’’(پھر خود ہی کہیں گے:) ارے یہ تو وہی (دن) ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔‘‘
پیغمبرو ں نے بعث بعد الموت کے بارے میں جو خبریں دی تھیں وہ سب کی سب سچ ثابت ہوئیں اور آج واقعی وہ دن آن پہنچا ہے جس کے بارے میں وہ ہمیں بار بار یاد دہانی کرایا کرتے تھے۔
’’اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے۔‘‘
اس سے پہلے سورۃ الشعراء میں شعراء کے بارے میں یہ حکم ہم پڑھ آئے ہیں: {وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿ؕ۲۲۴﴾اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ ﴿ۙ۲۲۵﴾وَ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۙ۲۲۶﴾} ’’اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں۔اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں‘‘۔ سورۃ الشعراء کی ان آیات کے بعد اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے استثناء کا ذکر بھی فرمایا ہے‘ لیکن شعراء اور شاعری کے بارے میں عام قاعدہ کلیہ بہر حال یہی ہے جو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔
چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اس حقیقت کا اعلان فرمادیا گیا کہ شاعری کے ساتھ ہمارے رسولﷺ کی طبیعت کی مناسبت ہی نہیں ۔ آپﷺ کی طبیعت میں شعر فہمی اور شعر شناسی کا ملکہ تو تھا لیکن شعر پڑھنے کا ذوق نہیں تھا‘ اس لیے اگر آپؐ کبھی کوئی شعر پڑھتے بھی تو اس کے الفاظ آگے پیچھے ہو جاتے اور شعر کا وزن خراب ہو جاتا۔ ایک دفعہ آپﷺ نے ایک شعر پڑھا اور پڑھتے ہوئے حسب معمول شعر بے وزن ہو گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پاس تھے‘آپؓ سن کر مسکرائے اور عرض کیا: اِنِّی اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے آپؐ کو شعر کی تعلیم نہیں دی تو پھر آپؐ درست شعر کیونکر پڑھیں گے! گویا آپؐ کی زبانِ مبارک سے بے وزن شعر سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ثبوت مل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ میں شعر کے فنی رموز اور وزن وغیرہ کا ذوق پیدا ہی نہیں فرمایا۔ البتہ معنوی اعتبار سے حضورﷺ شعر کو خوب سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں آپؐ کا فرمان ہے: حدیث((اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً ))۱ … حدیث((اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا))۲ کہ بہت سے اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور بہت سے خطبات جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
’’یہ تو بس ایک یاد دہانی اور نہایت واضح قرآن ہے۔‘‘
یہ ایک صاف واضح اور روشن کلام ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
(۱)سنن ابن ماجہ‘ کتاب الادب‘ باب الشعر‘ راوی : اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ۔
(۲)صحیح البخاری‘ کتاب النکاح‘ باب الخطبۃ‘ راوی : عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللہ عنہما -
آیت 70
لِّیُنۡذِرَ مَنۡ کَانَ حَیًّا
’’تا کہ وہ خبردار کر دے اُس کو جو زندہ ہو‘‘
یہاں ’’زندہ ہونے‘‘ سے مراد روح کا زندہ ہونا ہے۔ یہ مضمون اگرچہ قبل ازیں بھی متعدد مقامات پر بیان ہو چکا ہے ‘لیکن اس آیت میں یہ واضح ترا نداز میں آیا ہے۔ گویا کچھ انسان جیتے جی مردہ ہوتے ہیں ‘جیسے ابوجہل اور ابو لہب بحیثیت انسان زندہ نہیں تھے‘ وہ صرف حیوانی سطح پر زندہ تھے‘ جبکہ ان کے اندر ان کی روحوں کی موت واقع ہو چکی تھی۔ چنانچہ قرآن کا اِنذار صرف اسی انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جس کے اندر اس کی روح زندہ ہو اور اس کی فطرت مسنح نہ ہو چکی ہو۔
یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ’’فطرت‘‘ کے مترادف کے طور پر ’’خلقت ‘‘کا لفظ استعمال کر لیا جاتا ہے اور اسی کو فارسی زبان میں ’’سرشت‘‘ بھی کہتے ہیں۔ لیکن زیر بحث مضمون کی وضاحت کے لیے جس سیاق و سباق میں لفظ ’’فطرت ‘‘کا حوالہ آیا ہے اس کا مفہوم لفظِ ’’خلقت ‘‘سے یکسر مختلف ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ’’خلقت‘‘ کا تعلق عالمِ خلق یعنی مٹی اور زمین سے ہے‘ اس لیے یہ ضعف اور خامیوں سے عبارت ہے۔ مثلاً قرآن کے مطابق انسان کمزور ( النسائ:۲۸) بھی ہے اور جلد باز (بنی اسرائیل:۱۱) بھی ۔ گویا انسانی خلقت میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس انسانی ’’فطرت‘‘ کا تعلق ’’روح‘‘ سے ہے جو اللہ کی طرف سے انسان میں پھونکی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {فِطۡرَتَ اللّٰہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ } ( الروم :۳۰) ’’یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اُس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔چنانچہ فطرت کمزوریوں اور خامیوں سے پاک ہے‘ کیونکہ اس کا تعلق عالم امر یا عالمِ بالا سے ہے۔
وَّ یَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۰﴾
’’اور کافروں پر قول واقع ہو جائے۔‘‘
یعنی ان پر حجت تمام ہو جائے اور وہ عذاب کے مستحق ہو جائیں۔
’’کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کر دیے‘ جن کے اب یہ مالک بنے پھرتے ہیں۔‘‘
یہ میری بھینس ہے‘ میں اس کا مالک ہوں! یہ اُس کی گائے ہے!یہ فلاں کا گھوڑا ہے! بکریوں کے ریوڑ کا مالک فلاں ہے! گویا یہ لوگ بڑے فخر سے ان مویشیوں اور چوپایوں پر اپنا حق ملکیت جتاتے ہیں ‘لیکن یہ حقیقت وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں تخلیق تو اللہ نے ہی کیا ہے۔
’’اور ہم نے ان (مویشیوں) کو ان کا مطیع کر دیا ہے تو ان میں سے بعض پر وہ سوار ہوتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔‘‘
انسان سے کئی کئی گنا زیادہ طاقتور جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر اس کے تابع کر دیا ہے۔ چنانچہ کئی جانور تو ایسے ہیں جن کو انسان سواری اور باربرداری کے کام میں لاتا ہے اور کئی وہ ہیں جن کے گوشت سے اس کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
’’اور ان کے لیے ان میں بہت سی منفعتیں اور پینے کی جگہیں ہیں۔ تو کیا یہ لوگ شکر نہیں کرتے!‘‘
انسانی زندگی میں جانوروں کی اہمیت اور افادیت کے بہت سے دوسرے پہلو بھی ہیں۔ باربرداری کی خدمات اور غذائی ضروریات کے علاوہ ان کی اون اور کھالوں سے انسانی استعمال کی بے شمار چیزیں بنتی ہیں۔ اور اب تو ان جانوروں کی کوئی ایک چیز بھی ضائع نہیں جاتی‘ حتیٰ کہ ان کے خون اور گوبر کو بھی مختلف طریقوں سے استعمال کر لیا جاتا ہے۔
’’مشَارِب‘‘ جمع ہے اور اس کا واحد ’’ مشرب‘‘ ہے جس کے معنی پینے کی جگہ اور گھاٹ کے ہیں۔ گویا دودھ دینے والے جانور اور ان جانوروں کے تھن انسان کے لیے ’’مشرب‘‘ یعنی دودھ کے گھاٹ ہیں۔دودھ ایک بہترین مشروب اور انسانی زندگی کے لیے بے حد مفید غذاہے۔ جانوروں سے حاصل ہونے والی اس ایک نعمت پر ہی انسان اللہ کا شکر ادا کرنا چاہے تو اس کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اسماعیل میرٹھی صاحب نے یہ انتہائی اہم اور سنجیدہ بات کتنے سادہ انداز میں بچوں کی زبان میں کہہ دی ہے: ؎
’’اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود گھڑ لیے ہیں‘شاید کہ ان کی مدد کی جائے۔‘‘
انہیں اُمید ہے کہ اللہ کے ہاں ان معبودوں کی سفارش سے وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں گے ۔
آیت 75
لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَہُمۡ ۙ
’’وہ ہر گز کوئی استطاعت نہیں رکھتے ان کی مدد کی‘‘
وَ ہُمۡ لَہُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴿۷۵﴾
’’بلکہ یہ تو خود ہوں گے ان کے پکڑے ہوئے قیدی۔‘‘
یعنی جنہیں یہ لوگ پوجتے تھے وہی انہیں پکڑ پکڑ کر اللہ کے حضور پیش کر یں گے اور کہیں گے :اے اللہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ہمارے ساتھ یہ ظلم کیا تھاکہ ہمیں تیراشریک ٹھہراتے رہے۔
’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔‘‘
اس اعتراض کے جواب میں یہ دلیل قرآن حکیم میں متعدد بار بیان فرمائی گئی ہے جسے معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ یعنی کسی چیز کا ابتدائی طور پرپیدا کرنا ‘یا کسی بھی کام کا پہلی مرتبہ انجام دینا‘ اس کا اعادہ کرنے کے مقابلے میں بظاہر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تو جس ہستی نے پہلی دفعہ انسان کو بنایا ہے اس کے لیے اسے دوبارہ بنانا بھلا کیونکر مشکل ہو گا!
وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلۡقٍ عَلِیۡمُۨ ﴿ۙ۷۹﴾
’’اور وہ ہر مخلوق کا مکمل علم رکھنے والا ہے۔‘‘
کون کہاں دفن ہوا‘ کس کے جسم کے کون کون سے اجزاء کس کس حالت میں کہاں کہاں منتشر ہوئے‘ یہ سب معلومات اللہ تعالیٰ کے علم قدیم اور علم کامل کے اندر محفوظ ہیں۔
اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہرے بھرے درختوں کے اندر جلنے اور آگ پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کی ہے۔ ان کی لکڑیوں کو تم لوگ خشک کر کے جلاتے ہو اور آگ کے حوالے سے اپنی مختلف ضروریات پوری کرتے ہو۔ اس کے علاوہ اس سے بعض ایسے درخت بھی مرادہیں جن کی سبزٹہنیوں کو رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً بانس کی بعض اقسام میں یہ صلاحیت موجود ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے صحراؤں میں خاص طور پربعض ایسے درخت پیدا کر رکھے ہیں جن کی مدد سے مسافر ضرورت پڑنے پر آگ پیدا کر سکیں۔ جیسے کہ عرب کے صحراؤں میں مرخ اور عفار نامی دو درخت پائے جاتے تھے‘ جن کی سبز شاخوں کو آپس میں رگڑکر آگ پیدا کی جا سکتی تھی۔
فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّنۡہُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾
’’تو تم اس سے آگ سلگاتے ہو۔‘‘
1181-83
وسیع و عریض کائنات کا خالق ہر انسان کو دوبارہ زندہ کرے گا
’’تو کیا جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو‘وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسی مخلوق دوبارہ پیدا کر دے!‘‘
یہاں پر یَخْلُقَ مِثْلَہُمْ کے الفاظ میں ایک اہم مضمون بیان ہوا ہے جو اس آیت کے علاوہ بھی قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا تو ہم میں سے ہر ایک کو بعینہٖ دنیا والا جسم نہیں دیا جائے گا بلکہ ’’اس جیسا ‘‘جسم دیا جائے گا۔ اس کی عقلی توجیہہ یہ ہے کہ انسان کا جسم تو اس کی زندگی میں بھی مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس میں مسلسل تغیرات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ کھال سمیت جسم کے تمام اعضا ء کے خلیات اور خون کے سرخ و سفید خلیات مسلسل ختم ہوتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے نئے خلیات بنتے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرا جو جسم دس سال پہلے تھا وہ آج ختم ہو چکا ہے اور اس کی جگہ بالکل ایک نیا جسم بن چکا ہے۔ اسی طرح آج میرا جو جسم ہے چند سال بعد اس کی یہ ہیئت تبدیل ہو جائے گی۔ گویا بچپن میں جسم کی جو کیفیت ہوتی ہے‘جوانی تک پہنچتے پہنچتے وہ کیفیت بالکل بدل جاتی ہے‘جبکہ بڑھاپے کی عمر میں جوانی والے جسم کی ہیئت بھی مکمل طور پر تبدیل ہو جاتی ہے۔ بہر حال ہر انسان کو دوبارہ اٹھنے پر جو جسم دیا جائے گا وہ بعینہٖ دنیا والا جسم نہیں ہو گا‘ بلکہ ’’اس جیسا ‘‘جسم ہو گا اور اس کی شکل کی سی شکل ہو گی۔ دنیا کی زندگی میں جس جسم سے ا س نے نیک یا برے اعمال کمائے ہوں گے‘اسی طرح کے جسم کے ساتھ اسے ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ رسول اللہﷺ کا ایک فرمان بھی اس کے لیے دلیل فراہم کرتا ہے جو بالعموم آپؐ کی خوش طبعی کی مثال کے طور پر بیان کیا جا تا ہے۔ حضورﷺ کے پاس ایک دفعہ ایک بوڑھی خاتون حاضر ہوئی اوراپنے لیے جنت کی دعا کی درخواست کی۔ آپﷺ نے جواب میں فرمایا :’’اے اُمّ فلاں! جنت میں بوڑھی عورتیں تو داخل نہیں ہوں گی‘‘۔اس پر وہ سادہ لوح خاتون رنجیدہ ہوکر رونے لگی۔ آپﷺ نے یہ دیکھا تو اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: حدیث((اَنَّ الْعَجُوْزَ لَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّۃَ عَجُوْزًا بَلْ یُنْشِئُھَا اللّٰہُ خَلْقًا آخَرَ، فَتَدْخُلُھَا شَابَّـۃً بِکْرًا)) ’’بوڑھی عورتیں بڑھاپے کی حالت میں ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک اور ہی اٹھان پر اٹھائے گا‘ پس تم نوجوان کنواری بن کر جنت میں داخل ہو گی‘‘۔ اور پھر آپﷺ نے اس خاتون کو یہ آیات پڑھ کر سنائیں: {اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا ﴿ۙ۳۶﴾عُرُبًا اَتۡرَابًا ﴿ۙ۳۷﴾} (الواقعۃ) ’’ان کو ہم ایک خاص اٹھان پر اٹھائیں گے‘ اور ان کو باکرہ بنائیں گے‘ محبت کرنے والی‘ ہم عمر۔‘‘ ۱
بَلٰی ٭ وَ ہُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۱﴾
’’کیوں نہیں! جبکہ وہ تو بہت تخلیق فرمانے والا ‘سب کچھ جاننے
(۱)غایۃ المرام للالبانی‘ ح : ۳۷۵۔ نیز ملاحظہ ہو : سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ‘ ح:۲۹۸۷۔
’’اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی شے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ اسے کہتا ہے ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔‘‘
یہاں پریہ اہم نکتہ نوٹ کرلیجیے کہ یہ ’’عالم امر‘‘ کا معاملہ ہے‘ جبکہ عالمِ خلق کے قوانین مختلف ہیں۔ قرآن میں یہ آیت متعدد بار آئی ہے اور اسی مفہوم اور انہی الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ عالم امر اور عالم خلق کے بارے میں وضاحت سورۃ الاعراف کی آیت ۵۴کے ضمن میں کی جا چکی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عالم امر میں چیزوں کو وقوع پذیر ہونے کے لیے کوئی وقت درکار نہیں ‘جبکہ عالم خلق میں تخلیق کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن میں زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم نے انہیں چھ دنوں میں بنایا۔ ان چھ دنوں سے مراد چھ ادوار (Eras) ہو سکتے ہیں ۔انہیں آپ میلینیم (millenniums) کہہ لیں۔ عین ممکن ہے کہ جس عرصہ کو یہاں ’’دن‘‘ کا نام دیا گیا ہے وہ لاکھوں برس پر محیط ہو۔ لیکن چھ دنوں کے ذکر سے یہ حقیقت تو بہرحال واضح ہوتی ہے کہ زمین وآسمان کی تخلیق میں کچھ وقت لگا۔ اس لیے کہ یہ ’’عالم خلق‘‘ کی تخلیق ہے۔
اس کے برعکس ’’عالمِ امر‘‘ میں ’’وقت‘‘ کا تکلف نہیں پایا جاتا۔ مثلاً روحِ انسانی اور فرشتوں کا تعلق عالم امر سے ہے ‘اس لیے روح کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لیے کوئی وقت درکار نہیں۔ اسی طرح حضرت جبریل امین علیہ السلام آنِ واحد میں عرش سے زمین پر آ جاتے ہیں اور آنِ واحد میں زمین سے عرش پر پہنچ جاتے ہیں۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اللہ تعالیٰ کے امر کی خصوصی شان کا ذکر عالم امر کے حوالے سے ہوا ہے۔