تحریر

سبأ

آیات ۱۵ تا ۲۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

15-19

ناشکری کا انجام

ویڈیو

لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ۬ؕ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ بَلۡدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۱۵﴾ فَاَعۡرَضُوۡا فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سَیۡلَ الۡعَرِمِ وَ بَدَّلۡنٰہُمۡ بِجَنَّتَیۡہِمۡ جَنَّتَیۡنِ ذَوَاتَیۡ اُکُلٍ خَمۡطٍ وَّ اَثۡلٍ وَّ شَیۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِیۡلٍ ﴿۱۶﴾ ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِمَا کَفَرُوۡا ؕ وَ ہَلۡ نُجٰزِیۡۤ اِلَّا الۡکَفُوۡرَ ﴿۱۷﴾ وَ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ الۡقُرَی الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا قُرًی ظَاہِرَۃً وَّ قَدَّرۡنَا فِیۡہَا السَّیۡرَ ؕ سِیۡرُوۡا فِیۡہَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۱۸﴾ فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا وَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ وَ مَزَّقۡنٰہُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۱۹﴾

آیت 15

لَقَدۡ کَانَ لِسَبَاٍ فِیۡ مَسۡکَنِہِمۡ اٰیَۃٌ ۚ

’’(اسی طرح) قومِ سبا کے لیے بھی ان کے مسکن میں ایک نشانی موجود تھی‘‘۔

قوم سبا ۸۰۰ قبل مسیحؑ کے لگ بھگ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ انہوں نے اپنے پہاڑی علاقوں میں بہت سے بند تعمیر کر رکھے تھے جن میں سب سے بڑے بند کا نام ’’سدِ مآرب‘‘ تھا۔ ان بندوں سے انہوں نے چھوٹی بڑی نہریں نکال کر میدانی علاقوں کو سیراب کرنے کا ایک مربوط و مؤثر نظام بنا رکھا تھا۔ آب پاشی کے اس نظام کے باعث ان کے ہاں باغات کی کثرت تھی۔ باغات کے دو بڑے سلسلے تو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ بہر حال یہ اپنے وقت کی بڑی خوشحال اور طاقتور قوم تھی‘ مگر آہستہ آہستہ یہ لوگ مذہبی و اخلاقی زوال کا شکار ہو تے گئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی نا شکری اور سرکشی کی سزا دی اور ان سے تمام نعمتیں سلب کر لیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کا سب سے بڑا بند سد مآرب ٹوٹ گیا اور یوں ایک خوفناک سیلاب قہر خداوندی بن کر ان پر ٹوٹ پڑا۔ اس سیلاب کی وجہ سے اس قوم پر ایسی تباہی آئی کہ جس علاقے میں سینکڑوں میلوں پر پھیلے ہوئے باغات تھے وہاں جنگلی جھاڑیوں اور بیریوں کے چند درختوں کے علاوہ ہریالی کا نام و نشان تک نہ رہا۔

جَنَّتٰنِ عَنۡ یَّمِیۡنٍ وَّ شِمَالٍ ۬ؕ

’’دو باغات(کے سلسلے) تھے دائیں اور بائیں طرف۔‘‘

کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِ رَبِّکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لَہٗ ؕ

’’کھائو اپنے رب کے رزق میں سے اور اُس کا شکر اداکرو ۔‘‘

بَلۡدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۱۵﴾

’’(تمہارا) شہر بہت پاکیزہ ہے اور (تمہارا) رب بہت بخشنے والاہے!‘‘

یعنی تمہارے لیے یہ ایک مثالی صورتِ حال ہے۔ رہنے کو تمہیں نہایت عمدہ‘ سرسبز و شاداب اور زرخیز علاقہ عطا ہوا ہے اور تمہارا رب بھی بہت بخشنے والا ہے جو تمہارے ساتھ بہت نرمی کا معاملہ فرما رہا ہے۔

آیت 16

فَاَعۡرَضُوۡا فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ سَیۡلَ الۡعَرِمِ

’’تو انہوں نے اعراض کیا‘ چنانچہ ہم نے بھیج دیا اُن پر سیلاب بہت زور کا‘‘

اس قوم نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اعراض و سرکشی کی روش اختیار کی تو ان پر اللہ کا عذاب اس انداز سے آیا کہ ایک عظیم سیلاب نے ان کے بند کو توڑ دیا جس سے ان کی بستیاں تباہ ہو گئیں اور ان کے باغات کے سلسلے بھی برباد ہو گئے۔

وَ بَدَّلۡنٰہُمۡ بِجَنَّتَیۡہِمۡ جَنَّتَیۡنِ ذَوَاتَیۡ اُکُلٍ خَمۡطٍ وَّ اَثۡلٍ وَّ شَیۡءٍ مِّنۡ سِدۡرٍ قَلِیۡلٍ ﴿۱۶﴾

’’اور ہم نے بدل دیے ان کے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ‘ جن میں کڑوے کسیلے پھل ‘ جھائو کے درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں تھیں۔‘‘

