تحریر

الأحزاب

آیات ۵۰ تا ۵۲

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

50-52

نبی اکرم ﷺ کے لیے خصوصی معاشرتی احکامات

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَکَ اَزۡوَاجَکَ الّٰتِیۡۤ اٰتَیۡتَ اُجُوۡرَہُنَّ وَ مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیۡ ہَاجَرۡنَ مَعَکَ ۫ وَ امۡرَاَۃً مُّؤۡمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتۡ نَفۡسَہَا لِلنَّبِیِّ اِنۡ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنۡ یَّسۡتَنۡکِحَہَا ٭ خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡۤ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ لِکَیۡلَا یَکُوۡنَ عَلَیۡکَ حَرَجٌ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۰﴾ تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ وَ مَنِ ابۡتَغَیۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ تَقَرَّ اَعۡیُنُہُنَّ وَ لَا یَحۡزَنَّ وَ یَرۡضَیۡنَ بِمَاۤ اٰتَیۡتَہُنَّ کُلُّہُنَّ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَلِیۡمًا ﴿۵۱﴾ لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲﴾

آیت 50

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَکَ اَزۡوَاجَکَ الّٰتِیۡۤ اٰتَیۡتَ اُجُوۡرَہُنَّ

’’اے نبی(ﷺ) !ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں‘‘

وَ مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ

’’اور (ان کو بھی) جو آپؐ کی ملک یمین (باندیاں) ہیں‘ان سے جو اللہ نے آپؐ کو بطورِ ’فے‘ عطا کیں‘‘

جیسے مصر کے فرمانروا مقوقس نے حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو آپؐ کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا تھا۔

وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَالِکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ

’’(اسی طرح آپؐ کو نکاح کرنا جائز ہے) اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے‘اور اپنی ماموؤں کی بیٹیوں اور اپنی خالاؤں کی بیٹیوں سے‘‘

الّٰتِیۡ ہَاجَرۡنَ مَعَکَ ۫

’’جنہوں نے آپؐ کے ساتھ ہجرت کی۔‘‘

وَ امۡرَاَۃً مُّؤۡمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتۡ نَفۡسَہَا لِلنَّبِیِّ

’’اور وہ مؤمن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبیؐ کے لیے ‘‘

اِنۡ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنۡ یَّسۡتَنۡکِحَہَا ٭

’’اگر نبیؐ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔‘‘

یعنی وہ مسلمان خاتون جو مہر کا تقاضا کیے بغیر خود کو آپؐ کی زوجیت کے لیے پیش کرے اور آپؐ اسے قبول فرمائیں۔

خَالِصَۃً لَّکَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ

’’یہ (رعایت) خالص آپؐ کے لیے ہے‘ مؤمنین سے علیحدہ۔‘‘

اس سلسلے میں نبی مکرمﷺ کوعام قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔

قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَیۡہِمۡ فِیۡۤ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ

’’ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان (عام مسلمانوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے‘‘

ایک عام مسلمان ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ اسی طرح باندیوں کے بارے میں بھی ان پر طے شدہ قواعد و ضوابط کی پابندی لازم ہے۔

لِکَیۡلَا یَکُوۡنَ عَلَیۡکَ حَرَجٌ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۵۰﴾

’’تا کہ آپؐ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا ‘نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

اس موضوع کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ حضورﷺ کے متعدد نکاح کرنے میں بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کا عمل دخل تھا۔ مثلاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اٹھارہ سال کی عمر میں بیوہ ہو گئیں اور اس کے بعد آپؓ ایک طویل مدت تک خواتین اُِمت کے لیے ایک معلمہ کا کردار ادا کرتی رہیں۔ اسی طرح حضورﷺنے بہت سے ایسے نکاح بھی کیے جن کی وجہ سے متعلقہ قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئے اور اس طرح اسلامی حکومت او رریاست کو تقویت ملی۔یہ مصلحتیں اس بات کی متقاضی تھیں کہ حضورﷺ کے لیے نکاح کے معاملے میں کوئی تنگی باقی نہ رکھی جائے‘ تاکہ جو عظیم کام آپؐ کے سپرد کیا گیا تھا اس کی ضروریات کے لحاظ سے آپ جتنے نکاح کرنا چاہیں کر لیں۔

آیت 51

تُرۡجِیۡ مَنۡ تَشَآءُ مِنۡہُنَّ وَ تُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ ؕ

’’آپؐ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔‘‘

یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؐ کو خصوصی اجازت دے دی گئی کہ آپؐ کے لیے تمام ازواجِ مطہراتؓ کے درمیان مساوات کا برتاؤ اور برابری کا سلوک کرنا ضروری نہیں۔ آپؐ کو اجازت تھی کہ آپؐ چاہیں تو کسی زوجہ محترمہ کے پاس زیادہ دیر ٹھہریں اور چاہیں تو کسی کو نسبتاً کم وقت دیں۔

وَ مَنِ ابۡتَغَیۡتَ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکَ ؕ

’’اور جن کو آپؐ نے دو ر کر دیا تھا‘ان میں سے کسی کو (دوبارہ قریب کرنا) چاہیں تو بھی آپؐ پر کوئی حرج نہیں۔‘‘

ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ تَقَرَّ اَعۡیُنُہُنَّ وَ لَا یَحۡزَنَّ وَ یَرۡضَیۡنَ بِمَاۤ اٰتَیۡتَہُنَّ کُلُّہُنَّ ؕ

’’یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب راضی رہیں اس پر جو بھی آپ انہیں دیں۔‘‘

یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپؐ کی ازواج مطہراتؓ آپؐ کی طرف سے کسی چیز یا کسی سلوک کو اپنا حق نہ سمجھیں اور آپؐ انہیں جو کچھ بھی عطا فرمائیں اسے آپؐ کی عنایت سمجھتے ہوئے خوشی خوشی قبول کر لیں۔ اگرچہ اس حکم کے بعد حضورﷺ پر ازواج کے مابین مساوات کا برتاؤ واجب نہیں رہا تھا مگر اس کے باوجود آپؐ ہمیشہ نان و نفقہ سمیت ایک ایک چیز میں ناپ تول کی حد تک سب کے ساتھ برابر کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔ تمام ازواج کے ہاں شب باشی کے لیے بھی آپؐ نے باری مقرر فرما رکھی تھی۔ اسی طرح جب آپؐ مدینہ میں ہوتے تو نمازِعصر کے بعد باری باری سب ازواج مطہراتؓ کے ہاں تشریف لے جاتے اور اس دوران وقت کی تقسیم میں مساوات کا خیال فرماتے۔ غرض ہر معاملے میں آپؐ بہت محتاط انداز میں عدل و مساوات کا اہتمام فرماتے اور اس کے باوجود فرمایا کرتے: حدیث((اَللّٰھُمَّ ھٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا اَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا اَمْلِکُ))۱ ’’اے اللہ! جو چیزیں میرے اختیار میں ہیں ان میں تو میں نے برابر کی تقسیم کر دی ہے‘ لیکن جو میرے اختیار میں نہیں ہیں بلکہ تیرے اختیار میں ہیں ان کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا‘‘۔یعنی ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان مساوات کے حوالے سے ظاہری چیزوں کی حد تک تو کوشش کی جا سکتی ہے مگر دل کے رجحان یا میلان کو برابر تقسیم کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ اس حوالے سے سورۃ النساء میں بہت واضح حکم آ چکا ہے: {وَ لَنۡ تَسۡتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعۡدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَ لَوۡ حَرَصۡتُمۡ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الۡمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالۡمُعَلَّقَۃِ ؕ وَ اِنۡ تُصۡلِحُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۲۹﴾} اور تمہارے لیے ممکن ہی نہیں کہ تم عورتوں کے درمیان انصاف کر سکو چاہے تم اس کے لیے کتنے ہی حریص بنو‘لیکن ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایک کی طرف پورے کے پورے جھک جاؤاور دوسری کومعلق کر کے چھوڑ دو۔اور اگر تم اصلاح کر لو اور تقویٰ کی روش اختیار کروتو اللہ بہت بخشنے والا‘نہایت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَلِیۡمًا ﴿۵۱﴾

’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا‘بہت بردبار ہے۔‘‘

(۱) سنن ابی داوٗد‘کتاب النکاح‘ باب فی القسم بین النسائ‘ ح : ۲۱۳۴۔

آیت 52

لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنۡۢ بَعۡدُ وَ لَاۤ اَنۡ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ

’’اب اس کے بعد اور عورتیں آپؐ کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی (اس کی اجازت ہے کہ) آپ ؐان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں‘‘

یعنی آئندہ نہ تو آپؐ مزید کوئی نکاح کریں اور نہ ہی اپنی ازواجِ مطہراتؓ میں سے کسی کو طلاق دیں ۔

وَّ لَوۡ اَعۡجَبَکَ حُسۡنُہُنَّ

’’ اگرچہ ان کا حسن آپؐ کو اچھا لگے‘‘

یعنی بر بنائے طبع بشری کسی خاتون کی طرف کوئی رغبت ہو نے کے باوجود بھی اب آپؐ کومزید نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آیت کے یہ الفاظ فطرتِ انسانی کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ انسانی فطر ت کے اس طبعی میلان کی عکاسی حضورﷺ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے:

حدیث((اِنَّمَا حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمُ النِّسَائُ وَالطِّیْبُ، وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلَاۃِ)) ۱

’’مجھے تو تمہاری دنیا میں سے دو ہی چیزیں پسند ہیں: عورتیں اور خوشبو‘ البتہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔‘‘

اِلَّا مَا مَلَکَتۡ یَمِیۡنُکَ ؕ

’’سوائے اس کے جو آپؐ کی مملوکہ ہو۔‘‘

یعنی مذکورہ پابندی مزید نکاح کرنے کے بارے میں ہے‘ باندیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ روایات میں حضورﷺ کی دو باندیوں کا ذکر ملتا ہے: حضرت ماریہ قبطیہ اور حضرت ریحانہ رضی اللہ عنہما۔

وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ رَّقِیۡبًا ﴿٪۵۲﴾

’’اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔‘‘

(۱) السنن الکبریٰ للبیھقی:۷/۷۸ ومیزان الاعتدال للذھبی : ۲/۱۷۷‘ راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔

یوٹیوب پر دیکھیے