سورۂ صٓ قرآن حکیم کی ان تین سورتوں میں سے ایک ہے جن کا آغاز ایک ’’حرفِ مقطعہ ‘‘سے ہوتا ہے۔ باقی دو سورتیں سورۂ قٓ ا ورسور ۂ نٓ ہیں۔ سورۂ صٓ کا تعلق مکی سورتوں کے جس گروپ سے ہے اس میں شامل تمام سورتوں کا مرکزی مضمون ’’توحید ‘‘ہے۔ سورۂ قٓ ان دو گروپس کی ابتدائی سورت ہے جن میں شامل سورتوں کا مرکزی مضمون آخرت اورانذارِ آخرت ہے‘ جبکہ سورۂ نٓ (سورۃ القلم) بالکل ابتدائی دور کی سورت ہے۔
یہاں پر پہلے حرف یعنی صٓ پر آیت مکمل نہیں ہوئی بلکہ یہ حرف پہلی آیت کا حصہ ہے۔ اسی طرح سورۂ قٓ اور سورۂ نٓ کے آغاز میں بھی ایک ایک حرف ہے اور ان دونوں سورتوں میں بھی ایسا ہی ہے کہ اکیلا حرف پہلی آیت کا حصہ ہے نہ کہ الگ مستقل آیت۔البتہ کئی سورتوں میں آغاز کے دو حروف پر آیت مکمل ہو جاتی ہے۔ مثلاً طٰہٰ‘ یٰسٓ اور حٰمٓ مستقل آیات ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسی سورتیں بھی ہیں جن کے آغاز میں تین تین حروف مقطعات ہیں لیکن وہ حروف الگ آیت کی حیثیت سے نہیں بلکہ پہلی آیت کا حصہ ہیں۔ مثلاً الٓــــرٰ ۔اس کے برعکس بہت سی سورتوں کے آغاز میں تین حروف مقطعات ایک مکمل آیت کے طور پر بھی آئے ہیں‘ مثلاً الٓـــــمّٓ۔ یہاں ان مثالوں سے دراصل یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ قرآن کے یہ معاملات توقیفی (حضورﷺ کے بتانے پر موقوف) ہیں‘ کسی کے اجتہاد یا گرامر کے کسی اصول سے ان کا تعلق نہیں ہے۔ ’’بیان القرآن‘‘ کے آغاز میں تعارفِ قرآن کے عنوان کے تحت اس موضوع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
جہاں تک سورۂ صٓ کی پہلی آیت کے مضمون کا تعلق ہے اس میں ’’ذکر والے‘‘ قرآن کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس سے پہلے ہم کئی ایسی آیات بھی پڑھ چکے ہیں جن میں قرآن کو ’’الذِّکْر‘‘ یا ’’ذِکْر‘‘ کہا گیا ہے۔ سورۃ الحجر کی یہ آیت اس حوالے سے بہت اہم ہے: {اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾} ’’یقینا ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں‘‘۔ سورۃ الانبیاء میں فرمایا گیا: {لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ کِتٰبًا فِیۡہِ ذِکۡرُکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾} ’’(اے لوگو!) اب ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے‘اس میں تمہارا ذکر ہے ‘تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے!‘‘بہر حال ’’ذکر ‘‘کے معنی یاددہانی کے ہیں۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ میں القرآن ذی الذکرکا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن یاد دہانی (reminding) کا حامل ہے‘ یاد دہانی سے معمور ہے۔
قرآن کی قسم کے بارے میں یہاںایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس قسم کا ’’مقسم علیہ ‘‘ محذوف ہے۔ یعنی ذکر والے قرآن کی قسم کس بات پر کھائی گئی ہے ‘اس کا ذکر نہیں ہے۔ اس نکتہ کی وضاحت قبل ازیں سورۂ یٰسٓ کی آیت ۳ کے تحت یوں کی جا چکی ہے کہ قرآن میں جہاں جہاں بھی قرآن کی قسم کے بعد اس قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے‘ ان تمام مقامات پر سورۂ یٰسٓ کی آیت ۳ ہی کو ان تمام قسموں کا مقسم علیہ تصور کیا جائے گا۔سورۂ یٰسٓ کے آغاز میں قرآن کی قسم اور اس قسم کے مقسم علیہ کا ذکر یوں ہوا ہے: {یٰسٓ ۚ﴿۱﴾وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾} ’’ یٰسٓ ‘قسم ہے قرآن حکیم کی(کہ اے محمدﷺ) یقینا آپ مرسلین میں سے ہیں‘‘ ۔چنانچہ آیت زیر مطالعہ کے بعد بھی اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ کے کلمات کو محذوف مانتے ہوئے پورے جملے کا مفہوم یوں تصور کیا جائے گا: ’’اے محمد (ﷺ) یہ ذکر والا قرآن گواہ ہے کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
’’لیکن جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے وہ غرور اور ضد میں مبتلا ہیں۔‘‘
ان لوگوں نے رسول اللہﷺ کے مقابلے میںِ ضدم ضدا ایک موقف اختیار کر لیا ہے اور اب غرور اور جھوٹی اَنا کی وجہ سے اس پر اَڑے ہوئے ہیں۔
آیت 3
کَمۡ اَہۡلَکۡنَا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ
’’کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے‘‘
فَنَادَوۡا وَّ لَاتَ حِیۡنَ مَنَاصٍ ﴿۳﴾
’’تو (عذابِ الٰہی کے وقت) وہ لگے چیخنےِ چلانے‘حالانکہ تب خلاصی کا وقت نہیں رہا تھا۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور قانون کے مطابق کسی شخص کی موت کے آثار ظاہر ہونے کے بعد اس کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب کسی قوم پر عذاب کے آثار ظاہر ہو جائیں تو اس وقت ان لوگوں کی اجتماعی توبہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اس قانون سے پوری انسانی تاریخ میں صرف قومِ یونس ؑکو استثناء ملا تھا‘ جس کا ذکر سورۂ یونس کی آیت ۹۸ میں آیا ہے۔
یہ بہت سخت الفاظ ہیں ‘لیکن قرآن نے مشرکینِ مکہ کے قول کے طور پر انہیں جوں کا توں نقل کیا ہے۔ ان الفاظ سے دراصل حضورﷺ کی مخالفت کی اس کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے جو اس سورت کے نزول کے وقت مکہ کے ماحول میں پائی جاتی تھی۔ اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے یہ معلومات اپنے حافظے میں پھر سے تازہ کر لیں کہ مکی سورتوں کے پچھلے گروپ کی آٹھ سورتیں (الفرقان تا السجدۃ) اور زیر مطالعہ گروپ کی تیرہ سورتیں (سبا تا الاحقاف) ۴ نبویؐ سے ۸ نبویؐ کے زمانے میں نازل ہوئیں۔ ان میں سے سورۃ الصّٰفّٰت البتہ اس دور کی سورت نہیں ہے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آیات ( پانچ رکوعوں میں ۱۸۲ آیات ہیں اور ایک رکوع میں ۵۳ آیات بھی ہیں)اور تیز ردھم سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ ابتدائی دور کی سورت ہے۔بہر حال ان سورتوں کا نزول جس دور (۴ تا ۸ نبویؐ) میں ہوا ‘اس دور میں حضورﷺ کی مخالفت بہت شدت اختیار کر چکی تھی اور اسی نسبت سے آپؐ پر ہونے والے حملوں کی نوعیت میں بھی تبدیلی آ چکی تھی۔ ابتدا میں تو اکثر لوگوں نے آپؐ کی باتوں پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا تھا۔ اس لیے اس زمانے میں اگر کوئی شخص آپؐ کی شان میں گستاخی کرتا تو وہ آپؐ کو مجنون وغیرہ کہہ دیتا‘ بلکہ ابتدا میں تو بعض لوگوں کے ہاں اس حوالے سے آپؐ کے ساتھ ہمدردی کا انداز بھی پایا جاتا تھا۔ اُس وقت بعض لوگ توواقعی سمجھتے تھے کہ غارِ حرا میں راتیں گزارنے کی وجہ سے آپؐ پر کوئی آسیب وغیرہ آ گیا ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ عتبہ بن ربیعہ نے آپؐ سے بہت ہمدردی کے انداز میں کہا تھا کہ اے میرے بھتیجے! عرب کے بہت سے کاہنوں اور عاملوں کے ساتھ میرے تعلقات ہیں‘اگر تم کہو تو میں ان میں سے کسی کو بلا کر تمہارا علاج کرا دوں۔البتہ جب مشرکین مکہ نے دیکھا کہ وہ آواز جس کو وہ محض ایک شخص کی پکار سمجھتے تھے اب گھر گھر میں گونجنے لگی ہے اور جس تحریک کو انہوں نے ایک مشتِ غبار سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا اب وہ ایک طوفان کا روپ دھار کر ان کے پورے معاشرے کو زیر و زبر کرنے والی ہے تو ان کی مخالفت میں بتدریج شدت آتی گئی۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ (سٰحِرٌ کَذَّابٌ) ایسے ہی شدید مخالفانہ جذبات کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔
’’اور چل پڑے ان کے سردار (یہ کہتے ہوئے) کہ چلو جاؤ اور جمے رہو اپنے معبودوں پر‘یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔‘‘
یہ آیت لفظی تصویر کشی (word picture) کا خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہے ۔ ان الفاظ کو پڑھنے کے بعد مکہ کے مخصوص ماحول میں ایک مجمع کا نقشہ نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے‘ جس سے رسول اللہﷺ خطاب فرما رہے ہیں۔ مجمع میں عام لوگوں کے ساتھ قریش کے چند سردار بھی موجود ہیں۔ سب لوگ حضورﷺ کی باتیں بڑے دھیان سے سن رہے ہیں‘ مگر تھوڑی دیر کے بعد ان کے سردار یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل پڑتے ہیں کہ چلو چلو یہاں سے! تم لوگ کہاں کھڑے ہو؟ کس کی باتیں سن رہے ہو؟ کیا ان کے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے؟ چھوڑو ان باتوں کو اور جاؤ اپنا اپنا کام کرو! اور سنو‘ ان باتوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان سب باتوں کے پیچھے ضرور ان کا کوئی مفاد پوشیدہ ہے۔ یہ دعوت تو اس غرض سے دی جارہی ہے کہ محمد (ﷺ) یہاں اپنا اقتدار قائم کر کے ہم پر حکم چلانا چاہتے ہیں۔ اس لیے تم اپنے عقائد اور اپنے معبودوں کی پرستش پر مضبوطی سے جمے رہو اور ان باتوں پر دھیان مت دو!
’’ ہم نے ایسی کوئی بات پچھلے دین میں تو نہیں سنی ہے۔‘‘
آخر ہمارابھی اپنا ایک دین ہے جو ہم نے ورثے میں پایا ہے۔ پھر ہمارے باپ دادا کی روایات ہیں جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہیں۔ لیکن ہم نے ایسی باتیں اس سے پہلے نہ تو اپنے باپ دادا کے دین میں سنی ہیں اور نہ ہی پرانی روایات سے ان کی تصدیق ہوتی ہے۔
اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا اخۡتِلَاقٌ ۖ﴿ۚ۷﴾
’’یہ تونہیں ہے مگر ایک گھڑی ہوئی چیز۔‘‘
اختلاق
’’خلق‘‘ سے باب افتعال ہے ۔ یعنی یہ کوئی خواہ مخواہ بنائی ہوئی چیز ہے۔
آیت 8
ءَ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ الذِّکۡرُ مِنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ
’’کیا اسی پر نازل ہوا ہے یہ ذکر ہمارے درمیان؟‘‘
اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہے تو کیا یہ محمد (ﷺ) پر ہی نازل ہونا تھا ‘کیا اس کے لیے اللہ کو ہمارے بڑے بڑے سردار وں اور سرمایہ داروں سے کوئی ’’اعلیٰ شخصیت ‘‘ نظر نہیں آئی؟
بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ ذِکۡرِیۡ ۚ
’’بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ میرے ذکر کے معاملے میں شک میں پڑ گئے ہیں ۔‘‘
بَلۡ لَّمَّا یَذُوۡقُوۡا عَذَابِ ؕ﴿۸﴾
’’بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔‘‘
اصل بات یہ ہے کہ ابھی تک انہوں نے میرے کسی عذاب کی مار نہیں چکھی‘اس لیے انہیں میرے اس کلام کے بارے میں شک ہے۔
’’کیا ان کے پاس ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اُس سب کی؟‘‘
فَلۡیَرۡتَقُوۡا فِی الۡاَسۡبَابِ ﴿۱۰﴾
’’تو چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر( آسمان پر)۔‘‘
اگر تمہارے لیے ممکن ہے تو اپنے تمام وسائل و ذرائع بروئے کار لا کر آسمان پر چڑھ جاؤ اور ربّ العالمین کی رحمت کے خزانوں اور اس کے اقتدار واختیارمیں تصرف کر کے دکھاؤ!
’’یہ بھی ایک لشکر ہے (پہلے ہلاک کیے گئے) لشکروں میں سے‘جواَب یہاں ہلاک ہو گا۔‘‘
اگلی آیات میں قومِ نوحؑ‘قومِ ہودؑ‘ قومِ لوطؑ‘قومِ شعیب ؑاور آلِ فرعون کے عبرتناک انجام کا ذکر ہے۔ مطلب یہ کہ جو روش اختیار کر کے ماضی کی یہ اقوام ہلاکت سے دو چار ہوئیں‘وہی روش اب قریشِ مکہ بھی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی مذکورہ اقوام جیسے انجام سے دو چار ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔
’’ان سے پہلے جھٹلایا تھا قومِ نوحؑ‘قومِ عاد اور میخوں والے فرعون نے۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ فرعون جب اپنے لشکروں کے ساتھ سفر کرتا تھا تو گھوڑوں اور خچروں کی ایک کثیر تعداد کو صرف خیموں کے کھونٹے اٹھانے کے لیے مختص کیا جاتا تھا‘اس لیے اسے فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ کہا گیا ہے۔ اس میں کثرتِ افواج کی طرف اشارہ ہے۔
’’اور یہ لوگ بھی اب منتظر نہیں ہیں مگر صرف ایک چنگھاڑ کے جس میں کوئی وقفہ نہیں ہو گا۔‘‘
ماضی کی کئی اقوام پر اللہ کا عذاب ایک مسلسل تیز آواز اور چنگھاڑ کی صورت میں بھی آیا تھا۔ چنانچہ اگر مشرکینِ مکہ اپنی ہٹ دھرمی پر اسی طرح قائم رہے تو ایسا ہی کوئی عذاب ان پر بھی آ سکتا ہے۔ آج کی سائنس بھی تصدیق کرتی ہے کہ صوتی لہریں (sound waves) چونکہ انرجی ہی کی ایک قسم ہے ‘اس لیے ایک انتہائی زور دار آواز کسی بھی مادی نظام کو درہم برہم کرنے اور ماحول میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم کو ہلاک کرنا چاہے تو یہ کام وہ صرف ایک زور دار آواز سے ہی کر سکتا ہے۔
’’اور وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب !ہمارا حصہ تو ہمیں جلدی دے دے ‘یومِ حساب سے پہلے۔‘‘
یعنی توہمارا حساب روزِ حساب سے پہلے ہی چکا دے! قِطّ کے معنی حصہ بھی ہیں اور یہ حساب کے رجسٹر (چٹھا) کے لیے بھی بولاجاتا ہے‘ جس میں کسی کاروبار کی آمدن اور خرچ کا سالانہ حساب کتاب لکھا جاتا ہے اور اس سے اس کاروبار کی سالانہ بچت یا نقصان کا پتا چلتا ہے۔
یہ بات مشرکین مکہ استہزائیہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ یہ جو محمد (ﷺ) ہمیں ڈراتے رہتے ہیں کہ ہمیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا ‘پھرہمارے ایک ایک عمل کا حساب ہو گا اور اس کے بعد ہمیں سزا دی جائے گی ‘تو اے ہمارے پروردگار! اس کے لیے یومِ حساب ہی کا انتظار کیوں؟ یہ کام ابھی کیوں نہ ہو جائے! اس لیے بہتر ہو گا کہ تو ہمارا حساب کتاب ابھی کر لے اور ہمارا چٹھا (Balace Sheet) ابھی اسی زندگی میں ہی ہمارے ہاتھ میں تھما دے۔