اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ
’’ہم نے اس امانت کو پیش کیا آسمانوں پراور زمین پر اور پہاڑوں پر‘‘
فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا
’’تو ان سب نے انکار کر دیا اس کو اٹھانے سے اور وہ اس سے ڈر گئے ‘‘
وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ۷۲﴾
’’اور انسان نے اسے اٹھا لیا۔یقینا وہ بڑا ظالم اور بڑا نادان تھا۔‘‘
یعنی انسان نے ایک بھاری ذمہ داری قبول کر کے اپنے اوپر ظلم کیا اور بڑی نادانی کا ثبوت دیا۔ مذکورہ امانت کے بارے میں بہت سی آراء ہیں اور ہر رائے کے بارے میں مفسرین نے اپنے اپنے دلائل بھی دیے ہیں۔ یہاں ان تمام آراء کا ذکر کرنا اور ایک ایک کے بارے میں دلائل کا جائزہ لینا تو ممکن نہیں ‘البتہ اس حوالے سے میں اپنی رائے بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کے بارے میں مجھے پورا وثوق ہے۔ میرے نزدیک اللہ کی امانت سے مراد یہاں وہ ’’روح ‘‘ہے جو انسان کے حیوانی وجود میں اللہ تعالیٰ نے بطور خاص پھونک رکھی ہے۔ انسان کا مادی وجود عالم خلق کی چیز ہے‘جبکہ ’’روح‘‘ کا تعلق عالمِ امر سے ہے۔ (عالم خلق اور عالم امر کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو :سورۃ الاعراف ‘تشریح آیت ۵۴)۔ اللہ تعالیٰ نے عالم امر کی اس ’’امانت‘‘ کو عالم خلق کے مادی اور حیوانی وجود کے اندر رکھتے ہوئے اسے خاص اپنی طرف منسوب فرمایاہے: {وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ} (سورۃ الحجر:۲۹ اور سورۂ ص: ۷۲)۔ چنانچہ اسی روح کی بنا پر انسان مسجودِ ملائک ٹھہرا‘ اسی کے باعث اسے خلافت کا اعزاز ملا اور اسی کی وجہ سے انسان کا سینہ ’’مہبطِ وحی‘‘ بنا۔
وحی کا تعلق چونکہ عالم امر سے ہے اور وحی کا حامل فرشتہ بھی عالم امر کی مخلوق ہے‘ اس لحاظ سے انسان اپنے مادی وجود کے ساتھ فرشتے کے ذریعے وحی کو وصول کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ لہٰذایہ روح ہی ہے جس نے اسے نزولِ وحی کے تجربے کو برداشت کرنے کے قابل بنایا۔ جنات کے اندر چونکہ یہ روح نہیں ہے اس لیے وہ وحی کے حصول (reception) کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ جنات کے ہاں کوئی نبی نہیں آیا اور ان کے لیے نبوت کے حوالے سے انسانوں (انبیائ) کی پیروی لازم قرار پائی۔
اس نکتے کو مزید اس طرح سمجھئے کہ یہاں ’’ظَلُوْمًا جَہُوْلًا‘‘ کے الفاظ میں انسان کے حیوانی وجود کی اس کمزوری کا ذکر ہوا ہے جو اس کے اندر روح پھونکے جانے سے پہلے پائی جاتی تھی۔ اسی کمزوری کو سورۃ الانبیاء کی آیت ۳۷ میں {خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ } اور سورۃ النساء میں {وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾} کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ کمزوری بہر حال ’’نفخ روح ‘‘سے پہلے کے انسان میں تھی۔ لیکن روحِ ربانی کی امانت ودیعت ہو جانے کے بعد اس کا رتبہ اس قدر بلند ہوا کہ وہ مسجودِ ملائک بن گیا۔ انسانی تخلیق کے ان دونوںمراحل کا ذکر سورۃ التین میں یوں فرمایا گیا ہے: {لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾} ’’یقینا ہم نے پیدا کیا انسان کو بہترین شکل و صورت میں۔پھر ہم نے اس کو لوٹا دیا نچلوں میں سب سے نیچے۔‘‘یعنی جب ارواح کی صورت میں انسانوں کو پیدا کیا گیا تو وہ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ کے مرتبے کی مخلوق تھی‘ مگر جب اسے دنیا میں بھیجا گیا تو یہ اپنے جسدِ حیوانی کی کمزوریوں کے سبب جنات سے بھی نیچے چلا گیا۔
بہر حال میرے نزدیک یہاں جس امانت کا ذکر ہوا ہے وہ انسان کی روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے جسد خاکی میں رکھی گئی ہے اور یہی وہ امانت ہے جس کی بنا پر اس کا احتساب ہو گا۔جس انسان نے اس امانت کا حق ادا کیا وہ آخرت میں: {فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾} (الواقعہ) سے نوازا جائے گا۔ یعنی اس کے لیے راحت اور خوشبو اور نعمتوں کے باغ کی ضیافت ہو گی۔ اس کے برعکس جو کوئی حیوانی خواہشات و داعیات کا اتباع کرتا رہا اور یوں اس امانت میں خیانت کا مرتکب ہوا وہ گویا حیوان ہی بن کر رہ گیا۔ چنانچہ اس کو وہاں {فَنُزُلٌ مِّنۡ حَمِیۡمٍ ﴿ۙ۹۳﴾وَّ تَصۡلِیَۃُ جَحِیۡمٍ ﴿۹۴﴾} (الواقعہ) کے انجام سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یعنی آخرت میں کھولتے پانی کی مہمانی اور جہنم کے عذاب کی زندگی اس کی منتظر ہو گی۔
لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ الۡمُشۡرِکٰتِ
’’تا کہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو‘‘
وَ یَتُوۡبَ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ
’’اور اللہ رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں پر۔‘‘
آیت کے الفاظ میں ’’توبہ قبول فرمائے‘‘ یا ’’توبہ کی توفیق عطا فرمائے‘‘ کا مفہوم بھی موجود ہے۔
وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۷۳﴾
’’اور یقینا اللہ بہت بخشنے والا ‘نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
سورۃ الاحزاب مکی مدنی سورتوں کے چوتھے گروپ کی آخری سورت ہے۔ اس گروپ میں آٹھ مکیات (سورۃ الفرقان‘سورۃ الشعراء‘سورۃ النمل‘سورۃ القصص‘سورۃ العنکبوت‘سورۃ الروم‘سورۂ لقمان ‘سورۃ السجدۃ) اور ایک مدنی سورت (سورۃ الاحزاب) شامل تھی۔ اس کے بعد مکی مدنی سورتوں کا پانچواں گروپ ۱۳ مکی اور تین مدنی سورتوں پر مشتمل ہے۔ یہاں پر ضمنی طور پر مدنی سورتوں کی موجودہ ترتیب اور ترتیب نزولی کے بارے میں چند معلومات بھی نوٹ کر لیں۔ مصحف کی ترتیب میں سورۃ البقرۃ سے لے کر سورۃ الاحزاب تک تمام مدنی سورتیں طویل ہیں ۔ لیکن سورۃ الاحزاب کے بعد اکثر مدنی سورتیں ۲ رکوعوں پر مشتمل ہیں یا زیادہ سے زیادہ کسی کے چار رکوع ہیں۔اب تک پڑھی جانے والی مدنی سورتوں کی ترتیب نزولی اس طرح ہے: پہلے سورۃ البقرۃ‘پھر سورۃ الانفال‘ پھر سورۂ آل عمران‘پھر سورۃ النساء‘پھر سورۃ الاحزاب ‘پھر سورۃ النور اور آخر میں سورۃ المائدۃ ۔ جبکہ چھوٹی مدنی سورتیں مذکورہ طویل سورتوں کے بین بین میں نازل ہوتی رہی ہیں۔ جیسے سورۃ الصف سورۃ الاحزاب کے متصلاً بعد نازل ہوئی اور سورۂ محمدؐ سورۃ البقرۃ کے فوراً بعد‘لیکن غزوۂ بدر سے پہلے نازل ہوئی۔
٭٭٭