تحریر

الصافات

آیات ۱۱ تا ۷۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-19

کیا خالق ارض و سما انسان کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا؟

ویڈیو

فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَہُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ ﴿۱۱﴾ بَلۡ عَجِبۡتَ وَ یَسۡخَرُوۡنَ ﴿۪۱۲﴾ وَ اِذَا ذُکِّرُوۡا لَا یَذۡکُرُوۡنَ ﴿۪۱۳﴾ وَ اِذَا رَاَوۡا اٰیَۃً یَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ ﴿۪۱۴﴾ وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚۖ۱۵﴾ ءَ اِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾ اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿ؕ۱۷﴾ قُلۡ نَعَمۡ وَ اَنۡتُمۡ دَاخِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۸﴾ فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۹﴾

آیت 11

فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَہُمۡ اَشَدُّ خَلۡقًا اَمۡ مَّنۡ خَلَقۡنَا ؕ

’’تو (اے نبیﷺ!) ان سے پوچھئے کہ کیا ان کی تخلیق زیادہ مشکل ہے یا وہ کچھ جو ہم نے پیدا کیا ہے!‘‘

یہ کفار و مشرکین کہتے ہیں کہ مرجانے کے بعد ان کا پھر سے زندہ ہو جانا کیسے ممکن ہے؟ آپﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جیسے انسانوں کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا اس وسیع و عریض کائنات کو بنانا؟ اور یہ کہ جس اللہ نے یہ کائنات پیدا کی ہے ‘اس کے اندر سورج اور چاند کا نظام بنایا ہے ‘سیاروں ‘ستاروں اور کہکشائوں کی دنیائیں آباد کی ہیں‘کیا تم اس اللہ کے بارے میں خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں پھر سے پیدا نہیں کر سکے گا!

اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّنۡ طِیۡنٍ لَّازِبٍ ﴿۱۱﴾

’’ان کو تو ہم نے پیدا کیا ہے ایک لیس دار گارے سے۔‘‘

یعنی وہ ایسا گارا تھا جس میں عمل تخمیر (fermentation) کی وجہ سے چپچپاہٹ اور لیس پیدا ہو چکی تھی۔ واضح رہے کہ انسان کے مادۂ تخلیق کے بارے میں قرآن نے مختلف مقامات پر تُراب (مٹی) ‘ طِین (گارا)‘ طِینٍ لاَّزِب (لیس دار گارا)‘ صَلصالٍ مِّن حماٍ مسنون (سڑاند والا گارا) اور صلصالٍ کالفخّار (ٹھیکری جیسی کھنکھناتی ہوئی مٹی) کے الفاظ کا ذکر کیاہے۔(مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : الحجر:۲۶ کی تشریح)۔

آیت 12

بَلۡ عَجِبۡتَ وَ یَسۡخَرُوۡنَ ﴿۪۱۲﴾

’’بلکہ(اے نبیﷺ!) آپ تعجب کرتے ہیں اور یہ لوگ تمسخر کرتے ہیں!‘‘

آپﷺ کو بجا طور پر ان کے رویے پر تعجب ہوتا ہے یہ سوچتے ہوئے کہ میں توانہیں اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہوں‘انہیں توحید کی طرف بلاتا ہوں‘اس توحید کی طرف جس کا ایک واضح تصور ہر انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر بھی موجود ہے‘جبکہ یہ لوگ میری ان باتوں پر غورکرنے اور میری اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اُلٹا اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

آیت 13

وَ اِذَا ذُکِّرُوۡا لَا یَذۡکُرُوۡنَ ﴿۪۱۳﴾

’’اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔‘‘

آیت 14

وَ اِذَا رَاَوۡا اٰیَۃً یَّسۡتَسۡخِرُوۡنَ ﴿۪۱۴﴾

’’اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں۔‘‘

آیت 15

وَ قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚۖ۱۵﴾

’’اور کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ نہیں مگر ایک کھلا جادو۔‘‘

آیت 16

ءَ اِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ ﴿ۙ۱۶﴾

’’(وہ کہتے ہیں)کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا؟‘‘

مرنے کے بعد انسانی گوشت تو جلد ہی گل سڑ کر مٹی میں مل جاتا ہے‘ لیکن ہڈیوں کا الگ سے ذکر اس لیے ہوا ہے کہ یہ سخت ہوتی ہیں اوربوسیدہ {عِظَامًا نَّخِرَۃً ﴿ؕ۱۱﴾} ( النّٰزعٰت) ہو جانے کے باوجود بھی لمبے عرصے تک موجود رہتی ہیں۔

آیت 17

اَوَ اٰبَآؤُنَا الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿ؕ۱۷﴾

’’اورکیا پہلے زمانے کے ہمارے آباء و اَجداد کو بھی!‘‘

تو کیا ہمارے ان آباء واَجداد کو بھی زندہ کر لیا جائے گا جنہیں فوت ہوئے صدیاں گزر چکی ہیں اور ان کی ہڈیاں تک بھی مٹی میں تحلیل ہو چکی ہیں۔

آیت 18

قُلۡ نَعَمۡ وَ اَنۡتُمۡ دَاخِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۸﴾

’’آپؐ کہیے :ہاں! (تم اٹھائے بھی جاؤ گے) اور تم ذلیل بھی ہوگے۔‘‘

نہ صرف تم سب کو اٹھا لیا جائے گا بلکہ اس وقت تمہیں اپنے اس کفر اور انکار کے باعث ذلت و خواری کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

آیت 19

فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’بس وہ ایک زور کی ڈانٹ ہو گی‘تو جبھی وہ (زندہ ہو کر) دیکھنے لگیں گے۔‘‘

ہماری طرف سے ایک زور دار ڈانٹ کی صورت میں حکم دیاجائے گا جس کی تعمیل میں تمام انسانوں کے ذراتِ اجسام آنِ واحد میں مجتمع ہو کر جیتے جاگتے انسانوں کی صورت اختیار کر لیں گے۔

20-26

میدانِِ حشر کا ایک منظر

ویڈیو

وَ قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَا ہٰذَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿۲۰﴾ ہٰذَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾ اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَاہۡدُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾ وَ قِفُوۡہُمۡ اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾ مَا لَکُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿۲۵﴾ بَلۡ ہُمُ الۡیَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ ﴿۲۶﴾

آیت 20

وَ قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَا ہٰذَا یَوۡمُ الدِّیۡنِ ﴿۲۰﴾

’’اور وہ کہیں گے: ہائے ہماری شامت ‘یہ تو بدلے کا دن ہے!‘‘

یہ تو وہی جزاء و سزا کا دن آ گیا ہے جس کے بارے میں ہمیں بار بار بتایا جاتا تھا اور ہم بار بار اس کی نفی کرتے تھے۔

آیت 21

ہٰذَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾

’’(اُس وقت انہیں کہا جائے گا :ہاں) یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

آیت 22

اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ

’’(پھر حکم دیا جائے گا) جمع کرو ان سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے ‘اللہ کے سوا‘‘

پھر فرشتوں کو حکم ہو گا کہ ان کافروں‘مشرکوں اور ہر طرح کے مجرموں کو ‘چاہے وہ انسانوں میں سے ہوں یاِ جنوں میں سے ‘سب کو ایک جگہ جمع کر لو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی ساتھ ہی لے آؤ۔

آیت 23

فَاہۡدُوۡہُمۡ اِلٰی صِرَاطِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ٙ۲۳﴾

’’پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ!‘‘

اب ذرا جہنم کے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کرو‘ ان کو escort کرو۔

آیت 24

وَ قِفُوۡہُمۡ اِنَّہُمۡ مَّسۡئُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾

’’اور انہیں ذرا روکو! ابھی ان سے کچھ پوچھا جائے گا۔‘‘

آیت 25

مَا لَکُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿۲۵﴾

’’یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے ‘تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو؟‘‘

دُنیا میں تو تمہارے جتھے بہت طاقتور تھے‘وہاں تو تمہیں اپنی محفلوں اور ان کے شرکاء پر بڑا غرور تھا‘وہاں تو یہ ابو جہل بہت فخر سے کہا کرتا تھا کہ دیکھو میری مجلس کس قدر آباد ہے (مریم: ۷۳) اور دیکھو میرے ہاں کیسے کیسے لوگ آ کر بیٹھتے ہیں۔ تو آج وہ تمہارے جتھے دار اور حمایتی سب کے سب بے بس کیوں ہو گئے ہیں؟ اب تم ایک ہی حکم پر جہنم کی طرف کیوں چل پڑے ہو؟ اب تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو؟

آیت 26

بَلۡ ہُمُ الۡیَوۡمَ مُسۡتَسۡلِمُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں!‘‘

آج تو یہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنے آپ کو حوالے کر کے بلا چون و چراسزا کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

