وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔‘‘
گویا وہ بارگاہِ خداوندی میں ہمہ وقت حاضر رہنے والے خادمین ہیں جو احکامات کی تعمیل کے لیے ہر لمحہ کمربستہ رہتے ہیں۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۱۰
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۃ الصّٰفّٰت کا آغاز جس انداز سے ہورہا ہے قرآن حکیم کی مزید چار سورتوں کا آغاز بھی بالکل اسی انداز سے ہوتا ہے ‘یعنی سورۃ الذّٰریٰت‘سورۃ المُرسلٰت‘سورۃ النّٰزعٰت اور سورۃ العٰدیٰت۔ ان پانچوں سورتوں کے آغاز میں ایک جیسے انداز میں قسمیں کھائی گئی ہیں۔ لیکن ان میں سے بعض مقامات پر مفسرین کے درمیان اشکال پایا جاتا ہے۔ مثلاً کسی مقام پر اگر کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ ان قسموں میں فرشتوں کا ذکر ہے تو بعض دوسرے مفسرین کی رائے ہے کہ ان سے ہوائیں مراد ہیں۔ بہر حال سورۃ الصّٰفّٰت کی ان ابتدائی آیات کے بارے میں تقریباً تمام مفسرین کا اجماع ہے کہ یہاں فرشتوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔
سورۃ الصّٰفّٰت کے بارے میں یہ بات بھی نوٹ کر لیجیے کہ یہ بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے اور اس کا انداز سورۃ الحجر اور سورۃ الشعراء سے مشابہت رکھتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی آیات‘تیز ردھم اور نمایاں صوتی آہنگ (جسے میں ’’ملکوتی غنا ‘‘اور Divine Music کہا کرتا ہوں) ان تینوں سورتوں کی مشترکہ خصوصیات ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور اہم بات یہ بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی سورتوں کے ہر گروپ کے اندر ابتدائی زمانے کی ایک سورت بھی رکھ دی ہے۔ اس کی حکمت جو اب تک میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے (ممکن ہے کوئی اور بڑی حکمت بھی ہو جو اب تک ہماری سمجھ میں نہ آئی ہو) کہ فطری طور پر انسان یکسانیت سے اُکتا جاتا ہے۔ انسانی فطرت کی اس کمزوری کو مد نظر رکھتے ہوئے سورتوں کو ترتیب دیتے ہوئے اسلوب اور مضامین میں تنوع پیدا کیا گیا ہے تا کہ مسلسل پڑھنے والا اکتاہٹ محسوس نہ کرے۔ مثلاً ایک شخص اگر روزانہ قرآن کے ایک پارے کی تلاوت کرتاہے تو اسے مسلسل کئی دن تک ایک جیسے اسلوب کے ساتھ ایک جیسے مضامین ہی پڑھنے کو نہ ملیں‘ بلکہ اس کے ذوقِ تنوع کی تسکین کے لیے مضامین اور اسلوب بدل بدل کر اس کے سامنے آئیں۔ واللہ اعلم!
وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ﴿۱﴾ فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ﴿۲﴾ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾ اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ رَبُّ الۡمَشَارِقِ ؕ﴿۵﴾
وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا ۙ﴿۱﴾
’’قسم ہے ان (فرشتوں) کی جو قطار در قطار صفیں باندھے حاضر رہتے ہیں۔‘‘
گویا وہ بارگاہِ خداوندی میں ہمہ وقت حاضر رہنے والے خادمین ہیں جو احکامات کی تعمیل کے لیے ہر لمحہ کمربستہ رہتے ہیں۔
فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۙ﴿۲﴾
’’پھرقسم ہے اُن کی جو ڈانٹنے والے ہیں۔‘‘
یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بستی پر عذاب کا حکم دیتا ہے تو فرشتوں کی ایک ڈانٹ (صَیحَۃ) سے وہ بستی تباہ اور متعلقہ قوم ہلاک ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ سورۂ یٰسٓ میں ایک قوم کے بارے میں فرمایا گیا: {اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ خٰمِدُوۡنَ ﴿۲۹﴾} ’’وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی‘تو اسی وقت وہ سب بجھ کر رہ گئے۔‘‘
فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا ۙ﴿۳﴾
’’پھر قسم ہے اُن کی جو تلاوت کرنے والے ہیں ذکر کی۔‘‘
یعنی اللہ کا جو کلام انبیاء و رسل علہیم السلام پر نازل ہوتا ہے اسے فرشتے ہی لے کر آتے ہیں ---- اب اگلی آیت میں ان قسموں کے مقسم علیہ کا ذکر ہوا ہے ۔ یعنی یہ تمام فرشتے اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ:
اِنَّ اِلٰـہَکُمۡ لَوَاحِدٌ ﴿ؕ۴﴾
’’یقینا تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے۔‘‘
جیسے کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوا ہے‘ ان سورتوں (زیر مطالعہ گروپ )کا مرکزی مضمون توحید اور ردِّ شرک ہے۔ اسی لیے یہاں ان قسموں کی گواہی کے بعد جو حقیقت بیان فرمائی گئی ہے وہ معبودِ حقیقی کے اکیلے اور تنہا ہونے کے بارے میں ہے۔البتہ اس کے بعد مکی سورتوں کے جو آخری دو گروپس ہیں ان کا مرکزی مضمون چونکہ انذارِآخرت ہے‘ اس لیے ان گروپس کی جن سورتوں کے آغاز میں ایسی قسمیں کھائی گئی ہیں وہاں ان قسموں کے بعد مقسم علیہ کے طور پر {وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾} (الذّٰریٰت) (جزا و سزا اور حساب کتاب کا معاملہ یقینا ہونے والا ہے) جیسی آیات آئی ہیں۔
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا وَ رَبُّ الۡمَشَارِقِ ؕ﴿۵﴾
’’جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اور تمام مشرقوں کا۔‘‘
یہاں ’’مشارق‘‘ کے بعد ’’مغارب‘‘ کا ذکر نہیں ہوا ٭
اس لیے کہ زمین کا ہر مقام اور ہر نقطہ مشرق بھی ہے اور مغرب بھی۔ یعنی اگر ہم کسی وقت سورج کو کسی مقام پر غروب ہوتا دیکھ رہے ہیں تو عین اسی وقت اسی مقام سے کسی دوسرے علاقے کے لوگ اسے طلوع ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے سورج کے طلوع و غروب کے حوالے سے مشرق اور مغرب کا ذکر الگ الگ بھی ہو سکتا ہے اور یوں بھی کہاجا سکتا ہے کہ زمین کے تمام مقامات مشارق ہی ہیں۔ یعنی ہر جگہ سے کسی نہ کسی وقت سورج طلوع ہوتا نظر آتا ہے۔
٭ سورۃ المعارج میں ’’مشارق ‘‘ کے ساتھ ’’مغارب‘‘بھی مذکور ہے! {فَلَا اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ…} (آیت ۴۰) ’’پس نہیں! میں قسم کھاتاہوں تمام مشرقوں اور مغربوں کے رب کی …‘‘ (مرتب)
اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِزِیۡنَۃِۣ الۡکَوَاکِبِ ۙ﴿۶﴾ وَ حِفۡظًا مِّنۡ کُلِّ شَیۡطٰنٍ مَّارِدٍ ۚ﴿۷﴾ لَا یَسَّمَّعُوۡنَ اِلَی الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰی وَ یُقۡذَفُوۡنَ مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ ٭ۖ﴿۸﴾ دُحُوۡرًا وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ ۙ﴿۹﴾ اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ ﴿۱۰﴾
اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِزِیۡنَۃِۣ الۡکَوَاکِبِ ۙ﴿۶﴾
’’ہم نے مزین کر دیا ہے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زیبائش سے۔‘‘
السَّمَائَ الدُّنْیَا مرکب توصیفی ہے ‘یعنی سب سے قریب والا آسمان۔ دَنَا یَدْنُو کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور اسی سے ادنٰی ہے یعنی ’’قریب ترین‘‘ جبکہ ’’دُنْیَا‘‘ کا لفظ اس کا مؤنث ہے۔
وَ حِفۡظًا مِّنۡ کُلِّ شَیۡطٰنٍ مَّارِدٍ ۚ﴿۷﴾
’’اور حفاظت کی خاطر ہر سرکش شیطان سے۔‘‘
یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سورۃ الحجر کی آیت ۱۷ کے ضمن میں اس کی وضاحت قدرے تفصیل سے بیان ہو ئی ہے۔ بہر حال اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہِ جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے اور میری رائے اس کے متعلق یہ ہے کہ ان کو سورج کی آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی لیے نظامِ شمسی کی حدود میں جنات آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں کسی اہتمام یا کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔ بلکہ جیسے پرندے فضا میں آسانی سے اِدھر اُدھر اڑتے پھرتے ہیں اسی طرح جنات بھی نظامِ شمسی کی پوری فضا یا حدود میں اپنی مرضی سے جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔ البتہ نظامِ شمسی کی حدود سے تجاوز کرنے کی انہیں اجازت نہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض سرکش جنات عالم بالا کے معاملات کی سن گن لینے کے لیے اپنی حدود سے تجاوز کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تخلیق کے اعتبار سے جنوں اور فرشتوں میں چونکہ قرب پایا جاتا ہے (فرشتے نوری ہیں اور یہ ناری)اس لیے شیاطین جن فرشتوں سے رابطہ کرنے اور کسی نہ کسی حد تک ان سے کچھ معلومات اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ فرشتے عالم بالا سے احکام لے کر جب آسمانِ دنیا کی طرف نزول کرتے ہیں تو شیاطین جن ان سے کچھ معلومات قبل از وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے حفاظتی انتظام کر رکھا ہے۔ خصوصی طور پر نزولِ وحی کے زمانے میں اس حفاظتی نظام کو غیر معمولی طور پر فعال کیاجاتا رہاہے۔
لَا یَسَّمَّعُوۡنَ اِلَی الۡمَلَاِ الۡاَعۡلٰی
’’وہ سن نہیں پاتے ملأ اعلیٰ کی باتیں‘‘
اصل میں یہ فعل یَتَسَمَّعُوْنَ (باب تفعّل)تھا ‘جو یَسَّمَّعُوْنَ بن گیا ہے۔
وَ یُقۡذَفُوۡنَ مِنۡ کُلِّ جَانِبٍ ٭ۖ﴿۸﴾
’’اور ان کو مار پڑتی ہے ہر طرف سے ۔‘‘
عالم بالا تک ان کی رسائی کو روکنے کے لیے ان پر میزائل فائر کیے جاتے ہیں۔
دُحُوۡرًا وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ وَّاصِبٌ ۙ﴿۹﴾
’’بھگانے کے لیے ‘اور ان کے لیے (پھر) ایک دائمی عذاب ہے۔‘‘
اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ ﴿۱۰﴾
’’سوائے اس کے کہ جو کوئی اُچک لے کوئی چیز تو اس کا پیچھا کرتا ہے ایک چمکتا ہوا اَنگارہ۔‘‘
یعنی ان میں سے جو کوئی اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہوا پایا جاتا ہے وہ اس میزائل کا شکار ہو جاتا ہے۔