تحریر

سبأ

آیات ۲۲ تا ۳۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

22-23

کیا فرشتے انسانوں کے کام آ سکتے ہیں ؟

ویڈیو

قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۚ لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا لَہُمۡ فِیۡہِمَا مِنۡ شِرۡکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنۡہُمۡ مِّنۡ ظَہِیۡرٍ ﴿۲۲﴾ وَ لَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَہٗ ؕ حَتّٰۤی اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِہِمۡ قَالُوۡا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّکُمۡ ؕ قَالُوا الۡحَقَّ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۳﴾

آیت 22

قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ۚ

’’(اے نبیﷺ! ان مشرکین سے) کہیے کہ تم بلاؤ ان کو جنہیں تم نے (معبود)گمان کیا ہے اللہ کے سوا۔‘‘

جن دیویوں اور دیوتاؤں کو تم اپنے اولیاء اور مدد گار سمجھتے ہو انہیں پکار کر دیکھ لو کہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں!

لَا یَمۡلِکُوۡنَ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ

’’وہ ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے‘ نہ آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں‘‘

وَ مَا لَہُمۡ فِیۡہِمَا مِنۡ شِرۡکٍ وَّ مَا لَہٗ مِنۡہُمۡ مِّنۡ ظَہِیۡرٍ ﴿۲۲﴾

’’اور نہ ان دونوں (زمین اور آسمان) میں ان کا کوئی حصہ ہے‘ اور نہ ہی ان میں سے کوئی اُس کا مدد گار ہے۔‘‘

مشرکینِ عرب کے ہاں دو طرح کے مشرکانہ اعتقادات پائے جاتے تھے۔ ان کا ایک عقیدہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ محبوب ہستیاں ایسی ہیں جن کی بات کو وہ ٹال نہیں سکتا‘ چاہے وہ اُس کی بیٹیاں (وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے) ہوں یا انسانوں میں سے اس کی محبوب شخصیات۔ چنانچہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کی ان محبوب ہستیوں کی سفارش سے آخرت میں وہ بچ جائیں گے۔

ان کا دوسرا مشرکانہ عقیدہ یہ تھا کہ اگرچہ اللہ اس کائنات کا خالق اور مالک ہے لیکن اس نے اس کائنات کا نظام چلانے کے لیے اپنے کچھ نائبین مقرر کر کے ان میں کچھ اختیارات تقسیم کر رکھے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا کی سلطنتوں اور حکومتوں کا نظام چلانے کے لیے تمام بادشاہ اور حکمران اپنے نائبین مقرر کر کے انہیں کچھ اختیارات تفویض کر دیتے ہیں اسی طرح اللہ کے مقرر کردہ نائبین اس کائنات کا نظام چلاتے ہیں ‘اوروہ نہ صرف اللہ کے مدد گار ہیں بلکہ اس کے اختیارات میں بھی شریک ہیں۔ چنانچہ آیت زیر مطالعہ میں اس دوسری قسم کے مشرکانہ عقیدے کی نفی کی گئی ہے۔

اس حوالے سے یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ ہندوستانی دیو مالا (mythology) میں دیویوں اور دیوتاؤں کا جو تصور پایا جاتا ہے اس میں اور ہمارے ایمان بالملائکہ میں بظاہر بہت باریک اور نازک سا فرق ہے۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ کائنات کے اندر فرشتے اللہ کی طرف سے تفویض شدہ مختلف فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے فرشتے گویا اللہ کی کائناتی حکومت کی ’’سول سروس‘‘ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہمارا یہ عقیدہ بھی ہے کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے‘ وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کاا نہیں حکم ملتا ہے۔ لہٰذاان میں سے کسی کو مدد کے لیے پکارنا ‘کسی سے کسی قسم کی کوئی دعا کرنا یا استغاثہ کرنا جائز نہیں۔ کسی کے نفع یا نقصان کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے ‘اس لیے دعا کے لیے پکارنا بھی اسی کو ہے۔ استمداد بھی اسی سے ہے اور استغاثہ بھی اسی سے۔ وہ قادرِمطلق ہے‘ وہ چاہے تو کسی کی براہِ راست مدد کر دے یا کسی کی تکلیف رفع کرنے کے لیے کسی فرشتے کو بھیج دے۔ اس کے برعکس دیو مالائی تصور یہ ہے کہ جو ہستیاں اللہ کے نائبین کے طور پر کائنات کے اندر مختلف فرائض سنبھالے ہوئے ہیں وہ اللہ کے اختیارات میں بھی حصہ دار ہیں۔ چنانچہ ان کے حضور اپنی حاجات بھی پیش کی جاسکتی ہیں‘ ان سے دعا بھی کی جا سکتی ہے اور ان سے استغاثہ بھی کیا جا سکتا ہے‘ جس کے جواب میں وہ اپنے پکارنے والوں کی حاجت روائی بھی کرتے ہیں اور مشکل کشائی بھی۔ چنانچہ نظریاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ باریک سا فرق دراصل زمین و آسمان کا فرق ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دیومالائی مشرکانہ تصورات دراصل ’’ایمان بالملائکہ‘‘ ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔

آیت 23

وَ لَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَہٗ ؕ

’’اور نہ نفع دے گی اُس کے ہاں کوئی سفارش مگر اُسی کے حق میں جس کے لیے اُ س نے اجازت دی ہو۔‘‘

حَتّٰۤی اِذَا فُزِّعَ عَنۡ قُلُوۡبِہِمۡ

’’یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے ان کے دلوں سے‘‘

یہ فرشتوں کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو کوئی حکم بھیجتا ہے تو ا س کی عظمت اور جلالت کی وجہ سے ان پر دہشت کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ پھر جب ان سے اس دہشت کا اثر زائل کر دیا جاتا ہے تو :

قَالُوۡا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّکُمۡ ؕ

’’وہ پوچھتے ہیں تمہارے ربّ نے کیا فرمایاتھا؟‘‘

قَالُوا الۡحَقَّ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡکَبِیۡرُ ﴿۲۳﴾

’’وہ کہتے ہیں کہ (اُس نے جو کچھ فرمایا ہے وہ) حق ہے‘ اور وہ بہت بلند و بالا ‘ بہت بڑا ہے۔‘‘

24-27

معبود وہ ہے جو رزق دیتا ہے

ویڈیو

قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ قُلِ اللّٰہُ ۙ وَ اِنَّاۤ اَوۡ اِیَّاکُمۡ لَعَلٰی ہُدًی اَوۡ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۴﴾ قُلۡ لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا وَ لَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾ قُلۡ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفۡتَحُ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ ؕ وَ ہُوَ الۡفَتَّاحُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۲۶﴾ قُلۡ اَرُوۡنِیَ الَّذِیۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِہٖ شُرَکَآءَ کَلَّا ؕ بَلۡ ہُوَ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۷﴾

آیت 24

قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’آپؐ (ان سے) پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے؟‘‘

قُلِ اللّٰہُ ۙ وَ اِنَّاۤ اَوۡ اِیَّاکُمۡ لَعَلٰی ہُدًی اَوۡ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۲۴﴾

’’آپؐ کہیے کہ اللہ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں!‘‘

یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہو سکتا ہے۔ چنانچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔

آیت 25

قُلۡ لَّا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّاۤ اَجۡرَمۡنَا

’’آپ ؐکہیے کہ تم سے نہیں پوچھا جائے گا ہمارے جرائم کے بارے میں‘‘

تم سمجھتے ہو کہ ہم نے نیا دین گھڑ لیا ہے‘ ہم نے تمہارے معبودوں کو جھٹلایا ہے اور ہم نے تمہارے خاندانوں میں پھوٹ ڈال دی ہے اور یوں ہم بہت سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔لیکن اس حوالے سے تم لوگ خاطر جمع رکھو‘ ہمارے ان جرائم کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔ اپنے ان ’’جرائم‘‘ کا حساب ہم خود ہی دیں گے۔ یہاں پر مخالف فریق کو گمراہ کہنے کے بجائے دونوں میں سے کسی ایک فریق کی گمراہی کی بات کر کے اور ان کے الزام کے مطابق جرائم کو خود اپنی طرف منسوب کر کے ’’حکمتِ تبلیغ‘‘ کا بہت اہم سبق سمجھایا گیا ہے۔

