وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ﴿ۙ۱۹﴾
’’اور برابر نہیں ہو سکتے اندھا اور دیکھنے والا۔‘‘
قرآنترجمہتشریححدیثشعر
وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ﴿ۙ۱۹﴾ وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوۡرُ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الۡحَرُوۡرُ ﴿ۚ۲۱﴾ وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾ اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِیۡرٌ ﴿۲۳﴾ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾ وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۲۵﴾ ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۲۶﴾
وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَعۡمٰی وَ الۡبَصِیۡرُ ﴿ۙ۱۹﴾
’’اور برابر نہیں ہو سکتے اندھا اور دیکھنے والا۔‘‘
وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوۡرُ ﴿ۙ۲۰﴾
’’اور نہ اندھیرے اور روشنی (برابر ہو سکتے ہیں)۔‘‘
وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الۡحَرُوۡرُ ﴿ۚ۲۱﴾
’’اور نہ سایہ اور دھوپ (برابر ہو سکتے ہیں)۔‘‘
وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ
’’اور نہ برابر ہو سکتے ہیں زندہ اور مردہ لوگ۔‘‘
یہاں مردوں سے مراد وہ مردے نہیں جو قبروں میں دفن ہیں‘ بلکہ یہ ان جیتے جاگتے انسانوں کاتذکرہ ہے جن کی روحیں مردہ ہوچکی ہیں۔ اگرچہ جسمانی اعتبار سے تو ایسے لوگ زندوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ چلتے پھرتے مقبرے اور تعزیے ہیں‘کیونکہ ان کی انسانیت مر کران کے جسموں کے اندر دفن ہو چکی ہے۔ اسی طرح یہاں زندوں سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی روحیں اور جن کے دل زندہ ہیں ۔ زندگی کے اس فلسفے کو میر در ؔد نے اس طرح بیان کیا ہے: ؎
مجھے یہ ڈر ہے دلِ زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے!
اگر کسی شخص کا دل مر گیا یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ اس کی روح دم توڑ گئی تو انسانی سطح پر اس شخص کی موت واقع ہو گئی۔ اب اگر وہ زندہ ہے تو حیوانی سطح پر زندہ ہے۔ جس طرح حیوان کھاتے پیتے ہیں اور زندگی کی دوسری ضروریات و خواہشات پوری کرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں اسی طرح اب وہ بھی زندگی بسر کر رہا ہے‘مگر یہ زندگی ایک انسان کی زندگی ہر گز نہیں ہے۔ مثلاً ابو جہل بظاہر اچھی بھلی زندگی بسر کر رہا تھا مگر اس کے اندر کا انسان چونکہ زندہ نہیں تھااس لیے نہ تو وہ آفتابِ نبوت کو دیکھ سکا‘ نہ اس کی تمازت محسوس کر سکا اور نہ ہی اس کی روشنی سے مستفیض ہو سکا۔
اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾
’’یقینا اللہ سناتا ہے جس کو چاہتا ہے ‘اور (اے نبیﷺ!) آپ نہیں سنا سکتے انہیں جو قبروں کے اندر ہیں۔‘‘
قبروں میں مدفون سے مراد یہاں وہی لوگ ہیں جن کے جسم اپنی مردہ روحوں کے چلتے پھرتے مقبرے بن چکے ہیں۔
اِنۡ اَنۡتَ اِلَّا نَذِیۡرٌ ﴿۲۳﴾
’’آپؐ نہیں ہیں مگر صرف خبردار کرنے والے!‘‘
آپؐ کا کام تو بس لوگوں کو خبردار کر دینا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی ہوش میں نہیں آتا اور اپنی گمراہیوں میں بھٹکتا رہتا ہے تو اس کی کوئی ذمہ داری آپؐ پر نہیں ہے۔
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ بِالۡحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا ؕ
’’یقینا ہم نے بھیجا ہے آپؐ کو حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر ۔‘‘
وَ اِنۡ مِّنۡ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾
’’اور کوئی امت ایسی نہیں جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ گزرا ہو۔‘‘
وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۚ
’’اوراگر یہ لوگ آپؐ کو جھٹلائیں تو جھٹلا چکے ہیں وہ لوگ بھی جو ان سے پہلے تھے۔‘‘
جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالۡکِتٰبِ الۡمُنِیۡرِ ﴿۲۵﴾
’’ان کے پاس آئے تھے ان کے رسولؑ واضح نشانیاں‘ صحیفے اور روشن کتابیں لے کر۔‘‘
آپؐ سے پہلے بہت سے انبیاء و رسل علیہم السلام کو ان کی قومیں جھٹلا چکی ہیں‘ حالانکہ وہ ان کے پاس بہت واضح معجزات‘ صحیفے اور کتابیں لے کر آئے تھے۔ سورۃ الاعلیٰ کی آخری آیت میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے صحائف کا ذکر ہے جبکہ تین الہامی کتابوں (تورات‘ زبور اور انجیل) کا ذکر قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔
ثُمَّ اَخَذۡتُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۲۶﴾
’’پھر میں نے پکڑ لیا ان کو جنہوں نے کفر کیا‘ تو(دیکھ لو) کیسی رہی میری سزا؟‘‘