تحریر

الصافات

آیات ۱۴۹ تا ۱۶۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

149-157

مشرکینِ مکہ کا جھوٹا عقیدہ

ویڈیو

فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَلِرَبِّکَ الۡبَنَاتُ وَ لَہُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿ۙ۱۴۹﴾ اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّ ہُمۡ شٰہِدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ مِّنۡ اِفۡکِہِمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۱۵۱﴾ وَلَدَ اللّٰہُ ۙ وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾ اَصۡطَفَی الۡبَنَاتِ عَلَی الۡبَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۵۳﴾ مَا لَکُمۡ ۟ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۱۵۵﴾ اَمۡ لَکُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۵۶﴾ فَاۡتُوۡا بِکِتٰبِکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۵۷﴾

آیت 149

فَاسۡتَفۡتِہِمۡ اَلِرَبِّکَ الۡبَنَاتُ وَ لَہُمُ الۡبَنُوۡنَ ﴿ۙ۱۴۹﴾

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ان سے پوچھیں‘ کیا تمہارے ربّ کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے!‘‘

یہاں مشرکینِ مکہ کے اس عقیدے پر جرح کی جا رہی ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یعنی یہ لوگ خود اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہیں اور بیٹیوں کو نا پسند کرتے ہیں لیکن جب یہ لوگ اللہ سے اولاد منسوب کرتے ہیں تو اس کے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

آیت 150

اَمۡ خَلَقۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃَ اِنَاثًا وَّ ہُمۡ شٰہِدُوۡنَ ﴿۱۵۰﴾

’’کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو مؤنث بنایا تھا اور وہ اس کے گوا ہ ہیں؟‘‘

کیا یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں؟

آیات 151–152

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ مِّنۡ اِفۡکِہِمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۱۵۱﴾وَلَدَ اللّٰہُ ۙ وَ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۵۲﴾

’’خبردار! یقینا یہ لوگ جھوٹ گھڑ کر کہتے ہیں ‘کہ اللہ کے اولاد ہوئی اور یقینا یہ جھوٹے ہیں۔‘‘

آیت 153

اَصۡطَفَی الۡبَنَاتِ عَلَی الۡبَنِیۡنَ ﴿ؕ۱۵۳﴾

’’کیا اُس نے بیٹیاں پسند کر لیں بیٹوں کو چھوڑ کر!‘‘

آیت 154

مَا لَکُمۡ ۟ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾

’’تمہیں کیا ہو گیا ہے‘تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟‘‘

آیت 155

اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۱۵۵﴾

’’کیا تم ہوش سے کام نہیں لیتے؟‘‘

آیت 156

اَمۡ لَکُمۡ سُلۡطٰنٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۱۵۶﴾

’’ کیا تمہارے پاس کوئی واضح سند موجود ہے؟‘‘

آیت 157

فَاۡتُوۡا بِکِتٰبِکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۵۷﴾

’’تو لاؤ تم اپنی کتاب اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو!‘‘

158-163

جنات کا اللہ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں

ویڈیو

وَ جَعَلُوۡا بَیۡنَہٗ وَ بَیۡنَ الۡجِنَّۃِ نَسَبًا ؕ وَ لَقَدۡ عَلِمَتِ الۡجِنَّۃُ اِنَّہُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ ﴿ۙ۱۵۸﴾ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿ۙ۱۵۹﴾ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ فَاِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۱۶۱﴾ مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ بِفٰتِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾ اِلَّا مَنۡ ہُوَ صَالِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۶۳﴾

آیت 158

وَ جَعَلُوۡا بَیۡنَہٗ وَ بَیۡنَ الۡجِنَّۃِ نَسَبًا ؕ

’’اور انہوں نے تو اللہ کے اورِ جنوں کے درمیان بھی نسبی رشتہ قائم کر دیا ہے۔‘‘

وَ لَقَدۡ عَلِمَتِ الۡجِنَّۃُ اِنَّہُمۡ لَمُحۡضَرُوۡنَ ﴿ۙ۱۵۸﴾

’’حالانکہ جنوں کو خوب معلوم ہے کہ وہ تو گرفتارکرکے حاضر کیے جائیں گے۔‘‘

آیت 159

سُبۡحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿ۙ۱۵۹﴾

’’اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔‘‘

آیت 160

اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾

’’سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کر لیے گئے ہیں۔‘‘

اللہ کے وہ بندے جنہیں اللہ نے چن لیا ہے‘چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے‘وہ قیامت کے دن کی پکڑ سے محفوظ و مامون رہیں گے۔

آیت 161

فَاِنَّکُمۡ وَ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۱۶۱﴾

’’پس تم اور جن کو تم پوجتے ہو۔‘‘

آیت 162

مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ بِفٰتِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾

’’تم اللہ کے خلاف کسی کو بہکا نہیں سکتے ہو۔‘‘

آیت 163

اِلَّا مَنۡ ہُوَ صَالِ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۶۳﴾

’’سوائے اُس کے جو خود جہنم میں گرنے والا ہو۔‘‘

یہاں سے آگے چند آیات میں فرشتوں کی گفتگو کا ذکر ہے۔ اس لحاظ سے اِن آیات کا ربط سورت کی ابتدائی آیات سے ملتا ہے۔ ابتدائی آیات میں فرشتوں کا ذکر اس طرح ہوا تھا: {وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ﴿۱﴾فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ﴿۲﴾فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾} ’’قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔ پھر قسم ہے ان کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی‘‘۔ اب ان ہی فرشتوں کی باہمی گفتگو نقل کی جا رہی ہے:

164-166

فرشتوں کا اصل مقام

ویڈیو

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿ۙ۱۶۴﴾ وَّ اِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ ﴿ۚ۱۶۵﴾ وَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ ﴿۱۶۶﴾

آیت 164

وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿ۙ۱۶۴﴾

’’اور ہم میں سے کوئی نہیں مگر اُس کے لیے ایک مقام مقرر ہے۔‘‘

اس کو یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہوں کے درباروں میں تمام مقربین و مصاحبین میں سے ہر ایک کا کوئی خاص عہدہ ‘مقام اور مرتبہ مقرر ہوتا تھا۔ان میں کوئی پنج ہزاری ہوتا تھا تو کوئی دس ہزاری اور کوئی تیس ہزاری۔ اسی طرح اللہ کے حضور فرشتوں کے بھی الگ الگ مراتب ہیں‘ جیسے ملائکہ مقربین‘ملأاعلیٰ‘ملائکہ دنیا‘ملائکہ اسفل وغیرہ۔یہاں فرشتوں کا قول نقل ہوا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک معین مقام ہے‘ اور ہم میں سے جس کا جو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے ہم اس سے ذرہ برابر بھی تجاوز کرنے کی مجال نہیں رکھتے۔

آیت 165

وَّ اِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ ﴿ۚ۱۶۵﴾

’’اور ہم توسب کے سب صفیں باندھے کھڑے رہتے ہیں۔‘‘

ہم اللہ تعالیٰ کے حضور صف بستہ مستعد کھڑے رہتے ہیں۔

آیت 166

وَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡمُسَبِّحُوۡنَ ﴿۱۶۶﴾

’’اور ہم توسب کے سب (اپنے ربّ کی) تسبیح کرنے والے ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے