’’اور ہمیں پکارا تھا نوحؑ نے‘تو ہم کیا ہی اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں!‘‘
حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر سورۃ القمر میں ان الفاظ میں ہوا ہے: {فَدَعَا رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَغۡلُوۡبٌ فَانۡتَصِرۡ ﴿۱۰﴾} یعنی اُس نے ربّ سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہو گیا ہوں‘ انہوں نے مجھے دبا لیا ہے‘ اب تو ہی میری مدد فرما اور تو ہی ان سے میرا بدلہ لے!چنانچہ اللہ کی مدد آ گئی۔
’’اور ہم نے نجات دی اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو کربِ عظیم سے۔‘‘
یہ ’’کربِ عظیم‘‘ کیا تھا؟ اس کو سمجھنے کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور معاشرے کے حالات کی تصویر ذہن میں لائیے۔ چشم تصور سے دیکھئے کہ کس طرح اللہ کا ایک بندہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہے۔ اس کے لیے وہ دن دیکھتا ہے نہ رات۔ اجتماعی دعوت بھی دے رہا ہے‘انفرادی ملاقاتیں بھی کر رہا ہے‘ ہر موقع آزما رہا ہے‘ ہر ذریعہ اور ہر طریقہ بروئے کار لا رہا ہے‘ جبکہ جواب میں اس کی اپنی قوم کے لوگ مسلسل اس سے استہزاء کررہے ہیں‘اس کا تمسخر اڑا رہے ہیں اور اس پر پھبتیاں کس رہے ہیں۔ اس جان لیوا جدوجہد میں دس بیس یا پچاس برس تک نہیں‘پورے ساڑھے نو سو سال تک اپنی جان کو گھلاتے چلے جانا اور اس کے جواب میں قوم کے مخالفانہ رویے کا سامنا کرنا اور پھراس مخالفت پر صبر کرنا کوئی معمولی کرب اور ضیق نہیں تھا۔
اسی طرح کے کرب اور ضیق کا سامنا محمد رسول اللہﷺ کو مکی دور میں اُس وقت کرنا پڑا تھا جب مشرکین بار بار کسی معجزے کا مطالبہ کر کے آپؐ پر گویا اتمامِ حجت کر رہے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہمیں ایسے معجزات دکھائیں جیسے حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ نے اپنی قوموں کو دکھائے تھے۔ اس حوالے سے آپؐ پر عوام کا دبائو مسلسل بڑھتا جا رہا تھا‘ جبکہ اللہ کا فیصلہ اس حوالے سے یہ تھا کہ اس طرح کا کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ اس صورتِ حال میں آپﷺ گویا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ چکے تھے۔ سورۃ الانعام کے مطالعے کے دوران حضورﷺ کے اس کربِ عظیم کی کیفیت کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ سورۃ الانعام کی متعلقہ آیات اس موضوع پر گویا ذروۂ سنام (climax) کا درجہ رکھتی ہیں۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اہل ایمان کو گویا اشارۃً بتایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو تو ابھی راہِ حق میں سختیاں جھیلتے ہوئے صرف دس بارہ سال ہی ہوئے ہیں۔ اپنی تکلیفوں کے بارے میں سوچتے ہوئے ذرا ہمارے بندے نوحؑ کے صبر و استقامت کو بھی مدِ نظر رکھو جو ساڑھے نو سو سال تک اس طرح کے ’’کرب‘‘ کا سامنا کرتے رہے۔ اس میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح نوح علیہ السلام اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کو اُس کربِ عظیم سے بچایا گیا‘ اسی طرح آخر کار محمد رسول اللہﷺ اور ان کے ساتھیوں کو بھی ہم اس کربِ عظیم سے نجات دلائیں گے جس میں اہلِ مکہ نے ان کو مبتلا کر رکھا ہے۔
پھر پانی کاعذاب بذاتِ خود ایک ’’کربِ عظیم‘‘ تھا جو حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر مسلط ہوا تھا۔ یعنی یوں تو نہیں ہوا ہو گا کہ سیلاب آیا اور حق کے مخالفین سب کے سب آنِ واحد میں غرق ہو گئے۔ آج بھی اگر ہم اس خوفناک صورت حال کی تصویر اپنے ذہنوں میں لا کر غور کریں تو ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس سیلابِ بلا کی انتہائی غیر معمولی صورتِ حال کو دیکھ کر وہ لوگ تشویش و تفکر کے کون کون سے مراحل سے گزرے ہوں گے‘کیسی کیسی حفاظتی تدابیر لڑائی گئی ہوں گی‘جانیں بچانے کے لیے کیا کیا بھگڈر اور ہلچل مچی ہو گی۔ گویا سیلاب کی وجہ سے اس قوم کے لیے قیامت صغریٰ کا منظر ہو گا۔ اور کسی نہ کسی درجے میں {اِنَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱﴾} (الحج) کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہو گی۔ یہ سب کچھ بذات خود ایک ’’کربِ عظیم ‘‘تھا ‘جس کا سامنا حضرت نوح علیہ السلام اور آپؑ کے ساتھیوں کو بھی تھا‘لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے انہیں اس ’’کربِ عظیم‘‘ سے محفوظ رکھا۔
آیت 77
وَ جَعَلۡنَا ذُرِّیَّتَہٗ ہُمُ الۡبٰقِیۡنَ ﴿۫ۖ۷۷﴾
’’اور ہم نے اُس کی اولاد کو ہی باقی رہنے والابنایا۔‘‘
یہ آیت فلسفہ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس میں اسلوبِ حصر کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ صرف نوح علیہ السلام ہی کی اولاد کو ہم نے باقی رہنے والا بنایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیلاب کے بعد دنیا میں بنی نوعِ انسان کی نسل صرف حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹوں سے ہی چلی تھی ۔
آپؑ کی قوم کے رویے کے حوالے سے قرآن میں جا بجا جو اشارے ملتے ہیں اس سے تو یہی گمان ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں سے شاید کوئی بھی آپؑ پر ایمان نہیں لایا تھا۔ بلکہ سورۂ ہود کے الفاظ: {وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾} سے تو ایسے ہی لگتا ہے جیسے کشتی میں گنتی کے چند افراد تھے جن میں آپؑ خودتھے‘آپؑ کے تین بیٹے اور ان کے اہل و عیال تھے یا ممکن ہے آپؑ کی کوئی بیوی بھی آپؑ کے ہمراہ ہو۔اس کے علاوہ کچھ خادمین اور ملازمین ہوں گے اور بس۔ آپؑ کی ایک بیوی اور ایک بیٹا تو غرق ہونے والوں میں شامل تھے۔ اگر کوئی خدام وغیرہ تھے بھی تو ان کی نسل آگے چلنے کا اہتمام نہیں ہوا ہو گا۔ چنانچہ اس کے بعد نسل انسانی آپؑ کے تین بیٹوں سام‘حام اور یافث سے ہی چلی۔ اسی لیے آپؑ کو آدمِ ثانی بھی کہا جاتا ہے۔میرے اندازے کے مطابق تقریباًدو ہزار برس کے عرصے میں انسانی آبادی دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلی ہے۔ ورنہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے تک انسانی آبادی صرف اُسی علاقے تک محدود تھی جو سب کی سب سیلاب کی وجہ سے ختم ہو گئی اور صرف وہی چند نفوس زندہ بچے جو آپؑ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔بہر حال آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں یہ مفہوم بہت واضح ہے کہ سیلاب کے بعد نسل انسانی صرف آپؑ کے بیٹوں (ذُرِّیَّتَہٗ )سے ہی آگے چلی۔کشتی میں اگر آپؑ کے خاندان کے علاوہ کچھ اور لوگ موجود تھے بھی تو ان میں سے کسی کی نسل آگے نہ چل سکی۔
آیت 78
وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿۫ۖ۷۸﴾
’’اور ہم نے اسی (کے طریقے) پر بعد میں آنے والوں میں سے بھی (کچھ لوگوں کو)چھوڑا۔‘‘
یعنی بعد میں آپؑ کی نسل میں سے بھی لوگ آپؑ کے راستے پر چلتے رہے۔ آپؑ کے بیٹوں کی اولادیں کچھ عرصہ تک تو یقینا دین حق اور دین توحید پر چلتی رہی ہوں گی ‘لیکن بالآخر شیطان نے ا نہیں بھی گمراہ کر دیا اور مختلف قسم کے توہمات اور شرک میں مبتلا کر دیا۔
آیت 79
سَلٰمٌ عَلٰی نُوۡحٍ فِی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۹﴾
’’سلام ہو نوحؑ پر تمام جہانوں میں!‘‘
آیت 80
اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۸۰﴾
’’یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں محسنین کو۔‘‘
’’محسن ‘‘وہ شخص ہے جو اسلام اور ایمان کے مدارج طے کر کے درجہ احسان تک پہنچ جائے۔
یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام اسی دین حق اور نظریۂ توحید کے پیروکار تھے جس پر حضرت نوح علیہ السلام کاربند تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تعلق حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام کی نسل سے تھا۔اسی طرح قومِ عاداور قومِ ثمود بھی سامیٔ النسل تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش شہر اُر میں ہوئی جو موجودہ عراق کے جنوبی علاقے میں اپنے وقت کا مشہور شہر تھا۔ اس شہر کے کھنڈرات دریافت ہو چکے ہیں۔
آیت 84
اِذۡ جَآءَ رَبَّہٗ بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿۸۴﴾
’’جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوا قلبِ سلیم کے ساتھ۔‘‘
توحید کی معرفت کے حوالے سے انسان کی فطر تِ سلیمہ اور عقل سلیم کا ذکر قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران اس سے پہلے بھی متعدد بار ہو چکا ہے۔ فطرت کا تعلق چونکہ روح سے ہے اور روح کا مسکن قلب انسانی ہے اس لیے یوں سمجھ لیں کہ فطرتِ سلیمہ اور قلب سلیم انسان کی ایک ہی کیفیت کا نام ہے۔ یعنی انسانی دل کی وہ کیفیت جس میں ا س کی روح اور فطرت اپنی اصلی حالت میں ہو‘اس کے اصل خدوخال صحیح سلامت ہوں ‘اس پر غفلت اور مادیت کے پردے نہ پڑ چکے ہوں اوروہ مسخ (perverted) نہ ہو چکی ہو۔ انسانی فطرت کی اس کیفیت کے لیے صوفیاء ’’سیر اِلی اللہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
ایک انسان ایسے قلب سلیم کے ساتھ جب اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو عقل سلیم کی روشنی میں اسے توحید کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اس سے آگے بڑھ کر ’’معاد ‘‘یعنی آخرت کے فلسفے کی تہہ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ اس حوالے سے میں قبل ازیں متعدد بار سورۃ الفاتحہ کا حوالہ بھی دے چکا ہوں کہ سورۃ الفاتحہ ایک ایسے ہی انسان کی فطرت کی پکار ہے جو اللہ اور توحید کی معرفت بھی حاصل کر چکا ہے‘آخرت کی اہمیت و ضرورت کا بھی قائل ہو چکا ہے اور اس نتیجے پر بھی پہنچ چکا ہے کہ ’’اللہ کی بندگی‘‘ ہی اصل طریقۂ زندگی ہے‘ مگر اُسے یہ نہیں معلوم کہ اللہ کی بندگی کیسے کی جائے۔ حضورﷺ کی بعثت سے پہلے بہت سے ایسے ’’موحدین‘‘ مکہ میں موجود تھے۔ مثلاً حضرت عمر کے بہنوئی حضرت سعید رضی اللہ عنہما کے والد زید ایک ایسے ہی موحد تھے جو کعبے کے پردوں سے لپٹ کر دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں صرف تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں ‘مگر میں نہیں جانتا کہ تیری بندگی کیسے کروں۔
سورۃ الفاتحہ کے نظم پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی فطرتِ سلیمہ ہی کی پکار ہے جس کو قرآن نے {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾} کے الفاظ عطا کیے ہیں۔ یعنی فطرتِ سلیمہ کا حامل ایک انسان اپنی عقل سلیم کی مدد سے {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۱﴾} تک پہنچ گیا۔ یعنی اس نے اللہ کو پہچان لیا ہے اور ا س کے لیے شکر و ثنا کے جذبات کی کونپلیں بھی ا س کے دل میں پھوٹ پڑی ہیں۔ اُس نے اپنے اللہ اور اپنے رب کو ایک {الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۲﴾} ذات کے طور پر بھی پہچان لیا ہے‘اسے {مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾} کا عرفان بھی حاصل ہو گیا ہے۔
گویا اُس کی فطرتِ سلیمہ نے نہ صرف اسے آخرت کے احتساب کی ضرورت اور منطق بھی سمجھا دی ہے‘بلکہ یہ لطیف نکتہ بھی اس کے دل میں بٹھا دیا ہے کہ وہی اللہ جو ربّ العالمین ہے‘جس کی رحمت اور مہربانی سے اس کائنات کی ایک ایک چیز قائم ہے‘وہی اللہ احتساب اور بدلے کے دن کا مالک بھی ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر گویااُس کی زبان بے اختیار {اِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۴﴾} کا اقرار کرتی ہے‘مگر اس سے آگے اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اس کی فطرتِ سلیمہ اس راستے پر اسے صرف اسی مقام تک راہنمائی فراہم کر سکتی تھی اور اس کی عقل سلیم کی پرواز بس یہیں تک تھی۔ اس سے آگے نورِ وحی کی راہنمائی درکار ہے۔ چنانچہ اس کے منہ میں یہ دعائیہ الفاظ ڈال دیے گئے: {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾} کہ اے اللہ! اے ربّ العالمین! اب تو خودہماری دستگیری فرما! ہمیں اپنی بندگی کی ہدایت بھی دے اور اس رستے پر چلنے کے لیے مدد اور توفیق بھی مرحمت فرما‘تا کہ ہم تیری بندگی کا حق ادا کر سکیں۔اس دعا کے جواب میں پھر قرآن کی صورت میں اسے یہ راہنمائی مہیاکر دی گئی۔
’’کیا تم لوگ اللہ کے سوا خود ساختہ معبودوں کو چاہتے ہو!‘‘
’’اِفک‘‘ کے معنی ہیں گھڑی ہوئی چیز ‘جس کی حقیقت کچھ نہ ہو۔ تُرِیْدُوْن کے الفاظ میں ان من گھڑت معبودوں کے لیے ان لوگوں کی چاہت اور محبت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی تم لوگ ان کے طالب ہو اور وہ تمہارے محبوب و مطلوب ہیں۔ سورۃ الحج میں ایسے طالب و مطلوب کی حیثیت اور اوقات کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے : {ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الۡمَطۡلُوۡبُ ﴿۷۳﴾} ’’کس قدر کمزور ہے طالب بھی اور مطلوب بھی!‘‘
آیت 87
فَمَا ظَنُّکُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۷﴾
’’تو تمہارا کیا گمان ہے ربّ العالمین کے بارے میں؟‘‘
اس ہستی کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے؟‘‘
آیت 88
فَنَظَرَ نَظۡرَۃً فِی النُّجُوۡمِ ﴿ۙ۸۸﴾
’’پس اُس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں پر نگاہ ڈال کر گویا یہ تاثر دیا کہ وہ ستارہ شناسی کی مدد سے کچھ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آیت 89
فَقَالَ اِنِّیۡ سَقِیۡمٌ ﴿۸۹﴾
’’پھر کہا کہ میں توبیمار ہوں۔‘‘
میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے‘ یا یہ کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ مجھے خدشہ ہے کہ مجھ پر بیماری آنے والی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں بت پرستی بھی عام تھی اور ستارہ پرستی بھی۔ ان کے ہاں ہندوؤں کے جنم اشٹمی کے میلے کی طرز پر سالانہ ایک جشن منایا جاتا تھا۔ اس موقع پر شہر کے تمام لوگ باہر کھلے میدان میں جا کر کسی ستارے کی پرستش کیا کرتے تھے۔ چنانچہ جب جشن کا دن آیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میری توطبیعت خراب ہے ‘میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں جا سکتا۔اس طرح آپؑ پیچھے رہ گئے۔
آیت 90
فَتَوَلَّوۡا عَنۡہُ مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۹۰﴾
’’تو وہ اس سےِ پھرگئے پیٹھ پھیرتے ہوئے۔‘‘
یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ کر وہ لوگ اپنی پوجا پاٹ کے لیے چلے گئے۔
’’پھر وہ چپکے سے ان کے معبودوں میں جا گھسا اور کہنے لگا کہ تم کھاتے کیوں نہیں؟‘‘
لوگوں کے چلے جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے مندرمیں گھس گئے۔ جشن کے مخصوص موقع کے حوالے سے نذرانوں کے طور پر بتوں کے سامنے لازماً انواع و اقسام کے کھانے سجائے گئے ہوں گے۔ چنانچہ یہ منظر دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ مزے مزے کے کھانے تمہارے سامنے پڑے ہیں مگر آپ لوگ تناول نہیں فرما رہے ؟
آیت 92
مَا لَکُمۡ لَا تَنۡطِقُوۡنَ ﴿۹۲﴾
’’تمہیں کیا ہو گیا ہے‘ تم بولتے بھی نہیں ہو!‘‘
آیت 93
فَرَاغَ عَلَیۡہِمۡ ضَرۡبًۢا بِالۡیَمِیۡنِ ﴿۹۳﴾
’’پھر وہ پل پڑا ان پر ضرب لگاتا ہوا داہنے ہاتھ سے۔‘‘
یعنی پھر آپؑ نے پوری قوت سے ان پر تیشے وغیرہ کے وار کرنے شروع کر دیے۔
آیت 94
فَاَقۡبَلُوۡۤا اِلَیۡہِ یَزِفُّوۡنَ ﴿۹۴﴾
’’تو وہ اُس کی طرف آئے‘دوڑتے ہوئے۔‘‘
اس واقعہ کے بارے میں کچھ تفصیل سورۃ الانبیاء کے پانچویں رکوع میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ یہاں پر باقی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ آپؑ نے تمام بتوں کو توڑ پھوڑ کر چورا کر دیا ‘سوائے ایک بڑے بت کے۔ صورتِ حال انتہائی نازک اور تشویشناک تھی اور اس غیر معمولی واقعہ کے بعد شہر میں تو گویا قیامت برپا ہو گئی ہو گی۔ لیکن جب قوم کے بہت سے لوگ غیظ و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں بھاگم بھاگ آپؑ تک پہنچے تو آپؑ نے نہ صرف بلا خوف ان کا سامنا کیا بلکہ ان کے ساتھ مدلل مناظرہ بھی کیا:
آیت 95
قَالَ اَتَعۡبُدُوۡنَ مَا تَنۡحِتُوۡنَ ﴿ۙ۹۵﴾
’’اُس نے کہا :کیا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں تم خود تراشتے ہو!‘‘
آیت 96
وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ وَ مَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
’’جبکہ اللہ نے پیدا کیا ہے تمہیں بھی اور جو کچھ تم بناتے ہو(اس کو بھی)۔‘‘
یہ آیت حکمت اور فلسفۂ قرآنی کے اعتبار سے بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ انسان ’’کا سبِ عمل‘‘ تو ہے مگر ’’خالق عمل‘‘ نہیں ہے۔ مثلاً میں ارادہ کرتا ہوں کہ اپنے سامنے پڑا ہوا پیالہ اٹھاؤں۔ اس میں ارادے کی حد تک تو مجھے اختیار ہے مگر اللہ کے اِذن کے بغیر اس پیالے کو اٹھانا میرے بس کی بات نہیں ہے ۔ اس میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ میرے اٹھانے سے پہلے اس پیالے پر کوئی دوسری قوت بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی وجہ سے میرا دماغ میرے ارادے یا فیصلے کو میرے ہاتھوں تک پہنچا بھی نہ پائے۔ بہر حال انسان کا عمل دخل اس حوالے سے صرف ارادے تک محدود ہے اور اسی ارادے کے مطابق ہی وہ سزا یا جزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی واقعہ یا کوئی عمل وقوع پذیر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ان لوگوں کو خاص طور پر بتایا گیا کہ تم نے ان بتوں کو اپنے ہاتھوں سے تراشا ہے نا!لیکن تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ تم اپنے ہاتھوں سے کرتے ہو‘اورتمہارے جو بھی اَعمال و اَفعال ہیں ان کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔
’’تو اس طرح انہوں نے اس کے ساتھ ایک داؤ آزمایا ‘لیکن ہم نے ان کو ہی نیچا دکھادیا۔‘‘
انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے خلاف کون سا داؤ آزمایا تھا‘ اس کی وضاحت قبل ازیں سورۃ الانبیاء کی آیت ۷۰ کی تشریح کے ضمن میں ہو چکی ہے۔ دراصل وہ لوگ آپؑ کو آگ میں جلانا نہیں چاہتے تھے بلکہ محض ڈرانا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب آپؑ دیکھیں گے کہ ان کے لیے آگ کا اتنا بڑا اَلاؤ دہکایا جا رہا ہے تو سارا نشہ ہرن ہو جائے گا‘ اور پھر جب انہیں آگ کے دہانے پر لا کرکھڑا کیا جائے گاتو ہوش ٹھکانے آجائیں گے اور آپؑ تائب ہو کر اپنے عقائد سے رجوع کر لیں گے ۔ان کا خیال تھا کہ اس طرح یہ ’’فتنہ‘‘ دب جائے گا۔ لیکن یہاں تو معاملہ بالکل ہی الٹ ہو گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو الاؤ کے دہانے پر لایا گیا تو بقول اقبالؔ: ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی!
بہر حال جب ابراہیم علیہ السلام نے بھرپور استقامت کا مظاہرہ کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے لیے آ گ کو گل و گلزار بنا دیا۔ اس طرح وہ لوگ اپنے ارادوں اور منصوبوں سمیت خائب و خاسر ہو گئے۔
’’اور اب اُس نے کہا کہ میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں ‘وہ ضرور میری راہنمائی کرے گا۔‘‘
یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی یا رسول کے قتل پر آمادہ ہو جائے تو پھر وہ نبی یا رسول مزید اس قوم کے درمیان نہیں رہتے۔ آپؑ کی قوم نے تو آپؑ کے قتل کی صرف منصوبہ بندی ہی نہیں کی تھی بلکہ آپؑ کو بالفعل آگ میں ڈال دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے آپؑ کو معجزانہ طور پر بچا لیا۔ اسی طرح یہودیوں نے بھی اپنے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا اور آپؑ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔اسی طرح مشرکین مکہ نے بھی جب محمد رسول اللہﷺ کے قتل کا ارادہ کیا اور آپؐ کو قتل کرنے کے لیے جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اپنے پیغمبرﷺ کو مدینہ منورہ پہنچا دیا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس قانون کے تحت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے ہجرت کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت تک آپؑ کو شاید ہجرت کی منزل کے بارے میں معلوم نہیں تھا‘ اس لیے آپؑ نے فرمایا کہ میرا پروردگار خود میری راہنمائی فرمائے گا کہ مجھے کدھر جانا ہے۔ چنانچہ آپؑ نے عراق سے فلسطین کی طرف ہجرت کی‘جس کے لیے آپؑ کو بہت لمبا راستہ اختیار کر نا پڑا۔ عراق‘شام اور فلسطین کے درمیان شرقِ اردن کا پورا علاقہ لق و دق صحرا پر مشتمل ہے‘جسے عبور کرنا بالکل ناممکن تھا۔ چنانچہ آپؑ دریائے فرات کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے اوپر شام کے شمالی علاقے ’’باران‘‘ پہنچے اور وہاں سے نیچے فلسطین کے علاقے میں داخل ہوئے۔
آیت 100
رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾
’’(آپؑ نے دعا کی:) پروردگار! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔‘‘
آیت 101
فَبَشَّرۡنٰہُ بِغُلٰمٍ حَلِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾
’’تو ہم نے اُسے بشارت دی ایک حلیم الطبع لڑکے کی۔‘‘
اس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مراد ہیں --- ’’حلیم‘‘ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور اس حوالے سے قرآن میں یہ لفظ بار بار آیا ہے۔ ویسے تو اللہ کی صفات کا کچھ نہ کچھ عکس انسانوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے لیکن ’’حلم‘‘ اللہ کی وہ شان ہے جو انسانوں میں زیادہ عام نہیں ہے ۔ لفظ ’’حلیم ‘‘ غیر اللہ کے لیے قرآن میں صرف تین مرتبہ آیا ہے۔ دو مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ( التوبہ:۱۱۴ اور ہود:۷۵) اور ایک مرتبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے آیت زیر مطالعہ میں۔ یہاں ایک قابل توجہ نکتہ یہ بھی ہے کہ اس آیت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو غُلٰمٍ حَلِیْمٍ جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو سورۃ الحجر کی آیت ۵۳ میں غُلٰمٍ عَلِیْمٍ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔یعنی ایک بھائی علم میں زیادہ تھے اور ان ہی سے آگے بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ چلا اور دوسرے بھائی یعنی حضرت اسماعیل ؑ ’’حلم‘‘ میں زیادہ تھے اور ان کی اولاد میں نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کی بعثت ہوئی۔
آیت 102
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعۡیَ
’’پھر جب وہ پہنچا اس کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کی عمر کو‘‘
’’اُس نے کہا: اے میرے بیٹے !میں دیکھ رہا ہوں خواب میں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں‘‘
اَرٰی فعل مضارع ہے جس میں استمرار کے معنی بھی پائے جاتے ہیں ‘یعنی میں بار بار خواب میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تین راتیں یہ خواب دیکھا تھا۔
فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ
’’تو دیکھو! تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫
’’اُس نے کہا : ابا جان! آپ کر گزرئیے جس کا آپ کو حکم ہو رہا ہے۔‘‘
یہ جواب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ’’حلم‘‘ کی عکاسی کرتا ہے اور آپ ؑکی اسی طبیعت کی وجہ سے آپؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ’’حلیم‘‘ کا خطاب ملا ہے۔ آپؑ جانتے تھے کہ میرے والد نبی ہیں اور ان کا خواب کسی شیطانی وسوسے کا نتیجہ نہیں بلکہ وحی کا حصہ ہے۔ اس لیے آپؑ نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو خواب ہے اور خواب کا کیا ہے‘یا یہ کہ آپ ؑ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لیجیے‘ بلکہ آپؑ نے بغیر کسی تردد اور حیل و حجت کے اس ’’حکم‘‘ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے والد محترم کو اس پر عمل کرنے کا مشورہ دیا‘اور آپؑ کو یقین دلایا کہ:
’’اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘
یہاں پر ایک بات یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ یہودیوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بجائے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ’’ذبیح اللہ‘‘ ثابت کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔ اس کے لیے انہوں نے تورات میں جا بجا تحریف بھی کی ہے اور مختلف جگہوں کے نام بھی بدل ڈالے ہیں۔ مثلاً’’مروہ‘‘ کی قربان گاہ کے مقابلے میں انہوں نے فلسطین میں ایک جگہ کا نام ’’موریاہ‘‘ رکھ دیا اور وہیں پر ایک وادی کو ’’وادیٔ مکا‘‘ کے نام سے موسوم کر دیا‘تا کہ کسی طرح یہ ثابت کیا جا سکے کہ ’’قربانی‘‘ کا یہ واقعہ حضرت اسماعیل ؑ کے ساتھ وادیٔ مکہ میں پیش نہیں آیا تھا بلکہ فلسطین میں حضرت اسحاقؑ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ ان کا یہ پروپیگنڈا اس قدرمؤثر ثابت ہوا کہ ہمارے ہاں کے کئی مفسرین بھی اس مغالطے میں مبتلا ہو گئے کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ؑ نہیں بلکہ حضرت اسحاقؑ تھے۔ مثلاًابن جریر طبری ایک بہت بڑے مفسر ہونے کے باوجود ان اسرائیلی روایات سے متاثر ہیں۔چنانچہ مولانا حمید الدین فراہی ؒ نے اس موضوع پر ’’الرأی الصحیح فی من ھو الذبیح‘‘ کے عنوان سے ایک معرکۃالآرا کتاب لکھی اور مدلل انداز میں ثابت کیا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی تھے۔ مولانا فراہیؒ کی اصل کتاب عربی میں ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس کا اردو ترجمہ کیا تھا‘ جسے ’’ذبیح کون؟‘‘ کے نام سے مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کے تحت شائع کیا گیا‘ مگر کتاب اس قدر دقیق ہے کہ ترجمے کے باوجود بھی اسے زیادہ پڑھنے والے دستیاب نہ ہو سکے۔
