تحریر

الأحزاب

آیات ۲۶ تا ۲۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

26-27

بنو قریظہ کی ذلّت آمیز تباہی

ویڈیو

وَ اَنۡزَلَ الَّذِیۡنَ ظَاہَرُوۡہُمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ صَیَاصِیۡہِمۡ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ وَ تَاۡسِرُوۡنَ فَرِیۡقًا ﴿ۚ۲۶﴾ وَ اَوۡرَثَکُمۡ اَرۡضَہُمۡ وَ دِیَارَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ وَ اَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿٪۲۷﴾

آیت 26

وَ اَنۡزَلَ الَّذِیۡنَ ظَاہَرُوۡہُمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ صَیَاصِیۡہِمۡ

’’اور اللہ نے اُتار لیا اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان (مشرکین) کی مدد کی تھی‘ان کے قلعوں سے‘‘

بنو قریظہ کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں سے بد عہدی کر کے حملہ آور قبائل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ چنانچہ اللہ کی مشیت کے مطابق انہیں اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے نکل کر مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے۔

وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ

’’اور ان کے دلوں میں اُس نے رعب ڈال دیا‘‘

فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ وَ تَاۡسِرُوۡنَ فَرِیۡقًا ﴿ۚ۲۶﴾

’’تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو۔‘‘

یعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق جنگ کے قابل مرد قتل کر دیے گئے ‘جبکہ بوڑھوں‘ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔

آیت 27

وَ اَوۡرَثَکُمۡ اَرۡضَہُمۡ وَ دِیَارَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ

’’اور اُس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں‘ ان کے گھروں اور ان کے اموال کا‘‘

وَ اَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡہَا ؕ

’’اور اُس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔‘‘

اس فقرے میں ان تمام فتوحات کی طرف اشارہ موجود ہے جو بعد میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ اس لحاظ سے غزوۂ احزاب حضورﷺ کی جدوجہد کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ (turning point) ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں حضورﷺ نے اہل ایمان کو خوشخبری بھی سنا دی تھی کہ: حدیث((لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ))۱یعنی ’’ اس سال کے بعد قریش کبھی بھی تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے‘بلکہ آئندہ تم ان پر چڑھائی کرو گے۔‘‘

حضورﷺ کے اس فرمان کی صداقت اگلے ہی سال یعنی ۶ ہجری میں اُس وقت ظاہر ہو گئی جب آپؐ چودہ سو صحابہؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ اس سفر میں مسلمانوں نے احرام باندھ رکھے تھے۔ تلواروں کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور ہتھیار بھی نہیں تھا اور تلوار یں بھی نیاموں میں تھیں۔ حضورﷺ اپنے قافلے کے ساتھ جب مکہ کے قریب پہنچے تو یہ صورت حال گویا مشرکین مکہ کے گلے میں ایک ایسی ہڈی کی طرح پھنس کر رہ گئی جسے نہ وہ اُگل سکتے تھے اور نہ نگل سکتے تھے۔ ایک طرف ان کی صدیوں پرانی روایات تھیں جن کے مطابق کسی بد ترین دشمن کو بھی حج یا عمرے سے روکا نہیں جا سکتا تھا اور دوسری طرف ان کی انا تھی جس کے تحت وہ مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ ان کے لیے یہ دونوں صورتیں ہی مشکل تھیں ۔مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکیں تو کس جواز کے تحت روکیں اور اگر آنے کی اجازت دیں تو کس منہ سے ایسا کریں!

اس صورتِ حال میں حضورﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ کرنے کا حکم دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے مکہ بھیجا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں کچھ زیادہ دیر رکنا پڑا تو مسلمان لشکر میں کسی طرح یہ افواہ پھیل گئی کہ مشرکین نے انہیں شہید کر دیا ہے۔ اس پر حضورﷺ نے آپؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے صحابہؓ سے بیعت لینے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ چنانچہ موقع پر موجود تمام صحابہؓ نے آپﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آخری دم تک لڑنے کا عہد کیا تھا۔ یہ بیعت علی الموت تھی اورتاریخ میں اسے ’’بیعتِ رضوان‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب اس بیعت کی خبر مکہ پہنچی تو مشرکین کے چھکے چھوٹ گئے۔ انہوں نے سفارتی مہم کے ذریعے حضورﷺ کو صلح کی پیش کش کی اور طویل مذاکرات کے بعدبالآخر فریقین کے مابین صلح حدیبیہ کا تاریخی معاہدہ طے پاگیا۔ اس معاہدہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح میں بایں الفاظ تبصرہ فرمایا: {اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾} ’’یقینا ہم نے آپﷺ کو فتح مبین عطا فرمائی ہے۔‘‘

اس فرمانِ الٰہی کے اثرات و ثمرات فوری طور پر ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ اگلے ہی سال ۷ ہجری میں مسلمانوں نے یہودیوں کا مضبوط گڑھ خیبر فتح کر لیا۔ اس کے بعدمسلمانوں کی فتوحات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیااور بیس سال کے اندر اندر اسلامی سلطنت کی حدود تین براعظموں تک وسیع ہو گئیں۔ آیت زیر نظر میں انہی فتوحات کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔

وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿٪۲۷﴾

’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

(۱) تفسیر ابن کثیر :۶/۳۹۶

28-29

نبی اکرم ﷺ کی دنیا سے بیزاری

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۲۸﴾ وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۲۹﴾

تمہید

جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس رکوع کے مضمون کا ربط پہلے رکوع کے مضمون کے ساتھ ہے۔ دراصل یہ پورا مضمون معاشرتی اصلاحات سے متعلق ہے جس کی پہلی قسط کے طور پر کچھ احکام یہاں اس سورت میں بیان ہوئے ہیں جبکہ ان احکام کی دوسری قسط سورۃ النور میں ہے جو ایک سال بعد ۶ ہجری میں نازل ہوئی۔ ان اصلاحات میں عورتوں کے پردے کے بارے میں احکام بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے عرب میں عورتوں کے پردے کا رواج نہیں تھا ۔ باہر نکلتے ہوئے عورتیں اگرچہ ایک بڑی سی چادر لپیٹ کر نکلتی تھیں لیکن وہ سر ڈھانپنے اور چہرہ چھپانے کا اہتمام نہیں کرتی تھیں۔ اسی طرح گھر وں کے اندر بھی غیر محرم مردوں کا بے تکلف آنا جانا رہتا تھا اور گھر کی خواتین ان مردوں سے پردہ نہیں کرتی تھیں۔ چنانچہ اس معاملے میں تدریجاً اصلاحی احکام دیے گئے اور charity begins at home کے اصول کے مطابق پردے کے ابتدائی حکم میں سب سے پہلے حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کو مخاطب کیا گیا۔

قبل ازیں آیت ۲۱ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہﷺ کی ذات میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔گویا ایک باپ کی حیثیت سے‘ایک بیٹے کی حیثیت سے‘داماد کی حیثیت سے‘سسر کی حیثیت سے‘قاضی القضاۃ کی حیثیت سے‘سپہ سالار کی حیثیت سے‘سربراہ مملکت کی حیثیت سے‘ امام‘خطیب‘ معلم‘مربی‘مزکی‘غرض ہر قابل ذکر حیثیت سے آپﷺ کی ذات اور زندگی میں ایک کامل نمونہ ہے۔ لیکن بنیادی طور پر یہ نمونہ مردوں کے لیے ہے۔ مرد ہونے کی حیثیت سے آپﷺ کی زندگی میں عورتوں اور عورتوں کے نسوانی معاملات کے لیے تو مکمل نمونہ دستیاب نہیں ہو سکتاتھا۔ اس لیے عورتوں کی راہنمائی کے لیے ضروری تھا کہ کسی عورت کے کردار کو بطور نمونہ پیش کیا جاتا۔ چنانچہ یہاں حضورﷺ کے اُسوۂ مبارک کا ذکر فرمانے کے بعد حضورﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کو خصوصی طور پر مخاطب کر کے گویا ان کے کردار کو دنیا بھر کی عورتوں کے لیے اسوہ بنانا مقصود ہے۔یعنی جس طرح حضورﷺ کی ذات اُمت کے لیے اُسوہ ہے عین اسی طرح آپﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ خصوصی طور پر خواتینِ اُمت کے لیے مثال اور نمونہ ہیں۔ اسی بنا پر انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر تم نیکی کرو گی تو دوگنااجر پاؤ گی‘اور اگر (خدانخواستہ) تم سے کوئی غلطی سرزد ہوئی تو اس کی سزا بھی تمہیں دوگنا ملے گی۔ اس لیے کہ اب تم لوگوں کی زندگیاں دنیا بھر کی مسلمان خواتین کے لیے اُسوہ ہیں اور مسلمان خواتین کو رہتی دنیا تک تمہاری پیروی کرنا ہے ۔

آیت 28

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا

’’اے نبی (ﷺ) آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو‘‘

فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعۡکُنَّ وَ اُسَرِّحۡکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۲۸﴾

’’تو آئو میں تمہیں کچھ مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں۔‘‘

یہ آیات واقعہ ایلاء سے متعلق ہیں۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ جب فتوحات کے باعث مدینہ میں کثرت سے مالِ غنیمت آنا شروع ہوا تو مجموعی طور پر مسلمانوں کے ہاں خوشحالی آنا شروع ہو گئی۔ ان حالات میں بربنائے طبع بشری ازواجِ مطہراتؓ کی طرف سے بھی تقاضا آیا کہ اب ان کے نفقات بھی بڑھائے جائیں۔ حضورﷺ نے اس مطالبے کو سخت نا پسند فرمایا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آپؐ مسجد کے ساتھ ایک بالا خانے میں منتقل ہو گئے اور ایک ماہ تک آپؐ نے اپنی کسی بھی اہلیہ محترمہ کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لی ۔ جونہی یہ خبر لوگوں تک پہنچی تو مدینے میں گویا ایک کہرام مچ گیا۔ ہر کوئی پریشان تھا اور ہر کسی کے ذہن میں سوال تھا کہ اب کیا ہو گا؟ کیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکو طلاق ہو جائے گی؟ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کو طلاق ہوجائے گی؟

شوہر کی طرف سے بیوی کے ساتھ کسی وجہ سے قطع تعلقی کی قسم کھا لینے کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ایلاء ‘‘کہا جاتاہے۔ اس کا حکم سورۃ البقرۃ میں اس طرح آیا ہے: {لِلَّذِیۡنَ یُؤۡلُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ تَرَبُّصُ اَرۡبَعَۃِ اَشۡہُرٍ ۚ فَاِنۡ فَآءُوۡ فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲۶﴾} ’’جو لوگ اپنی بیویوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں‘ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے‘پس اگر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ زیر مطالعہ آیات حضورﷺ کے ایلاء فرمانے کے بعد نازل ہوئیں۔ ان آیات کی ہدایات کے مطابق آپؐ نے ازواجِ مطہراتؓ کو واضح طور پر اختیار دے دیا کہ وہ دوراستوں میں سے جو راستہ چاہیں قبول کر لیں۔

آیت 29

وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡکُنَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۲۹﴾

’’اور اگر تم اللہ اور اُس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طالب ہو تو (اطمینان رکھو کہ) اللہ نے تم جیسی نیک خواتین کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔‘‘

اب آپ لوگوں کی مرضی ہے کہ دنیا اور اس کی آسائشیں حاصل کرنے کا راستہ اختیار کر لویا رسول اللہﷺ کے ساتھ رہتے ہوئے فقر و فاقہ کی زندگی قبول کر لو۔

اس آیت کے نزول کے وقت رسول اللہﷺ کے نکا ح میں چار بیویاں تھیں۔ حضرت سودہ‘ حضرت عائشہ‘ حضرت حفصہ اور حضرت اُمّ سلمہؓ ۔ ابھی حضرت زینب رضی اللہ عنہاسے حضورﷺ کا نکاح نہیں ہوا تھا۔روایات کے مطابق حضورﷺ نے سب سے پہلے یہ بات حضرت عائشہؓ کے سامنے رکھی اور ان سے فرمایا کہ اس معاملے میں اپنے والدین کی رائے لے لو‘ پھر فیصلہ کرو۔ انہوں نے بلاتوقف عرض کیا: ’’کیا یہ معاملہ میں اپنے والدین سے پوچھوں؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کی طالب ہوں۔‘‘ اس کے بعد حضورﷺ نے باقی ازواجِ مطہراتؓ میں سے ایک ایک کے پاس جا کر یہی بات فرمائی اور ہر ایک نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہؓ نے دیا تھا۔ اور یوں سب ازواجِ مطہرات ؓاپنے مطالبات سے دستبردار ہو گئیں۔ اس کے بعد حضورﷺ کی تمام ازواج مطہراتؓ نے اپنی زندگیاں اس طرح گزار دیں کہ حضورﷺ کے کسی ایک گھر میں بھی متواتر دو وقت کا چولہا کبھی گرم نہ ہوا۔

یوٹیوب پر دیکھیے