تحریر

الأحزاب

آیات ۳۷ تا ۴۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

37-39

منہ بولے بیٹے کی بیوی، بہو نہیں ہے

ویڈیو

وَ اِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِ اَمۡسِکۡ عَلَیۡکَ زَوۡجَکَ وَ اتَّقِ اللّٰہَ وَ تُخۡفِیۡ فِیۡ نَفۡسِکَ مَا اللّٰہُ مُبۡدِیۡہِ وَ تَخۡشَی النَّاسَ ۚ وَ اللّٰہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰہُ ؕ فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنۡہَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰکَہَا لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِیَآئِہِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡہُنَّ وَطَرًا ؕ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا ﴿۳۷﴾ مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنۡ حَرَجٍ فِیۡمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ؕ سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَۨا ﴿۫ۙ۳۸﴾ الَّذِیۡنَ یُبَلِّغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخۡشَوۡنَہٗ وَ لَا یَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیۡبًا ﴿۳۹﴾

آیت 37

وَ اِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِیۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِ اَمۡسِکۡ عَلَیۡکَ زَوۡجَکَ وَ اتَّقِ اللّٰہَ

’’اور (اے نبیﷺ!) جب آپ کہتے تھے اُس شخص سے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپ نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو‘‘

اس سے مراد حضرت زیدؓ ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ اور نبی اکرمﷺ کا انعام و احسان یہ تھا کہ وہ گردشِ زمانہ سے اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے تھے اور آپؐ کے گھر میں گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے رہے تھے۔ ان کے والد حارثہ بن شراحیل کا تعلق قبیلۂ کلب سے تھا۔ حضرت زیدؓ جب آٹھ سال کے بچے تھے تو اپنی ماں کے ساتھ اپنے ننھیال گئے۔ ان کے قافلے پر دشمن قبیلے نے حملہ کر دیا اور لوٹ مار کے ساتھ جن آدمیوں کو پکڑ کر لے گئے ان میں یہ بھی تھے۔ پھر انہوں نے عکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ خریدنے والے حکیم بن حزام تھے‘ جنہوں نے ان کو اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب نبی اکرمﷺ کے ساتھ حضرت خدیجہؓ کا نکاح ہوا تو یہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اُس وقت ان کی عمر ۱۵ برس تھی۔ کچھ مدت کے بعد حضرت زیدؓ کے والد اور چچا ان کو تلاش کرتے ہوئے حضورﷺ تک پہنچے اور عرض کیا کہ آپ جو فدیہ چاہیں ہم دینے کو تیار ہیں‘ آپ ہمارا بچہ ہمیں دے دیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں لڑکے کو بلاتا ہوں اور اس کی مرضی پر چھوڑے دیتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے یا میرے پاس رہنا چاہتا ہے۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جاناچاہے گا تو میں کوئی فدیہ نہیں لوں گا اور اسے جانے دوں گا‘ لیکن اگر وہ میرے پاس رہنا چاہے تو میں اسے زبردستی آپ کے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ وہ دونوں حضرات بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ تو آپ نے عدل و انصاف سے بھی بڑھ کر درست بات کی ہے۔ حضورﷺنے زیدؓ کو بلایا اور ان سے کہا کہ ان دونوں صاحبوں کو جانتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا :جی ہاں‘ یہ میرے والد اور میرے چچا ہیں۔ آپؐ نے فرمایا:اچھا‘ تم ان کو بھی جانتے ہو اور مجھے بھی۔ اب تمہیں پوری آزادی ہے کہ چاہو تو ان کے ساتھ چلے جاؤ اور چاہو تو میرے ساتھ رہو۔ زیدؓ نے جواب میں کہا کہ میں آپ کو چھوڑ کر کسی کے پاس نہیں جانا چاہتا۔ ان کے باپ اور چچا نے ساتھ چلنے پر اصرار کیا اور کہا کہ کیا تو آزادی پر غلامی کو ترجیح دیتا ہے؟ لیکن حضرت زیدؓ کسی طرح بھی حضورﷺ کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ حضورﷺ نے اسی وقت زیدؓ کو آزادکر دیا اور حرم میں جا کر قریش کے مجمع عام میں اعلان فرمایا کہ آپ سب لوگ گواہ رہیں‘ آج سے زید میرا بیٹا ہے۔ چنانچہ اس روز سے انہیں زید بن محمدؐ پکارا جانے لگا۔ یہ سب واقعات نبوت سے پہلے کے ہیں۔ نزولِ وحی کے بعد جب نبی اکرمﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا تو چار ہستیاں ایسی تھیں جنہوں نے ایک لمحہ شک و تردد کے بغیر آپؐ کے دعوائے نبوت کی تصدیق کی۔ ایک حضرت خدیجہ‘ دوسرے حضرت زید‘ تیسرے حضرت علی اور چوتھے حضرت ابوبکر صدیق رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ اُس وقت حضرت زیدؓ کی عمر ۳۰ سال تھی اور ان کو حضورﷺ کی خدمت میں رہتے ہوئے ۱۵ برس بیت چکے تھے۔ ہجرت کے بعد ۴ھ میں حضورﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینبؓ سے ان کا نکاح کر دیا۔ اپنی طرف سے ان کا مہر ادا کیا اور گھر بسانے کے لیے ان کو ضروری سامان عنایت فرمایا۔ یہی حالات ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ’’جس پر اللہ نے بھی انعام کیا تھا اور آپؐ نے بھی انعام کیا تھا۔‘‘ (ماخوذ از تفہیم القرآن -- اضافہ از مرتب)

