بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

سبأ

آیات ۱ تا ۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۂ سبا کا آغاز کلمہ حمد (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ) سے ہو رہا ہے جبکہ اس کے بعد کی سورت یعنی سورۂ فاطر بھی اسی کلمہ سے شروع ہوتی ہے۔ اس ضمن میں ایک اہم بات یہ نوٹ کر لیجیے کہ قرآن کے آغاز میں سورۃ الفاتحہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد تقریباًسات سات آٹھ آٹھ پاروں کے فصل سے ایک ایسی سورت آتی ہے جس کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے ہوتا ہے۔ جیسے ساتویں پارے میں سورۃ الانعام کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ …}۔ اس کے بعد پندرھویں پارے میں سورۃ الکہف کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے: {اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ …} ۔ پھر سات پاروں کے بعد بائیسویں پارے میں سورۂ سبا اور سورۂ فاطر دو سورتیں ایک ساتھ آئی ہیں جن کا آغاز اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سے ہو رہا ہے۔ یہ دونوں سورتیں جوڑے کی شکل میں ہیں اور کلمہ حمد سے شروع ہونے والی یہ آخری سورتیں ہیں۔ اس کے بعد کوئی ایسی سورت نہیں ہے جس کا آغاز اس کلمہ سے ہو تاہو۔

1-2

عظمتِ باری تعالی

ویڈیو

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَہُ الۡحَمۡدُ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱﴾ یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ وَ ہُوَ الرَّحِیۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴿۲﴾

آیت 1

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ

’’کل حمد اور کل شکر اُس اللہ کے لیے ہے جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘

وَ لَہُ الۡحَمۡدُ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۱﴾

’’اور آخرت میں بھی اُسی کے لیے حمد ہوگی ‘اور وہ کمال حکمت والا‘ ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘

آخرت کی حمد کے بارے میں رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: حدیث((لِوَائُ الحَمْدِ یَوْمَئِذٍ بِیَدِیْ))۱’’اُس دن (یعنی میدانِ حشر میں) حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اُس روز میں جو حمد کروں گا وہ آج نہیں کر سکتا ----آخرت کی اس حمد کا اس آخری اُمت کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ حضور اکرمﷺ کے اسمائے مبارک محمد‘ احمد اور حامد کا تعلق بھی لغوی طور پر لفظ ’’حمد‘‘ کے ساتھ ہے اور اسی لیے اس امت کو بھی ’’حَمَّادُون‘‘ (بہت زیادہ حمد کرنے والے) کہا گیا ہے۔

(۱) سنن الترمذی‘ ابواب المناقب‘ باب فی فضل النبی ﷺ۔

آیت 2

یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ

’’وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے ۔‘‘

وَ ہُوَ الرَّحِیۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴿۲﴾

’’اور وہ نہایت رحم کرنے والا‘ بہت بخشنے والا ہے۔‘‘

3-6

ظہورِ قیامت ----قدرتِ باری تعالیٰ کا مظہر

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَاۡتِیۡنَا السَّاعَۃُ ؕ قُلۡ بَلٰی وَ رَبِّیۡ لَتَاۡتِیَنَّکُمۡ ۙ عٰلِمِ الۡغَیۡبِ ۚ لَا یَعۡزُبُ عَنۡہُ مِثۡقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرُ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ٭ۙ﴿۳﴾ لِّیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۴﴾ وَ الَّذِیۡنَ سَعَوۡ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿۵﴾ وَ یَرَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ہُوَ الۡحَقَّ ۙ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ﴿۶﴾

آیت 3

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَاۡتِیۡنَا السَّاعَۃُ ؕ

’’اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی۔‘‘

عام طور پر ’’السَّاعۃ‘‘ کا ترجمہ قیامت ہی کر دیا جاتا ہے ‘مگر جیسا کہ سورۂ لقمان کی آیت ۳۴ کے ضمن میں بھی بتایا جا چکا ہے السَّاعۃ اور قیامت دو مختلف الفاظ ہیں اور دونوں کے معانی بھی الگ الگ ہیں۔ السَّاعۃ سے مراد وہ خاص گھڑی ہے جب زمین میں ایک عظیم زلزلہ برپا ہو گا‘ ستاروں اور سیاروں کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا اور دنیا مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ جبکہ القیامۃ اس کے بعد کی کیفیت کا نام ہے جب دنیا دوبارہ نئی شکل میں پیدا ہو گی اور تمام انسانوں کوزندہ کر کے ایک جگہ اکٹھے کر لیا جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ کائنات ابدی ہے اور اس کا اختتام ممکن نہیں ‘لیکن اب فزکس کے میدان میں نئی نئی تحقیقات کی روشنی میں سائنسدانوں کا جو نیا موقف سامنے آیا ہے وہ بھی یہی ہے کہ یہ کائنات ابدی نہیں ہے‘ اس کا اختتام ایک مسلمہ حقیقت ہے اور یہ کہ جس طرح اپنے آغاز کے بعد یہ ایک پھلجھڑی کی طرح پھیلتی رہی ہے‘ اسی طریقے سے اختتام پذیر ہو جائے گی۔

قُلۡ بَلٰی وَ رَبِّیۡ لَتَاۡتِیَنَّکُمۡ ۙ عٰلِمِ الۡغَیۡبِ ۚ

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے ‘کیوں نہیں! میرے رب کی قسم‘ جو تمام پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے ‘وہ تم پر ضرور آ کر رہے گی۔‘‘

لَا یَعۡزُبُ عَنۡہُ مِثۡقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ

’’اُس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ذرّہ برابر بھی کوئی چیز نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں‘‘

وَ لَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرُ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ٭ۙ﴿۳﴾

’’اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز اور نہ بڑی ‘ مگر وہ ایک روشن کتاب میں (لکھی ہوئی) موجود ہے۔‘‘

یہ قیامت کیوں آئے گی؟ اس کا منطقی جواز کیا ہے؟ اس کا جواب اگلی آیات میں دیا گیا ہے۔

آیت 4

لِّیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ

’’تا کہ وہ جزا دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔‘‘

انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر انسان کو اُس کے اعمال کا بدلہ ملے۔جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے دنیوی لذائذ کو چھوڑا‘ اپنی آسائشوں کو قربان کیا‘ حق کا علم بلند کرنے کے لیے اپنا دُنیوی مستقبل داؤ پر لگا دیا ‘اپنی جان جوکھوں میں ڈالی اور اللہ کے راستے میں جہاد و قتال کیا‘اگر انہیں ان کی کوششوں کا بھر پور صلہ نہیں دیا جاتا اور انہیں انعام و اکرام سے نہیں نوازا جاتا تو ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی اور نا انصافی ہو گی۔چنانچہ تمام انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق بھر پور صلہ دینے کے لیے ایک دوسری دنیا کا قیام نا گزیر ہے۔

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۴﴾

’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے (آخرت میں) مغفرت بھی ہو گی اور بہت با عزت روزی بھی۔‘‘

آیت 5

وَ الَّذِیۡنَ سَعَوۡ فِیۡۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیۡنَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِیۡمٌ ﴿۵﴾

’’اور جو لوگ ہماری آیات کو شکست دینے کے لیے کوشاں رہے اُن کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 6

وَ یَرَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ہُوَ الۡحَقَّ ۙ

’’اور (تا کہ) دیکھ لیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہ آپؐ پر جو چیز نازل کی گئی ہے آپؐ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے‘‘

وَ یَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ﴿۶﴾

’’اور وہ راہنمائی کرتی ہے‘ نہایت غالب‘ لائقِ حمد و ثنا ہستی کے راستے کی طرف۔‘‘

7-9

آخرت کا انکار کرنے والوں کے لیے دھمکی

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہَلۡ نَدُلُّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ اِنَّکُمۡ لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۚ﴿۷﴾ اَفۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمۡ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ بَلِ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ فِی الۡعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الۡبَعِیۡدِ ﴿۸﴾ اَفَلَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِہِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَیۡہِمۡ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ٪﴿۹﴾

آیت 7

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ہَلۡ نَدُلُّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ۙ اِنَّکُمۡ لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۚ﴿۷﴾

’’اور یہ کافر کہتے ہیں: کیا ہم تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مٹی میں مل کر) بالکل ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو پھر تمہیں از سرِ نو پیدا کر دیا جائے گا۔‘‘

یہ اور اس کے بعد والی آیت اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان دونوں کے مضامین کا حوالہ آیت ۴۶ کے ضمن میں بھی آئے گا۔ اگرچہ حضورﷺ کی مخالفت نبوت کے ابتدائی زمانے سے ہی شروع ہو گئی تھی اور مشرکین اپنی محفلوں میں حضورﷺ کے بارے میں استہزائیہ جملے بھی دہراتے رہتے تھے ‘لیکن سات آٹھ سال تک وہ لوگ آپؐ کے بارے میں مسلسل الجھن اور شش و پنج کا شکار رہے کہ یکایک آپؐ میں یہ کیسی تبدیلی آ گئی ہے! اگلی آیت ان کی اس کیفیت کا واضح اظہار کر رہی ہے:

آیت 8

اَفۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا

’’کیا اس نے جھوٹ باندھا ہے اللہ پر ‘‘

کیا محمد (ﷺ) نے اتنی بڑی جسارت کی ہے کہ جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے؟ کہنے کو تو وہ ایک دوسرے سے یوں کہتے تھے اور خود اپنے آپ سے بھی یہ سوال کرتے تھے لیکن اصل حقیقت کو وہ خوب سمجھتے تھے کہ آپؐ کی طرف سے جھوٹ گھڑنے کا کوئی ہلکا سا بھی امکان نہیں تھا۔ اندر سے ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ دیکھو! اس شخص کی پچھلے چالیس برس کی زندگی تمہارے سامنے ہے۔ ان کی سیرت و کردار سے تم خوب واقف ہو۔ تم نے خود انہیں الصادق اور الامین کا خطاب دیا ہے۔ تو بھلا ایک ایسا شخص جس نے اپنی معمول کی زندگی میں کبھی کوئی چھوٹا سا بھی جھوٹ نہ بولا ہو‘ آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے اور وہ بھی اللہ کے بارے میں!

اَمۡ بِہٖ جِنَّۃٌ ؕ

’’یا اسے جنون ہو گیا ہے!‘‘

کبھی کہتے ممکن ہے کہ ان پر آسیب کا سایہ آ گیا ہو یا ان کا دماغی توازن خراب ہو گیا ہو‘ اس لیے اس طرح کی باتیں کرنے لگے ہوں ۔اور اگر ایسا ہے تو پھر ان کا اپنا کوئی قصور نہیں اور انہیں جھوٹ کا الزام نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اس الزام پر بھی ان کے ضمیر پکار اٹھتے کہ اس پر غور تو کرو! کیا اس کلام میں تم لوگوں کو واقعی دیوانگی کے آثار نظر آتے ہیں؟ چنانچہ واقعتا انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ ماجرا آخر ہے کیا؟

جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے ‘اگر بارہ سالہ مکی دور کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو مکی سورتوں کے درمیانی گروپس (سورۃ الفرقان تا سورۃ السجدۃ اور سورۂ سبا تا سورۃ الاحقاف) میں ‘سورۃ الشعراء کو چھوڑ کر کہ وہ ابتدائی دور کی سورت ہے ‘باقی تمام وہ سورتیں ہیں جو درمیانی چار سالوں میں نازل ہوئی ہیں اور ان سب سورتوں کے مطالعہ کے دوران کفارِ مکہ کی یہی کیفیت سامنے آتی ہے۔ یعنی اس دور میں وہ رسول اللہﷺ کے بارے میں سخت اُلجھن اور شش و پنج کا شکار تھے۔ کبھی وہ آپؐ کو شاعر کہتے‘ کبھی جادوگر اور کبھی مجنون قرار دیتے‘ مگر آپؐ کے بارے میں کوئی واضح اور حتمی موقف اپنانے سے قاصر تھے۔ البتہ آخری چار سالہ دور میں نازل ہونے والی پندرہ سورتوں یعنی سورۃ الانعام ‘ سورۃ الاعراف اور سورۂ یونس تا سورۃ المؤمنون (اس گروپ میں بھی سورۃ الحجر ایک ایسی سورت ہے جو ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی) کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں ان کے اندر polarization ہو گئی تھی۔ یعنی مکی دور کے آخری سالوں میں حضورﷺ کے بارے میں ان کے مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔

بَلِ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ فِی الۡعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الۡبَعِیۡدِ ﴿۸﴾

’’بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب میں اور دُور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔‘‘

دُنیا میں بھی ان کی جان ضیق (تنگی) میں آئی ہوئی ہے اور وہ بڑی دُور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں آخرت کا یقین ہوتا تو یہ بات جو ان کی سمجھ میں نہیں آ رہی‘ بڑی آسانی سے سمجھ میں آ جاتی۔

آیت 9

اَفَلَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے!‘‘

کیا یہ لوگ اس کائنات کا مشاہدہ نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور کیا یہ ان تاریخی شواہد و بصائر سے سبق حاصل نہیں کرتے جو ان کے پیچھے ہیں۔ گویایہاں اس چھوٹے سے فقرے میں ’’تذکیر بآلاء اللہ ‘‘کا حوالہ بھی آ گیا اور ’’تذکیر بایام اللہ ‘‘کا بھی۔

اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِہِمُ الۡاَرۡضَ

’’اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں‘‘

اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَیۡہِمۡ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ؕ

’’یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔‘‘

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ٪﴿۹﴾

’’یقینا اس میں نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والاہو۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے