کا حسن آپ کو کتنا ہی پسند ہو!‘‘ان الفاظ میں حضورﷺ کی خواہش کے امکان کا ذکر بہت واضح انداز میں ملتا ہے کہ اگر آپؐ کی طبیعت میں کسی خاتون سے نکاح کرنے کے بارے میں آمادگی پیدا ہو بھی جائے تو بھی آپؐ ایسا نہ کریں۔ چنانچہ اس سے یہی ثا بت ہوتا ہے کہ انبیاء انسان تھے اور اُن کی شخصیات میں انسانی و بشری تقاضے بھی موجود تھے‘ لیکن اس کے باوجود بھی وہ معصوم تھے۔ اس لیے کہ اگر کبھی کسی بشری تقاضے کے تحت کسی نبی کو کوئی ایسا خیال آتا بھی تھا جو کہ نہیں آنا چاہیے تھا تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا اور اس خیال کی تکمیل کی صورت پیدا نہیں ہونے دیتا تھا۔ اسی کا نام عصمتِ انبیاء ؑہے۔
’’اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے‘ اسے بے کار پیدا نہیں کیا۔‘‘
یہ مضمون قرآن حکیم میں متعدد بار آیا ہے اور سورۂ آل عمران کی آیت ۱۹۱میں تو اسی لفظ (باطل)کے ساتھ آیا ہے:{رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾} ’’ اے ہمارے ربّ! تو نے یہ سب کچھ بے کار پیدا نہیں کیا‘تو پاک ہے ‘پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے!‘‘سورۃ المؤ منون میں یوں فرمایا گیاہے: {اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۱۱۵﴾} ’’کیا تم نے سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹا ئے نہیں جائو گے!‘‘ مطلب یہ کہ عبث اور بے کار کام کرنا اللہ کی شان سے بہت بعید ہے۔
’’کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے‘ زمین میں فساد مچانے والوں کی طرح کر دیں گے؟‘‘
ظاہر ہے دنیا میں کچھ لوگ نیکو کار ہیں جو اکثر بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہتے ہیں‘جبکہ کچھ لوگ بدمعاش‘ظالم اور شریر ہیں جو ہر وقت بد امنی پھیلانے اور لوٹ مار کرنے میں مصروف ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انسان کے لیے اسی دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہوتی اور آخرت کی زندگی نہ ہوتی تو نیک لوگ اور مجرمین ایک جیسے ہو جاتے۔ یوں نہ تو نیکی کے راستے پر چلنے‘غلط کاریوں سے بچنے اور قدم قدم پر مشکلات برداشت کرنے والوں کو کوئی جزا ملتی اور نہ ہی ان ظالموں ‘قاتلوں اور لٹیروں کو کوئی سزا ملتی جو خلق خدا پر ظلم بھی کرتے رہے اورعیش و عشرت کے مزے بھی لوٹتے رہے۔ بلکہ ایسی صورت میں نیکوں کار لوگ سخت گھاٹے میں رہتے کہ انہوں نے ساری زندگی تکلیفوں اور پابندیوں میں گزاردی اور اس کا کچھ اجر بھی انہیں نہ ملا۔ اس کے برعکس بدکردار اور بد قماش لوگ فائدے میں رہتے کہ انہوں نے عمر بھر جو چاہا کیا‘نہ جائز و ناجائز کو دیکھا اور نہ ہی خود کو کبھی قانون اور اخلاقیات (scruples) کا پابند سمجھا اور پھر اس کی پاداش میں انہیں کوئی سزا بھی نہ ملی۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہوتا کہ یہ دنیا بے کار پیدا ہوئی ہے اور انسان کی جبلت میں جو اخلاقیِ حس اور نیکی و بدی کی جو تمیز پیدا کی گئی ہے وہ بھی بے مقصد اور بے جواز ہے‘ کیونکہ اس تمیز اور حس کے مطابق تو نیکی کا نتیجہ اچھا اور برائی کا انجام برا ہونا چاہیے۔ اگر نظریاتی طور پر آخرت کی نفی ہو جائے تو یہ سب نتائج الٹے ہو جاتے ہیں۔
اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِیۡنَ کَالۡفُجَّارِ ﴿۲۸﴾
’’کیا ہم متقیوں کو فاجروں کی طرح کر دیں گے؟‘‘
کیا ہم اپنے متقی بندوں کو ان فاسقوں اور فاجروں کے برابر کر دیں گے؟
’’(اے نبیﷺ!) یہ کتاب جو ہم نے آپ پر نازل کی ہے بہت بابرکت ہے‘‘
