یٰسٓ ۚ﴿۱﴾
’’ یٰـسٓ !‘‘
زیادہ تر مفسرین کی رائے میں ’’ یٰـسٓ ‘‘ حضورﷺ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اسی طرح ’’طٰہٰ‘‘ کے بارے میں بھی یہی کہا جا تا ہے کہ یہ حضورﷺ کا نام ہے۔ واللہ اعلم!
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
تحریر
آیات ۱ تا ۳۲
بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
سورۂ یٰـسٓ بالکل منفرد سورت ہے‘اس کا کوئی جوڑا نہیں۔مسند احمد‘ سنن ابی داؤد اور دیگر کتب حدیث میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((یٰسٓ قَلْبُ الْقُرْآنِ)) یعنی سورئہ یٰـسٓ قرآن مجید کا دل ہے۔ اس حوالے سے اس کی ایک خصوصیت جو واضح طور پر محسوس ہوتی ہے وہ اس کا اسلوب ہے‘جس کی وجہ سے اسے پڑھنے یا سننے سے انسان اپنی روح کے اندر ایک ارتعاش سا محسوس کرتا ہے جیسے انسان کے سینے میں دل دھڑکتا ہو۔دوسری خصوصیت جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ اس کے مضمون کے اعتبار سے ہے اور اس خصوصیت کے درست ادراک کے لیے ضروری ہے کہ مکی سورتوں کے گروپس کی تقسیم کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیا جائے۔ مکی سورتوں کے کل چھ گروپس ہیں جو مضامین کے اعتبار سے مزید دو دو گروپس پر مشتمل تین ضمنی گروپس میں منقسم ہیں۔ پہلے دو گروپس (ان کے پہلے گروپ میں سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف اور دوسرے گروپ میں سورۂ یونس سے لے کر سورۃ المؤمنون تک چودہ سورتیں شامل ہیں) کی سورتوں کا بنیادی موضوع ایمان بالرسالت ہے۔ درمیانی دو گروپس (ان کے پہلے گروپ میں سورۃ الفرقان سے سورۃ السجدۃ تک آٹھ سورتیں جبکہ دوسرے گروپ میں سورۂ سبا سے سورۃ الاحقاف تک تیرہ سورتیں شامل ہیں) میں اللہ تعالیٰ کی شانِ توحید کو اُجاگر کرنے اور شرک کا رد کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔
البتہ آخری دو گروپس کی سورتوں میں ایمان بالآخرت اور بعث بعد الموت کی تذکیر کو مرکزی مضمون کی حیثیت حاصل ہے۔اس حوالے سے سورۂ یٰـسٓ کے بارے میں جو نکتہ یہاں واضح کرنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ درمیانی دو گروپس کی اکیس سورتوں میں (جن کا بنیادی مضمون توحید ہے) اس سورت کا مقام بالکل درمیان میں ہے۔ یعنی سورۃ الفرقان تا سورۂ فاطر دس سورتیں ایک طرف اور سورۃ الصّٰفّٰت سے سورۃ الاحقاف تک دس سورتیں دوسری طرف ہیں اور ان کے درمیان میں سورۂ یٰـسٓ ہے ۔ گویا توحید کے مضمون کی حامل سورتوں کا مقام مکی سورتوں کے وسط میں ہے اور پھر ان سورتوں کے عین وسط میں سورۂ یٰـسٓ کو رکھا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن کا بنیادی مضمون توحید ہے اور اس مضمون کی حامل سورتوں میں مقام کے اعتبار سے اس سورت کو گویامرکزی حیثیت حاصل ہے۔’’قلب القرآن‘‘ ہونے کے حوالے سے سورۂ یٰـسٓ کے بارے میں ایک خاص نکتہ یہ بھی ہے کہ مصحف کے اندر اس کا مقام انسانی جسم میں دل کے مقام سے مشابہ ہے‘یعنی عین درمیان سے تھوڑا ہٹ کر ایک سمت میں ۔
یٰسٓ ۚ﴿۱﴾ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ؕ﴿۴﴾ تَنۡزِیۡلَ الۡعَزِیۡزِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۵﴾ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ فَہُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۶﴾
یٰسٓ ۚ﴿۱﴾
’’ یٰـسٓ !‘‘
زیادہ تر مفسرین کی رائے میں ’’ یٰـسٓ ‘‘ حضورﷺ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اسی طرح ’’طٰہٰ‘‘ کے بارے میں بھی یہی کہا جا تا ہے کہ یہ حضورﷺ کا نام ہے۔ واللہ اعلم!
وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡحَکِیۡمِ ۙ﴿۲﴾
’’قسم ہے قرآن حکیم کی!‘‘
عربی زبان میں ’’قسم‘‘ سے گواہی مراد لی جاتی ہے۔ چنانچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ یہ حکمت بھرا قرآن گواہ ہے۔ اس قسم کا مقسم علیہ کیا ہے؟ یعنی یہ قسم کس چیز پر کھائی جا رہی ہے؟ اور یہ قرآن کس عظیم حقیقت پر گواہ ہے؟ اس کا ذکر اگلی آیت میں ہے:
اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۳﴾
’’کہ( اے محمدﷺ!) یقینا آپ رسولوں میں سے ہیں۔‘‘
گویا حضورﷺ کی رسالت کا سب سے بڑا ’’مُصدِّق‘‘ (تصدیق کرنے والا)اور سب سے بڑا ثبوت قرآن حکیم ہے۔ اور قرآن حکیم ہی آپؐ کا سب سے بڑا معجزہ بھی ہے۔اس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی نوٹ کرلیجیے کہ قرآن کی قسم اور بھی کئی سورتوں کے آغاز میں کھائی گئی ہے مگر وہاں قسم کے بعد مقسم علیہ کا ذکر نہیں ہے۔ مثلاً سورۂ صٓ کی پہلی آیت میں یوں فرمایاگیا: {صٓ وَ الۡقُرۡاٰنِ ذِی الذِّکۡرِ ؕ﴿۱﴾} ‘سورۃالزخرف کے شروع میں یوں فرمایا گیا: {حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾} ‘سورۂ ق کا آغاز یوں ہوتاہے: {قٓ ۟ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ۚ﴿۱﴾} ۔ اب چونکہ سورۂ یٰـسٓ کی اِن آیات میں قرآن کی قسم کے مقسم علیہ کا ذکر بھی ہے اس لیے قرآن کی جن قسموں کا مقسم علیہ مذکور نہیں ان کا مقسم علیہ بھی وہی قرار پائے گا جس کا یہاں ذکر ہوا ہے۔چنانچہ قرآن کے ان تمام مقامات پر جہاں قرآن کی قسم تو کھائی گئی ہے لیکن قسم کے بعد مقسم علیہ کا ذکرنہیں ہے ‘وہاں ان تمام قسموں کے بعد اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ کا جملہ بطور مقسم علیہ محذوف (understood) مانا جائے گا۔ اس اعتبار سے سورۂ یٰـسٓ ایسی تمام سورتوں کے لیے ذروۂ سنام (climax) کا درجہ رکھتی ہے جن کے آغاز میں قرآن کی قسم کا ذکر ہے۔
عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ؕ﴿۴﴾
’’ سیدھے راستے پر ہیں۔‘‘
تَنۡزِیۡلَ الۡعَزِیۡزِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۵﴾
’’(اور اس قرآن کا) نازل کیا جانا ہے اُس ہستی کی جانب سے جو بہت زبردست‘نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘
لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ فَہُمۡ غٰفِلُوۡنَ ﴿۶﴾
’’تا کہ آپؐ خبردار کر دیں اُس قوم کو جن کے آباء و اَجداد کو خبردار نہیں کیا گیا‘ پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ السجدۃ کی آیت ۳ میں بھی آ چکا ہے۔ یعنی آپؐ سے پہلے چونکہ اس قوم میں کوئی نبی یا رسول نہیں آیا‘ اس لیے نہ تو انہیں نبوت و رسالت کے بارے میں کچھ معلوم ہے اور نہ وہ کتاب و شریعت سے واقف ہیں۔
یہاں پر فَہُمْ غٰفِلُوْنَ کے الفاظ میں رعایت کا انداز بھی پایا جاتا ہے ‘یعنی چونکہ اس قوم میں اس سے پہلے نہ تو کوئی پیغمبر آیا ہے اور نہ ہی کوئی الہامی کتا ب ان لوگوں تک پہنچی ہے اس لیے ان کا ’’غافل‘‘ ہونا بالکل قرین قیاس تھا۔ لیکن اب جبکہ ان میں پیغمبر بھی مبعوث ہو چکا ہے اور ایک حکمت بھری کتاب کی آیات بھی ان تک پہنچ چکی ہیں تو اس کے بعد ان کی گمراہی کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن یہ لوگ ہیں کہ اب بھی گمراہی سے چمٹے ہوئے ہیں اور چونکہ انہوں نے ہمارے رسول ﷺ کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے اس لیے:
لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤی اَکۡثَرِہِمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷﴾ اِنَّا جَعَلۡنَا فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ اَغۡلٰلًا فَہِیَ اِلَی الۡاَذۡقَانِ فَہُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴿۸﴾ وَ جَعَلۡنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ سَدًّا وَّ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَیۡنٰہُمۡ فَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۹﴾ وَ سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾
لَقَدۡ حَقَّ الۡقَوۡلُ عَلٰۤی اَکۡثَرِہِمۡ فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۷﴾
’’ قول واقع ہو چکا ہے ان میں سے اکثر پر تو اب وہ ایمان لانے والے نہیں۔‘‘
یہاں پر یہ بات اس قدر شد ومد کے ساتھ دراصل حضورﷺ اور اہل ایمان کی تسلی اور دلجوئی کے لیے بیان کی گئی ہے مبادا کہ وہ یہ سمجھیں کہ ان کی محنت غیر موثر ہے اور یہ کہ شاید ان کی کوششوں میں کوئی خامی ہے جو یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے۔
اِنَّا جَعَلۡنَا فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ اَغۡلٰلًا فَہِیَ اِلَی الۡاَذۡقَانِ فَہُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴿۸﴾
’’ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں اور وہ ان کی ٹھوڑیوں تک اسی طرح پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کے سر اونچے ہو کر رہ گئے ہیں۔‘‘
وَ جَعَلۡنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ سَدًّا وَّ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ سَدًّا فَاَغۡشَیۡنٰہُمۡ فَہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۹﴾
’’اور ہم نے ایک دیوار کھڑی کر دی ہے ان کے آگے اور ایک ان کے پیچھے ‘اس طرح ہم نے انہیں ڈھانپ دیا ہے‘پس اب وہ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘
یہ مضمون آگے چل کر آیت ۴۵ میں پھرآئے گا --- اللہ تعالیٰ کی معرفت اور حق کی پہچان کے لیے اگر انسان کو راہنمائی چاہیے تو اس مقصد کے لیے بے شمار آفاقی آیات (آلاء اللہ) ہر وقت ہر جگہ اس کے سامنے ہیں۔ قرآن حکیم بار بار انسان کو ان آیات کے مشاہدے کی دعوت دیتا ہے۔ جیسے سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۶۴میں بہت سی آفاقی نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہر انسان اپنی ذہنی سطح کے مطابق ان ’’آیات‘‘ کے مشاہدے سے ان کے خالق کو پہچان سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تاریخی آیات (ایام اللہ) سے بھی انسان کو راہنمائی مل سکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی انسان چاہے تو اقوامِ سابقہ کے حالات سے بھی اسے سبق اور عبرت کا وافر سامان حاصل ہو سکتا ہے۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ ایسے بد بخت لوگ ہیں جو نہ تو التذکیر بآلاء للہ سے استفادہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ التذکیر بایام اللہ سے کچھ سبق حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ گویا یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے دیوار حائل ہو چکی ہے کہ وہ اللہ کی کسی بڑی سے بڑی نشانی کو بھی نہیں دیکھ سکتے۔ اسی طرح ان کے پیچھے بھی دیوار کھڑی کر دی گئی ہے اور یوں وہ تاریخ اور اقوام ماضی کے حالات سے بھی کسی قسم کا سبق حاصل کرنے سے قاصر و معذور ہیں۔
وَ سَوَآءٌ عَلَیۡہِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَہُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾
’’اور (اے نبیﷺ!) ان کے حق میں برابر ہے ‘خواہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں‘یہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
سورۃ البقرۃ کی آیت ۶ میں بھی ہو بہو یہی الفاظ آئے ہیں۔
اِنَّمَا تُنۡذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکۡرَ وَ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَبَشِّرۡہُ بِمَغۡفِرَۃٍ وَّ اَجۡرٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۱﴾ اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ ؕؑ وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿٪۱۲﴾
اِنَّمَا تُنۡذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکۡرَ وَ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ۚ
’’آپؐ تو بس اُسی شخص کو خبردار کر سکتے ہیں جو الذکر (قرآن) کی پیروی کرے اور غیب میں ہوتے ہوئے رحمٰن سے ڈرے ۔‘‘
آپؐ کے انذار سے تو صرف وہی لوگ متاثر ہو سکتے ہیں جو اس قرآن کے پیغام کو سمجھیں‘اس کی پیروی کریں اور غیب میں ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اپنے دلوں میں رکھیں۔
فَبَشِّرۡہُ بِمَغۡفِرَۃٍ وَّ اَجۡرٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۱﴾
’’تو ایسے لوگوں کو آپؐ خوشخبری دے دیجیے مغفرت اور باعزت اجر کی۔‘‘
اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیِ الۡمَوۡتٰی وَ نَکۡتُبُ مَا قَدَّمُوۡا وَ اٰثَارَہُمۡ ؕؑ
’’یقینا ہم ہی زندہ کریں گے مردوں کو‘ اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو اثرات وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔‘‘
انسان مرنے سے پہلے اپنی زندگی میں جو اچھے برے اعمال آگے بھیجتا ہے وہ ساتھ ہی ساتھ اس کے اعمال نامے میں درج ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن انسان کے کچھ اعمال و افعال ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے اثرات اس کی موت کے بعد بھی اس دنیا میں رہتے ہیں۔ چنانچہ یہاں پر ’’آثار‘‘سے مراد انسان کے ایسے ہی کام ہیں ۔ بہر حال انسا ن کو آخرت میں ان ’’آثار ‘‘کا بدلہ بھی دیا جائے گا۔ مثلاً اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں کسی ایسے نیک عمل کی بنیاد ڈالی جس کے اثرات دیر پا ہوں تو جب تک اس نیک کام کا تسلسل اس دنیا میں رہے گا‘اس کا اجر و ثواب اس شخص کے حساب میں لکھا جاتا رہے گا۔ اسی طرح اگر کسی نے گناہ اور بے حیائی کے کسی کام کی بنیاد رکھی تو جب تک اس کام یا منصوبے کے منفی اثرات اس دنیا میں رہیں گے‘ اس میں سے متعلقہ شخص کے حصے کے گناہوں کا اندراج اس کے اعمال نامے میں مسلسل ہوتا رہے گا۔
وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿٪۱۲﴾
’’اور ہر چیز کا احاطہ ہم نے ایک واضح کتاب میں کررکھا ہے۔‘‘
’’اِمَامٍ مُّبِیْنٍ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے جسے سورۃ الرعد کی آیت ۳۹ اور سورۃ الزخرف کی آیت ۴ میں ’’اُمّ الْکِتٰب‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا گیاہے۔
وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا اَصۡحٰبَ الۡقَرۡیَۃِ ۘ اِذۡ جَآءَہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾ اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ اثۡنَیۡنِ فَکَذَّبُوۡہُمَا فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوۡۤا اِنَّاۤ اِلَیۡکُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾ قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ۙ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَیۡءٍ ۙ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۵﴾ قَالُوۡا رَبُّنَا یَعۡلَمُ اِنَّاۤ اِلَیۡکُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾ وَ مَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۷﴾ قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرۡنَا بِکُمۡ ۚ لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہُوۡا لَنَرۡجُمَنَّکُمۡ وَ لَیَمَسَّنَّکُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸﴾ قَالُوۡا طَآئِرُکُمۡ مَّعَکُمۡ ؕ اَئِنۡ ذُکِّرۡتُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾
وَ اضۡرِبۡ لَہُمۡ مَّثَلًا اَصۡحٰبَ الۡقَرۡیَۃِ ۘ اِذۡ جَآءَہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿ۚ۱۳﴾
’’ان کے لیے آپؐ اُس بستی والوں کی مثال بیان کیجیے ‘جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔‘‘
اِذۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمُ اثۡنَیۡنِ
’’جب ہم نے بھیجے ان کی طرف دو رسول‘‘ اس بارے میں مفسرین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ دو حضرات ’’رسول من جانب اللہ ‘‘نہیں تھے بلکہ کسی ’’رسول کے رسول ‘‘تھے۔ یعنی ممکن ہے کہ اللہ کی طرف سے وقت کے رسول کسی دوسرے مقام پر موجود ہوں اور انہوں نے اپنے دو شاگردوں کو کسی خاص بستی کی طرف دعوت کے لیے بھیجا ہو۔ اس بارے میں غالب رائے یہ ہے کہ وہ حضرات حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری تھے جو آپؑ کے حکم سے ترکی اور شام کی سرحد پر واقع شہر انطاکیہ میں تبلیغ کے لیے آئے تھے۔
’’رسول کے رسول‘‘ کی اصطلاح ہمیں احادیث میں بھی ملتی ہے ۔ مثلاً حضور اکرمﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیعت لی تو مدینہ واپسی پر آپؐ نے خواتین سے بھی بیعت لینے کا ارادہ ظاہر فرمایا اور اس کے لیے آپؐ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خواتین کے پاس بھیجا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خواتین کے مجمع میں آ کر فرمایا: اَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللّٰہِ (میں اللہ کے رسولﷺ کا رسول ہوں)۔اسی طرح روایات میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایرانیوں کے سامنے اپنا تعارف ان الفاظ میں کروایا تھا ’’اِنَّا قَدْ اُرْسِلْنَا…‘‘ یعنی ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے اپنا نمائندہ بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے۔ بہر حال یہاں یہ دونوں امکان موجود ہیں ۔ یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ کسی بستی میں اللہ نے ایک ساتھ دو رسول مبعوث فرمائے ہوں۔ جیسے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو اکٹھے مبعوث فرمایا گیا تھا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دو اصحاب کسی رسول کے نمائندے بن کر متعلقہ بستی میں گئے ہوں۔
فَکَذَّبُوۡہُمَا فَعَزَّزۡنَا بِثَالِثٍ
’’پس انہوں نے ان دونوں کو جھٹلادیا ‘تو ہم نے (ان کو) تقویت دی ایک تیسرے کے ساتھ‘‘
اُس قوم کی طرف سے ان دونوں رسولوں کی تکذیب کے بعد ہم نے ان کی مدد کے لیے ایک تیسرا رسول بھی بھیجا۔
فَقَالُوۡۤا اِنَّاۤ اِلَیۡکُمۡ مُّرۡسَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾
’’تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘
قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ۙ
’’انہوں نے کہا کہ تم نہیں ہو مگر ہم جیسے انسان!‘‘
وَ مَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَیۡءٍ ۙ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۵﴾
’’اور رحمٰن نے کوئی چیز نازل نہیں کی‘تم محض جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘
قَالُوۡا رَبُّنَا یَعۡلَمُ اِنَّاۤ اِلَیۡکُمۡ لَمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾
’’انہوں نے کہا کہ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم یقینا تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔‘‘
انہوں نے بستی والوں کی ہٹ دھرمی کے جواب میں کوئی اور دلیل تو نہیں دی ۔ البتہ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر ان کے سامنے اپنے اس یقین اور اِذعان کا اظہار کیا کہ ہم اُسی کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں۔
وَ مَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۱۷﴾
’’اور نہیں ہے ہم پر کوئی اور ذمہ داری سوائے (اللہ کا پیغام) صاف صاف پہنچا دینے کے۔‘‘
قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرۡنَا بِکُمۡ ۚ
’’انہوں نے کہا کہ ہمیں تم سے نحوست کا اندیشہ ہے۔‘‘
یعنی ہم تمہیں اپنے لیے فالِ بد سمجھتے ہیں۔ تم نے آکر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع کردی ہیں ان کی وجہ سے ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی نحوست کہیں ہم پر نہ پڑ جائے اور ا س کی پاداش میں کہیں ہم خداکی گرفت میں نہ آ جائیں۔
لَئِنۡ لَّمۡ تَنۡتَہُوۡا لَنَرۡجُمَنَّکُمۡ
’’اگر تم باز نہ آئے تو ہم ضرور تمہیں سنگسار کر دیں گے‘‘
وَ لَیَمَسَّنَّکُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۸﴾
’’اور تمہیں ضرور پہنچے گی ہماری طرف سے دردناک سزا۔‘‘
قَالُوۡا طَآئِرُکُمۡ مَّعَکُمۡ ؕ
’’انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ ہے۔‘‘
اَئِنۡ ذُکِّرۡتُمۡ ؕ
’’کیا اس لیے کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے؟‘‘
کیا تم یہ باتیں اس لیے بنا رہے ہو کہ تمہیں نصیحت اور یاد دہانی کرائی گئی ہے؟جبکہ یہ نصیحت بھی کوئی نئی اور انوکھی بات سے متعلق نہیں ہے۔ اللہ کی معرفت تو پہلے سے تمہارے دلوں کے اندر موجودہے۔ ہم تو تم لوگوں کو صرف اس کی یاد دہانی کرانے کے لیے آئے ہیں۔ اسی حقیقت کو سورۃ الذاریات میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے: {وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾} ’’اور تمہارے اپنے اندر بھی (اللہ کی نشانیاں) ہیں‘کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟‘‘
بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾
’’بلکہ تم حد سے بڑھ جانے والے لوگ ہو۔‘‘
وَ جَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ رَجُلٌ یَّسۡعٰی قَالَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾ اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسۡـَٔلُکُمۡ اَجۡرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۱﴾ وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۲﴾ ءَاَتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً اِنۡ یُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا یُنۡقِذُوۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۴﴾ اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵﴾
وَ جَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ رَجُلٌ یَّسۡعٰی
’’اورشہر کے پرلے سرے سے آیا ایک شخص بھاگتا ہوا‘‘
قَالَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾
’’اُس نے کہا : اے میری قوم کے لوگو! تم ان رسولوںؑ کی پیروی کرو!‘‘
تم لوگ ان پر ایمان لائو‘ ان کی تصدیق کرو اور ان کی اطاعت کرو۔
