وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہَلۡ نَدُلُّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ اِنَّکُمۡ لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۚ﴿۷﴾
’’اور یہ کافر کہتے ہیں: کیا ہم تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مٹی میں مل کر) بالکل ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو پھر تمہیں از سرِ نو پیدا کر دیا جائے گا۔‘‘
یہ اور اس کے بعد والی آیت اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان دونوں کے مضامین کا حوالہ آیت ۴۶ کے ضمن میں بھی آئے گا۔ اگرچہ حضورﷺ کی مخالفت نبوت کے ابتدائی زمانے سے ہی شروع ہو گئی تھی اور مشرکین اپنی محفلوں میں حضورﷺ کے بارے میں استہزائیہ جملے بھی دہراتے رہتے تھے ‘لیکن سات آٹھ سال تک وہ لوگ آپؐ کے بارے میں مسلسل الجھن اور شش و پنج کا شکار رہے کہ یکایک آپؐ میں یہ کیسی تبدیلی آ گئی ہے! اگلی آیت ان کی اس کیفیت کا واضح اظہار کر رہی ہے:
اَفۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا
’’کیا اس نے جھوٹ باندھا ہے اللہ پر ‘‘
کیا محمد (ﷺ) نے اتنی بڑی جسارت کی ہے کہ جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے؟ کہنے کو تو وہ ایک دوسرے سے یوں کہتے تھے اور خود اپنے آپ سے بھی یہ سوال کرتے تھے لیکن اصل حقیقت کو وہ خوب سمجھتے تھے کہ آپؐ کی طرف سے جھوٹ گھڑنے کا کوئی ہلکا سا بھی امکان نہیں تھا۔ اندر سے ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ دیکھو! اس شخص کی پچھلے چالیس برس کی زندگی تمہارے سامنے ہے۔ ان کی سیرت و کردار سے تم خوب واقف ہو۔ تم نے خود انہیں الصادق اور الامین کا خطاب دیا ہے۔ تو بھلا ایک ایسا شخص جس نے اپنی معمول کی زندگی میں کبھی کوئی چھوٹا سا بھی جھوٹ نہ بولا ہو‘ آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے اور وہ بھی اللہ کے بارے میں!
اَمۡ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ
’’یا اسے جنون ہو گیا ہے!‘‘
کبھی کہتے ممکن ہے کہ ان پر آسیب کا سایہ آ گیا ہو یا ان کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہو‘ اس لیے اس طرح کی باتیں کرنے لگے ہوں ۔اور اگر ایسا ہے تو پھر ان کا اپنا کوئی قصور نہیں اور انہیں جھوٹ کا الزام نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اس الزام پر بھی ان کے ضمیر پکار اٹھتے کہ اس پر غور تو کرو! کیا اس کلام میں تم لوگوں کو واقعی دیوانگی کے آثار نظر آتے ہیں؟ چنانچہ واقعتا انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ ماجرا آخر ہے کیا؟
جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ‘اگر بارہ سالہ مکی دور کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو مکی سورتوں کے درمیانی گروپس (سورۃ الفرقان تا سورۃ السجدۃ اور سورۂ سبا تا سورۃ الاحقاف) میں ‘سورۃ الشعراء کو چھوڑ کر کہ وہ ابتدائی دور کی سورت ہے ‘باقی تمام وہ سورتیں ہیں جو درمیانی چار سالوں میں نازل ہوئی ہیں اور ان سب سورتوں کے مطالعہ کے دوران کفارِ مکہ کی یہی کیفیت سامنے آتی ہے۔ یعنی اس دور میں وہ رسول اللہﷺ کے بارے میں سخت اُلجھن اور شش و پنج کا شکار تھے۔ کبھی وہ آپؐ کو شاعر کہتے‘ کبھی جادوگر اور کبھی مجنون قرار دیتے‘ مگر آپؐ کے بارے میں کوئی واضح اور حتمی موقف اپنانے سے قاصر تھے۔ البتہ آخری چار سالہ دور میں نازل ہونے والی پندرہ سورتوں یعنی سورۃ الانعام ‘ سورۃ الاعراف اور سورۂ یونس تا سورۃ المؤمنون (اس گروپ میں بھی سورۃ الحجر ایک ایسی سورت ہے جو ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی) کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں ان کے اندر polarization ہو گئی تھی۔ یعنی مکی دور کے آخری سالوں میں حضورﷺ کے بارے میں ان کے مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔
بَلِ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ فِی الۡعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الۡبَعِیۡدِ ﴿۸﴾
’’بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب میں اور دُور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔‘‘
دُنیا میں بھی ان کی جان ضیق (تنگی) میں آئی ہوئی ہے اور وہ بڑی دُور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں آخرت کا یقین ہوتا تو یہ بات جو ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی‘ بڑی آسانی سے سمجھ میں آ جاتی۔
اَفَلَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ
’’تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے!‘‘
کیا یہ لوگ اس کائنات کا مشاہدہ نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور کیا یہ ان تاریخی شواہد و بصائر سے سبق حاصل نہیں کرتے جو ان کے پیچھے ہیں۔ گویایہاں اس چھوٹے سے فقرے میں ’’تذکیر بآلاء اللہ ‘‘کا حوالہ بھی آ گیا اور ’’تذکیر بایام اللہ ‘‘کا بھی۔
اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِہِمُ الۡاَرۡضَ
’’اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں‘‘
اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَیۡہِمۡ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ؕ
’’یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔‘‘
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ٪﴿۹﴾
’’یقینا اس میں نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والاہو۔‘‘