آیت 17

ذٰلِکَ جَزَیۡنٰہُمۡ بِمَا کَفَرُوۡا ؕ

’’یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو ان کے کفر انِ نعمت کی وجہ سے۔‘‘

وَ ہَلۡ نُجٰزِیۡۤ اِلَّا الۡکَفُوۡرَ ﴿۱۷﴾

’’اور ہم ایسا برا بدلہ نہیں دیتے مگر نا شکرے لوگوں کو۔‘‘

چند سال پہلے میرا ذہن پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ان آیات کی طرف منتقل ہوا کہ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے دائیں اور بائیں کے دو خوبصورت باغات سے نوازا تھا۔ ایک باغ کا نام مغربی پاکستان تھا اور دوسرے کا مشرقی پاکستان۔ ہمارے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دونوں باغات میں آزادی اور امن و امان کا ماحول فراہم کیا گیا تھا۔ دونوں جگہوں پر کسی نہ کسی حد تک بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ کی عملی تصویر نظر آتی تھی۔پھر ہم بھی اپنے رب کی نا شکری کے مرتکب ہوئے‘ ہم نے بھی اس کی اطاعت سے اعراض کیا۔ چنانچہ ہمارے اس طرزِ عمل کے باعث ہم سے بھی بہت سی نعمتیں سلب کر لی گئیں اور پھر ہمیں معاشی بدحالی اور خطرات و خدشات کی اس حالت کو پہنچا دیا گیا جس کا سامنا ہم آج کر رہے ہیں۔ سورۃ الانبیاء میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ کِتٰبًا فِیۡہِ ذِکۡرُکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾} ’’(اے لوگو) ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ‘تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘ اس فرمانِ الٰہی کے مطابق قرآن کے اندر ہر قوم اور ہرانسان کو اپنے حالات کا عکس کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئے گا‘ بشرطیکہ اسے پڑھنے والے اس کے ’’بین السطور‘‘ مطالب و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ چنانچہ ہمیں ہلکے سے ہلکے درجے میں ہی سہی اس آیت کا تطابق اپنے قومی و ملکی حالات پر کر کے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔

آیت 18

وَ جَعَلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ بَیۡنَ الۡقُرَی الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا قُرًی ظَاہِرَۃً

’’ہم نے ان کے (علاقے) اور ان بستیوں کے درمیان جنہیں ہم نے برکت عطا کر رکھی تھی واضح نظر آنے والی بستیاں قائم کر دی تھیں‘‘

یہاں پر ’’با برکت بستیوں‘‘ سے ارضِ فلسطین مرا دہے۔ اس ضمن میں سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ بھی مدنظر رہنے چاہئیں۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل اس زمانے کی ایک اہم شاہراہ کا ذکر ہوا ہے جس پر یورپ اور ایشیا کے مابین ہونے والی تجارت کے حوالے سے قومِ سبا کی اجارہ داری تھی۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے‘ یہ اپنے زمانے کی ایک بہت خوشحال اور طاقتور قوم تھی۔ ان کا علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور وہاں مختلف اقسام کی خوشبو ئیں کثرت سے پیداہوتی تھیں۔ پرانے زمانے کے سیاحوں کے حوالے سے قومِ سبا کے بارے میں ایسی بہت سی معلومات تاریخ میں دستیاب ہیں۔ چنانچہ اپنے دور کی ایک طاقتور اور خوشحال قوم کی حیثیت سے مشرق و مغرب کے درمیان ہونے والی تجارت پر ان کی اجارہ داری تھی (بعد میں ایک مدت تک اس تجارت پر قریشِ مکہ کی اجارہ داری رہی جس کا ذکر سورۃ القریش میں آیا ہے)۔ ہندوستان‘ چین اور دیگر مشرقی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان یمن کی بندرگاہ پر اُترتا تھا‘ جبکہ یورپ سے آنے والا سامان بحیرۂ روم (Mediterranean Sea) کے راستے فلسطین کی بندرگاہ پر پہنچتا تھا۔ چنانچہ یمن اور فلسطین کے درمیان قومِ سبا کے تجارتی قافلے اس سامان کی نقل و حمل کے سلسلے میں مذکورہ شاہراہ پر سارا سال رواں دواں رہتے تھے۔

یہ تجارتی شاہراہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے بہت پر سکون‘ پر امن اور ہر لحاظ سے مثالی تھی۔ اس کی کیفیت یوں تھی کہ تقریباً سو میل کے فاصلے تک اس شاہراہ کے دونوں طرف ان کے باغات پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد عین شاہراہ کے اوپر جگہ جگہ بستیاں اس طرح آباد تھیں کہ ایک بستی کی حدود ختم ہوتے ہی دوسری بستی کے آثار شروع ہو جاتے تھے ۔اس طرح تجارتی قافلے نہ صرف رہزنی وغیرہ کے خطرات سے محفوظ رہتے تھے بلکہ انہیں سفر و قیام کے دوران اشیاءِ ضرورت اور مطلوبہ سہولیات بھی ہر جگہ ہر وقت دستیاب رہتی تھیں۔

وَّ قَدَّرۡنَا فِیۡہَا السَّیۡرَ ؕ

’’اور ہم نے اندازہ مقرر کر دیا تھا ان میں سفر کرنے کا۔‘‘

یعنی ان کے درمیان سفر کی منزلیں مقرر کر دی تھیں۔یہ آبادیاں شاہراہ کے عین کناروں پر اس طرح واقع تھیں کہ ایک آبادی سے دوسری آبادی تک کا درمیانی فاصلہ تیس چالیس میل کے لگ بھگ تھا اور یہ فاصلہ سفر کی منزلوں کے حساب سے رکھا گیا تھا تا کہ ہر منزل پر قافلوں کو قیام و طعام کی مطلوبہ سہولیات آسانی سے میسر آ سکیں۔

سِیۡرُوۡا فِیۡہَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیۡنَ ﴿۱۸﴾

’’(ہم نے انہیں کہہ دیا تھا کہ) تم سفر کرو ان میں راتوں کو بھی اور دن کو بھی امن کے ساتھ۔‘‘

یعنی ان میں رات دن بے خوف و خطر سفر کرو۔

آیت 19

فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا

’’تو انہوں نے کہا :اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کر دے‘‘

ان کی یہ خواہش یا دُعا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور مہربانیوں کی نا قدری کی عبرت انگیز مثال ہے۔ گویا وہ سفر کے مذکورہ مثالی انتظامات سے اُکتا چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ پر امن اور پر سکون سفر کرتے کرتے تن آسانی اور سہل انگاری کا شکار ہو جائیں گے۔ انہیں زعم تھا کہ وہ بہادر اور مہم جو قسم کے لوگ ہیں اور ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے دعا کی کہ ان کے سفر لمبے ہو جائیں تاکہ سفر کے دوران انہیں مشکلات و خطرات کا سامنا ہو‘ جن کا وہ مردانہ وار مقابلہ کریں اور یوں انہیں مہم جوئی اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے۔

وَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ وَ مَزَّقۡنٰہُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ

’’اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔‘‘

اس زمانے میں یمن تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی نا شکریوں اور نا فرمانیوں کے سبب اس قوم کا ایسا نام و نشان مٹا کہ اب دنیا میں ان کی صرف داستانیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ قوم سبا پر سیلاب کے عذاب کا واقعہ بہت زیادہ پرانانہیں۔ حضورﷺ کی ولادت سے تقریباً سوا سو سال قبل یعنی ۴۵۰ عیسوی کے لگ بھگ یہ واقعہ پیش آیا۔ بند ٹوٹنے کی وجہ سے یہ علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو گیاتو زندہ بچ رہنے والے لوگ عراق اور عرب کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ خود اوس اور خزرج کے قبائل کا تعلق بھی یمن سے تھا اور یہ لوگ اس علاقے کی تباہی کے بعد یمن سے یثرب میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ قوم سبا کی تباہی کے بعد مذکورہ تجارتی شاہراہ پر قریش مکہ کی اجارہ داری قائم ہو گئی اور جس زمانے میں حضورﷺ پر وحی کا آغاز ہوا اس زمانے میں قریش کے تجارتی قافلے جنوب میں یمن اور شمال میں شام و فلسطین کے درمیان آزادانہ سفر کرتے تھے۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۱۹﴾

’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صبر کرنے والا ‘ شکر کرنے والا ہو۔‘‘

20-21

ابلیس کی بات صحیح ثابت ہوئی

ویڈیو

وَ لَقَدۡ صَدَّقَ عَلَیۡہِمۡ اِبۡلِیۡسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۰﴾ وَ مَا کَانَ لَہٗ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَۃِ مِمَّنۡ ہُوَ مِنۡہَا فِیۡ شَکٍّ ؕ وَ رَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ ﴿٪۲۱﴾

آیت 20

وَ لَقَدۡ صَدَّقَ عَلَیۡہِمۡ اِبۡلِیۡسُ ظَنَّہٗ

’’اور یقینا ابلیس نے اُن کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا‘‘

فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۰﴾

’’سو ان سب نے اس (ابلیس) کی پیروی کی‘ سوائے مؤمنین کی ایک جماعت کے۔‘‘

آیت 21

وَ مَا کَانَ لَہٗ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ

’’اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا‘‘

ابلیس کا انسانوں پر کوئی زور نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صرف مہلت دے رکھی ہے ۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ انسانوں کو حیلے بہانے سے ورغلاتا اورانہیں سبز باغ دکھاتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر سکتا اور اسے یہ مہلت بھی انسانوں کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔

اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِالۡاٰخِرَۃِ

’’مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے‘‘

تا کہ آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کی پہچان ہو جائے اور انہیں ہم چھانٹ کر الگ کر لیں:

مِمَّنۡ ہُوَ مِنۡہَا فِیۡ شَکٍّ ؕ وَ رَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ ﴿٪۲۱﴾

’’ان لوگوں سے جو اس سے متعلق شک میں ہیں ۔اور آپ کا پروردگار ہر چیز پر نگران ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے