تحریر

سبأ

آیات ۱۰ تا ۱۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

10-11

حضرت داؤد علیہ السلام پر اللہ کا فضل

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ وَ الطَّیۡرَ ۚ وَ اَلَنَّا لَہُ الۡحَدِیۡدَ ﴿ۙ۱۰﴾ اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرۡ فِی السَّرۡدِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

آیت 10

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ

’’اور ہم نے داؤدؑ کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔‘‘

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا ذکر اس سے پہلے سورۃ النمل میں آ چکا ہے۔ وہاں حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔اب اس سورت میں بھی حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ دونوں ہی کا ذکر ہے‘ مگر یہاں حضرت داؤد علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایا ں کیا گیا ہے۔

یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ وَ الطَّیۡرَ ۚ

’’(ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو! تم تسبیح کو دہراؤ اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا تھا)۔‘‘

’’تا ویب‘‘ گویا ’’ترجیع‘‘ کا ہم معنی لفظ ہے ‘یعنی لوٹانااور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپؑ کے ساتھ شامل ہو جائیں اور آپؑ کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔

وَ اَلَنَّا لَہُ الۡحَدِیۡدَ ﴿ۙ۱۰﴾

’’اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا ۔‘‘

آیت 11

اَنِ اعۡمَلۡ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرۡ فِی السَّرۡدِ

’’کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیاں ملانے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ رکھو‘‘

آپؑ کے لیے لوہے کو خصوصی طور پر نرم کر دیا گیا تھا اور زرہیں بنانے کا ہنر بھی آپؑ کو سکھا دیا گیاتھا۔

وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

’’اور تم سب نیک اعمال کرو۔ تم جو کچھ کررہے ہو میں یقینا اسے دیکھ رہا ہوں۔‘‘

12-13

حضرت سلیمان علیہ السلام پر اللہ کی عنایات

ویڈیو

وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ غُدُوُّہَا شَہۡرٌ وَّ رَوَاحُہَا شَہۡرٌ ۚ وَ اَسَلۡنَا لَہٗ عَیۡنَ الۡقِطۡرِ ؕ وَ مِنَ الۡجِنِّ مَنۡ یَّعۡمَلُ بَیۡنَ یَدَیۡہِ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّزِغۡ مِنۡہُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡہُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۲﴾ یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾

آیت 12

وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ غُدُوُّہَا شَہۡرٌ وَّ رَوَاحُہَا شَہۡرٌ ۚ

’’اور سلیمانؑ کے لیے ہو ا کو (مسخر کر دیا تھا)‘ اُس کا صبح کو چلنا بھی ایک ماہ (کا سفر) تھا اور اُس کا شام کو چلنا بھی ایک ماہ( کا سفر) تھا۔‘‘

حضرت سلیمان علیہ السلام جہاں جانا چاہتے تیز ہوا آپؑ کے تخت کو اڑا کر وہاں پہنچا دیتی اور جو فاصلہ اُس زمانے کے لوگ مروّجہ سواریوں کے ذریعے ایک ماہ میں طے کرتے حضرت سلیمانؑ وہ فاصلہ ہوا کے ذریعے سے ایک صبح یا ایک شام میں طے کر لیتے تھے۔

وَ اَسَلۡنَا لَہٗ عَیۡنَ الۡقِطۡرِ ؕ

’’اور ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا تھا۔ ‘‘

وَ مِنَ الۡجِنِّ مَنۡ یَّعۡمَلُ بَیۡنَ یَدَیۡہِ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ؕ

’’اور کچھِ جن بھی (اس ؑکے تابع کر دیے تھے) جو اُس کے سامنے کام کرتے تھے اُس کے رب کے حکم سے۔‘‘

وَ مَنۡ یَّزِغۡ مِنۡہُمۡ عَنۡ اَمۡرِنَا نُذِقۡہُ مِنۡ عَذَابِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۲﴾

’’اور ان میں سے جو کوئی بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اسے ہم جلا دینے والا عذاب چکھاتے تھے ۔‘‘

آگے ان کاموں کی تفصیل بھی بتائی جا رہی ہے جو جنات حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے کرتے تھے۔

آیت 13

یَعۡمَلُوۡنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنۡ مَّحَارِیۡبَ وَ تَمَاثِیۡلَ

’’وہ بناتے تھے اُس کے لیے جو وہ چاہتا تھا‘ بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے‘‘

شریعتِ محمدؐی میں مجسمے بنانا حرام ہے ‘لیکن ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ایسا کرنا جائز تھا۔ویسے ’’تِمثال‘‘ عربی زبان میں ہر اُس شبیہہ یا پیکر کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنایا جائے‘ خواہ وہ جاند ار ہو یا بے جان۔

وَ جِفَانٍ کَالۡجَوَابِ وَ قُدُوۡرٍ رّٰسِیٰتٍ ؕ

’’اور تالابوں کی مانند بڑے بڑے لگن اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ مستقل پڑی رہتی تھیں۔‘‘

یعنی وہ دیگیں اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ چولہوں کے اوپر ہی پڑی رہتی تھی اور وہاں سے انہیں ہلایا نہیں جا سکتا تھا۔ اس طرح کی دیگیں اجمیر شریف (انڈیا) میں حضرت معین الدین اجمیری ؒ کے مزار پر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

اِعۡمَلُوۡۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُکۡرًا ؕ

’’اے داؤد ؑکے گھر والو! عمل کرو شکر ادا کرتے ہوئے‘‘

حضرت سلیمان علیہ السلام چونکہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اس لیے آپؑ کو آلِ دائودؑ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے کہ آپؑ پر اللہ کی ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ چنانچہ آپؑ کا ایک ایک عمل اللہ تعالیٰ کی احسان مندی کا مظہر ہونا چاہیے۔

وَ قَلِیۡلٌ مِّنۡ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾

’’اور (واقعہ یہ ہے کہ ) میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہی ہیں۔‘‘

14

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا دلچسپ واقعہ

ویڈیو

فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ مَا دَلَّہُمۡ عَلٰی مَوۡتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الۡاَرۡضِ تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الۡجِنُّ اَنۡ لَّوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ الۡغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ؕ۱۴﴾

آیت 14

فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ

’’پھر جب ہم نے اُسؑ پر موت طاری کر دی‘‘

مَا دَلَّہُمۡ عَلٰی مَوۡتِہٖۤ اِلَّا دَآبَّۃُ الۡاَرۡضِ

’’تو کسی نے ان (جنات) کو اُس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے‘‘

تَاۡکُلُ مِنۡسَاَتَہٗ ۚ

’’جو اُس ؑ کے عصا کو کھاتا تھا۔‘‘

حضرت سلیمان علیہ السلامِ جنات کی نگرانی کے لیے اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے کہ آپؑ کی روح قبض ہو گئی مگر آپؑ کا جسد مبارک اسی طرح کھڑا رہا۔یہاں تک کہ دیمک نے آپؑ کی لاٹھی کو کھا کر کھوکھلا کر دیا۔ اس دوران جنات آپؑ کی موت سے بے خبر کام میں مصروف رہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ آپ کھڑے ان کی نگرانی کررہے ہیں۔

فَلَمَّا خَرَّ تَبَیَّنَتِ الۡجِنُّ اَنۡ لَّوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ الۡغَیۡبَ مَا لَبِثُوۡا فِی الۡعَذَابِ الۡمُہِیۡنِ ﴿ؕ۱۴﴾

’’پھر جب وہ گر پڑا توجنوں پر واضح ہو گیاکہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے