تحریر

سبأ

آیات ۴۰ تا ۵۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

40-42

مشرکین شیطانوں کی عبادت کرتے ہیں

ویڈیو

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿۴۰﴾ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۱﴾ فَالۡیَوۡمَ لَا یَمۡلِکُ بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ وَ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۴۲﴾

آیت 40

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿۴۰﴾

’’اورجس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو‘ پھر فرشتوں سے فرمائے گا: کیا یہ لوگ تمہیں پوجا کرتے تھے؟‘‘

آیت 41

قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ

’’وہ کہیں گے: تو پاک ہے‘ تو ہمارا ولی ہے ان کے سوا۔‘‘

یعنی ہمارا آقا اور مالک تو تو ہی ہے‘ ان سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔

بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۱﴾

’’بلکہ یہ لوگِ جنات کی عبادت کیا کرتے تھے ‘ان کی اکثریت ان ہی پر ایمان رکھتی تھی۔‘‘

آیت 42

فَالۡیَوۡمَ لَا یَمۡلِکُ بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ

’’تو آج کے دن تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا‘ نہ نفع کا اور نہ نقصان کا‘‘

وَ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’اور ہم کہیں گے ان ظالموں سے کہ اب چکھو اس آگ کے عذاب کا مزا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘

43-45

شرک کرنے والوں کی ہٹ دھرمی

ویڈیو

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّصُدَّکُمۡ عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُکُمۡ ۚ وَ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکٌ مُّفۡتَرًی ؕ وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴۳﴾ وَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ کُتُبٍ یَّدۡرُسُوۡنَہَا وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ قَبۡلَکَ مِنۡ نَّذِیۡرٍ ﴿ؕ۴۴﴾ وَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۙ وَ مَا بَلَغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ فَکَذَّبُوۡا رُسُلِیۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۴۵﴾

آیت 43

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیۡدُ اَنۡ یَّصُدَّکُمۡ عَمَّا کَانَ یَعۡبُدُ اٰبَآؤُکُمۡ ۚ

’’اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات ‘ تو وہ (آپس میں ایک دوسرے سے)کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے‘‘

وَ قَالُوۡا مَا ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکٌ مُّفۡتَرًی ؕ

’’اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑاہواجھوٹ۔‘‘

یعنی یہ قرآن دراصل محمد(ﷺ) کا اپنا کلام ہے جس کو وہ وحی کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ ۙ اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۴۳﴾

’’اور ان کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ یہ ان کے پاس آ گیا‘ کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک کھلا ہواجادو۔‘‘

آیت 44

وَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ کُتُبٍ یَّدۡرُسُوۡنَہَا

’’اور ہم نے انہیں ایسی کوئی کتابیں نہیں دیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں‘‘

یعنی ان لوگوں پر ہماری طرف سے کوئی ایسی کتاب تو نازل نہیں ہوئی جس میں لکھا ہو کہ لات‘ منات اور عزیٰ وغیرہ کو ہم نے کچھ خصوصی اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ اگر ان کے پاس ان کے ایسے دعووں کی کوئی سند ہے تو پیش کریں۔

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَیۡہِمۡ قَبۡلَکَ مِنۡ نَّذِیۡرٍ ﴿ؕ۴۴﴾

’’اور نہ ہی ہم نے آپؐ سے پہلے ان کی طرف کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تھا۔‘‘

حضرت اسماعیل علیہ السلام اور نبی آخر الزماںﷺ کے درمیان تین ہزار سال کا عرصہ گزر گیا۔ اس عرصے کے دوران بنو اسماعیل ؑکے ہاں کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔

آیت 45

وَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۙ

’’اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے‘‘

وَ مَا بَلَغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ

’’اور یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا‘‘

مثلاً قومِ عاد کو جو شان و شوکت عطا ہوئی تھی اور اپنے علاقے میں جیسا ان کا رعب ودبدبہ تھا قریش مکہ کو تو اُس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہے۔

فَکَذَّبُوۡا رُسُلِیۡ ۟ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿٪۴۵﴾

’’تو انہوں نے میرے رسولوں ؑ کو جھٹلایا‘ پس کیسی رہی (ان کے لیے ) میری پکڑ!‘‘

46-50

سمجھانے کا دلسوز اسلوب

ویڈیو

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوَاحِدَۃٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ مَثۡنٰی وَ فُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوۡا ۟ مَا بِصَاحِبِکُمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ لَّکُمۡ بَیۡنَ یَدَیۡ عَذَابٍ شَدِیۡدٍ ﴿۴۶﴾ قُلۡ مَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ فَہُوَ لَکُمۡ ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۴۷﴾ قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ۚ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۴۸﴾ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ مَا یُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَ مَا یُعِیۡدُ ﴿۴۹﴾ قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰی نَفۡسِیۡ ۚ وَ اِنِ اہۡتَدَیۡتُ فَبِمَا یُوۡحِیۡۤ اِلَیَّ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ قَرِیۡبٌ ﴿۵۰﴾

آیت 46

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُکُمۡ بِوَاحِدَۃٍ ۚ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں۔‘‘

اس آیت کا تعلق آیت ۸ سے ہے۔ مذکورہ آیت کے ضمن میں ذکر ہو چکا ہے کہ حضورﷺ کے دعوائے نبوت کے بارے میں مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ابھی شش و پنج میں تھے کہ یہ معاملہ آخر ہے کیا؟ ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ کچھ سمجھتے تھے کہ انہیں جنون کا عارضہ لاحق ہو گیا ہے ‘جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کسی منصوبہ بندی کے تحت جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ (العیاذ باللہ!) لیکن ایسے لوگوں کے ذہنوں میں ایک بہت بڑا سوال یہ بھی گردش کرتا رہتا تھا کہ ایک ایسا شخص آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے جس نے کبھی چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی جھوٹ نہیں بولا اور جس کو ہم خود الصادق اور الامین کا خطاب دے چکے ہیں۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس بارے میں ابھی ذہنی خلجان کا شکار تھے اور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے کہ آپؐ کی دعوت کی اصل حقیقت ہے کیا! ایسے تمام لوگوں کو ان آیات میں سنجیدہ غور و فکر پر آمادہ کرنے کے لیے دعوت دی جا رہی ہے کہ اس طرح شاید انہیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے‘ اپنے موروثی عقائد کی عصبیت سے بالاتر ہو کر سوچنے اور کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے کا موقع مل جائے۔ اس لحاظ سے یہ آیات بہت اہم ہیں۔

اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰہِ مَثۡنٰی وَ فُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوۡا ۟

’’یہ کہ تم کھڑے ہو جاؤ اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے‘ پھر غور کرو!‘‘

یعنی کسی وقت تم دو دو آدمی باہم گفتگو کر کے یاالگ الگ کچھ دیر کے لیے اپنی توجہ کو مرتکز کر کے اللہ کو اپنے سامنے تصور کرتے ہوئے کھڑے ہو جائو‘ پھر غور وفکر کرو۔ اگر تم اس انداز میں سنجیدگی سے غور کرو گے تو حقیقت ضرور تم پر واضح ہو جائے گی۔

مَا بِصَاحِبِکُمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ

’’تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ نہیں ہے!‘‘

اگر کسی شخص پر جنون یا آسیب کے اثرات ہوں تو اس کے کچھ شواہد بھی نظر آتے ہیں۔تم لوگ ہمارے نبیﷺ کی گزشتہ زندگی کے شب و روز کے بارے میں سوچو‘ آپؐ کی بات چیت پر غور کرو‘ آپؐ کے اخلاق و معاملات کا جائزہ لو‘ کیا تمہیں کسی بھی پہلو سے ان میں جنون کے کچھ آثار نظر آتے ہیں؟ کیا آسیب زدہ لوگوں کے اقوال و افعال اور معمولاتِ زندگی ایسے صاف ستھرے اور مثالی ہوتے ہیں؟

اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ لَّکُمۡ بَیۡنَ یَدَیۡ عَذَابٍ شَدِیۡدٍ ﴿۴۶﴾

’’وہ نہیں ہیں مگر تمہارے لیے ایک خبردار کرنے والے‘ ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے۔‘‘

آیت 47

قُلۡ مَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ فَہُوَ لَکُمۡ ؕ

’’آپؐ کہیے کہ اگر میں نے تم سے کچھ اجرت مانگی ہو تو وہ تمہارے ہی لیے ہے۔‘‘

یہ ایک ایسا اندازِ بیان ہے جس میں ’’نفی‘‘ کی گویا انتہا ہے کہ میں نے اس کام کے عوض اگر کوئی اجرت طلب کی ہو تو وہ تم ہی کو مبارک ہو! میں دن رات دعوت کے اس کام میں ہمہ تن مصروف ہوں ‘مگر میں اس پر تم لوگوں سے کسی قسم کی کوئی اُجرت‘ کوئی معاوضہ اور کوئی صلہ طلب نہیں کرتا۔ تم لوگ اس کلام کو کبھی شاعری کہتے ہو اور کبھی پرانے زمانے کی کہانیوں سے تشبیہہ دیتے ہو۔ مگر تم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ شاعروں کی شاعری اور قصہ خوانوں کی کہانیوں کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ وہ لوگ تو اپنے سامعین کا دل بہلا کر اُجرت کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور اپنے کلام کی داد انعامات کی صورت میں وصول کرنا چاہتے ہیں۔ کیا تمہیں مجھ میں اور ایسے پیشہ ور فنکاروں میں واقعی کچھ فرق نظر نہیں آتا؟

اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ﴿۴۷﴾

’’میراا جر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے‘ اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔‘‘

آیت 48

قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ۚ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۴۸﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ یقینا میرا رب حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے (باطل کو)‘ وہ خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا۔‘‘

یہ مضمون اس سے پہلے سورۃ الانبیاء کی آیت ۱۸ میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے: {بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ } ’’بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ پھر وہ مٹ جاتا ہے‘‘۔ آیت زیر مطالعہ کا بھی بالکل یہی مفہوم ہے ‘اس لیے یہاں ’’یَقْذِفُ بِالْحَقِّ‘‘ کے بعد ’’عَلَی الْبَاطِلِ‘‘ کے الفاظ کو محذوف سمجھا جانا چاہیے۔

آیت 49

قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ حق آ گیا ہے‘‘

آپؐ اعلان کر دیجیے کہ حق کا بول بالا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ اب چند ہی برسوں بعد پورے جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کے دین کا غلبہ ہو جائے گا۔

وَ مَا یُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَ مَا یُعِیۡدُ ﴿۴۹﴾

’’اور باطل نہ تو (کسی چیز کی) ابتدا کر سکتا ہے اور نہ ہی اعادہ۔‘‘

آیت 50

قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰی نَفۡسِیۡ ۚ

’’آپؐ (ان سے یہ بھی) کہیے کہ اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میرے اوپر ہی آئے گا۔‘‘

وَ اِنِ اہۡتَدَیۡتُ فَبِمَا یُوۡحِیۡۤ اِلَیَّ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ قَرِیۡبٌ ﴿۵۰﴾

’’اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کے طفیل ہے جو میرا رب میری طرف کرتا ہے۔ یقینا وہ خوب سننے والا‘ بہت قریب ہے۔‘‘

یہ انتہائی متواضع اندازِ بیان ہے کہ اگر بالفرض میں بہک گیا ہوں تو یہ میرے نفس کی شرارت کے باعث ہے اور اس کا وبال بھی مجھ پر ہو گا۔ اور اگر میں سیدھے راستے پر ہوں تو یقینا میرے رب کی راہنمائی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے۔ میں اپنی محنت اور کوشش سے ہدایت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا تھا۔

51-54

عذاب آنے کے بعد توبہ قبول نہ ہوگی

ویڈیو

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ وَ اُخِذُوۡا مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۵۱﴾ وَّ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِہٖ ۚ وَ اَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿ۚۖ۵۲﴾ وَّ قَدۡ کَفَرُوۡا بِہٖ مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ یَقۡذِفُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۳﴾ وَ حِیۡلَ بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ مَا یَشۡتَہُوۡنَ کَمَا فُعِلَ بِاَشۡیَاعِہِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا فِیۡ شَکٍّ مُّرِیۡبٍ ﴿٪۵۴﴾

آیت 51

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ

’’اور کاش آپ دیکھیں جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے ‘ تب بچ نکلنا ممکن نہیںہو گا‘‘

انسانوں کی گھبراہٹ اور پریشانی کی اس کیفیت کو سورۃ الانبیاء کی آیت ۱۰۳ میں ’’الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کیفیت قیامت کے اس ’’زلزلے‘‘ کے باعث ہو گی جس کا ذکر سورۃ الحج کی ابتدائی آیت میں اس طرح ہوا ہے: {اِنَّ زَلۡزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱﴾} ’’ یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہو گا۔‘‘

وَ اُخِذُوۡا مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۵۱﴾

’’اور وہ پکڑ لیے جائیں گے قریبی جگہ سے۔‘‘

جیسے کوئی پاس پڑی ہوئی چیز کو ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتا ہے اسی طرح انہیں آسانی کے ساتھ قابو میں کر لیاجائے گا۔

آیت 52

وَّ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِہٖ ۚ وَ اَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿ۚۖ۵۲﴾

’’اور(اُس وقت) وہ کہیں گے کہ اب ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔اور(اُس وقت) کہاں ہو گی ان کی رسائی (ایمان تک) اتنی دُور کی جگہ سے!‘‘

’’تناوش ‘‘اور ’’تناول ‘‘ہم معنی الفاظ ہیں۔یعنی پالینا‘ کسی چیز کا پہنچ میں ہونا اور اس تک رسائی ہونا۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان لانے کا فائدہ تو دنیا کی زندگی میں ہے جو انسانو ں کے لیے امتحانی عرصہ ہے ۔ جب امتحان کی مہلت ختم ہو جائے گی تو ایمان لانے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چنانچہ اس روز کسی کا ایمان لانا اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔

آیت 53

وَّ قَدۡ کَفَرُوۡا بِہٖ مِنۡ قَبۡلُ ۚ وَ یَقۡذِفُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ مِنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۵۳﴾

’’اورپہلے تو انہوں نے اس کاکفر کیا تھا ‘اور وہ (اٹکل کے) تیر تکے چلاتے رہے بن دیکھے دور کی جگہ سے۔‘‘

اپنی دنیا کی زندگی میں تو وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے بارے میں کبھی کہتے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں‘ کبھی کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور یہ ان کا اپنا کلام ہے‘ کبھی کہتے کہ انہوں نے گھر میں کوئی آدمی چھپا رکھا ہے جو انہیں یہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ کبھی کہتے کہ ان پرِ جن آ گیا ہے۔ بہر حال جب ان کے سوچنے اور ایمان لانے کا موقع تھا اس وقت تو وہ قرآن اور اللہ کے رسولﷺ کا انکار کرتے رہے اور ان کے بارے میں بغیر کسی علمی اور عقلی دلیل کے یا وہ گوئی کرتے رہے۔ اب جبکہ حساب کی گھڑی آن پہنچی ہے تو اب ان کے ایمان لانے کا کیا فائدہ؟

آیت 54

وَ حِیۡلَ بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ مَا یَشۡتَہُوۡنَ

’’اور آڑ کر دی جائے گی ان کے اور ان کی من پسند چیزوں کے مابین‘‘

مَا یَشْتَہُوْنَ سے مرادجنت اور جنت کی نعمتیں ہیں۔ سورۂ قٓ ‘آیت ۳۵ میں اہل جنت کے لیے ان نعمتوں کا ذکر یوں آیا ہے : {لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ فِیۡہَا } ’’ان کے لیے اس میں ہو گا جو وہ چاہیں گے‘‘۔یعنی جو جو چیزیں انسان کو مرغوب ہوتی ہیں وہ اہل جنت کو جنت میں فراہم کی جائیں گی۔ جیسا کہ سورۂ حٰمٓ السجدۃ کی آیت ۳۱ میں فرمایا گیا : {وَ لَکُمۡ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمۡ } ’’ اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہو گا جس کی خواہش تمہارے جی کریں گے‘‘۔ جبکہ مجرموں کو اس دن ان نعمتوں سے محروم کر دیا جائے گا۔

کَمَا فُعِلَ بِاَشۡیَاعِہِمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ

’’جیساکہ اس سے پہلے ان جیساطرز عمل اختیار کرنے والے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔‘‘

اِنَّہُمۡ کَانُوۡا فِیۡ شَکٍّ مُّرِیۡبٍ ﴿٪۵۴﴾

’’وہ لوگ بھی (ایسے ہی) اضطراب والے شک میں پڑے رہے تھے۔‘‘

ان لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں شکوک و شبہات جنم لیتے رہے اور اسی طرح انہیں بھی حق کی تصدیق کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔

یوٹیوب پر دیکھیے