بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

فاطر

آیات ۱ تا ۱۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

1-4

اللہ کی قدرت کے مظاہر

ویڈیو

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ جَاعِلِ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیۡۤ اَجۡنِحَۃٍ مَّثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ؕ یَزِیۡدُ فِی الۡخَلۡقِ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱﴾ مَا یَفۡتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَۃٍ فَلَا مُمۡسِکَ لَہَا ۚ وَ مَا یُمۡسِکۡ ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ؕ ہَلۡ مِنۡ خَالِقٍ غَیۡرُ اللّٰہِ یَرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ۖ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳﴾ وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۴﴾

آیت 1

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ

’’کل حمد اور کل شکر اللہ کے لیے ہے جو پید اکرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا‘‘

فَاطِر کے لغوی معنی ہیں :عدم کے پردے کو چاک کر کے کسی چیز کو وجود بخشنے والا۔ یہاں پرایک اہم لغوی نکتہ ضمنی طور پرنوٹ کر لیں کہ’’ف‘‘ سے شروع ہونے والے عربی کے اکثر الفاظ میں توڑنے‘ چاک کرنے‘ پھاڑنے وغیرہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثلاً فَطَرَ کے علاوہ فَلَقَ‘ فَرَطَ‘ فَلَحَ‘ فَتَحَ‘ فَصَلَ‘ فَتَرَ وغیرہ الفاظ میں یہی مفہوم پایا جاتا ہے۔ ( فَترۃ الوحی سے وہ عرصہ مراد ہے جس میں وحی رکی رہی‘ یعنی وحی کا تسلسل ٹوٹ گیا اور فترۃ من الرسل سے مراد چھ سو برس کا وہ زمانہ ہے جس کے دوران پیغمبروں کا سلسلہ رکا رہا۔)

جَاعِلِ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیۡۤ اَجۡنِحَۃٍ مَّثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ؕ

’’ فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ‘جو دو دو ‘ تین تین اور چار چار پروں والے ہیں۔‘‘

فرشتوں کے پروں کی ہیئت اور کیفیت کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن تمثیل کے انداز میں سمجھنے کے لیے مختلف اقسام کے طیاروں کا تصور ذہن میں رکھا جا سکتا ہے ‘جیسے کسی طیارے میں دو انجن ہوتے ہیں اور کسی میں چار۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مختلف فرشتوں کو اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق مختلف نوعیت کی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔

یَزِیۡدُ فِی الۡخَلۡقِ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱﴾

’’اللہ اضافہ کر تا رہتا ہے تخلیق میں جو چاہتا ہے۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

آج سائنس بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ تخلیق کا سلسلہ جاری و ساری ہے‘ مسلسل نئے نئے ستارے وجود میں آرہے ہیں اور نئی نئی کہکشائیں بن رہی ہیں۔ اقبالؔ نے اس نکتے کو یوں بیان کیا ہے:

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کُن فیکُون

آیت 2

مَا یَفۡتَحِ اللّٰہُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَۃٍ فَلَا مُمۡسِکَ لَہَا ۚ

’’جو رحمت (کا دروازہ) بھی اللہ لوگوں کے لیے کھول دے تو اُسے بند کرنے والا کوئی نہیں۔‘‘

یہاں’’رحمت ‘‘سے مراد نبوت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے وحی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ اللہ کی رحمت کا بہت بڑا مظہر ہے۔ اسی لیے سورۃ الانبیاء میں نبی اکرمﷺ کے بارے میں فرمایا گیا : {وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾} ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر‘‘۔ بنی نوع انسان کو چونکہ ایک بہت بڑے امتحان سے سابقہ ہے ‘اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی آسانی کے لیے نبوت کا دروازہ کھول دیا ہے اور اپنے رسول کی شخصیت اور سیرت کو ان کے سامنے رکھ دیاہے‘ جو بذاتِ خود اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے ‘تا کہ لوگ احکامِ وحی سے راہنمائی حاصل کریں اور رسول اللہﷺ کی سیرت کی پیروی کر کے اس امتحان میں سرخرو ہونے کی کوشش کریں۔ بہر حال یہاں پراس حوالے سے اللہ تعالیٰ کی حکمت ‘ مشیت اوراختیار کاذکر اس طرح فرمایا گیاکہ انسانیت کی راہنمائی کے لیے اس نے نبوت کی صورت میں اپنی رحمت کا جو دروازہ کھولا ہے اسے کوئی بند نہیں کر سکتا۔