اتَّبِعُوۡا مَنۡ لَّا یَسۡـَٔلُکُمۡ اَجۡرًا وَّ ہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۱﴾
’’پیروی کرو ان کی جو تم سے کسی اُجرت کے طالب نہیں ہیں اور جو ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
دیکھو! یہ لوگ تمہیں نصیحت کرنے اور تمہیں راہِ راست کی طرف بلانے کے لیے دن رات مشقت کر رہے ہیں‘لیکن اس سب کچھ کے عوض وہ تم سے کسی صلے یا اجرت کا مطالبہ نہیں کرتے ۔ جبکہ ان کی سیرتیں خود اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ یہ لوگ واقعی ہدایت یافتہ ہیں۔
وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۲۲﴾
’’اور مجھے کیا ہے کہ میں عبادت نہ کروں اُس ہستی کی جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اُسی کی طرف تم سب لوٹا دیے جائو گے۔‘‘
دیکھو! یہ لوگ جو دعوت دے رہے ہیں وہ یہی تو ہے کہ تم اُ س اکیلے معبود کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیداکیا ہے اور اسی کی طرف تم سب لوگوں نے پلٹ کر بھی جانا ہے۔ چنانچہ مجھے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ میں اُس اللہ کی عبادت نہ کرو ںجو میرا خالق ہے۔
ءَاَتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً
’’کیا میں اُس کے سوادوسروں کو معبود بنالوں؟‘‘
کیا میں اس معبودِ حقیقی کو چھوڑ کر جھوٹے خداؤں اور دیوی دیوتاؤں کی پوجا شروع کر دوں؟
اِنۡ یُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا یُنۡقِذُوۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾
’’اگر رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان (جھوٹے معبودوں) کی سفارش میرے کسی کام نہیں آئے گی اور نہ وہ مجھے چھڑاسکیں گے۔‘‘
اِنِّیۡۤ اِذًا لَّفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۴﴾
’’تب تومیں یقینا بہت کھلی گمراہی میں پڑ جائوں گا۔‘‘
اگر میں معبودِ حقیقی کے ساتھ جھوٹے خداؤں کو شریک کرنے کی حماقت کر لوں جنہیں کسی چیز کا بھی اختیار نہیں تو ایسی صورت میں تومیں سیدھے راستے سے بالکل ہی بھٹک جاؤں گا۔
اِنِّیۡۤ اٰمَنۡتُ بِرَبِّکُمۡ فَاسۡمَعُوۡنِ ﴿ؕ۲۵﴾
’’میں توتمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں‘ سو میری بات سنو!‘‘
یعنی اللہ کے یہ تینوں رسول ؑتمہیں توحید کی دعوت دے رہے ہیں اور تمہیں تمہارے رب کی طرف بلا رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں تمہاری سمجھ میں آئیں نہ آئیں میں ان کی حقیقت تک پہنچ چکا ہوں۔اور تم ان کی تصدیق کرو نہ کرو میں تو ان پر ایمان لا چکا ہوں۔ یوں اللہ کے اس بندے نے ڈنکے کی چوٹ اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔ یہ سنتے ہی اس کی قوم کے لوگ غصے سے پاگل ہو گئے۔ انہیں ان رسولوں پر تو زیادہ غصہ نہ آیا ‘کیونکہ وہ باہر سے آئے ہوئے ا فراد تھے ‘لیکن اپنی قوم کے ایک فرد کی طرف سے اس ’’اعلانِ بغاوت‘‘ کووہ برداشت نہ کر سکے‘ چنانچہ اللہ کے اس بندے کو اسی لمحے شہید کر دیا گیا۔
قِیۡلَ ادۡخُلِ الۡجَنَّۃَ ؕ قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾ بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿۲۷﴾ وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا کُنَّا مُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۸﴾ اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ خٰمِدُوۡنَ ﴿۲۹﴾
قِیۡلَ ادۡخُلِ الۡجَنَّۃَ ؕ
’’کہہ دیا گیا کہ تم داخل ہو جاؤ جنت میں!‘‘
وہ شخص چونکہ اللہ کی راہ کا مقتول تھا‘ اس لیے جنت تو گویا اس کے انتظار میں تھی۔ شہادت کے رتبے پر فائز ہو جانے والے خوش قسمت لوگوں کو جنت میں داخلے کے لیے روزِ حشر کا انتظار نہیں کرنا پڑتا‘ بلکہ جس لمحے ایسے کسی مؤمن کی شہادت ہوتی ہے اسی لمحے اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