ؑ عربی میں اَلْـبَرَکَۃ کسی چیز میں سے اُس کے خیر کو نکالنے والے عامل کو کہتے ہیں ۔ اسے سمجھنے کے لیے ایک ایسے شخص کی مثال لیں جس کے اندربالقوۃ (potentially) کوئی مثبت صلاحیت یا اہلیت موجود ہے مگر چونکہ اس کی وہ صلاحیت غیر فعال (dormant) ہے اس لیے نہ تو اسے اس کا شعور ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی واقعہ یا کسی دوسرے شخص کا کوئی عمل یا کسی کی کوئی نصیحت اسے اس صلاحیت کا احساس دلا دے اور وہ اسے بروئے کار لانا شروع کر دے تو وہ واقعہ یا عمل گویا اس کے لیے برکت کا باعث بن گیا۔ اسی مفہوم میں بارش کے پانی کو قرآن میں مَآءً مُّبٰرَکًا (قٓ:۹) کہا گیا ہے۔ اس پانی کی برکت کا مشاہدہ ہم اپنی آنکھوں سے کرتے ہیں۔زمین میں روئیدگی کی صلاحیت توبالقوہ (potentially) موجود ہے مگر خشک اور بے آب و گیاہ زمین میں مختلف قسم کے بے شمار بیج خفتہ (dormant) حالت میں بیکار پڑے رہتے ہیں۔ جب بارش کا پانی اس زمین کو سیراب کرتا ہے تواس کے اندر جذب کا عمل (osmosis) شروع ہوتا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے اس کے اندر موجود بیجوں کی قوت نمو کو انگیخت ملتی ہے‘زمین کی خفتہ قوت یا صلاحیت بھی فعال ہو جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں طرح طرح کے نباتات اُگنے لگتے ہیں۔تو اس طرح گویا خشک زمین کے لیے بارش کا پانی مبارک یا باعث برکت ثابت ہوا۔
لفظ بَرَکۃ سے متعلق اس وضاحت کی روشنی میں آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یوں ہو گا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی روح کی نشوونما کے لیے غذا فراہم کرتی ہے اور روح کے اندر موجود خیر اور نیکی کی غیرفعال (dormant) صلاحیت کو انگیخت دے کر اسے عمل صالح کے صدور کے قابل بناتی ہے۔ علامہ اقبالؔ نے انسان کو اس کی روح کی اہمیت کا احساس ان الفاظ میں دلایا ہے: ؎
’’جب اس کے سامنے پیش کیے گئے شام کے وقت عمدہ نسل کے اصیل گھوڑے۔‘‘
اس سے پہلے ہم سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے عظیم الشان لشکروں کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپؑ کے لشکروں میں انسانوں کے علاوہِ جن اور پرندے بھی تھے اوران سب کو الگ الگ رجمنٹس (regiments) اور دستوں میں منظم کیا گیا تھا۔ اسی طرح سوار فوج (cavalry) کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپؑ نے اپنے لشکر میں اعلیٰ نسل کے اصیل اور تیز رو گھوڑوں کے دستوں کا اہتمام بھی کر رکھا تھا اور اُس زمانے میں اصل فوجی طاقت یہی گھوڑے ہوا کرتے تھے۔سورۃ النمل کی متعلقہ آیات کے مطالعے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی افواج کے مختلف دستوں کے باقاعدہ معائنے (inspection parade) کااہتمام بھی فرمایا کرتے تھے: {وَ حُشِرَ لِسُلَیۡمٰنَ جُنُوۡدُہٗ مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ وَ الطَّیۡرِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾} ’’اور جمع کیے گئے سلیمان ؑ کے (معائنہ کے) لیے اس کے لشکر جنوں‘انسانوں اور پرندوں میں سے‘اس طرح کہ انہیں جماعتوں میں منظم کیا گیا تھا‘‘- چنانچہ ایسے ہی کسی معائنہ کے لیے ایک سہ پہر آپؑ کے سامنے گھوڑوں کے دستے پیش کیے گئے ۔ اس مصروفیت میں حضرت سلیمان ؑایسے مشغول ہوئے کہ سورج غروب ہو گیا اور آپؑ کی نمازِ عصر قضا ہو گئی‘ جیسے غزوۂ احزاب کے موقع پر حضورﷺ کی بھی نمازِ عصر قضا ہو گئی تھی۔ اس پر حضورﷺ نے کافروں پر بایں الفاظ بددعا فرمائی تھی: حدیث((مَلأَ اللّٰہُ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا))۱’’اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے‘‘۔بہر حال گھوڑوں کی مشغولیت کی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی نمازِ عصر قضا ہو گئی جس کا آپؑ کو بے حد افسوس ہوا۔
(۱)صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب الدعاء علی المشرکین بالھزیمۃ والزلزلۃ۔ وصحیح مسلم‘ کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ‘ باب التغلیظ فی تفویت صلاۃ العصر۔
’’تو اُس نے کہا کہ میں نے پسند کر لیا مال کی محبت کو اپنے رب کے ذکر کے مقابلے میں!‘‘
حُبَّ الْخَیْرِ سے مال و دولت یعنی گھوڑوں کی محبت مراد ہے کہ میں گھوڑوں کی محبت میں اس قدر مشغول ہو گیا کہ اپنے رب کے ذکرکو بھول گیا۔اپنے ربّ کی یاد سے غافل ہو گیا۔
حَتّٰی تَوَارَتۡ بِالۡحِجَابِ ﴿ٝ۳۲﴾
’’یہاں تک کہ (سورج) چھپ گیا اَوٹ میں۔‘‘
یہاں پر تَوَارَتْ کے بعد الشَمْس (سورج) کا لفظ گویا محذوف ہے۔
’’(تو اُس نے کہا :) واپس لاؤ ان کو میرے پاس!تو اب وہ لگا تلوار مارنے ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر۔‘‘
یعنی آپؑ کو نماز قضا ہونے کا اس قدر افسوس تھا کہ آپؑ نے گھوڑوں کو واپس منگوایا اور شدید تاثراور مغلوبیت کی کیفیت میں ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر تلوار سے وار کرنا شروع کر دیے۔ یہاں پر بعض مفسرین نے مَسْحًاسے ’’ہاتھ پھیرنا‘‘ مراد لے کر آیت کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دراصل گھوڑوں کی کارکردگی سے خوش ہو کر انہیں واپس منگوایا تھا اور جب گھوڑے واپس لائے گئے تو آپؑ ان کی گردنوں اور ٹانگوں کو پیار سے سہلاتے رہے ‘یعنی ان سے اظہارِ محبت کے طور پر ان پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ لیکن آیت کے الفاظ اور سیاق و سباق کے مطابق پہلا مفہوم ہی درست معلوم ہوتا ہے۔
یہاں پر اس نکتہ کی وضاحت بھی بہت ضروری ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا مذکورہ عمل دراصل غلبہ حال کے تحت تھا۔ جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد میں رسول اللہﷺ کی شہادت کی خبر سن کر تلوار پھینک کر بیٹھ گئے تھے کہ اب کس کے لیے لڑنا ہے؟ حالانکہ اُنؓ کا جہاد و قتال تو اللہ کے لیے تھا ‘نہ کہ حضرت محمد ﷺ کے لیے ۔ اسی طرح حضورﷺ کے انتقال کے موقع پر بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غلبۂ حال کے سبب تلوار کھینچ لی کہ جس کسی نے کہا کہ حضورؐ انتقال کر گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اس انتہائی نازک صورتِ حال کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سنبھالا۔ آپؓ نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَد مَاتَ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ ’’جو کوئی محمدﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمدﷺ کا انتقال ہو چکا ہے اور جو کوئی اللہ کی بندگی کرتا تھا تو وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت واقع نہیں ہو گی‘‘۔ اس کے بعد آپؓ نے سورۂ آلِ عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ } (آیت۱۴۴)۱ ۔ بہرحال غلبۂ حال کی کیفیت میں کبھی کبھی بڑی شخصیات سے بھی غیر معمولی افعال اور غیر متوقع رویے کا صدور ہوجاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنی نماز قضا ہونے کے رنج میں غلبۂ حال کی غیر معمولی کیفیت کے تحت گھوڑوں پر تلوار سے وار کرنا بعید از فہم نہیں ہے۔
(۱)صحیح البخاری‘ کتاب المغازی‘ باب مرض النبیﷺ اور دیگر ابواب۔
’’اور (اسی طرح) ہم نے آزمائش میں ڈالا سلیمانؑ کو‘اور اس کے تخت پر ہم نے ایک جسد ڈال دیا‘پھر اُس نے رجوع کیا۔‘‘
اس واقعہ کے بارے میں ایک مرفوع حدیث موجود ہے۔ واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنے سپہ سالاروں سے غصے کی کیفیت میں کہا کہ تم مت سمجھو کہ میرا اقتدار اور میری طاقت تم لوگوں کے بل پر قائم ہے ۔ میں آج رات اپنی تمام بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ان سب سے بیٹے پیدا ہوں گے جو بڑے ہو کر میرے دست بازو بنیں گے۔ لیکن آپؑ یہ کہتے ہوئے ’’ان شا ء اللہ‘‘ کہنا بھول گئے۔ چنانچہ آپؑ کی تمام ازواج میں سے صرف ایک کو حمل ہوا اور اس حمل سے بھی ایک ناقص الخلقت بچہ پیدا ہوا جو دایہ نے لا کر آپؑ کے تخت پر رکھ دیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو بات کہی تھی اس کا شاید دربار میں چرچا بھی ہو گیا تھا‘ چنانچہ اس موقع پر انہیں سبکی بھی اٹھانی پڑی۔
ایسا ہی معاملہ ایک مرتبہ حضورﷺ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ آپؐ سے مشرکین مکہ نے اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں کو ان کے بارے میں کل بتاؤں گا۔ مگر یہ کہتے ہوئے آپؐ ’’ان شاء اللہ ‘‘کہنا بھول گئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام روزانہ ہی آپ ؐکے پاس آتے تھے اور آپؐ کا خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ راہنمائی کے لیے وحی بھیج دیں گے‘ مگر اس کے بعد کئی روز تک وحی نہیں آئی۔ ظاہر ہے یہ صورتِ حال آپ ﷺکے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔ مشرکین بار بار آپؐ کے پاس آکر مطالبہ کرتے ہوں گے اور تالیاں پیٹتے ہوں گے کہ کیا ہوا آپؐ کے علم کو؟ اور کہاں رہ گئی آپؐ کی وحی؟پھر جب کئی روز کے بعد سورۃ الکہف نازل ہوئی تو اس میں مذکورہ سوالات کے جوابات کے ساتھ یہ آیات بھی نازل ہوئیں: {وَ لَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ۲۳﴾اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ۫ وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیۡتَ وَ قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّہۡدِیَنِ رَبِّیۡ لِاَقۡرَبَ مِنۡ ہٰذَا رَشَدًا ﴿۲۴﴾} ’’اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہیں کہ میں یہ کام کل ضرور کر دوں گامگر یہ کہ اللہ چاہے! اور اپنے رب کو یاد کر لیاکیجیے جب آپ بھول جائیں اور کہیے :ہو سکتا ہے کہ میرا رب میری راہنمائی کر دے اس سے بہتر بھلائی کی طرف۔‘‘
ایسے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے مقرب بندوں کا چھوٹی چھوٹی فروگزاشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواخذہ ہوتا ہے ‘جبکہ عام لوگوں کی بڑی بڑی غلطیوں کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔بہر حال حضرت سلیمان علیہ السلام مذکورہ بات کہتے ہوئے ’’ان شا ء اللہ‘‘ کہنا بھول گئے۔ بلکہ روایت میں تو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر فرشتے نے آپؑ کو یاد بھی کرایا مگر جذبات کی کیفیت میں آپؑ اس کا اہتمام نہ کر سکے۔ البتہ تنبیہہ کے بعد پر آپؑ نے فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیا۔
’’اُس نے دعا کی :پروردگار!مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی اور کے لیے سزاوار نہ ہو‘یقینا تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔‘‘
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی یہ دعا قبول فرماتے ہوئے آپؑ کوِ جنوں‘پرندوں اور ہواؤں پر بھی حکومت عطا فرمائی اور ایسی حکومت آپؑ کے بعد پھر کسی اور کو نصیب نہ ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اور آپؑ کے والد حضرت داؤد علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے جو خصوصی انعامات اور احسانات فرمائے تھے ان کے بارے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جذباتِ شکر کا اظہار آپؑ کی اس دعا سے بھی ہوتا ہے: {وَ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹﴾} ( النمل) ’’اور اُس نے دعا کی: پروردگار!مجھے توفیق دے کہ میں شکر ادا کروں تیری اس نعمت کا جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور یہ کہ میں اچھے اعمال کروں جن سے تو راضی ہو‘اور مجھے داخل کرنااپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں ۔‘‘