وَ تُخۡفِیۡ فِیۡ نَفۡسِکَ مَا اللّٰہُ مُبۡدِیۡہِ

’’اور آپؐ اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھے وہ بات جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا ‘‘

وَ تَخۡشَی النَّاسَ ۚ وَ اللّٰہُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰہُ ؕ

’’اور آپؐ لوگوں سے ڈر رہے تھے ‘حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپؐ اس سے ڈریں۔‘‘

نبی اکرمﷺ محسوس فرما رہے تھے کہ اگر زیدؓ نے طلاق دے دی تو مجھے خود زینبؓ سے نکاح کرنا پڑے گا‘ لیکن ساتھ ہی آپؐ کو مخالفین کی طرف سے منفی پراپیگنڈے کا خدشہ بھی تھا۔ اگرچہ اس سورت کی ابتدائی آیات میں منہ بولے بیٹے کی شرعی اور قانونی حیثیت واضح فرما دی گئی تھی اور متعلقہ آیات کے نزول کے بعد لوگ انہیں زیدؓ بن محمدﷺ کے بجائے زیدؓ بن حارثہ کہنے لگے تھے ‘لیکن پھر بھی اندیشہ تھا کہ منافقین اس مسئلے کو بہانہ بنا کر حضورﷺ کے خلاف واویلا کریں گے۔

فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنۡہَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰکَہَا

’’پس جب زیدؓ نے اس سے اپنا تعلق منقطع کر لیا تو اسے ہم نے آپ ؐکی زوجیت میں دے دیا‘‘

یعنی جب حضرت زید رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی اور عدت بھی پوری ہو گئی تو ہم نے اس کا نکاح آپؐ سے کر دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ سے حضرت زینبؓ کے نکاح کی نسبت خصوصی طور پر اپنی طرف فرمائی ۔ کلام اللہ کا یہ اندازِ بیاں حضرت زینبؓ کے لیے یقینا ایک بہت بڑا عزاز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا ان الفاظ پر فخر کرتے ہوئے دوسری ازواجِ مطہراتؓ سے کہا کرتی تھیں کہ آپ سب لوگوں کے نکاح زمین پر ہوئے جبکہ میرا نکاح آسمانوں پر ہوا اور اللہ نے خود میرا نکاح پڑھایا۔کلام اللہ کے ان الفاظ سے یہ صراحت بھی ہوتی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے یہ نکاح خود اپنی خواہش کی بنا پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر کیا تھا۔

لِکَیۡ لَا یَکُوۡنَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ حَرَجٌ فِیۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِیَآئِہِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡہُنَّ وَطَرًا ؕ

’’تاکہ مؤمنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق بالکل کاٹ لیں۔‘‘

