تحریر

الأحزاب

آیات ۳۰ تا ۳۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

30-31

ازواجِ مطہرات ؓ کا خصوصی معاملہ

ویڈیو

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾ وَ مَنۡ یَّقۡنُتۡ مِنۡکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تَعۡمَلۡ صَالِحًا نُّؤۡتِہَاۤ اَجۡرَہَا مَرَّتَیۡنِ ۙ وَ اَعۡتَدۡنَا لَہَا رِزۡقًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾

آیت 30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ

’’اے نبیؐ کی بیویو! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔‘‘

وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾

’’اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘

یہ نہ سمجھنا کہ آپ نبیؐ کی بیویاں ہو اور نبیؐ آپ کو بچا لیں گے۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بہت واضح ہے کہ اگر کسی شخص کے اپنے اعمال درست نہ ہوں تو آخرت میں اسے کوئی دوسرا نہیں بچا سکے گا۔ اس حوالے سے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا ذکر قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ سورۃ التحریم میں حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا ذکر بھی ہے کہ وہ دونوں انبیاء کی بیویاں ہوتے ہوئے بھی عذاب سے نہ بچ سکیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت {وَ اَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ﴿ۙ۲۱۴﴾} (الشعراء) نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے قریش کے تمام خاص و عام کو بلا کر جمع فرمایا اور ایک ایک قبیلے کا نام لے کر اس کے افراد کو مخاطب فرمایا: ((یا بنی کعب بن لؤی!… یا بنی مُرۃ بن کعب!… یا بنی عبد شمس!… یا بنی عبد مناف!… یا بنی ھاشم!… یا بنی عبدالمطلب!)) اور ہر ایک کو یہی فرمایا: حدیث((اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ))’’اپنے آپ کو آگ سے بچائو!‘‘آخر میں آپﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہاکو مخاطب کرتے ہوئے بھی یہی فرمایا: حدیث((یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ ، فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَـکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا))’’اے محمد(ﷺ) کی بیٹی فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اس لیے کہ میں تم لوگوں کو اللہ کی گرفت سے بچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ (صحیح مسلم‘ ح:۲۰۴)

دوسری روایت کے مطابق آپﷺ نے اپنے خاندان کے افراد کو بھی نام لے لے کر مخاطب فرمایا: حدیث((یَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ! لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ! سَلِینِیْ بِمَا شِئْتِ، لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا)) (صحیح مسلم‘ ح:۲۰۶) ’’اے (میرے چچا) عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ!میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔اے اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ! مجھ سے جو چاہو مانگ لو‘ لیکن میں اللہ کے محاسبے کے وقت تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔‘‘

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آیت قرآنی کے الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ‘ معاذ اللہ‘ نبی اکرمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ سے کسی بے حیائی کا اندیشہ تھا‘ بلکہ اس سے مقصود آپﷺ کی ازواج کو یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں ان کا مقام جس قدر بلند ہے اسی کے لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں‘ اس لیے ان کا اخلاقی رویہ انتہائی پاکیزہ ہونا چاہیے۔

آیت 31

وَ مَنۡ یَّقۡنُتۡ مِنۡکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تَعۡمَلۡ صَالِحًا نُّؤۡتِہَاۤ اَجۡرَہَا مَرَّتَیۡنِ ۙ

’’اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت پر کاربند رہے گی اور نیک عمل کرے گی تو اسے ہم دوگنا اجر دیں گے‘‘

وَ اَعۡتَدۡنَا لَہَا رِزۡقًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾

’’اور اُس کے لیے ہم نے عزت والا رزق تیار کر رکھا ہے۔‘‘

جنت میں انہیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔

32-34

خواتین کے لیے ہدایات

ویڈیو

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾ وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾ وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا ﴿٪۳۴﴾

آیت 32

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسۡتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ

’’اے نبیؐ کی بیویو! تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو‘‘

مراد یہ ہے کہ نبی مکرمﷺ کی بیویاں ہونے کی حیثیت سے تمہیں تا قیامِ قیامت امت کی خواتین کے لیے اُسوہ بننا ہے۔

آئندہ آیات میں ازواجِ مطہراتؓ کو پردے سے متعلق خصوصی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے:

اِنِ اتَّقَیۡتُنَّ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ

’’اگر تم تقویٰ اختیار کرو تو گفتگو میں نرمی پیدا نہ کرو‘‘

جیسا کہ قبل از یں بیان ہو چکا ہے‘ ان آیات کے نزول کے وقت عربوں کے رواج کے مطابق غیر مرد ایک دوسرے کے گھروں میں بے دھڑک آتے جاتے تھے اور گھر کی عورتوں سے بلا روک ٹوک گفتگو بھی کرتے تھے۔چنانچہ اس سلسلے میں پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اگر کسی مرد سے تمہیں براہِ راست کبھی کوئی بات کرنی پڑے تو تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ تمہاری آواز میں کسی قسم کی نزاکت‘ نرمی یا چاشنی کا شائبہ تک نہ ہو۔

فَیَطۡمَعَ الَّذِیۡ فِیۡ قَلۡبِہٖ مَرَضٌ

’’کہ وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے وہ کسی لالچ میں پڑ جائے‘‘

ظاہر ہے کہ منافق بھی اسی معاشرے میںموجود تھے اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشی کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے جس کی تفصیل ہم سورۃ النور میں پڑھ چکے ہیں۔ چنانچہ پہلے اقدام کے طور پر یہاں غیر محرم مردوں سے بات چیت میں احتیاط کا حکم دیا گیا ہے‘ کیونکہ مخاطب خاتون کی آواز میں نرمی اور لوچ محسوس کرکے گندی ذہنیت کے حامل کسی شخص کے دل میں کوئی منفی آرزو پیدا ہوسکتی ہے اور وہ بات آگے بڑھانے کی کوشش کا سوچ سکتا ہے۔

وَّ قُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا ﴿ۚ۳۲﴾

’’اور بات کرو معروف انداز میں۔‘‘

اندازِ گفتگو میں نہ نرمی و نزاکت کی جھلک ہو اور نہ ہی ترشی و تلخی کا رنگ ‘بس معقول اور معروف انداز میں صرف ضرورت کی بات چیت ہونی چاہیے۔

آیت 33

وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ

’’اور تم اپنے گھروں میں قرار پکڑو‘‘

ایک مخلوط معاشرے کو اسلامی معاشرے میں بدلنے کے سلسلے میں دوسری ہدایت یہ ہے کہ عورت کا اصل اور مستقل مقام اس کا گھر ہے۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ گھر کے اندر رہ کرماں‘بہن ‘بیٹی یا بیوی کا کردار خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کرے۔

وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی

’’اور مت نکلو بن سنور کر پہلے دورِ جاہلیت کی طرح‘‘

تبرّج کے معنی ہیں نمایاں ہونااور نمائش کرنا۔ یہاں اس سے عورتوں کا بناؤ سنگھار کر کے غیر مردوں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کا عمل مراد ہے۔ اس عمل کا مقصد عورت کی اس خواہش کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھیں اور وہ ان کی توجہات کا مرکز بنے۔ عربوں کے ہاں تو اپنے تمدن اور طرزِمعاشرت پر بڑھ چڑھ کر فخر کیا جاتا تھا اور وہ فرعون کی طرح اسے ’’مثالی کلچر‘‘ {بِطَرِیۡقَتِکُمُ الۡمُثۡلٰی ﴿۶۳﴾} (طٰہٰ) قرار دیتے ہوں گے ‘لیکن قرآن نے ان طور طریقوں کو ’’جاہلیت‘‘ کی علامت قرار دیا ہے اور مسلمان خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود کو اپنے گھروں تک محدود رکھیں اور بن ٹھن کر باہر نکلنے کے طور طریقے ترک کر دیں۔

وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ

’’اور نماز قائم کرو‘زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت پر کاربند رہو۔‘‘

اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾

’’اللہ تو بس یہی چاہتا ہے اے نبیؐ کے گھر والو! کہ وہ دور کر دے تم سے ناپاکی اور تمہیں خوب اچھی طرح پاک کر دے۔‘‘

اے نبیؐ کی بیویو! جس طرح محمد رسول اللہ ﷺکی مثالی شخصیت میں امت کے لیے اُسوہ ہے‘ اسی طرح تمہاری شخصیات کو بھی پوری امت مسلمہ کی خواتین کے لیے اسوہ اور نمونہ بننا ہے۔ اس لیے اللہ چاہتا ہے کہ تمہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پاک اور صاف کر کے تہذیبِ نفس‘ تصفیۂ قلب اور تزکیہ باطن کا اعلیٰ مرتبہ عطا فرمائے۔

یہاں پر اَہْلَ الْبَیْتِ کے خطاب کی مخاطب بلاشبہ ازواجِ مطہراتؓ ہیں‘کیونکہ خطاب کا آغاز ہی یٰـنِسَآئَ النَّبِیِّ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور اس سے پہلی اور بعدکی آیات میں سارا خطاب انہی سے ہے۔ اس سے پہلے سورۂ ہود کی آیت ۷۳ میں بھی یہ لفظ (اہل البیت) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترم حضرت سارہؑ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جب فرشتے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر آئے تو انہوں نے حضرت سارہؑ کو مخاطب کر کے یوں کہا: {رَحۡمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمۡ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ ؕ} ’’ اللہ کی رحمتیں اور اُس کی برکتیں ہوں تم پر اے (نبی ؑکے) گھر والو!‘‘ چنانچہ اس ضمن میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کہ ’’اہل بیت ‘‘سے اصلاًازواجِ مطہراتؓ مراد ہیں۔ البتہ حضرت فاطمہ ‘حضرت علی اور حضرات حسنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہاسے مروی حضورﷺ کا یہ فرمان: حدیث((اَللّٰھُمَّ ھٰؤُلَائِ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاَذْھِبْ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْھِیْرًا))۱ گویا ان شخصیات کو بھی اہل بیت کے دائرے میں شامل کرنے سے متعلق ہے کہ اے اللہ! یہ لوگ بھی میرے اہلِ بیت ہیں‘ چنانچہ ان سے بھی گندگی دور کر دے اور انہیں پاک کر دے۔

(۱) سنن الترمذی‘ ابواب تفسیر القرآن‘ باب ومن سورۃ الاحزاب ۔ ح:۳۷۸۷‘ ۳۸۷۱‘۳۲۰۵۔

آیت 34

وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ ؕ

’’اور یاد کیا کرو جو تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں (سنائی جاتی ہیں)۔‘‘

آپ لوگوں کے گھروں میں اللہ کے رسولﷺ پر وحی نازل ہوتی ہے اور یہاں سے دنیا بھر کو آیاتِ الٰہی اور حکمت و دانائی کی تعلیم دی جاتی ہے‘ اس لیے آپ لوگ سب سے بڑھ کر آیاتِ الٰہی کو سننے اور ان پر عمل کرنے کی مکلف ہو۔ اس لحاظ سے بھی ازواج مطہراتؓ کے درمیان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکو امتیازی شرف حاصل ہے۔ حضورﷺ نے ایک بار حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہاسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے بارے میں فرمایا تھا : حدیث((فَاِنَّـہٗ وَاللّٰہِ مَا نَزَلَ عَلَیَّ الْوَحْیُ وَاَنَا فِیْ لِحَافِ امْرَأَۃٍ مِنْکُنَّ غَیْرَھَا))۱ ’’اللہ کی قسم ‘مجھ پر اس حال میں کبھی وحی نازل نہیں ہوئی کہ میں تم میں سے کسی عورت کے لحاف میں ہوں سوائے عائشہؓ کے۔‘‘ ظاہر ہے وحی کا نزول تو حضورﷺ کے قلب مبارک پر ہوتا تھا۔ اس کے لیے ظاہری طور پر تو کوئی خاص اہتمام کرنے اور جبرائیل علیہ السلام کو استیذان کی ضرورت نہیں تھی۔ جب اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا وحی کے ساتھ آپؐ کے دل پر نازل ہو گئے ۔

آیت میں ’’حکمت‘‘ سے وحی خفی یعنی حضورﷺ کے فرمودات مراد ہیں۔ گویا حکمت نبویؐ کی تعلیمات سے بھی سب سے بڑھ کر ازواجِ نبیؐ ہی مستفیض ہو رہی تھیں۔

اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیۡفًا خَبِیۡرًا ﴿٪۳۴﴾

’’یقینا اللہ بہت باریک بین‘ہر چیز سے با خبر ہے۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ‘ باب فضل عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا۔

35

مردوں اور خواتین کے لیے دس پسندیدہ اوصاف

ویڈیو

اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾

آیت 35

اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ

’’یقینا مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں‘اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں‘‘

’’مسلم‘‘ کے لفظی معنی ہیں فرمانبردار اور سرِ تسلیم خم کرنے والا۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہو چکا ہے کہ اس آیت کے ساتھ سورۃ النور کی آیت ۳۵ کی ایک خاص مناسبت ہے۔ سورۃ النور کی مذکورہ آیت یہ ہے: {اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾} ’’ اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا۔اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق‘اس (طاق) میں ایک روشن چراغ ہے‘وہ چراغ شیشے (کے فانوس) میں ہے‘اور وہ شیشہ چمک رہا ہے جیسے کہ ایک چمکدار ستارہ ہو‘وہ (چراغ) جلایا جاتاہے زیتون کے ایک مبارک درخت سے‘جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی‘قریب ہے اس کا روغن (خود بخود) روشن ہو جائے‘چاہے اسے نہ چھوئے آگ۔روشنی پر روشنی۔اللہ ہدایت دیتا ہے اپنی روشنی کی جس کو چاہتا ہے ‘اور اللہ یہ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے ‘جبکہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔‘‘

سورۃ النور کی اس طویل آیت میں ایمان کی ماہیت و حقیقت اور ایمان کے اجزائے ترکیبی کا ذکر ہے۔ لیکن دل میں حقیقی ایمان کے جاگزیں ہوجا نے کے باعث متعلقہ شخصیت کے اندر جو اوصاف پیدا ہوتے ہیں ان کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ یہاں خصوصی طور پر ایک نکتہ یہ بھی سمجھ لیں کہ سورۃ النور اور سورۃ الاحزاب میں معاشرتی اصلاحات کے بارے میں جو احکام آئے ہیں ان میں عورتوں سے متعلق مسائل کی خصوصی اہمیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت زیر نظر میں یہاں خصوصی طور پر مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر علیحدہ صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے‘جبکہ اس ضمن میں قرآن کا عمومی اسلوب یہی ہے کہ اکثر احکام مذکر کے صیغے میں دیے جاتے ہیں‘ یعنی مردوں کو مخاطب کر کے ایک حکم دے دیا گیا اور بر سبیلِ ’’تغلیب‘‘ عورتیں خود بخود اس حکم میں شامل ہو گئیں۔ جیسے وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ مذکر کا صیغہ ہے لیکن اس حکم میں مرد اور عورتیں سب شامل ہیں۔ بہر حال اس آیت میں تکرار کے ساتھ مردوں کے ساتھ خصوصی طور پر عورتوں کا ذکر کر کے دونوں کے لیے دس اوصافِ گنوائے گئے ہیں:

وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ

’’اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں‘ اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں‘‘

’’صدق ‘‘ سے مراد یہاں زبان کی سچائی کے ساتھ ساتھ عمل اور کردار کی سچائی ہے۔

وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ

’’اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں‘ اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں‘‘

یعنی اللہ کے حضور جھک کر رہنے والے مرد اور عورتیں۔

وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ

’’اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں‘اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں‘‘

وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ

’’اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں‘‘

وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ

’’اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں‘‘

اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾

’’اللہ نے ان سب کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘

اللَّھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ---- آمین!

36

اللہ کے محبوب بندوں اور بندیوں کے اوصاف

ویڈیو

وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿ؕ۳۶﴾

تمہید

اب آئندہ آیات میں حضور اکرمﷺ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے نکاح سے متعلق معاملے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ پہلے رکوع میں اس مضمون کی تمہید کے طور پر منہ بولے بیٹے کے بارے میں مختصر حکم آیا تھا‘لیکن یہاں پر اس معاملے کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مثلاً پہلے حضورﷺ کے حکم اور خواہش کے مطابق حضرت زینبؓ کا نکاح حضرت زیدؓ بن حارثہ سے ہونا‘ بعد میں ناچاقی کی شکایت پر بھی حضورﷺ کا حضرت زیدؓ کو طلاق نہ دینے کی ہدایت کرنا‘پھر حضورﷺ کا یہ سوچنا کہ چونکہ میں نے اصرارکر کے نکاح کروایا تھا‘ اس لیے اب اگر طلاق ہوئی تو حضرت زینبؓ کے لیے اس کے علاوہ تلافی کی کوئی صورت نہیں ہو گی کہ میں خود ان سے نکاح کرلوں۔ پھر آپؐ کا یہ سوچنا کہ اگر میں خود نکاح کروں گا تو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرنے پر مخالفین ایک طوفان کھڑا کر دیں گے۔اگرچہ بظاہر اس میں کچھ مضائقہ نہیں تھا ‘لیکن پھر بھی حضورﷺ اسے مصلحت کے خلاف سمجھتے تھے۔ چنانچہ حضورﷺ اسی شش و پنج میں تھے کہ یہ آیات نازل ہوگئیں۔

آیت 36

وَ مَا کَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّ لَا مُؤۡمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمۡرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الۡخِیَرَۃُ مِنۡ اَمۡرِہِمۡ ؕ

’’اور کسی مؤمن مرد اور مؤمن عورت کے لیے روا نہیں کہ جب اللہ اور اُس کا رسول(ﷺ) کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو (پھر بھی انہیں یہ خیال ہو کہ) ان کے لیے اپنے اس معاملے میں کوئی اختیار باقی ہے۔‘‘

یہ آیت اُس وقت نازل ہوئی تھی جب رسول اللہﷺ نے حضرت زیدؓ کے لیے حضرت زینبؓ کے ساتھ نکاح کا پیغام بھجوایاتھا اور حضرت زینبؓ اور ان کے بھائی عبداللہؓ بن جحش اسے منظور کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد وہ فوراً آمادہ ہو گئے۔

وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیۡنًا ﴿ؕ۳۶﴾

’’اور جو کوئی اللہ اور اُس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔‘‘

اپنے سیاق و سباق کے حوالے سے اگرچہ اس فقرے کا تعلق پس منظر میں بیان کیے گئے معاملہ سے ہے‘ لیکن اس حکم کی نوعیت ایک قاعدہ کلیہ کی ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کے فیصلے کے بعد بھی کسی معاملے میں یہ سمجھے کہ اب بھی اس کے پاس کوئی اختیار (option) باقی ہے تو وہ گویا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کا مرتکب ہو کر اس آیت کا مصداق ٹھہرے گا۔

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا حضورﷺ کی پھوپھی اُمیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔ اس لحاظ سے ان کا تعلق قریش کے اونچے خاندان سے تھا۔ دوسری طرف حضرت زیدؓ بن حارثہ آزاد کردہ غلام تھے۔ اگرچہ ان کا تعلق بھی عرب کے ایک شریف خاندان سے تھا‘ لیکن غلام تو وہ بہر حال رہ چکے تھے۔ اس لیے اگرچہ اس حکم کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں نے اس نکاح کو قبول کر لیا تھا‘ لیکن گمانِ غالب یہی ہے کہ حضرت زینبؓ خاندانی تفاوت کے معاملے میں اپنے جذبات واحساسات کی وجہ سے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو شوہر کے طور پر مطلوبہ ادب و احترام نہ دے سکیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے متعدد بار حضورﷺ سے اس صورت حال کی شکایت بھی کی اور طلاق دینے کی اجازت بھی چاہی مگر حضورﷺ ہر دفعہ انہیں موافقت کی کوشش کرنے کی ہدایت فرما دیتے:

یوٹیوب پر دیکھیے