’’اور سرکشِ جنات کو بھی (ہم نے مسخر کر دیا تھا)سب کے سب عمارتیں بنانے والوں اور غوطہ خوروں کو۔‘‘
حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے یہ جنات بڑی بڑی عمارتیں بناتے تھے اور سمندر کی تہہ سے موتی اور دیگر اشیاء نکالتے تھے-------- بَنَّـائ کے معنی معمار کے ہیں۔ حسن البناء شہید رحمہ اللہ علیہ بھی اسی وجہ سے ’’البناء‘‘ کہلاتے تھے کہ ان کا تعلق ایک معمار خاندان سے تھا۔ عرب معاشرے میں کسی بھی پیشے کو حقیر یا باعث عار نہیں سمجھا جاتا۔ بقول غالب ؏
’’پیشے کو عیب نہیں‘رکھیے نہ فرہاد کو نام!‘‘
چنانچہ عربوں کے ہاں اگرکسی شخص کے آباء و اَجداد حرم میں لوگوں کو پانی پلایا کرتے تھے تووہ آج بھی ’’سقّاء‘‘ کہلاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کا تعلق نانبائیوں کے خاندان سے ہے تو وہ ’’خباز‘‘ کہلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔
’’اور دوسرےِ جنات کو بھی جو جکڑے ہوئے تھے زنجیروں میں ۔‘‘
یعنی کچھ جنات کو تو آپؑ نے کام پر لگایا ہوتا تھا جبکہ بعض دوسروں کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا تھا کہ کہیں اچانک ضرورت پڑنے پر ان سے کام لیا جا سکے۔
’’یہ ہماری عطا ہے‘پس تم چاہو تو لوگوں پر احسان کرو یا اپنے پاس روکے رکھو‘ اس پر کوئی حساب نہیں۔‘‘
ہم نے سلیمانؑ سے کہہ دیا تھا کہ ہم نے جو نعمتیں تمہیں عطا کر رکھی ہیں ان میں سے جو چاہو لوگوں میں تقسیم کرو اور جو چاہو اپنے پاس رکھو۔ نیز جس کو چاہو دو اور جس کو چاہو نہ دو۔ اس معاملے میں آپؑ سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔
’’اور ذرا یادکیجیے ہمارے بندے ایوبؑ کو ‘جبکہ اُس نے پکارا اپنے رب کو کہ مجھے شیطان نے شدید بیماری اور تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اور ان کا صبر مشہور ہے۔ آپؑ کسی جلدی مرض میں مبتلا ہو گئے تھے جس کی وجہ سے آپؑ کا سارا جسم گل گیا تھا۔ مال و دولت بھی سب جاتا رہا‘ اعزہ و اقرباء منہ موڑ گئے‘ آل و اولاد میں سے کچھ فوت ہو گئے اور کچھ آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ آخر کار ایک بیوی ساتھ رہ گئی تھی جو اس بیماری سے اکتانے لگی۔ (واضح رہے کہ شر یا ایذاوغیرہ کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ مراد نہیں کہ شیطان کو تکلیف پہنچانے کی قدرت حاصل ہے۔) آپؑ نے انتہائی کس مپرسی کی حالت میں مذکورہ بالا دعا کی تو جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’ذرا اپنا پاؤں زمین پر مارو ‘یہ (چشمہ جو جاری ہو اہے) ٹھنڈا پانی ہے غسل کے لیے ہے اور پینے کے لیے۔‘‘
آپؑ کے ایڑی مارنے پر زمین سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ اُبل پڑا۔ اس پانی میں اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے لیے ایسی شفا رکھ دی کہ اس سے نہانے اور ا س کو پینے سے آپؑ صحت یاب ہو گئے۔ ممکن ہے اس پانی میں گندھک کے اثرات ہوں۔ ایسے چشمے بعض مقامات پر آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں جن میں نہانے سے جلدی امراض کے مریض شفایاب ہو جاتے ہیں۔
’’اور تم لے لو اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا‘تو اس سے ایک ضرب لگا دو‘اور قسم نہ توڑو!‘‘
حضرت ایوب علیہ السلام کسی موقع پر اپنی بیوی سے ناراض ہو ئے توآپؑ نے غصے میں قسم کھا لی کہ آپؑ انہیں سو کوڑے ماریں گے۔ اب جب کہ آپؑ صحت مند ہو گئے تو آپؑ فکر مند تھے کہ اب قسم پوری کرنے کی کیا ترکیب کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کی راہنمائی کرتے ہوئے ایک طریقہ بتا دیا کہ آپؑ سو تنکے لے کر ان کو باندھ کر ایک جھاڑو سا بنا لیں اور اس سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگا دیں۔ اس طرح آپؑ کی قسم پوری ہو جائے گی اور آپؑ کی اہلیہ کو تکلیف بھی نہیں ہو گی۔
’’ہم نے ان کو خالص کر لیا تھا ایک خالص شے ‘یعنی آخرت کے گھر کی یاد دہانی کے لیے ۔‘‘
ان لوگوں کی زندگی کا ایک یہی مقصد تھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو آخرت کی زندگی کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔ اس حوالے سے یہ بات میں بارہا عرض کر چکا ہوں کہ اللہ کا جو بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اسے دنیا کے مال و دولت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ زندگی میں اگر اس کا کوئی ہدف ہوتا ہے تو بس یہی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے‘انہیں آخرت کے برے انجام سے بچائے۔ پھر اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی ہدف کے لیے صرف ہوتا ہے اور اس کی تمام تر صلاحیتیں اسی مشن کے لیے وقف ہو جاتی ہیں۔ حضرت شیخ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ علیہ تو لاہور اس وقت تشریف لائے تھے جب یہ علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہو چکا تھا ‘لیکن حضرت معین الدینؒ نے اس شہر کو اپنا ٹھکانہ بنایا جو اس وقت مکمل طور پر کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ بہر حال آپؒ اپنا گھر بار چھوڑ کر کوئی کاروبار کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے آئے تھے اور یہی آپؒ کی زندگی کا مقصد اور مشن تھا۔
’’اور یقینا وہ ہمارے نزدیک چنے ہوئے اور نیک لوگوں میں سے ہیں۔‘‘
گویا جو شخص لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے اور اس کے دین کی دعوت کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیتا ہے اور اس کا جینا مرنا اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے ‘وہ اللہ کے نزدیک مُصْطَفَیْن (چنیدہ اور برگزیدہ افراد) میں سے ہو جاتا ہے۔
’’اور ذکرکیجیے اسماعیل ؑ الیسع ؑاور ذوالکفل ؑکا‘یہ سب بھی بہت عمدہ لوگوں میں سے تھے۔‘‘
حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل علیہما السلام کے بارے میں آج ہمیں یقینی معلومات میسر نہیں۔سورۃ الانبیاء (آیت ۸۵) کی تشریح کے ذیل میں مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کا یہ خیال نقل کیا گیا تھا (اور مجھے اس سے کسی حد تک اتفاق ہے)کہ قرآن میں ذو الکفل ؑکے نام سے جس پیغمبر کا ذکر ہوا ہے وہ دراصل گوتم بدھ تھے۔ ان کا اصل نام سدھارتا تھا۔ ’’گوتم بدھ‘‘یا ’’گو تمابدھا ‘‘ان کا لقب تھا جو بعد میں مشہور ہوا۔ آپ ریاست ’’کپل وستو‘‘ کے ولی عہد تھے۔ چنانچہ جن محققین کا خیال ہے کہ قرآن میں ذوالکفل کے نام سے گوتم بدھ ہی کا ذکر ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ ’’کفل ‘‘دراصل ’’کپل ‘‘ہی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ یعنی ہندی ’’پ‘‘ کی جگہ عربی کی ’’ف‘‘ نے لے لی ہے اور اس طرح گویا ذوالکفل کے معنی ہیں ’’کپل (ریاست) والا۔‘‘ ٭
٭ سورۃ الانبیاء (آیت ۸۵) کی تشریح میں حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا بایں طور تذکرہ ملاحظہ کرنے کے بعد ’’بیان القرآن‘‘ کے ایک قاری نے توجہ دلائی ہے کہ جنوبی عراق میں(نجف اور الہلہ کے درمیان) ’’الکفل‘‘ نام کا ایک قصبہ موجود ہے‘ جہاں ایک مزار کو حضرت ذوالکفل علیہ السلام کی قبرسے موسوم کیا جاتا ہے۔ واللہ اعلم! (حاشیہ از مرتب)