’’تم نے خواب سچ کر دکھایا‘ یقینا ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔‘‘
آیت 106
اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡبَلٰٓـؤُا الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۰۶﴾
’’یقینا یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔‘‘
گویا ممتحن خود کہہ رہا ہے کہ میں نے جو امتحان لیا وہ بہت سخت تھا۔ یہ تحسین اور شاباش کی انتہا ہے۔ میں نے اس موضوع پر ’’حج اور عید الاضحی اور ان کی اصل روح : قرآن حکیم کے آئینے میں‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جو میرے کتابچے ’’عید الاضحی اور فلسفۂ قربانی‘‘ میں شامل ہے۔
آیت 107
وَ فَدَیۡنٰہُ بِذِبۡحٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۰۷﴾
’’اور ہم نے ایک ذبح عظیم اس کا فدیہ دیا۔‘‘
اللہ کے حکم سے جنت سے ایک مینڈھا لایا گیا جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا۔ مسلمانوں کے ہاں عید الاضحی کے موقع پر ہر سال جانوروں کی قربانی پیش کر کے اسی قربانی کی یاد منائی جاتی ہے۔
آیت 108
وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۖ۱۰۸﴾
’’اور اسی (کے طریقے) پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی (کچھ لوگوں کو)۔‘‘
اس سے پوری ملت ابراہیم ؑبھی مراد ہو سکتی ہے۔جیسے قبل ازیں آیت ۷۸ میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بھی فرمایا گیا کہ ان کی ملت پر بعد میں ہم نے کچھ لوگوں کو قائم رکھا ‘جن میں خود ابراہیم علیہ السلام بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ آیت کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قربانی کی اس سنت کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں میں زندہ اور قائم رکھا۔اس کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکرِ خیر باقی رکھا۔
’’اور ہم نے اسے بشارت دی اسحاقؑ کی ‘ایک نبی صالحین میں سے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا جو امتحان لیا‘ اس میں کامیابی کے انعام کے طور پر آپؑ کو دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری دی گئی۔
آیت 113
وَ بٰرَکۡنَا عَلَیۡہِ وَ عَلٰۤی اِسۡحٰقَ ؕ
’’اور ہم نے برکت نازل کی اُس پر بھی اور اسحاقؑ پر بھی۔‘‘
’’اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکوکار بھی تھے اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی۔‘‘
’’ان دونوں‘‘ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام مراد ہیں۔
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کا یہ واقعہ قصص النبیین کے انداز میں بیان ہوا ہے۔ قصص النبییّن اور انباء الرسل کی اصطلاحات قرآن کے اس مطالعہ کے دوران قبل ازیں متعدد بار زیر بحث آ چکی ہیں۔
5114-122
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پر عنایاتِ ربانی
حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ آپؑ بنی اسرائیل کے مشہور شہر ’’بَعْلَبَک‘‘ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھاجس کا نام آگے آیت ۱۲۵ میں ’’بعل‘‘ بتایا گیا ہے۔ اسی بت کے نام پر اس شہر کا نام ’’بعلبک‘‘ (بعل کا بک)رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔ پرانی عبرانی زبان میں شہر کو بک یا بکہ کہا جاتا تھا۔ (چنانچہ مکہ کا پرانا نام بھی بَکّہ تھا‘جس کا حوالہ سورۂ آل عمران کی آیت ۹۶ میں آیا ہے۔) بہر حال اس قوم کے لوگوں نے اس شہر کو اپنے معبود کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔
آیت 124
اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾
’’جب اُ س نے اپنی قوم سے کہا :کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟‘‘
’’یعنی اللہ جو تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے آباء و اَجداد کا بھی رب ہے۔‘‘
آیت 127
فَکَذَّبُوۡہُ فَاِنَّہُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ ﴿ۙ۱۲۷﴾
’’تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا‘چنانچہ وہ سب (قیامت کے دن) حاضرکر لیے جائیں گے۔‘‘
آیت 128
اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۱۲۸﴾
’’سوائے اللہ کے ان بندوں کے جنہیں خالص کر لیا گیا۔‘‘
آیت 129
وَ تَرَکۡنَا عَلَیۡہِ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۱۲۹﴾
’’اور اسی (کے طریقے) پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی (کچھ لوگوں کو)۔‘‘
یعنی یہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام ایک ہی ملت کے افراد تھے اور اسی ملت اور اسی طریقے کا تسلسل ہے جو ہدایت کی صورت میں نسل انسانی میں چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ یہی بات سورۃ الانبیاء کی آیت ۹۲ اور سورۃ المؤمنون کی آیت ۵۲ میں اس طرح بیان ہوئی ہیـ: {وَاِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً } ’’اور یقینا یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے۔‘‘
’’جب ہم نے نجات دی اُس کو اور اس کے گھر والوں کو‘سب کو۔‘‘
اگرچہ تورات کے مطابق آپؑ صرف اپنی دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ لے کر نکلے تھے ‘یعنی ان کے علاوہ اس قوم میں کوئی اور اہل ایمان نہیں تھے‘لیکن یہاں پر اَہْلَہٗٓ اَجْمَعِیْنَ (سب گھرو الوں کو ) کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کا گھرانہ خاصا بڑاہو گا‘ جس میں سے آپؑ کی صرف ایک بیوی پیچھے رہ گئی تھی۔ (واللہ اعلم!)
آیت 135
اِلَّا عَجُوۡزًا فِی الۡغٰبِرِیۡنَ ﴿۱۳۵﴾
’’سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔‘‘
’’اور تم لوگ گزرتے ہو ان (کے کھنڈرات) پر صبح کے وقت بھی اور رات کو بھی‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
قومِ لوطؑ کی تباہ ہونے والی بستیوں میں سے سدوم اور عامورہ کے شہر معروف تھے۔ حال ہی میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجی کے کچھ ماہرین کی تحقیق کے نتیجے میں ان شہروں کے کھنڈرات اور آثار بحرِ مردار کے پانی کے نیچے دریافت ہوئے ہیں‘ جس سے تورات اور قرآن میں مذکور تفصیلات کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اسی طرح جب اللہ کو منظور ہو گاحضرت نوح علیہ السلام کی کشتی بھی دنیا کی نگاہوں کے سامنے آ جائے گی۔ سورۃ القمر ‘ آیت۱۵ میں اس حوالے سے اشارہ موجود ہے کہ کسی وقت یہ کشتی ایک بڑی نشانی کے طور پر ظاہر ہو گی۔ ہمارا ایمان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی بیان کردہ تاریخ کے ثبوت ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔ ان شاء اللہ!
’’جب وہ بھاگ کر پہنچا اُس کشتی کی طرف جو( پہلے سے ہی) بھری ہوئی تھی۔‘‘
لفظ ’’اَبَقَ‘‘ کسی غلام کا اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جانے پر بولا جاتا ہے۔اس واقعے کا ذکر سورۂ یونس اور سورۃ الانبیاء میں بھی آ چکا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپؑ کو جھٹلا دیا اور ان کے مسلسل انکار اور کفر کے باعث اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ فرما لیا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا قانون اور طریقہ یہی رہا ہے کہ کسی قوم پر عذا ب سے قبل رسول کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا اور رسول کے ہجرت کر جانے کے بعد متعلقہ قوم کو نیست و نابود کر دیا جاتا۔ حضرت یونس علیہ السلام سے اس ضمن میں یہ لغزش ہو گئی کہ آپؑ حمیتِ حق کے جوش میں غضبناک ہو کر (سورۃ الانبیاء کی آیت ۸۷ میں اس حوالے سے {اِذۡ ذَّہَبَ مُغَاضِبًا } کے الفاظ آئے ہیں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح اجازت ملنے سے قبل ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل آئے اور دجلہ یا فرات میں سے کسی دریا کو پار کرنے کے لیے کشتی پر سوار ہو گئے۔
آیت 141
فَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِیۡنَ ﴿ۚ۱۴۱﴾
’’تو انہوں نے قرعہ ڈالا‘تو وہ ہو گیا دھکیل دیے جانے والوں میں سے۔‘‘
پچھلی آیت میں مذکور ہے کہ وہ کشتی پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی تھی ‘چنانچہ جب بیچ دریا میں جا کر کشتی ڈولنے لگی اور اس کے ڈوب جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تو بوجھ کم کرنے کی غرض سے کسی ایک مسافر کو دریا میں پھینکنے کے لیے یہ قرعہ اندازی کی گئی ہو گی۔ اس حوالے سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ کشتی والوں نے یہ گمان کیا کہ کسی کا کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی میں سوار ہے جس کی وجہ سے یہ ڈوبنے لگی ہے۔ چنانچہ اس مفرور غلام کا پتا لگانے کے لیے قرعہ اندازی کی گئی۔بہرحال قرعہ اندازی میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا اور آپؑ کو دریا میں پھینک دیا گیا۔
آیت 142
فَالۡتَقَمَہُ الۡحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿۱۴۲﴾
’’تو اُس کو نگل لیا مچھلی نے اور وہ ملامت زدہ تھا۔‘‘
یہ کوئی بہت بڑی وہیل مچھلی ہو گی۔ آج تو ہم مچھلیوں کی بہت سی ایسی اقسام کو بخوبی جانتے ہیں جو بڑی آسانی سے ایک ہی لقمے میں انسان کو نگل سکتی ہیں۔ وَہُوَ مُلِیْمٌ کے الفاظ میں ناراضگی اور خفگی کا انداز پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے اللہ کے ہاں ؏
’’جن کے رتبے ہیں سوا‘ان کی سوا مشکل ہے‘‘
کے مصداق کسی بہت بڑی شخصیت کی چھوٹی سی غلطی پر بھی بہت سخت گرفت ہوتی ہے۔
سورۃ الانبیاء کی آیت ۸۷ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مچھلی کے پیٹ میں نہ صرف زندہ رہے بلکہ ان الفاظ سے تسبیح بھی کرتے رہے کہ : {لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ ٭ۖ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۷﴾} ’’ تیر ے سوا کوئی معبود نہیں ‘تو پاک ہے ‘اور یقینا میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔‘‘
’’تو اُس کے پیٹ ہی میں رہتا اُس دن تک کہ جس میں لوگ اُٹھائے جائیں گے۔‘‘
یعنی اگر آپؑ اللہ تعالیٰ کی تسبیح (آیتِ کریمہ کا ورد)نہ کرتے تو قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتے (اُس کا پیٹ ہی آپؑ کے لیے قبر بنا رہتا) اور قیامت کے دن وہیں سے آپؑ اٹھائے جاتے۔
آیت 145
فَنَبَذۡنٰہُ بِالۡعَرَآءِ وَ ہُوَ سَقِیۡمٌ ﴿ۚ۱۴۵﴾
’’تو ہم نے ڈال دیا اسے ایک چٹیل میدان میں اور وہ خستہ حالت میں تھا۔‘‘
اس تسبیح اور استغفار (آیت کریمہ کے ورد) کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اس مصیبت سے نجات دی اور اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپؑ کو ساحل پر اُگل دیا۔ لیکن مچھلی کے معدے میں رہنے اور اس کے معدے میں موجود انہضامی رطوبتوں (digestive juices) کے اثرات کے باعث آپؑ کی حالت بہت خستہ (سقیم) ہو چکی تھی۔
’’تو ہم نے اس کے اوپر یقطین کا ایک پودا اُگا دیا۔‘‘
عربی میں ’’یقطین‘‘ ایسے پودے کو کہا جاتا ہے جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا‘ بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے‘ جیسے کدو‘ تربوز‘ ککڑی وغیرہ۔ ’’یقطین ‘‘ کے بارے میں ہمارے ایک دوست جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کی تحقیق ماہنامہ میثاق (فروری ۱۹۸۰ء) میں شائع ہوئی تھی۔ ٭
موصوف کا تعلق کراچی سے تھا‘ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے اور اسی ملازمت کے دوران وہ مکران میں بھی رہے۔ میثاق کے مستقل قاری تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ‘بہت نیک انسان تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مکران کا ساحل طبعی طو رپر ساحلِ عراق سے مشابہ ہے۔ وہاں پر انہوں نے ایک بیل نما پودا دیکھا جسے مقامی زبان میں ’’اَگین‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس پودے کے پتے بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں ۔ اس پر گول کدو کی شکل کا پھل لگتا ہے جو جسامت میں تربوز کے برابر اور مزے میں ککڑی جیسا ہوتا ہے۔ اس میں شیرینی بھی ہوتی ہے اور پانی کا جزو تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بیل زمین پر دور دور تک پھیلی ہوتی ہے جس کے اندر بیک وقت دوچار آدمی اپنے آپ کو بخوبی چھپا سکتے ہیں۔ پتے نہایت چکنے اور ملائم ہوتے ہیں جو نیچے نرم و نازک گدوں اور اوپر اوڑھنے کے لیے ریشمی چادر کا کام دیتے ہیں۔ تری اور خنکی اتنی ہوتی ہے کہ آفتاب کی کرنیں اندر چھپے ہوئے انسان کو تکلیف نہیں دے سکتیں۔ اس کے پتوں میں قدرتی طور پر کوئی اینٹی بیکٹیریا مادہ بھی پایا جاتا ہے‘جس کی وجہ سے حشرات الارض حتیٰ کہ سانپ اور بچھو بھی اس سے دور رہتے ہیں۔ جناب احمد الدین مارہروی مرحوم کا خیال تھا کہ یہ وہی پودا ہے جس کا ذکر قرآن میں ’’یقطین ‘‘ کے نام سے ہوا ہے۔انہوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ اہل مکران کی زبان مسخ شدہ فارسی ہے‘ لیکن اس میں دوسری زبانوں بالخصوص عربی کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ چنانچہ لسانی اور صوتی اعتبار سے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یقطین کی ’’ق‘‘ مقامی زبان کی ’’گ‘‘ سے بدل گئی ہو (جیسے سعودی عرب میں بھی آج کل عوام ’’قُمْ‘‘ کو ’’گُم‘‘ ہی بولتے ہیں)‘ ’’ی‘‘ الف سے بدل گئی ہو اور ’’ط‘‘ کثرتِ استعمال سے حذف ہو گیا ہو۔ اس طرح ہوتے ہوتے اس لفظ نے ’’اَگین ‘‘کی صورت اختیار کر لی ہو۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس بیل کی صورت میں حضرت یونس علیہ السلام کے لیے anti septic ماحول‘سایہ ‘غذائیت اورمٹھاس سے بھر پور پھل کی صورت میں تینوں بنیادی ضرورتیں پوری کردیں۔
٭ محولہ بالا مضمون ’’شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ‘‘ بعد ازاں حکمت قرآن کے شمارہ فروری ۱۹۹۹ء میں اور پھر مئی ۲۰۰۶ء میں مکرر شائع ہوا تھا۔ (مرتب)
’’پھر ہم نے اس کو بھیج دیا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف۔‘‘
یعنی صحت یاب ہو جانے کے بعد آپؑ کو دوبارہ رسالت کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ قرآن میں اس حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ دوبارہ آپؑ کو اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا یا کسی اور قوم کی طرف۔ لیکن گمانِ غالب یہی ہے کہ آپؑ دوبارہ اپنی ہی قوم میں مبعوث ہوئے اور اس آیت میں آپؑ ہی کی قوم کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ بہر حال سورۂ یونس میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپؑ کی قوم کی توبہ قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔ سورۂ یونس کی آیت ۹۸ میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ یہ استثناء صرف قومِ یونس ہی کو حاصل ہے۔ یعنی پوری انسانی تاریخ میں واحد مثال ہے کہ عذاب کے آثار ظاہر ہو جانے کے بعد آپؑ کی قوم کی توبہ قبول کر لی گئی۔
آیت 148
فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰہُمۡ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿ؕ۱۴۸﴾
’’تووہ ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں متاعِ دُنیوی عطا کر دی ایک خاص وقت تک۔‘‘
یعنی ان کی توبہ اور ایمان کے بعد انہیں بقا کی ایک نئی مہلت (fresh lease of existance) دے دی گئی۔