27-34

دنیا دار لیڈروں کا اپنے پیروکاروں کو کورا جواب

ویڈیو

وَ اَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾ قَالُوۡۤا اِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَاۡتُوۡنَنَا عَنِ الۡیَمِیۡنِ ﴿۲۸﴾ قَالُوۡا بَلۡ لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾ وَ مَا کَانَ لَنَا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ۚ بَلۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا طٰغِیۡنَ ﴿۳۰﴾ فَحَقَّ عَلَیۡنَا قَوۡلُ رَبِّنَاۤ ٭ۖ اِنَّا لَذَآئِقُوۡنَ ﴿۳۱﴾ فَاَغۡوَیۡنٰکُمۡ اِنَّا کُنَّا غٰوِیۡنَ ﴿۳۲﴾ فَاِنَّہُمۡ یَوۡمَئِذٍ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾ اِنَّا کَذٰلِکَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۴﴾

آیت 27

وَ اَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھنے لگیں گے۔‘‘

آیت 28

قَالُوۡۤا اِنَّکُمۡ کُنۡتُمۡ تَاۡتُوۡنَنَا عَنِ الۡیَمِیۡنِ ﴿۲۸﴾

’’کہیں گے کہ تم ہی تو آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے دبدبے کے ساتھ!‘‘

یعنی تم ہمارے سردار تھے اور اپنی اس حیثیت کا رعب جما کر ہمیں اپنی پیروی پر مجبور کیا کرتے تھے۔ تم ہمارے پاس بہت رعب‘ دبدبے‘ طاقت اور زور کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ لفظ ’’یمین‘‘ کے معنی طاقت کے بھی ہیں اور داہنی طرف کے بھی۔ چنانچہ آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے کہ ’’تم آیا کرتے تھے ہمارے پاس دائیں طرف سے۔ ‘‘

آیت 29

قَالُوۡا بَلۡ لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾

’’وہ کہیں گے (کہ نہیں!) بلکہ تم لوگ خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے۔‘‘

آیت 30

وَ مَا کَانَ لَنَا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ۚ بَلۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا طٰغِیۡنَ ﴿۳۰﴾

’’اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں‘بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے۔‘‘

آیت 31

فَحَقَّ عَلَیۡنَا قَوۡلُ رَبِّنَاۤ ٭ۖ اِنَّا لَذَآئِقُوۡنَ ﴿۳۱﴾

’’تو اب ثابت ہو گیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول‘اب تو ہمیں (عذاب کا )مزہ چکھنا ہی ہو گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر فرما دیا تھا: {لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾} ( السجدۃ) ’’ میں بھر کر رہوں گا جہنم کو تمام (نافرمان )جنوں اور انسانوں سے‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ قول اب ہم پر واقع ہو چکا ہے اور ہم جہنم کے مستحق ہو چکے ہیں۔

آیت 32

فَاَغۡوَیۡنٰکُمۡ اِنَّا کُنَّا غٰوِیۡنَ ﴿۳۲﴾

’’تو ہم نے تم لوگوں کو گمراہ کیا‘ ہم خود بھی توگمراہ تھے۔‘‘

تم لوگ درست کہتے ہو کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا ‘لیکن ایسا تو نہیں تھا کہ ہم خود ہدایت پر تھے اور تمہاری گمراہی کا باعث بنے۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ ہم خود بھی گمراہ تھے اس لیے تم لوگوں کو بھی ہم اسی تباہی کے راستے پرلے آئے۔

آیت 33

فَاِنَّہُمۡ یَوۡمَئِذٍ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’تو اس دن وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہوں گے۔‘‘

آیت 34

اِنَّا کَذٰلِکَ نَفۡعَلُ بِالۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۳۴﴾

’’یقینا ہم مجرموں کے ساتھ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘

35-39

گستاخانِ رسول ﷺ پر اللّٰہ کا غضب

ویڈیو

اِنَّہُمۡ کَانُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ۙ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾ وَ یَقُوۡلُوۡنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوۡۤا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۳۶﴾ بَلۡ جَآءَ بِالۡحَقِّ وَ صَدَّقَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۷﴾ اِنَّکُمۡ لَذَآئِقُوا الۡعَذَابِ الۡاَلِیۡمِ ﴿ۚ۳۸﴾ وَ مَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾

آیت 35

اِنَّہُمۡ کَانُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ۙ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾

’’ان کا معاملہ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ استکبار کرتے تھے۔‘‘

جب بھی ان کے سامنے کلمہ توحید لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا ذکر کیا جاتا تو وہ اپنے گھمنڈ میں اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

آیت 36

وَ یَقُوۡلُوۡنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوۡۤا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجۡنُوۡنٍ ﴿ؕ۳۶﴾

’’اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی خاطر چھوڑ دیں !‘‘

حضورﷺ کی شان میں یہ لوگ ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ان کے کہنے پر اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہم کئی نسلوں سے پرستش کرتے آئے ہیں!

آیت 37

بَلۡ جَآءَ بِالۡحَقِّ وَ صَدَّقَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۳۷﴾

’’بلکہ وہ تو حق لے کر آئے اور انہوںؐ نے تصدیق کی تمام رسولوںؑ کی!‘‘

آیت 38

اِنَّکُمۡ لَذَآئِقُوا الۡعَذَابِ الۡاَلِیۡمِ ﴿ۚ۳۸﴾

’’اب تمہیں یقینا دردناک عذاب کا مزہ چکھنا ہو گا۔‘‘

آیت 39

وَ مَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾

’’اور تمہیں بدلہ نہیں مل رہا مگر اسی کا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘

40-49

اہلِ جنت پر اللہ کی عنایات

ویڈیو

اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۴۰﴾ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿ۙ۴۱﴾ فَوَاکِہُ ۚ وَ ہُمۡ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿ۙ۴۳﴾ عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۴﴾ یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِکَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِیۡنٍۭ ﴿ۙ۴۵﴾ بَیۡضَآءَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿ۚۖ۴۶﴾ لَا فِیۡہَا غَوۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ عَنۡہَا یُنۡزَفُوۡنَ ﴿۴۷﴾ وَ عِنۡدَہُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِیۡنٌ ﴿ۙ۴۸﴾ کَاَنَّہُنَّ بَیۡضٌ مَّکۡنُوۡنٌ ﴿۴۹﴾

آیت 40

اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۴۰﴾

’’سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔‘‘

آج اللہ کے چیدہ بندے ہی اس انجامِ بد سے محفوظ رہیں گے۔ مُخلَص (لام کی زبر کے ساتھ) کے معنی ہیں ’’خالص کیا گیا‘‘۔ یہاں وہ بندے مراد ہیں جنہیں اللہ نے خاص کر لیا ہو‘ جنہیں اپنے لیے چن کر الگ کر لیا ہو۔

آیت 41

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿ۙ۴۱﴾

’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے طے شدہ رزق ہے۔‘‘

آیت 42

فَوَاکِہُ ۚ وَ ہُمۡ مُّکۡرَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۲﴾

’’(یعنی) میوے‘اور ان کا اکرام کیا جائے گا۔‘‘

آیت 43

فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿ۙ۴۳﴾

’’نعمتوں والے باغات میں۔‘‘

آیت 44

عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۴﴾

’’وہ تختوں کے اوپر بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔‘‘

آیت 45

یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِکَاۡسٍ مِّنۡ مَّعِیۡنٍۭ ﴿ۙ۴۵﴾

’’گردش کر رہے ہوں گے ان پر (خدام) نفیس شراب کے پیالوں کے ساتھ۔‘‘

وہ شراب صاف شفاف اور بغیر کسی نشے کے ہو گی۔

آیت 46

بَیۡضَآءَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ ﴿ۚۖ۴۶﴾

’’بالکل سفید‘انتہائی لذیذ پینے والوں کے لیے۔‘‘

آیت 47

لَا فِیۡہَا غَوۡلٌ وَّ لَا ہُمۡ عَنۡہَا یُنۡزَفُوۡنَ ﴿۴۷﴾

’’اس میں نہ تو سرگرانی (کی کیفیت)ہو گی اور نہ ہی وہ اس سے بہکیں گے۔‘‘

اس مشروب کو پی کر ایک سرور کی کیفیت تو ہو گی مگر نہ تو اس سے سر بھاری ہو گا اور نہ ہی وہ مدہوشی لائے گا اور فتورِ عقل کا باعث ہو گا۔

آیت 48

وَ عِنۡدَہُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِیۡنٌ ﴿ۙ۴۸﴾

’’اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی (بیویاں)۔‘‘

آیت 49

کَاَنَّہُنَّ بَیۡضٌ مَّکۡنُوۡنٌ ﴿۴۹﴾

’’گویا وہ انڈے ہوں چھپا کر رکھے گئے۔‘‘

50-57

اہلِ جنت کا باہمی مکالمہ

ویڈیو

فَاَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۵۰﴾ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ اِنِّیۡ کَانَ لِیۡ قَرِیۡنٌ ﴿ۙ۵۱﴾ یَّقُوۡلُ اَئِنَّکَ لَمِنَ الۡمُصَدِّقِیۡنَ ﴿۵۲﴾ ءَ اِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَ اِنَّا لَمَدِیۡنُوۡنَ ﴿۵۳﴾ قَالَ ہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ﴿۵۴﴾ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیۡ سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۵۵﴾ قَالَ تَاللّٰہِ اِنۡ کِدۡتَّ لَتُرۡدِیۡنِ ﴿ۙ۵۶﴾ وَ لَوۡ لَا نِعۡمَۃُ رَبِّیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُحۡضَرِیۡنَ ﴿۵۷﴾

آیت 50

فَاَقۡبَلَ بَعۡضُہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ یَّتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۵۰﴾

’’پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے سوال کریں گے۔‘‘

آیت 51

قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ اِنِّیۡ کَانَ لِیۡ قَرِیۡنٌ ﴿ۙ۵۱﴾

’’ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا۔‘‘

آیت 52

یَّقُوۡلُ اَئِنَّکَ لَمِنَ الۡمُصَدِّقِیۡنَ ﴿۵۲﴾

’’وہ کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟‘‘

آیت 53

ءَ اِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَ اِنَّا لَمَدِیۡنُوۡنَ ﴿۵۳﴾

’’کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا ہمیں (زندہ کر کے) بدلہ دیا جائے گا؟‘‘

یعنی میرا وہ ساتھی دنیا میں حیرت سے مجھے پوچھا کرتا تھا کہ کیا تم بھی محمد (ﷺ)کی ان باتوں پر یقین رکھتے ہوکہ ہمارے مر کھپ جانے اور مٹی میں مل جانے کے بعد ہمیں پھر سے زندہ کیا جائے گا اور ہمارے اچھے برے اعمال کی ہمیں سزا و جزا دی جائے گی؟

آیت 54

قَالَ ہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّطَّلِعُوۡنَ ﴿۵۴﴾

’’ ( کوئی کہنے والا ) کہے گا کہ کیا اب تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہو گے؟‘‘

یعنی جو شخص تمہیں اس طرح گمراہ کرنے کی کوشش کیاکرتاتھا اس وقت تم اسے دیکھنا چاہو گے کہ اب وہ کس حال میں ہے؟ گویااہل جنت کے لیے وہاں یہ بھی اہتمام ہوگا کہ وہ جس سے ملنا چاہیں مل لیں اور جو دیکھنا چاہیں دیکھ لیں۔

آیت 55

فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیۡ سَوَآءِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۵۵﴾

’’تو وہ جھانکے گا اور اسے دیکھے گا دوزخ کے عین درمیان میں۔‘‘

آیت 56

قَالَ تَاللّٰہِ اِنۡ کِدۡتَّ لَتُرۡدِیۡنِ ﴿ۙ۵۶﴾

’’وہ پکار اُٹھے گا : اللہ کی قسم‘ تم تو قریب تھے کہ مجھے بھی برباد کر دیتے!‘‘

یہ تو اللہ کا مجھ پر بڑا فضل ہوا کہ میں نے تمہاری باتوں پر زیادہ دھیان دینے کے بجائے اس آواز کی طرف توجہ دی جو میرے دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی اور میں نے اسی بات کو قبول کیا جس کو میرے دل نے حق جانا۔ ورنہ اگر خدانخواستہ میں نے کہیں تمہاری بات مان لی ہوتی تو آج میں بھی تمہارے ساتھ جہنم کے اس گڑھے میں پڑا ہوتا۔

آیت 57

وَ لَوۡ لَا نِعۡمَۃُ رَبِّیۡ لَکُنۡتُ مِنَ الۡمُحۡضَرِیۡنَ ﴿۵۷﴾

’’اور اگر میرے رب کی نعمت مجھ پر نہ ہوتی تو میں بھی لازماً پکڑے گئے لوگوں میں سے ہوتا۔‘‘

58-61

مقابلہ کا اصل میدان حصولِ جنت کے لئے کوشش

ویڈیو

اَفَمَا نَحۡنُ بِمَیِّتِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾ اِلَّا مَوۡتَتَنَا الۡاُوۡلٰی وَ مَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۵۹﴾ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۶۰﴾ لِمِثۡلِ ہٰذَا فَلۡیَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾

آیت 58

اَفَمَا نَحۡنُ بِمَیِّتِیۡنَ ﴿ۙ۵۸﴾

’’تو کیا اب ہمیں مرنا تو نہیں!‘‘

آیت 59

اِلَّا مَوۡتَتَنَا الۡاُوۡلٰی وَ مَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِیۡنَ ﴿۵۹﴾

’’سوائے ہماری اُس پہلی موت کے‘اور اب ہمیں کوئی عذاب بھی نہیں دیا جائے گا۔‘‘

یہ اہل جنت کی آپس کی گفتگو کا حوالہ ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کیا اس کے بعد ہماری کوئی پکڑ تو نہیں ہو گی؟ کیا اب مزید کسی چھانٹی کے لیے کوئی چھلنی تو نہیں لگے گی؟ اور کیا اب ہم مطمئن ہوجائیں کہ آئندہ ہمیں کسی قسم کے عذاب کا کوئی کھٹکا نہیں ہو گا؟اہل جنت کی ان باتوں سے ان کی سادہ لوحی‘ تواضع اور انکساری کا اظہار ہوتا ہے۔ جنت میں ٹھکانہ ملنے پر وہ لوگ فخر و تعلی کا اظہار نہیں کریں گے اور یوں نہیں سمجھیں گے کہ ہم نے اپنی محنت کا پھل پایا ہے اور اب ہم یہاں ہمیشہ ہمیش دھڑلے سے رہیں گے‘بلکہ اپنی اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ قرار دیں گے اور اس حوالے سے بار بار اس کے حضور شکر کا اظہار کریں گے۔

آیت 60

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۶۰﴾

’’یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے!‘‘

آیت 61

لِمِثۡلِ ہٰذَا فَلۡیَعۡمَلِ الۡعٰمِلُوۡنَ ﴿۶۱﴾

’’ایسی ہی چیز کے لیے عمل کرنا چاہیے عمل کرنے والوں کو!‘‘

ایسی ہی کامیابی کو ہدف بنا کر ہر کسی کو دنیا میں محنت اور بھاگ دوڑ کرنی چاہیے۔ بھاگ دوڑ تو سب ہی کرتے ہیں مگر اکثر و بیشتر سب کے پیش نظر دنیا اور ا س کا مال و متاع ہے ۔ہر کوئی اسی کے حصول کے لیے رات دن سرگرداں ہے اور اپنا خون پسینہ ایک کر رہا ہے (الا ما شاء اللہ) ۔ لیکن غور کیا جائے تو چار دن کا یہ عیش و آرام حاصل کر لینا کوئی بہت بڑی کامیابی تو نہیں ‘اور اس قسم کا عارضی ہدف کوئی قابل ذکر ہدف بھی نہیں ۔ بہر حال انسان کا وقت اور خون پسینہ اتنی ارزاں چیز نہیں کہ اسے عارضی اور وقتی کامیابی کے لیے ضائع کر دیا جائے۔ ایسی قیمتی پونجی کو تو کسی بڑے ہدف کے حصول کے لیے کام میں لانا چاہیے‘ اور وہ بڑا ہدف ہے جنت اور اس کی نعمتوں کا حصول !چنانچہ تمام بھاگ دوڑ کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس ہدف کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کریں۔

62-68

جہنمیوں کا برا حال

ویڈیو

اَذٰلِکَ خَیۡرٌ نُّزُلًا اَمۡ شَجَرَۃُ الزَّقُّوۡمِ ﴿۶۲﴾ اِنَّا جَعَلۡنٰہَا فِتۡنَۃً لِّلظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۳﴾ اِنَّہَا شَجَرَۃٌ تَخۡرُجُ فِیۡۤ اَصۡلِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۶۴﴾ طَلۡعُہَا کَاَنَّہٗ رُءُوۡسُ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿۶۵﴾ فَاِنَّہُمۡ لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡہَا فَمَالِـُٔوۡنَ مِنۡہَا الۡبُطُوۡنَ ﴿ؕ۶۶﴾ ثُمَّ اِنَّ لَہُمۡ عَلَیۡہَا لَشَوۡبًا مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۚ۶۷﴾ ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَہُمۡ لَا۠ اِلَی الۡجَحِیۡمِ ﴿۶۸﴾

آیت 62

اَذٰلِکَ خَیۡرٌ نُّزُلًا اَمۡ شَجَرَۃُ الزَّقُّوۡمِ ﴿۶۲﴾

’’بھلا مہمانی کے طو رپر یہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟‘‘

جنت کی مذکورہ نعمتوں کے مقابلے میں اہل جہنم کی ابتدائی مہمان نوازی زقوم (تھوہر) کے درخت سے کی جائے گی۔ اس ابتدائی مہمان نوازی کی نوعیت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس کے بعد اہل جہنم کو کن حالات کا سامنا کرنا ہو گا۔ اب اختیار انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔ وہ چاہے تو جنت کی دائمی نعمتوں کے حصول کو اپنا ہدف بنا لے یا جہنم اور اس کے خوفناک عذابوں کے ساتھ اپنی عاقبت کو وابستہ کر لے۔

آیت 63

اِنَّا جَعَلۡنٰہَا فِتۡنَۃً لِّلظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۳﴾

’’ہم نے اس (درخت) کو فتنہ بنا دیا ہے ظالموں کے لیے۔‘‘

آیت 64

اِنَّہَا شَجَرَۃٌ تَخۡرُجُ فِیۡۤ اَصۡلِ الۡجَحِیۡمِ ﴿ۙ۶۴﴾

’’وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہہ میں سے نکلے گا۔‘‘

یہی بات کافروں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بن گئی‘ جس کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۶۰میں بھی آ چکا ہے۔ اس میں ان کے لیے آزمائش کی وجہ دراصل ان کی یہ سوچ تھی کہ جہنم کی آگ کے اندر آخر درخت کیسے اُگیں گے؟ ایسی سوچ دراصل ان لوگوں کو پریشان کرتی ہے جو آخرت کے معاملات کو بھی اس دنیا کے قوانین و ضوابط پر قیاس کرنے لگتے ہیں۔ اس حوالے سے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کے بعد ایک ایسے عالم کا ظہور ہو گاجس کے قوانین کا اس دنیا کے قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ اس دنیا میں تو انسان آگ میں جل کر مر جاتا ہے‘ مگر جہنم کی آگ جلائے گی بھی اور مرنے بھی نہیں دے گی( الاعلیٰ:۱۳)۔ اس دنیا میں انسان کی جلد اگر ایک دفعہ آگ سے جھلس جائے تو پھر درست نہیں ہو سکتی‘مگر وہاں جہنمیوں کیِ جلدیں جل جانے کے بعد کپڑوں کی طرح تبدیل کر دی جائیں گی( النساء :۵۶)۔

آیت 65

طَلۡعُہَا کَاَنَّہٗ رُءُوۡسُ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿۶۵﴾

’’اُس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیاطین کے سر۔‘‘

یعنی جسامت میں غیر معمولی طور پر بڑے ‘جبکہ دیکھنے میں بہت ہی بھدے اور بد نما۔

آیت 66

فَاِنَّہُمۡ لَاٰکِلُوۡنَ مِنۡہَا فَمَالِـُٔوۡنَ مِنۡہَا الۡبُطُوۡنَ ﴿ؕ۶۶﴾

’’پھر وہ اس میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔‘‘

ویسے تو وہ درخت ایسا ہو گا کہ کوئی اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا لیکن‘ اہل جہنم بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر اس درخت کو کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔

آیت 67

ثُمَّ اِنَّ لَہُمۡ عَلَیۡہَا لَشَوۡبًا مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۚ۶۷﴾

’’پھر اس کے اوپر ان کے لیے گرم پانی کا آمیزہ ہو گا۔‘‘

زقوم کے برگ و بار کھانے کے بعد جب پیاس بھڑکے گی تو پیپ ملا کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔

آیت 68

ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَہُمۡ لَا۠ اِلَی الۡجَحِیۡمِ ﴿۶۸﴾

’’پھر ان کا لوٹ کر آنا ہے جہنم کی طرف۔‘‘

یعنی زقوم کا کھانا اور کھولتا ہوا مشروب تو ان لوگوں کو ابتدائی ’’مہمان نوازی ‘‘ کے طور پر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں ان کے مستقل ٹھکانے یعنی جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک!

69-74

جہنم میں جانے کا سبب. . . . گمراہ باپ دادا کی پیروی

ویڈیو

اِنَّہُمۡ اَلۡفَوۡا اٰبَآءَہُمۡ ضَآلِّیۡنَ ﴿ۙ۶۹﴾ فَہُمۡ عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ یُہۡرَعُوۡنَ ﴿۷۰﴾ وَ لَقَدۡ ضَلَّ قَبۡلَہُمۡ اَکۡثَرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾ وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا فِیۡہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ ﴿۷۲﴾ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿٪۷۴﴾

آیت 69

اِنَّہُمۡ اَلۡفَوۡا اٰبَآءَہُمۡ ضَآلِّیۡنَ ﴿ۙ۶۹﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آباء و اَجداد کو گمراہ پایا۔‘‘

آیت 70

فَہُمۡ عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ یُہۡرَعُوۡنَ ﴿۷۰﴾

’’تو وہ ان ہی کے نقوشِ قدم پر دوڑے چلے جا رہے ہیں۔‘‘

بے شک ان کے باپ دادا گمراہ تھے ‘لیکن انہوں نے اپنی عقل سے کام نہ لیا اور بغیر سوچے سمجھے اپنے گمراہ آباء و اَجداد کے اختیار کردہ راستوں پر گامزن ہو گئے۔

آیت 71

وَ لَقَدۡ ضَلَّ قَبۡلَہُمۡ اَکۡثَرُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۷۱﴾

’’اور ان سے پہلے لوگوں کی بھی اکثریت گمراہ تھی۔‘‘

یعنی ماضی میں بھی لوگوں کی اکثریت گمراہ ہی تھی۔ اس حوالے سے ہم سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۶ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پڑھ چکے ہیں: {وَ اِنۡ تُطِعۡ اَکۡثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ } ’’اور اگر تم پیروی کرو گے زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے لازماً گمراہ کر دیں گے‘‘۔ یہی مضمون سورۂ یوسف میں اس طرح بیان ہوا ہے: {وَ مَا یُؤۡمِنُ اَکۡثَرُہُمۡ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ہُمۡ مُّشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾} ’’اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر (کسی نہ کسی نوع کا) شرک بھی کرتے ہیں۔‘‘