یعنی حضورﷺ کے اس نکاح کے ذریعے عرب معاشرے سے جاہلیت کی اس رسم کا خاتمہ بھی ہو جائے اور قیامت تک کے لیے ایک قانون بھی وضع ہو جائے تا کہ آئندہ منہ بولے بیٹے کی بیوہ یا مطلقہ کے معاملے کو ’’محرماتِ ابدیہ ‘‘کے ساتھ گڈ مڈ نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ محرماتِ ابدیہ کی فہرست سورۃ النساء آیت ۲۳ اور ۲۴ میں دی گئی ہے۔

وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ مَفۡعُوۡلًا ﴿۳۷﴾

’’اور اللہ کا فیصلہ تو پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔‘‘

اس سارے معاملے میں یہی حکمت اور مصلحت پوشیدہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس فضول رسم کا خاتمہ حضورﷺ کے ذاتی عمل سے کرنا چاہتا تھا۔ بعض نظریات اور خیالات معاشرے میں اس قدر پختہ اور گہرے ہوچکے ہوتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی عمل یا بات لوگ آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ متبنی کی بیوہ یا مطلقہ کے ساتھ منہ بولے باپ کے نکاح کے بارے میں عرب معاشرے کے اندر مروّجہ خود ساختہ قانو ن بھی اسی زمرے میں آتا تھا۔ اس لیے اس قانون یا روایت کو خود حضورﷺ کی ذاتی مثال کے ذریعے سے توڑنا مناسب خیال کیا گیا۔ چنانچہ آپؐ کے حضرت زینب رضی اللہ عنہاسے نکاح کے بعد اس مسئلے میں کسی قسم کا ابہام یا شک باقی نہ رہا۔

آیت 38

مَا کَانَ عَلَی النَّبِیِّ مِنۡ حَرَجٍ فِیۡمَا فَرَضَ اللّٰہُ لَہٗ ؕ

’’نبیؐ پر کوئی مضائقہ نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے فرض کر دی ہے۔‘‘

سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ

’’ اللہ کا یہی طریقہ رہا ہے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو پہلے گزر چکے ہیں۔‘‘

تمام نبیوں اور رسولوں علیہم السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہی طریقہ رہا ہے کہ جو چیز اُن پر فرض کر دی جاتی تھی اس پر انہیں عمل کرنا ہوتا تھا۔

وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَۨا ﴿۫ۙ۳۸﴾

’’اور اللہ کا فیصلہ قطعی طے شدہ تھا۔‘‘

یہ سارا معاملہ اللہ کی مشیت میں پہلے سے طے ہو چکا تھا اور اس فیصلے کی تنفیذ کے لیے وقت مقر ر کیا جا چکا تھا۔

آیت 39

الَّذِیۡنَ یُبَلِّغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخۡشَوۡنَہٗ

’’وہ (اللہ کے رسولؐ ) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور صرف اُسی سے ڈرتے ہیں‘‘

یعنی سابقہ انبیاء و رسل علیہم السلام بھی اللہ تعالیٰ کے پیغامات کی بلاخوفِ لومۃ لائم تبلیغ کرتے رہے ہیں اور اس معاملے میں انہوں نے کسی کی پروا نہیں کی۔

وَ لَا یَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیۡبًا ﴿۳۹﴾

’’اور وہ نہیں ڈرتے کسی سے سوائے اللہ کے ۔اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔‘‘

40

حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں

ویڈیو

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾

آیت 40

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ

’’(دیکھو!)محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘‘

یہاں ایک دوسرے انداز میں واضح کر دیا گیا کہ محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ زیدؓ بن حارثہ محض آپؐ کے منہ بولے بیٹے تھے۔ اب جبکہ اس ضمن میں ایک واضح حکم نازل ہو چکا ہے تو یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے صاف ہو جانا چاہیے۔

حضورﷺ کے ہاں جو نرینہ اولاد ہوئی اسے اللہ تعالیٰ نے بچپن میں ہی اٹھا لیا۔ آپؐ کی آخری عمر میں حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی لیکن وہ بھی بچپن ہی میں فوت ہو گئے۔آپؐ کو اپنے بیٹے ابراہیمؓ سے بہت محبت تھی۔ ان کی وفات سے حضورﷺ کو بہت تکلیف پہنچی‘ جس کا اظہار آپؐ کے اس فرمان سے ہوتا ہے: یا ابراہیم انا بِفِراقِک لمحزونون ’’ اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی میں بہت رنجیدہ ہیں۔‘‘