وَ لَا نُسۡـَٔلُ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۵﴾

’’اور نہ ہی ہم سے پوچھا جائے گا تمہارے اعمال کے بارے میں۔‘‘

تبلیغ کا حکیمانہ اسلوب ملاحظہ ہو ‘جہاں اپنے لیے لفظ ’’جرم‘‘ استعمال ہوا ہے‘ وہاں مخالف کے لیے صرف ’’عمل‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ کسی کی مخالفانہ عصبیت کو انگیخت کا بہانہ نہ ملے اور کسی کے اندر اگرکچھ سوچنے اور غور کرنے کی آمادگی پائی جاتی ہو تو اس کا دروازہ بند نہ ہونے پائے۔

آیت 26

قُلۡ یَجۡمَعُ بَیۡنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفۡتَحُ بَیۡنَنَا بِالۡحَقِّ ؕ وَ ہُوَ الۡفَتَّاحُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۲۶﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو (ایک دن)جمع کرے گا ‘پھر وہ فیصلہ کر دے گا ہمارے مابین حق کے ساتھ‘ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا‘ خوب جاننے والا ہے۔‘‘

اس دن جو فیصلہ بھی ہو گا بر بنائے علم ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک ایک شخص کی ایک ایک حرکت کا علم ہے۔

آیت 27

قُلۡ اَرُوۡنِیَ الَّذِیۡنَ اَلۡحَقۡتُمۡ بِہٖ شُرَکَآءَ کَلَّا ؕ بَلۡ ہُوَ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲۷﴾

’’آپؐ کہیے کہ ذرامجھے دکھاؤ تو وہ (معبود) جنہیں تم نے شریک بنا کر اُس کے ساتھ ملا رکھا ہے! کوئی نہیں! بلکہ وہی اللہ ہے ‘ بہت زبردست‘ نہایت حکمت والا۔‘‘

وہ اپنی ذات میں خود ’’العزیز ‘‘(غالب‘ زبردست)ہے‘ اُس کی قدرت کسی اور کے بل پر قائم نہیں‘ اُسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں‘ وہ کسی اور کی مدد کا محتاج نہیں۔

28

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کی طرف رسول ہیں

ویڈیو

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾

آیت 28

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا

’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوعِ انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر‘‘

تمام انبیاء و رسل علیہم السلام میں یہ اعزاز صرف محمد رسول اللہﷺ کے حصے میں آیا کہ آپؐ کو تمام بنی نوع انسانی کی طرف رسولؐ بنا کر بھیجا گیا ۔ اس سلسلے میں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کیجئے کہ یہ فیصلہ تاریخ انسانی کے اس مرحلے پر کیا گیاجب انسانی تمدن اور ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے باعث آپﷺ کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے میں ایک ایک شخص تک پہنچانا عملی طور پر ممکن ہونے کے قریب تھا۔ ورنہ اس سے پہلے عملی طور پر کسی نبی یا رسول کی دعوت کو پوری نوعِ انسانی تک پہنچانا ممکن ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے وہ مخصوص علاقوں میں ایک ایک قوم کی طرف مبعوث ہو کر آئے۔اسی لیے آپؐ سے پہلے کے پیغمبروں کی بعثت کا تعارف قرآن حکیم میں اس طرح کرایا گیا ہے: {وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ } (ھود: ۵۰) {وَ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا ۘ } ( ھود:۶۱)‘ {وَ اِلٰی مَدۡیَنَ اَخَاہُمۡ شُعَیۡبًا ؕ } (ھود: ۸۴)۔ لیکن حضورﷺ کی بعثت کے بارے میں یہاں یوں فرمایا گیا: {وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا }{وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾} ’’لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘

29-30

عذاب کا وعدہ کب پورا ہوگا؟

ویڈیو

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾ قُلۡ لَّکُمۡ مِّیۡعَادُ یَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ عَنۡہُ سَاعَۃً وَّ لَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾

آیت 29

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۹﴾

’’اور وہ پوچھتے ہیں کہ کب پورا ہو گا یہ وعدہ‘ اگر تم لوگ سچے ہو!‘‘

مشرکین کے اس سوال میں عذاب یا قیامت دونوں کی طرف اشارہ موجود ہے کہ آپؐ ہمیں جو عذاب کی دھمکیاں دیتے ہیں یا قیامت برپا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ آپؐ کے یہ وعدے کب پورے ہوں گے؟

آیت 30

قُلۡ لَّکُمۡ مِّیۡعَادُ یَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ عَنۡہُ سَاعَۃً وَّ لَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے ایک خاص دن کی میعاد مقرر ہے ‘جس سے تم نہ تو ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے