’’ہم نے اسے زندہ کیا اور ا س سے اناج نکالا‘تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔‘‘
بارش برستے ہی بظاہر مردہ اور بنجر زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہو جاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ ‘فصلیں اور پودے اُگ آتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔
’’تا کہ یہ ان کے پھلوں میں سے کھائیں ‘اور یہ سب ان کے ہاتھوں نے تو نہیں بنایا۔تو کیا یہ شکر نہیں کرتے؟‘‘
یہ کھجوریں‘ انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل جو یہ لوگ کھاتے ہیں ‘یہ ان کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے تو نہیں ہیں۔ یہ مضمون سورۃ الواقعہ کے دوسرے رکوع میں زیادہ زور دار اور مؤثر انداز میں بیان ہوا ہے ۔ وہاں تکرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مختلف تخلیقات کا ذکر کر کے ہر بار یہ سوال کیا گیا ہے کہ ذرا بتاؤ! یہ چیز تم نے بنائی ہے یا اس کو بنانے والے ہم ہیں؟ علامہ اقبالؔ نے اس مضمون کی ترجمانی یوں کی ہے: ؎
’’اُس میں سے بھی جو زمین اُگاتی ہے‘ اور خود ان کی اپنی جانوں سے بھی اور اُس میں سے بھی جن کے بارے میں یہ نہیں جانتے۔‘‘
زمین سے اُگنے والے سب نباتات بھی جوڑوں کی شکل میں ہیں‘انسانوں کی تخلیق بھی جوڑوں کی صورت میں ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بہت سی دوسری مخلوقات بھی جوڑوں کی شکل میں ہیں جن کے بارے میں انسان ابھی جانتا بھی نہیں ہے۔
’’اور ان کے لیے ایک نشانی رات بھی ہے ‘ہم کھینچ لیتے ہیں اُس سے دن کو ‘تو اُس وقت یہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔‘‘
یہ ایسے ہے جیسے ایک سیاہ چادر بچھی ہو‘جسے ایک چمکدار چادر نے ڈھانپ رکھا ہو۔ پھر اوپر والی سفید اور چمکدار چادر کھینچ لی جائے اور نیچے سے سیاہ چادر نمودار ہو جائے۔
آیت 38
وَ الشَّمۡسُ تَجۡرِیۡ لِمُسۡتَقَرٍّ لَّہَا ؕ
’’اور سورج چلتا رہتا ہے اپنے مقررہ راستے پر۔‘‘
یعنی اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔
ذٰلِکَ تَقۡدِیۡرُ الۡعَزِیۡزِ الۡعَلِیۡمِ ﴿ؕ۳۸﴾
’’یہ اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اُس کا جو بہت زبردست ‘بہت علم والا ہے۔‘‘
’’مگر یہ ہماری طرف سے رحمت ہے اور فائدہ اٹھانا ہے ایک وقتِ معین تک کے لیے۔‘‘
ہم نے اپنی خصوصی رحمت سے اس زمین کے ماحول کو انسانی زندگی کے لیے سازگار بنایا ہے اور اس میں انسانوں کے رہنے اور بسنے کے لیے ضرورت کا تمام سازوسامان فراہم کر دیا ہے۔
’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سبق حاصل کرو اُس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تا کہ تم پر رحم کیاجائے۔‘‘
یہاں پر اِتَّقُوْا بچنے اور ڈرنے کے بجائے سوچنے‘توجہ کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح نگاہوں کے سامنے سے مراد آیاتِ آفاقیہ (آلاء اللہ) اور پیچھے سے مراد نسل انسانی کی پرانی تاریخ (ایام اللہ) ہے ۔( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو زیر مطالعہ سورۃ کی آیت ۹ کی تشریح )
’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں دیا ہے‘‘
یعنی اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے غریبوں کی حاجت روائی کرو‘بھوکوں کو کھلاؤ‘یتیموں کی سرپرستی کرو‘خلقِ خدا کی بہبود اور بھلائی کے دوسرے کاموں میں خرچ کرو۔
’’تو یہ کافر کہتے ہیں اہلِ ایمان سے کہ کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا!‘‘
اس کے جواب میں ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اگر چاہتا کہ یہ لوگ بھوکے نہ رہیں تو وہ انہیں خود ہی وافر رزق عطا کر دیتا‘ لیکن اگر اللہ نے ا نہیں ان کی ضروریات کے مطابق رزق نہیں دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود انہیں اسی حالت میں رکھنا چاہتا ہے۔ تو کیاہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ نے ہی کھلانا نہیں چاہا؟
اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۴۷﴾
’’تم تو خود ہی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو!‘‘
یہ جواب ہے ان کافروں کا نصیحت کرنے والوں کو کہ تم لوگ ہمیں کیا نصیحتیں کرتے ہو‘تمہاری تو مت ماری گئی ہے‘ تم تو خود بھٹکے ہوئے ہو‘تمہاری یہ بات اور نصیحت عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ خوشحال لوگ غرباء و مساکین کا خیال رکھیں اور بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔
’’اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہو گا‘اگر تم لوگ سچے ہو!‘‘
یہاں وعدے سے قیامت کاوعدہ بھی مراد ہو سکتا ہے اور عذاب آنے کا وعدہ بھی۔ یعنی آپ کا دعویٰ تو یہ ہے کہ ایمان نہ لانے کی پاداش میں ہم پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا ۔ چنانچہ ہم آپ کی دعوت کا انکار توکر چکے ہیں ‘اب وہ عذاب ہم پر آخر کب آئے گا؟ یا اگر قیامت کے بارے میں آپ کا دعویٰ سچا ہے تو ذرا یہ بھی بتا دیں کہ قیامت آخر کب برپا ہو گی؟
’’پھر نہ تو وہ کوئی وصیت ہی کرسکیں گے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جا سکیں گے۔‘‘
وہ معاملہ اس قدر اچانک ہو گا کہ جو کوئی جس حالت میں ہو گا اسی حالت میں اس کا شکار ہو جائے گا۔ قبل ازیں اسی سورت میں اس منظر اور کیفیت کا ایک نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے: {اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ خٰمِدُوۡنَ ﴿۲۹﴾} ’’وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی‘تو جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے۔‘‘