گویا ہر زمانے کی اکثریت کسی نہ کسی قسم کے شرک میں ملوث رہی ہے۔ اورتوحید کے ساتھ شرک کی ملاوٹ کی ابتدا ہمیشہ یوں ہوتی رہی کہ اللہ کو ایک بڑے معبود کے طور پر مان لیا جاتا ‘لیکن اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے معبود بھی بنا لیے جاتے ۔پھر آہستہ آہستہ بڑا معبود اس لیے پس منظر میں چلا جاتا کہ وہ انسانی سوچ سے وراء الوراء‘ ثم وراء الوراء ہے اور پردئہ غیب میں بھی ہے‘ جبکہ چھوٹے اور خود ساختہ معبود ’’پیکر محسوس‘‘ کے طور پر ہر وقت اپنے پجاریوں کے سامنے حاضر و موجود ہوتے ۔ اس طرح رفتہ رفتہ یہ خود ساختہ معبود ہی کلی طور پر ان کے اعصاب پر سوار ہوجاتے ۔ پھر اللہ کے بارے میں یہ لوگ یہی گمان کرتے کہ وہ تو بس اپنی ذات میں مگن ہے اور اسے کائنات کی اب کوئی فکر نہیں ۔

جیسے ’’مشائین ‘‘اللہ تعالیٰ کے بارے میں اسی طرح کے گمراہ کن نظریات رکھتے ہیں۔( مشائین کے لغوی معنی ہیں چلنے پھرنے والے۔ ابتدائی طور پر اس گروہ کے لوگ چلتے پھرتے ہوئے اپنے استاد سے سیکھتے اور معلومات اخذ کرتے رہتے تھے‘ اس لیے وہ اس نام سے موسوم ہو گئے۔) اس گروہ کا ’’امام‘‘ ارسطوہے اور ہمارے ہاں کے اکثر متکلمین (علمائے فلسفہ) بھی اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ ارسطو کا فلسفہ اس حوالے سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف کلیات کا عالم ہے‘جزئیات کا نہیں۔ یعنی اللہ نے اس کائنات کو پیدا کر دیا ہے‘اس کے لیے کچھ قوانین بنا دیے ہیںاور اب یہ سارا نظام ان قوانین کے مطابق خود بخود چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کی اب نہ تو کوئی فکر ہے اور نہ ہی اب یہ اس کے کنٹرول میں ہے۔ جیسے کسی کھلاڑی نے فٹ بال کوِ کک لگائی تو فٹ بال تیزی سے لڑھکنے لگا۔ اب فٹ بال کی حرکت اسِ کک لگانے والے کے کنٹرول میں نہیں رہی۔ وہ اسے روکنا بھی چاہے تو روک نہیں سکتا۔ اب تو اس کی رفتارزمین کی رگڑ (friction) سے کم ہو گی یا راستے میں کوئی رکاوٹ اس کو روک لے گی‘ ورنہ اس کا اپنا زورِ حرکت (momentum) ختم ہو گا تو کہیں جا کر رُکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں دنیا کے بڑے بڑے حکماء اور فلاسفہ کے ایسے گمراہ کن نظریات رہے ہیں۔ بہرحال انسان جب اپنے بنائے ہوئے پیمانوں پر اللہ کو ناپنا اور تولنا چاہتا ہے تو اسے ایسے ہی حماقت آمیز خیالات و نظریات سوجھتے ہیں۔

آیت 72

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا فِیۡہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ ﴿۷۲﴾

’’اور ہم نے ان میں اپنے خبردار کرنے والے بھیجے تھے۔‘‘

آیت 73

فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿ۙ۷۳﴾

’’تو دیکھ لو! کیسا انجام ہوا ان لوگوں کاجنہیں خبردار کر دیا گیا تھا۔‘‘

اس حوالے سے قومِ نوحؑ‘قومِ ہودؑ ‘قومِ صالحؑ‘قومِ شعیبؑ ‘قومِ لوطؑ اور آلِ فرعون کے عبرتناک انجام کی تفصیلات قرآن میں جا بجا بیان فرمائی گئی ہیں۔

آیت 74

اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿٪۷۴﴾

’’سوائے اللہ کے خاص بندوں کے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی ہر زمانے میں ہر جگہ پر مدد کی اور انہیں اس انجامِ بد سے بچا لیا جس سے اللہ کے نا فرمان لوگ دو چار ہوئے۔

یوٹیوب پر دیکھیے