قَالَ یٰلَیۡتَ قَوۡمِیۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
’’اس نے کہا :کاش میری قوم کو معلوم ہو جاتا۔‘‘
بِمَا غَفَرَ لِیۡ رَبِّیۡ وَ جَعَلَنِیۡ مِنَ الۡمُکۡرَمِیۡنَ ﴿۲۷﴾
’’وہ جو میرے رب نے میری مغفرت فرمائی ہے اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کر لیا ہے۔‘‘
ذرا تصور کیجیے!ادھر جنت کا تو یہ منظر ہے ‘مگر دوسری طرف دنیا میں اس کے گھر میں صف ماتم بچھی ہو گی۔ بیوی بچے ہوں گے تو وہ رو رو کر بے حال ہو رہے ہوں گے‘والدین ہوں گے تو ان پر غشی کے دورے پڑ رہے ہوں گے۔ غرض بہن بھائی‘عزیز و اقارب سب نوحہ کناں ہوں گے کہ اسے اس طرح ناحق قتل کر دیا گیا۔ بہرحال ان دونوں جہانوں کے معاملات علیحدہ علیحدہ ہیں‘ درمیان میں غیب کا پردہ حائل ہے۔ دنیا والوں کو پردۂ غیب کی دوسری طرف اُس جہان کی کیفیات کا کچھ علم نہیں‘ جہاں اللہ کا ایک بندہ جنت کے تخت پر بیٹھا کہہ رہا ہے کہ اگر میری قوم کے لوگوں کو معلوم ہو جاتا کہ اللہ کے ہاں میری کیسی قدر و منزلت ہوئی ہے اور مجھے کیسے کیسے اعزاز و اکرام سے نوازا گیا ہے تو وہ میری شہادت پررنجیدہ و غمگین نہ ہوتے۔
وَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلٰی قَوۡمِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ جُنۡدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا کُنَّا مُنۡزِلِیۡنَ ﴿۲۸﴾
’’اور اس کے بعد ہم نے اُس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم (لشکر) نازل کرنے والے تھے۔‘‘
اپنے منکروں اور نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں سے کوئی فوج اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ خٰمِدُوۡنَ ﴿۲۹﴾
’’وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی‘جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے۔‘‘
اس یکبارگی خوفناک چنگھاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پوری آبادی چشمِ زدن میں گویا راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئی۔
یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۰﴾ اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾ وَ اِنۡ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴿٪۳۲﴾
یٰحَسۡرَۃً عَلَی الۡعِبَادِ ۚؑ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۳۰﴾
’’افسوس ہے بندوں کے حال پر! نہیں آتا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے ہیں۔‘‘
اَلَمۡ یَرَوۡا کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنَ الۡقُرُوۡنِ اَنَّہُمۡ اِلَیۡہِمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾
’’کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی نسلوں کو ہلاک کر دیا کہ وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آتے!‘‘
ایک دفعہ دنیاسے چلے جانے کے بعد کسی کو بھی دوبارہ یہاں آنے کا موقع نہیں ملتا۔ چنانچہ ان اقوام کے لوگ نیست و نابود ہو کر ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔
وَ اِنۡ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴿٪۳۲﴾
’’اور وہ سب کے سب ہمارے ہی سامنے حاضر کیے جائیں گے۔‘‘
اگرچہ دنیا میں واپس آنے کی تو انہیں اجازت نہیں مگر وہ معدوم نہیں ہوئے۔ عالم برزخ میں وہ سب کے سب اب بھی موجود ہیں اور وقت آنے پر ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کر دیا جائے گا۔