وَ مَا یُمۡسِکۡ ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ

’’اور جسے وہ روک لے توپھر اسے کوئی جاری کرنے والا نہیں ہے اس کے بعد۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مشیت سے نبوت کا دروازہ بند فرما دے گا تو پھر اسے کوئی کھول نہیں سکے گا۔ چنانچہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کادروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے ‘اس لیے اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ البتہ مختلف ادوار میں نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی صورت میں دجالوں کا ظہور ہوتا رہے گا۔

وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾

’’اوریقینا وہ زبردست ہے ‘کمال حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 3

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ ؕ

’’اے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کو یاد کرو جو تم پر ہوئی ہے۔‘‘

اللہ کے جو احسانات تم پر ہوئے ہیں انہیں یاد کرو اور ان کی قدر کرو!

ہَلۡ مِنۡ خَالِقٍ غَیۡرُ اللّٰہِ یَرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہو آسمان سے اور زمین سے؟ ‘‘

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۫ۖ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳﴾

’’نہیں ہے کوئی معبود سوائے اُس کے‘ تو تم کہاں سے اُلٹے پھرائے جا رہے ہو!‘‘

آیت 4

وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوںؑ کو جھٹلایا گیا ہے۔‘‘

وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿۴﴾

’’اور (بالآخر) تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘

5-7

دنیا اور شیطان کے فریب سے بچو

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۵﴾ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا یَدۡعُوۡا حِزۡبَہٗ لِیَکُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ؕ﴿۶﴾ اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۬ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿٪۷﴾

آیت 5

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ

’’اے لوگو !اللہ کا وعدہ سچا ہے‘ تو دیکھو دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے ‘‘

وَ لَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۵﴾

’’اور نہ ہی تمہیں دھوکے میں ڈالے اللہ کے بارے میں وہ بڑا دھوکے باز۔‘‘

اس سے پہلے ہم یہی الفاظ سورۂ لقمان کی آیت ۳۳ میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ لفظ ’’غرور‘‘ اگر ’’غ‘‘ کی پیش کے ساتھ ہو تو مصدر ہے‘ اوراگر’’غ‘‘ کی زبر کے ساتھ (فَعول کے وزن پر) ہوتویہ مبالغے کاصیغہ ہوگا۔ چنانچہ ’’الـغَرُور‘‘ کے معنی ہیں بہت بڑا دھوکے باز‘یعنی ابلیس لعین جو اکثر لوگوں کو اللہ کے بارے میں اس طرح بھی ورغلاتا ہے کہ اللہ بڑا رحیم ‘کریم‘ شفیق اور مغفرت کرنے والا ہے۔ تمہیں کاہے کی فکر ہے؟ تم نے کون سے ایسے بڑے گناہ کیے ہیں۔ اوریہ سودی کاروبار ! اس کا کیا ہے ؟یہ تو سب کرتے ہیں۔ اور وہ فلاں غلط کام اگرتم سے ہو گیا ہے تو کیا ہوا؟ اللہ غفورٌ رحیم ہے‘ وہ تو بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے‘ چنانچہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ‘ تم جو کچھ کر رہے ہو کرتے جائو اور جس راستے پر چل رہے ہو چلتے جاؤ!

اللہ کی شانِ کریمی اورصفتِ غفاری کے نام پر انسان کو دھوکے میں ڈالنے کا یہ ایک ابلیسی حربہ ہے جس سے یہاں خبردار کیا گیاہے کہ دیکھو!یہ ابلیس بہت بڑا دھوکے باز ہے‘یہ کہیں تمہیں اللہ کی رحمت کے حوالے سے ہی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے بہلاوے میں آ کر تم دنیوی زندگی کی رنگینیوں میں گم ہو کر اللہ کو بھول جاؤ اور اس طرح تمہاری یہ زندگی تمہارے لیے ایک بہت بڑا دھوکہ بن جائے ۔ اور دیکھو! دُنیوی زندگی کے بارے میں یہ حقیقت کبھی تمہاری نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے: {وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الۡغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾} (آل عمران) ’’اور دنیا کی زندگی تو اس کے سوا کچھ نہیں کہ صرف دھوکے کا سامان ہے۔‘‘

آیت 6

اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمۡ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ

’’یقینا شیطان تمہارا دشمن ہے‘ چنانچہ تم بھی اس کو دشمن ہی سمجھو!‘‘

اِنَّمَا یَدۡعُوۡا حِزۡبَہٗ لِیَکُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ؕ﴿۶﴾

’’یہ تو بلاتا ہے اپنے ہی گروہ کے لوگوں کو تا کہ وہ جہنم والوں میں سے ہو جائیں۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایسا انسان جس کی نیت درست نہیں اور اس کے اندر شیطانی رجحانات بالقوہ (potentially) موجود ہیں وہ شیطان کا آسان شکار ہے ۔ چنانچہ شیطان ہر ایسے انسان کی طرف خصوصی طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑنے کے بعد اسے راستے میں نہیں چھوڑتا‘ بلکہ اس کی منزل (جہنم) تک پہنچا کر دم لیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ ’’برے ‘‘کو اس کے گھر تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ اس حوالے سے سورۃ الاعراف کے ۲۲ ویں رکوع میں بلعم بن باعوراء کا واقعہ بڑا عبرت انگیز ہے۔ وہ اللہ کے نیک بندوں میں سے تھا۔ صرف عابد و زاہد نہیں‘ عالم بھی تھا۔لیکن جب وہ غلطی کا ارتکاب کر کے اللہ کی اطاعت سے نکل بھاگا تو شیطان نے اس کا پیچھا کیااور اسے دھکے دیتا ہوا گمراہی اور بے حیائی میں آگے سے آگے بڑھاتا چلا گیا : {فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾} (الاعراف)’ ’پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیاتو وہ ہو گیا گمراہوں میں سے‘‘۔گویا جن لوگوں کے دلوں میں کھوٹ اور ارادوں میں فتور ہو ‘شیطان انہیں چن چن کر ڈھونڈتا ہے‘ انہیں اپنی طرف بلاتا ہے اور اپنے گروہ (حزب الشیطان) میں شامل کرتا چلا جاتا ہے۔اس کے برعکس جو لوگ اولیاء الرحمن اور عباد الرحمن کے زمرے میں آتے ہیں ان پر شیطان کا بس نہیں چلتا۔

اس حوالے سے یہ بات بھی نوٹ کر لیجئے کہ جس طرح بعض لوگوں میں حزب الشیطان سے موافقت کا رُجحان (potential) پہلے سے موجود ہوتا ہے اسی طرح کچھ لوگ بالقوہ (potentially) حزب اللہ والے بھی ہوتے ہیں۔ مثلاًحضرت عمر اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما میں شروع ہی سے حزب اللہ میں شامل ہونے کی صلاحیت موجود تھی۔ چنانچہ اگرچہ ان کے فیصلے میں کچھ تاخیر ہوئی ‘قبولِ اسلام میں چھ سال لگ گئے‘ لیکن بالآخر وہ صلاحیت ظاہر ہو گئی --- ’’حزب اللہ ‘‘اور ’’حزب الشیطان ‘‘قرآنی اصطلاحات ہیں‘ ان کی وضاحت سورۃ المجادلہ کی آخری آیات میں آئی ہے۔

آیت 7

اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ۬ؕ

’’وہ لوگ جو کفر کی روش اختیار کریں گے ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿٪۷﴾

’’اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ‘ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔‘‘

اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !

8

بدنصیبی کی انتہا . . . برائی پر فخر کرنا

ویڈیو

اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۫ۖ فَلَا تَذۡہَبۡ نَفۡسُکَ عَلَیۡہِمۡ حَسَرٰتٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۸﴾

آیت 8

اَفَمَنۡ زُیِّنَ لَہٗ سُوۡٓءُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًا ؕ

’’تو کیا وہ شخص جس کے لیے مزین کر دی گئی ہو اُس کے عمل کی برائی اور وہ اسے اچھاسمجھ رہا ہو (ہدایت پا سکتا ہے)!‘‘

آج من حیث القوم ہمارا بھی یہی معاملہ ہے۔ آج ہم فحاشی اور بے حیائی کو کلچر اور ثقافت کے خوبصورت ناموں کے ساتھ نہ صرف معاشرے میں ترویج دے رہے ہیں بلکہ اس ’’ترقی‘‘ پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ٹی وی‘ کیبل اور انٹر نیٹ نے اس فحاشی کو گھر گھر میں پہنچا دیا ہے اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ کسی کو اس ’’اشاعتِ فاحشہ‘‘ میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ امریکہ میں توایسی societies nudists بھی پائی جاتی ہیں جن سے تعلق رکھنے والے لوگ نہ صرف لباس کو محض ایک تکلف سمجھتے ہیں بلکہ مادرزاد برہنہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی حالت میں مخلوط محفلیں بھی سجاتے ہیں۔امریکہ اور مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی فحاشی اوربے حیائی کی زندہ مثال ہے۔ ہم جنس پرست مرد (gays) ہوں یا عورتیں (lesbians) وہ نہ صرف انتہائی بے شرمی اور بے باکی سے اس فعل شنیع میں ملوث ہیں بلکہ انہوں نے باقاعدہ تنظیمیں بنا رکھی ہیں اور ان تنظیموں کے پلیٹ فارم سے وہ سر عام اپنے نظریات کا پرچار کرتے ہیں اور اپنے قانونی و معاشرتی ’’حقوق‘‘ کے لیے سینہ تان کر مظاہرے کرتے ہیں۔بہر حال آج کی دنیا میں بے شمار لوگ اس آیت کے الفاظ کا مصداق نظر آتے ہیں جن کے برے اعمال ان کی نگاہوں میں مزین کر دیے گئے ہیں اور وہ ان برے اعمال کو نہ صرف اچھا سمجھتے ہیں بلکہ ان پر فخر بھی کرتے ہیں۔

فَاِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۫ۖ

’’تو اللہ گمراہ کر دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘

یہاں پر ’’ مَنْ‘‘ کا تعلق دو طرفہ ہے۔ چنانچہ اس کے دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جو ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے اور گمراہ کرتا ہے اسے جو گمراہ ہونا چاہتا ہے۔

فَلَا تَذۡہَبۡ نَفۡسُکَ عَلَیۡہِمۡ حَسَرٰتٍ ؕ

’’تو (اے نبیﷺ!) آپ کی جان نہ گھلے ان لوگوں پر رنج کی وجہ سے۔‘‘

اب جبکہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے تو آپؐ ان کے انجام کے تصور سے ان پر افسوس کرتے ہوئے اپنی جان مت گھلائیں‘ اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں --- یہ مضمون سورۃ الکہف میں بایں الفاظ بیان ہوا ہے : {فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ عَلٰۤی اٰثَارِہِمۡ اِنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ اَسَفًا ﴿۶﴾} ’’تو (اے نبیﷺ!) آپ شاید اپنے آپ کو غم سے ہلاک کر لیں گے ان کے پیچھے‘اگر وہ ایمان نہ لائے اس بات (قرآن) پر‘‘ ۔پھر یہی مضمون سورۃ الشعراء میں بھی مذکور ہے : {لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفۡسَکَ اَلَّا یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۳﴾} ’’(اے نبیﷺ!) شاید آپ ہلاک کر دیں گے اپنے آپ کو ‘اس لیے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۸﴾

’’یقینا اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ کہ یہ لوگ کررہے ہیں۔‘‘

9

زمین کو زندہ کرنے والا تمہیں بھی زندہ کرے گا

ویڈیو

وَ اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحۡیَیۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ کَذٰلِکَ النُّشُوۡرُ ﴿۹﴾

آیت 9

وَ اللّٰہُ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ الرِّیٰحَ

’’اور اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے‘‘

فَتُثِیۡرُ سَحَابًا فَسُقۡنٰہُ اِلٰی بَلَدٍ مَّیِّتٍ

’’پھر وہ اٹھا لیتی ہیں بادلوں کو‘ پھر ہم ہانک دیتے ہیں اس (بادل) کو ایک مردہ زمین کی طرف‘‘

فَاَحۡیَیۡنَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ

’’پھر ہم اس سے اس زمین کو زندہ کر دیتے ہیں اس کے مردہ ہو جانے کے بعد۔‘‘

کَذٰلِکَ النُّشُوۡرُ ﴿۹﴾

’’اسی طرح سے ہو گا (تمہارا) اٹھایا جانابھی!‘‘

جس طرح بے آب و گیاہ بنجر زمین پر بارش کے برستے ہی زندگی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ اس میں سے نمودار ہو نے لگتا ہے‘ اسی طرح وقت آنے پر تم بھی اللہ کے حکم سے زمین سے نکل کھڑے ہو گے۔

10

عزت قرآن کے ذریعے ملے گی

ویڈیو

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ جَمِیۡعًا ؕ اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَمۡکُرُوۡنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ وَ مَکۡرُ اُولٰٓئِکَ ہُوَ یَبُوۡرُ ﴿۱۰﴾

آیت 10

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ جَمِیۡعًا ؕ

’’جو کوئی عزت کا طالب ہے تو (وہ جان لے کہ) عزت سب کی سب اللہ کے پاس ہے۔‘‘

جو شخص اللہ کے جتنا قریب ہو گااسی قدر وہ سزا وارِ عزت اور صاحبِ توقیر ہو گا ۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ سے جتنا دور ہو گااسی قدر وہ ذلیل ہو گا‘ چاہے دنیا میں وہ بظاہر کتنا ہی با عزت اور صاحب ثروت ہو۔ سورۃ المنافقون میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا: {وَ لِلّٰہِ الۡعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ٪﴿۸﴾} ’’اور عزت تو اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسولؐ کے لیے اور مومنین کے لیے‘ لیکن منافقین (یہ بات) نہیں جانتے۔‘‘

اِلَیۡہِ یَصۡعَدُ الۡکَلِمُ الطَّیِّبُ

’’اُسی کی طرف اٹھتی ہیں اچھی باتیں‘‘

ہر اچھی بات‘ ہر اچھا نظریہ‘ اچھا خیال ‘ دعوتِ حسنہ اور موعظہ حسنہ گویا ’’کلمۂ طیبہ‘‘ ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’الْکَلِمُ الطَّیِّبُ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کا ذکر‘ دعا‘ تلاوتِ قرآن اور علم و نصیحت کی باتیں ہیں۔ چنانچہ ’’ایمان‘‘ بھی کلمہ طیبہ ہے۔ ظاہر ہے اگر کہیں کسی خیال یانظریہ کا اظہارکیا جائے گا تولامحالہ اس کااظہار ایک ’’کلمہ‘‘ ہی کی شکل میں پیش کرناممکن ہوگا۔ بہر حال ہر کلمۂ طیبہ (پاکیزہ بات) میں ترفع (اوپر اٹھنے) کی خداد ادصلاحیت موجود ہوتی ہے اور یوں ہر کلمۂ طیبہ اللہ کے حضور پیش ہوتا ہے ‘لیکن ترفع کی اس صلاحیت کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے محنت اور کوشش کی بھی ضرورت ہے۔اسی لیے فرمایا گیا :

وَ الۡعَمَلُ الصَّالِحُ یَرۡفَعُہٗ ؕ

’’اور عملِ صالح اسے اوپر اٹھاتا ہے۔‘‘

یعنی ایمان‘ یقین‘ اچھے خیالات‘ اچھے نظریات اور اچھے عزائم اکیلے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گے جب تک ان کے ساتھ محنت اور تگ و دو نہیں ہو گی۔ گویا حقیقی کامیابی کے لیے ایمان اور عمل صالح دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ یَمۡکُرُوۡنَ السَّیِّاٰتِ لَہُمۡ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ ؕ

’’اور جو لوگ بری سازشیں کر رہے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہو گی۔‘‘

وَ مَکۡرُ اُولٰٓئِکَ ہُوَ یَبُوۡرُ ﴿۱۰﴾

’’اور ان کی سازشیں ناکام ہو کر رہ جائیں گی۔‘‘

11

ہر انسان سراپا اللہ کے اختیار میں ہے

ویڈیو

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمۡ اَزۡوَاجًا ؕ وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ ؕ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

آیت 11

وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمۡ اَزۡوَاجًا ؕ

’’اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ‘ پھر نطفے سے‘ پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنا دیا۔‘‘

وَ مَا تَحۡمِلُ مِنۡ اُنۡثٰی وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلۡمِہٖ ؕ

’’اور نہ ہی کسی مادہ کو کوئی حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ جنتی ہے مگر یہ اُس کے علم میں ہوتا ہے۔‘‘

انسان ہو یا حیوان‘ اس حوالے سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں۔

وَ مَا یُعَمَّرُ مِنۡ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنۡقَصُ مِنۡ عُمُرِہٖۤ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ ؕ

’’اور کسی عمر والے کو عمر نہیں دی جاتی اور نہ ہی کسی کی عمر میں کمی کی جاتی ہے مگر یہ سب ایک کتاب میں (لکھا ہوا) ہے۔‘‘

اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

’’ یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘

یعنی اپنی نوع (species) کے اعتبار سے انسان کی ایک اوسط (average) عمر ہے ‘لیکن کوئی شخص اس اوسط عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی فو ت ہو جاتا ہے جبکہ ایک دوسرا شخص اوسط عمر کے بعد بھی طویل عرصہ تک زندہ رہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ایک طے شدہ نظام کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ کون طویل عمر پائے گا‘ کون چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے گااور کس کو کب موت آئے گی‘ اس بارے میں تمام فیصلے اللہ کے ہاں پہلے سے طے شدہ ہیں۔

12

دریا و سمندر اللہ کی نعمت و قدرت کے شاہکار

ویڈیو

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡبَحۡرٰنِ ٭ۖ ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَ ہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ؕ وَ مِنۡ کُلٍّ تَاۡکُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِیًّا وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡنَ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ وَ تَرَی الۡفُلۡکَ فِیۡہِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾

آیت 12

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡبَحۡرٰنِ ٭ۖ

’’اور دو سمندر ایک جیسے نہیں ہیں‘‘

ہٰذَا عَذۡبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُہٗ وَ ہٰذَا مِلۡحٌ اُجَاجٌ ؕ

’’یہ میٹھا ہے فرحت بخش‘ اس کا پینا خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے سخت کڑوا۔‘‘

وَ مِنۡ کُلٍّ تَاۡکُلُوۡنَ لَحۡمًا طَرِیًّا

’’اور ان سب سے تم کھاتے ہو تازہ گوشت‘‘

دونوں طرح کے سمندروں سے تم لوگ مچھلیاں شکا ر کر کے کھاتے ہو۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کھاری سمندر کی مچھلیوں کا گوشت کڑوا ہو اور میٹھے پانی کی مچھلیاں کھانے میں خوش ذائقہ ہوں۔

وَّ تَسۡتَخۡرِجُوۡنَ حِلۡیَۃً تَلۡبَسُوۡنَہَا ۚ

’’اور (دونوں سے ہی) تم نکالتے ہو زیورات جنہیں تم پہنتے ہو۔‘‘

وَ تَرَی الۡفُلۡکَ فِیۡہِ مَوَاخِرَ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِہٖ وَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾

’’اور تم دیکھتے ہوکشتیوں کو کہ چلتی ہیں (اس کے سینے کو) چیرتے ہوئے تا کہ تم اُس کا فضل تلاش کرو اور تا کہ تم شکر اداکرو۔‘‘

13-14

خود ساختہ معبودوں کی بے بسی

ویڈیو

یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ۖ کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ ﴿ؕ۱۳﴾ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚ وَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَکُمۡ ؕ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ ؕ وَ لَا یُنَبِّئُکَ مِثۡلُ خَبِیۡرٍ ﴿٪۱۴﴾

آیت 13

یُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَ یُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ ۙ

’’وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں‘‘

وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ۫ۖ

’’اور اُس نے مسخر کیا ہے سورج اور چاند کو۔‘‘

کُلٌّ یَّجۡرِیۡ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ

’’ہر چیز چل رہی ہے ایک معین وقت تک۔‘‘

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ

’’یہ اللہ ہے تمہارا ربّ! کل بادشاہی اُسی کی ہے۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ ﴿ؕ۱۳﴾

’’اور جنہیں تم پکارتے ہو اُس کے سوا‘ وہ ایک ذرّہ بھر اختیار نہیں رکھتے۔‘‘

عرب میں کھجور عام پائی جاتی تھی بلکہ یہ ان کی بنیادی غذائی جنس تھی‘ اس لیے اس کے حوالے سے مختلف مثالیں بھی دی جاتیں۔ چنانچہ کسی حقیر چیز کا ذکر کرنے کے لیے قرآن میں کھجور سے متعلق دو الفاظ قِطمِیر اور فَتِیل استعمال ہوئے ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے اوپر جوباریک سی جھلی ہوتی ہے اسے قِطمِیر کہا جاتاہے ‘جبکہ فَتِیل وہ باریک سا دھاگا ہے جو کھجور کی گٹھلی کی ناف کے اندر ہوتا ہے۔

آیت 14

اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚ

’’اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار کو نہیں سنتے ۔‘‘

وَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَکُمۡ ؕ

’’اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری دعا قبول نہیں کر سکتے۔‘‘

جیسے کہ وہ لوگ فرشتوں کو بھی اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ۔چنانچہ اگر فرشتہ سن بھی لے کہ مجھے پکارا جا رہا ہے تو وہ اس پکارنے والے کی حاجت روائی تو نہیں کر سکتا۔

وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ ؕ

’’اور قیامت کے دن وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔‘‘

وَ لَا یُنَبِّئُکَ مِثۡلُ خَبِیۡرٍ ﴿٪۱۴﴾

’’اور نہیں آگاہ کرے گا کوئی بھی آپ کو اُس (اللہ) کی طرح جو ہر چیز سے باخبر ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ چونکہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اس لیے جس طرح وہ آپؐ کو حقائق سے آگاہ کر رہا ہے کوئی دوسرا اس طرح کی آگاہی فراہم نہیں کر سکتا۔

15-18

اللہ غنی اور ہم فقیر ہیں

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۱۵﴾ اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۚ۱۶﴾ وَ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیۡزٍ ﴿۱۷﴾ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ وَ اِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَۃٌ اِلٰی حِمۡلِہَا لَا یُحۡمَلۡ مِنۡہُ شَیۡءٌ وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ؕ اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ مَنۡ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفۡسِہٖ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۸﴾

آیت 15

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللّٰہِ ۚ وَ اللّٰہُ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۱۵﴾

’’اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو ‘اور اللہ تو الغنی اور الحمید ہے۔‘‘

تمہاری بے شمار احتیاجات ہیں جو اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے ‘لیکن وہ خود بے نیاز ہے‘ اس کی کوئی حاجت نہیں جو تمہیں پوری کرنا ہو۔اور وہ ستودہ صفات ہے‘ اپنی ذات میں خود محمود ہے‘ کوئی اُس کی حمد کرے یا نہ کرے‘ مگر حمد (شکر و تعریف) کا استحقاق اُسی کو پہنچتا ہے۔

آیت 16

اِنۡ یَّشَاۡ یُذۡہِبۡکُمۡ وَ یَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿ۚ۱۶﴾

’’اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے (ختم کردے) اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔‘‘

آیت 17

وَ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیۡزٍ ﴿۱۷﴾

’’اور یہ اللہ پر ہر گز بھاری نہیں ہے۔‘‘

آیت 18

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی ؕ

’’اورکوئی جان نہیں اٹھائے گی کسی دوسری جان کا بوجھ۔‘‘

وَ اِنۡ تَدۡعُ مُثۡقَلَۃٌ اِلٰی حِمۡلِہَا

’’اور اگر بوجھ تلے دبی کوئی جان کسی کو پکارے گی اپنے بوجھ (کے ہٹانے) کے لیے‘‘

لَا یُحۡمَلۡ مِنۡہُ شَیۡءٌ وَّ لَوۡ کَانَ ذَا قُرۡبٰی ؕ

’’تو نہیں اٹھائے گا کوئی اس میں سے کچھ بھی اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہو۔‘‘

میدانِ حشر میں اگر کوئی گنہگار اپنے گناہوں کے بوجھ کو ناقابل برداشت پا کر اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو بھی مدد کے لیے پکارے گا تو وہ بھی بیگانوں کی طرح اس کے قریب سے گزر جائے گا اور ا س کی کوئی مدد نہیں کرے گا۔

اِنَّمَا تُنۡذِرُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) آپ تو انہی لوگوں کو خبردار کر سکتے ہیں جو ڈرتے ہیں اپنے ربّ سے غیب میں رہتے ہوئے اور نماز قائم کرتے ہیں۔‘‘

اللہ پر ایمان لانے اور اس سے ڈرنے کی اہمیت تو اسی وقت تک ہے جب تک کہ غیب کے پردے حائل ہیں۔ جب یہ پردے اٹھ جائیں گے اُس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہو گا۔ اس وقت تو بڑے بڑے سر کش اور نا فرمان لوگ بھی سر تسلیم خم کر دیں گے۔

وَ مَنۡ تَزَکّٰی فَاِنَّمَا یَتَزَکّٰی لِنَفۡسِہٖ ؕ

’’اور جو کوئی بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کے لیے کرتا ہے۔‘‘

وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۸﴾

’’اور اللہ ہی کی طرف (سب کو) پلٹنا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے