وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ
’’اور ہم نے داؤدؑ کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔‘‘
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کا ذکر اس سے پہلے سورۃ النمل میں آ چکا ہے۔ وہاں حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔اب اس سورت میں بھی حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ دونوں ہی کا ذکر ہے‘ مگر یہاں حضرت داؤد علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایا ں کیا گیا ہے۔
یٰجِبَالُ اَوِّبِیۡ مَعَہٗ وَ الطَّیۡرَ ۚ
’’(ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو! تم تسبیح کو دہراؤ اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی (یہی حکم دیا تھا)۔‘‘
’’تا ویب‘‘ گویا ’’ترجیع‘‘ کا ہم معنی لفظ ہے ‘یعنی لوٹانااور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپؑ کے ساتھ شامل ہو جائیں اور آپؑ کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔
وَ اَلَنَّا لَہُ الۡحَدِیۡدَ ﴿ۙ۱۰﴾
’’اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا ۔‘‘