یہ عجیب اتفاق ہے کہ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت ہاجرہؑ کا تعلق بھی مصرسے تھا جن کے بطن سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے حضورﷺ کا تعلق ہے اور حضورؐ نے اپنے اس بیٹے کا نام ابراہیمؓ رکھا جو مصر سے تعلق رکھنے والی حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہاکے بطن سے تھا۔

وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ

’’بلکہ آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔‘‘

محمدﷺ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔آپؐ کی آمد سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگ گئی‘ اب آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے۔ چنانچہ جاہلیت کی غلط رسومات اگر آپؐ ختم نہ کرتے تو آپؐ کے بعد پھر اور کون انہیں ختم کرتا؟ اگر آپؐ ذاتی مثال قائم کرتے ہوئے اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح نہ کرتے تو یہ رسم اس طرح حتمی انداز میں ختم نہ ہوتی۔

یہاں اس آیت کے حوالے سے رسالت اور نبوت میں لطیف فرق کو بھی سمجھ لیجیے ۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ نبوت آپؐ پر ختم ہو گئی‘ لیکن آپﷺ کی رسالت اب بھی قائم و دائم ہے اور تا قیام قیامت قائم و دائم رہے گی۔ اپنی حیات مبارکہ میں آپؐ براہِ راست بنفس نفیس رسالت کے فرائض سر انجام دے رہے تھے مگر اب آپؐ کے امتی آپؐ کی طرف سے یہ فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ چنانچہ آج دین کے جو خدام قرآن کا پیغام خلقِ خدا تک پہنچا رہے ہیں وہ گویا رسالتِ محمدیؐ ہی کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔سورۃ الانعام کی آیت ۱۹ کے یہ الفاظ گویا اسی صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں: {وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ } ’’اور میری جانب یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تا کہ میں تمہیں خبردار کر دوں اس کے ذریعے سے اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچ جائے‘‘ ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضورﷺ نے اپنی رسالت کی ترویج و اشاعت کا یہ فریضہ امت کو سونپتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا: حدیث((فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ))’’اب پہنچائیں وہ جو موجود ہیں ان تک جو موجود نہیں ہیں‘‘۔ لہٰذا محمد رسول اللہﷺ کی رسالت آپؐ کی اُمت کے ذریعے سے مسلسل قائم و دائم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ’’خاتم‘‘ کا جو لفظ آیا ہے وہ رسالت کے لیے نہیں بلکہ نبوت کے لیے آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ہی آپؐ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا وحی کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی نبوت کا دروازہ بھی بند ہو گیا۔ گویا نبوتِ محمدیؐ اس دنیا میں حضورﷺ کی ذات کے ساتھ قائم تھی اور آپؐ کے وصال کے ساتھ ختم ہو گئی ‘لیکن رسالتِ محمدؐ ی قیامت تک قائم رہے گی۔

وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿٪۴۰﴾

’’اور یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘

41-44

اللہ کا خوب ذکر کرو

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا﴿ۙ۴۱﴾ وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۴۲﴾ ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ کَانَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿۴۳﴾ تَحِیَّتُہُمۡ یَوۡمَ یَلۡقَوۡنَہٗ سَلٰمٌ ۖۚ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ اَجۡرًا کَرِیۡمًا ﴿۴۴﴾

آیت 41

یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اذۡکُرُوا اللّٰہَ ذِکۡرًا کَثِیۡرًا﴿ۙ۴۱﴾

’’اے اہل ایمان!اللہ کا ذکر کیا کرو کثرت کے ساتھ۔‘‘

مراد یہ ہے کہ انسان ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کو یاد رکھے اور ایک پنجابی کہاوت ’’ہتھ کاروَل‘دل یار وَل‘‘ کے مصداق اپنے روز مرہ معمولاتِ زندگی کے دوران بھی ہر گھڑی‘ہر قدم پر اللہ کی یاد اس کے دل میں مستحضر رہے۔ عملی طور پر ’’ذکر کثیر ‘‘کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم مسنون دعائوں کو یاد کر کے انہیں اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں۔ حضورﷺ نے ہمیں ہر کیفیت اور ہر موقع محل کے لیے دعائیں تعلیم فرمائی ہیں۔ مثلاً گھر میں داخل ہونے کی دعا‘گھر سے باہر نکلنے کی دعا‘بازار میں داخل ہونے اور باہر جانے کی دعا‘بیت الخلاء میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کی دعا۔ اگر ہم ان مسنون دعائوں کو اپنے معمولات میں شامل کر لیں تو کوئی اضافی وقت صرف کیے بغیر اپنے کام کاج کے دوران بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مسلسل اپنا تعلق قائم رکھ سکتے ہیں۔ نمازِ پنجگانہ بھی اللہ کے ذکر کی بہترین صورت ہے۔ البتہ بندۂ مؤمن کے لیے اللہ کا سب سے اعلیٰ ذکر قرآن کریم کی تلاوت ہے‘ جیسا کہ سورۃ العنکبوت کی اس آیت میں ارشاد فرمایا گیاہے: {اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ ﴿۴۵﴾} ’’تلاوت کرتے رہا کریں اس کی جو وحی کی گئی ہے آپؐ کی طرف کتاب میں سے اور نماز قائم کریں۔یقینا نماز روکتی ہے بے حیائی سے اور برے کاموں سے۔اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو۔‘‘

آیت 42

وَّ سَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًا ﴿۴۲﴾

’’اور صبح وشام اُس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘

آیت 43

ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ

’’وہی ہے جو رحمتیں بھیجتا رہتا ہے تم پر اور اس کے فرشتے بھی‘تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔‘‘

یہاں پر اہل ایمان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہونے کے حوالے سے وہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو اسی سورت کی آیت ۵۶ میں نبی اکرم ﷺ کے لیے آئے ہیں۔ وہاں فرمایا گیا: {اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ }’’ یقینا اللہ اور اس کے فرشتے رحمتیں بھیجتے ہیں نبی (ﷺ) پر‘‘۔بہر حال یہ آیت مؤمنین کے حق میں ایک بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ کی رحمتوں اور عنایتوں میں سے ہر اہل ایمان کو بھی حصہ عطا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی اہل ایمان کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔

وَ کَانَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿۴۳﴾

’’اور اہل ایمان کے حق میں وہ بہت مہربان ہے۔‘‘

آیت 44

تَحِیَّتُہُمۡ یَوۡمَ یَلۡقَوۡنَہٗ سَلٰمٌ ۖۚ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ اَجۡرًا کَرِیۡمًا ﴿۴۴﴾

’’جس دن وہ اُس سے ملیں گے تو ان کی دعا ’’سلام‘‘ ہو گی‘ اور اُس نے تیار کر رکھا ہے ان کے لیے بہت با عزت اجر۔‘‘

45-46

نبی اکرم ﷺ کی خصوصی شان

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾ وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾

آیت 45

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾

’’اے نبیؐ !یقینا ہم نے بھیجا ہے آپ کو گواہ بنا کر اور بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا۔‘‘

اس آیت کے الفاظ نبوت اور رسالت کے درمیان ربط و تعلق کو بھی واضح کر رہے ہیں۔نبوت اور رسالت کے تعلق یا فرق کو کسی شخص کے کسی محکمے کے لیے منتخب ہونے اور پھر اس محکمے کے اندر کسی مخصوص منصب پر اس کے ’’تقرر ‘‘کی مثال سے سمجھنا چاہیے۔مثلاً جولوگ مقابلے کے امتحان میں کامیاب قرار پاتے ہیں وہ سی ایس پی کیڈر (cadre) کے لیے منتخب ہو جاتے ہیں۔ لیکن محض اس کیڈر میں منتخب ہوجانے سے ان میں سے کسی کو نہ تو کوئی اختیار ملتا ہے اور نہ ہی کسی پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ لیکن جب ان میں سے کسی کا کسی منصب یا عہدے پر تقرر کر دیا جاتا ہے ‘مثلاً کسی جگہ ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے تعینات کر دیا جاتا ہے‘ تو اس منصب کے اختیارات بھی اسے حاصل ہو جاتے ہیں اور اس سے متعلقہ ذمہ داریاں بھی اس کے کندھوں پر آ جاتی ہیں۔اس مثال کے حوالے سے یوں سمجھئے کہ نبوت ایک ’’کیڈر ‘‘ ہے‘جبکہ رسالت ایک خصوصی’’تقرر‘‘ ۔ یعنی نسلِ انسانی میں سے جو لوگ نبوت کے لیے منتخب ہوئے وہ سب انبیاء قرار پائے۔ لیکن جب ان میں سے کسی نبی کو کسی خاص قوم کی طرف بھیجا گیا تو انہیں رسالت مل گئی اور اس ’’تقرر‘‘ کے بعد وہ رسو ل بن گئے۔

اسی اصول کے تحت حضورﷺ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ آپؐ کی نبوت کا ظہور پہلی وحی کے ساتھ ہوا‘ جبکہ آپؐ کی رسالت کا آغاز اس وقت ہوا جب آپؐ کو باقاعدہ تبلیغ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پہلی وحی ان آیات پر مشتمل تھی: {اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ﴿۱﴾خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ﴿۲﴾اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ ۙ﴿۳﴾الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ﴿۴﴾عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ﴿۵﴾} ’’پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پید اکیا۔اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے۔پڑھئے اور آپؐ کا رب بہت کریم ہے۔ وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے۔ اس نے سکھایا انسان کو وہ کچھ جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘

ان پانچ آیات کے اندر نہ تو آپؐ کو تبلیغ کا کوئی حکم دیا گیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اورذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس لیے بجا طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ اس وحی کے ذریعے صرف آپؐ کی نبوت کا ظہور ہوا تھا‘جبکہ آپؐ کی رسالت کا آغاز اس وحی سے ہوا: {یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿ۙ۳﴾} (المدثر) ’ ’اے چادر میں لپٹنے والے! اٹھئے اور خبردار کیجیے ‘اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجیے‘‘۔ان آیات میں گویا آپؐ کو لوگوں تک پیغام پہنچانے کا واضح حکم دے کر باقاعدہ ’’رسالت‘‘ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ چنانچہ زیر مطالعہ آیت میں حضورﷺ کو ’’نبی‘‘ کی حیثیت سے مخاطب کر کے منصبِ رسالت عطا کرنے کے ذکر (یٰٓـاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ) سے جہاں نبوت اور رسالت کا فرق واضح ہو جاتاہے وہاں اس نکتے کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ پہلے آپؐ کو نبوت عطا ہوئی اور بعد میں رسالت۔

آیت میں رسالت کے حوالے سے حضورﷺ کی جن تین ذمہ داریوں (شہادت علی الناس‘تبشیراور انذار) کا ذکر کیا گیاہے ان کی وضاحت قرآن کی بہت سی دوسری آیات میں بھی ملتی ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۴۳ میں آپؐ کی ’’شہادت‘‘ کی ذمہ داری کے حوالے سے یوں فرمایا گیا: {وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنٰکُمۡ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمۡ شَہِیۡدًا ؕ } ’’اور(اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمتِ وسط بنایا ہے تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پر گواہ ہو‘‘ ۔سورۃ الحج کی آخری آیت میں بھی یہ مضمون ان ہی الفاظ میں آیا ہے ‘البتہ الفاظ کی ترتیب ذرا مختلف ہے: {لِیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ شَہِیۡدًا عَلَیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ۚۖ} ’’تا کہ پیغمبر تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ ہو۔‘‘ اسی طرح تبشیر اور انذار کے حوالے سے بھی قرآن میں بہت سی آیات آئی ہیں‘صیغہ واحد میں بھی اور جمع کے صیغہ میں بھی۔

آیت 46

وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶﴾

’’اوراللہ کی طرف بلانے والا اُس کے حکم سے اور ایک روشن چراغ بنا کر۔‘‘

یہاں پر بِـاِذْنِہٖ کا لفظ خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے ’’مامور من اللہ ‘‘ہو کر آتا ہے ۔ ویسے تو اللہ کا جو بندہ بھی لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا ہے وہ داعی الی اللہ ہے‘ لیکن ایک عام داعی اور ایک رسول کی دعوت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق اس مثال سے سمجھئے کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا ہر شہری کا فرض ہے۔ یہ گویا اصولِ شہریت ہے اورعام طور پر گلی محلے میں ایک دوسرے کو اس کی تلقین بھی کی جاتی ہے‘ اجتماعی طور پر بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ماحول صاف رہے اور آلودگی نہ پھیلے‘ اور اس کوشش کے اثرات معاشرے کے اندر کسی نہ کسی حد تک نظر بھی آتے ہیں ۔ لیکن ان تمام کوششوں کا مقابلہ یا موازنہ اس محکمے کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا جسے حکومت کی طرف سے خصوصی اختیارات کے ساتھ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہو ‘ اس محکمے کے چھوٹے بڑے کارندے اسی کام پر مامور ہوں اور اسی کام کی تنخواہ لیتے ہوں۔ اسی طرح سے ملک کے دفاع کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ہر شہر ی کا فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق خود کو دفاعِ وطن کے لیے تیار رکھے‘لیکن اس فرض کی ادائیگی کے لیے جب باقاعدہ ایک فوج تیار کی جاتی ہے تو اس کی ذمہ داری کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ چنانچہ اس پہلو سے زیر مطالعہ آیت میں بِاِذْنِہٖ کے لفظ سے رسالت کے فرضِ منصبی کی اہمیت کو خصوصی طور پر اجاگر کیاگیا ہے کہ اے نبی (ﷺ) آپ کوئی عام داعی نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کام کے لیے خصوصی طور پر مامور کر کے بھیجا ہے۔

47-48

نبی ﷺ کا معاملہ بندوں کے ساتھ ہے

ویڈیو

وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَضۡلًا کَبِیۡرًا ﴿۴۷﴾ وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۴۸﴾

آیت 47

وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَضۡلًا کَبِیۡرًا ﴿۴۷﴾

’’اور آپؐ اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔‘‘

آیت 48

وَ لَا تُطِعِ الۡکٰفِرِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ دَعۡ اَذٰىہُمۡ وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ

’’اور آپؐ ان کافروں اور منافقوں کی باتوں کا دھیان نہ کریں اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کر دیں اور اللہ پر توکل کریں ۔‘‘

وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیۡلًا ﴿۴۸﴾

’’ اور اللہ کافی ہے (آپؐ کے لیے) مددگار کے طور پر۔‘‘

یہ لوگ جو چاہیں منصوبے بنا لیں اور جس قدر چاہیں آپؐ کے خلاف کوششیں کر لیں ‘یہ آپؐ کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے۔

49

رخصتی سے پہلے طلاق کے بارے میں حکم

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَکَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ فَمَا لَکُمۡ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ عِدَّۃٍ تَعۡتَدُّوۡنَہَا ۚ فَمَتِّعُوۡہُنَّ وَ سَرِّحُوۡہُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۴۹﴾

آیت 49

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَکَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡہُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡہُنَّ

’’اے اہل ایمان! جب تم مؤمن خواتین سے نکاح کرو‘پھر انہیں طلاق دے دوقبل اس کے کہ انہیں چھوؤ‘‘

اس سے پہلے سورۃ البقرۃ کی آیات ۲۳۶ اور ۲۳۷ میں قبل از خلوت طلاق کی صورت میں مہر سے متعلق ہدایات ہم پڑھ چکے ہیں۔ مذکورہ آیات کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مہر مقرر نہ ہوا ہو اور خلوت سے قبل ہی شوہر اپنی منکوحہ کو طلاق دے دے تو ایسی صورت میں وہ اسے کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کرے۔اور اگر مہر مقرر ہوچکا ہو اور قبل از خلوت طلاق کی نوبت آ جائے تو اس صورت میں مرد کے لیے آدھے مہر کی ادائیگی لازمی ہو گی۔ اب اس آیت میں قبل از خلوت طلاق کی صورت میںِ عدت کے مسئلے کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

فَمَا لَکُمۡ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ عِدَّۃٍ تَعۡتَدُّوۡنَہَا ۚ

’’تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کی تم انہیں گنتی پوری کرائو۔‘‘

عدت کا مقصد تو یہ ہے کہ سابق شوہر سے حمل کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق ہو جائے۔ چنانچہ جب خلوتِ صحیحہ کی نوبت ہی نہیں آئی اور حمل ہونے کا کوئی امکان ہی پیدا نہیںہوا تو عدت کی ضرورت بھی نہیں رہی۔

فَمَتِّعُوۡہُنَّ وَ سَرِّحُوۡہُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۴۹﴾

’’پس انہیں کچھ دے دلا کر بڑی خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دو۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے