یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ
’’اے نبیؐ کی بیویو! تم میں سے جو کوئی (بالفرض) کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے گی اسے دوگنا عذاب دیاجائے گا۔‘‘
وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾
’’اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔‘‘
یہ نہ سمجھنا کہ آپ نبیؐ کی بیویاں ہو اور نبیؐ آپ کو بچا لیں گے۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کا قانون بہت واضح ہے کہ اگر کسی شخص کے اپنے اعمال درست نہ ہوں تو آخرت میں اسے کوئی دوسرا نہیں بچا سکے گا۔ اس حوالے سے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا ذکر قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ سورۃ التحریم میں حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا ذکر بھی ہے کہ وہ دونوں انبیاء کی بیویاں ہوتے ہوئے بھی عذاب سے نہ بچ سکیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت {وَ اَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ﴿ۙ۲۱۴﴾} (الشعراء) نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے قریش کے تمام خاص و عام کو بلا کر جمع فرمایا اور ایک ایک قبیلے کا نام لے کر اس کے افراد کو مخاطب فرمایا: ((یا بنی کعب بن لؤی!… یا بنی مُرۃ بن کعب!… یا بنی عبد شمس!… یا بنی عبد مناف!… یا بنی ھاشم!… یا بنی عبدالمطلب!)) اور ہر ایک کو یہی فرمایا: حدیث((اَنْقِذُوْا اَنْفُسَکُمْ مِنَ النَّارِ))’’اپنے آپ کو آگ سے بچائو!‘‘آخر میں آپﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہاکو مخاطب کرتے ہوئے بھی یہی فرمایا: حدیث((یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِیْ نَفْسَکِ مِنَ النَّارِ ، فَاِنِّیْ لَا اَمْلِکُ لَـکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا))’’اے محمد(ﷺ) کی بیٹی فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اس لیے کہ میں تم لوگوں کو اللہ کی گرفت سے بچانے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ (صحیح مسلم‘ ح:۲۰۴)
دوسری روایت کے مطابق آپﷺ نے اپنے خاندان کے افراد کو بھی نام لے لے کر مخاطب فرمایا: حدیث((یَا عَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! لَا اُغْنِیْ عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ، یَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ! لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، یَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ رَسُوْلِ اللّٰہِ! سَلِینِیْ بِمَا شِئْتِ، لَا اُغْنِیْ عَنْکِ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا)) (صحیح مسلم‘ ح:۲۰۶) ’’اے (میرے چچا) عباس بن عبدالمطلب! میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔ اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ!میں اللہ کے محاسبے کے وقت آپ کے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔اے اللہ کے رسول کی بیٹی فاطمہ! مجھ سے جو چاہو مانگ لو‘ لیکن میں اللہ کے محاسبے کے وقت تمہارے کچھ کام نہ آ سکوں گا۔‘‘
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آیت قرآنی کے الفاظ کا یہ مطلب نہیں کہ‘ معاذ اللہ‘ نبی اکرمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ سے کسی بے حیائی کا اندیشہ تھا‘ بلکہ اس سے مقصود آپﷺ کی ازواج کو یہ احساس دلانا تھا کہ اسلامی معاشرے میں ان کا مقام جس قدر بلند ہے اسی کے لحاظ سے ان کی ذمہ داریاں بھی بہت سخت ہیں‘ اس لیے ان کا اخلاقی رویہ انتہائی پاکیزہ ہونا چاہیے۔