وَ اَنۡزَلَ الَّذِیۡنَ ظَاہَرُوۡہُمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ صَیَاصِیۡہِمۡ
’’اور اللہ نے اُتار لیا اہلِ کتاب میں سے ان لوگوں کو جنہوں نے ان (مشرکین) کی مدد کی تھی‘ان کے قلعوں سے‘‘
بنو قریظہ کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں سے بد عہدی کر کے حملہ آور قبائل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا تھا۔ چنانچہ اللہ کی مشیت کے مطابق انہیں اپنے قلعوں اور گڑھیوں سے نکل کر مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے۔
وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ
’’اور ان کے دلوں میں اُس نے رعب ڈال دیا‘‘
فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ وَ تَاۡسِرُوۡنَ فَرِیۡقًا ﴿ۚ۲۶﴾
’’تو اب ان میں سے کچھ کو تم قتل کر رہے ہو اور کچھ کو تم قیدی بنا رہے ہو۔‘‘
یعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق جنگ کے قابل مرد قتل کر دیے گئے ‘جبکہ بوڑھوں‘ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔
وَ اَوۡرَثَکُمۡ اَرۡضَہُمۡ وَ دِیَارَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ
’’اور اُس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں‘ ان کے گھروں اور ان کے اموال کا‘‘
وَ اَرۡضًا لَّمۡ تَطَـُٔوۡہَا ؕ
’’اور اُس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔‘‘
اس فقرے میں ان تمام فتوحات کی طرف اشارہ موجود ہے جو بعد میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ اس لحاظ سے غزوۂ احزاب حضورﷺ کی جدوجہد کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ (turning point) ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں حضورﷺ نے اہل ایمان کو خوشخبری بھی سنا دی تھی کہ: حدیث((لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ))۱یعنی ’’ اس سال کے بعد قریش کبھی بھی تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے‘بلکہ آئندہ تم ان پر چڑھائی کرو گے۔‘‘
حضورﷺ کے اس فرمان کی صداقت اگلے ہی سال یعنی ۶ ہجری میں اُس وقت ظاہر ہو گئی جب آپؐ چودہ سو صحابہؓ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ اس سفر میں مسلمانوں نے احرام باندھ رکھے تھے۔ تلواروں کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور ہتھیار بھی نہیں تھا اور تلوار یں بھی نیاموں میں تھیں۔ حضورﷺ اپنے قافلے کے ساتھ جب مکہ کے قریب پہنچے تو یہ صورت حال گویا مشرکین مکہ کے گلے میں ایک ایسی ہڈی کی طرح پھنس کر رہ گئی جسے نہ وہ اُگل سکتے تھے اور نہ نگل سکتے تھے۔ ایک طرف ان کی صدیوں پرانی روایات تھیں جن کے مطابق کسی بد ترین دشمن کو بھی حج یا عمرے سے روکا نہیں جا سکتا تھا اور دوسری طرف ان کی انا تھی جس کے تحت وہ مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ ان کے لیے یہ دونوں صورتیں ہی مشکل تھیں ۔مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکیں تو کس جواز کے تحت روکیں اور اگر آنے کی اجازت دیں تو کس منہ سے ایسا کریں!
اس صورتِ حال میں حضورﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ کرنے کا حکم دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے مکہ بھیجا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں کچھ زیادہ دیر رکنا پڑا تو مسلمان لشکر میں کسی طرح یہ افواہ پھیل گئی کہ مشرکین نے انہیں شہید کر دیا ہے۔ اس پر حضورﷺ نے آپؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے صحابہؓ سے بیعت لینے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ چنانچہ موقع پر موجود تمام صحابہؓ نے آپﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آخری دم تک لڑنے کا عہد کیا تھا۔ یہ بیعت علی الموت تھی اورتاریخ میں اسے ’’بیعتِ رضوان‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب اس بیعت کی خبر مکہ پہنچی تو مشرکین کے چھکے چھوٹ گئے۔ انہوں نے سفارتی مہم کے ذریعے حضورﷺ کو صلح کی پیش کش کی اور طویل مذاکرات کے بعدبالآخر فریقین کے مابین صلح حدیبیہ کا تاریخی معاہدہ طے پاگیا۔ اس معاہدہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح میں بایں الفاظ تبصرہ فرمایا: {اِنَّا فَتَحۡنَا لَکَ فَتۡحًا مُّبِیۡنًا ۙ﴿۱﴾} ’’یقینا ہم نے آپﷺ کو فتح مبین عطا فرمائی ہے۔‘‘
اس فرمانِ الٰہی کے اثرات و ثمرات فوری طور پر ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ اگلے ہی سال ۷ ہجری میں مسلمانوں نے یہودیوں کا مضبوط گڑھ خیبر فتح کر لیا۔ اس کے بعدمسلمانوں کی فتوحات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیااور بیس سال کے اندر اندر اسلامی سلطنت کی حدود تین براعظموں تک وسیع ہو گئیں۔ آیت زیر نظر میں انہی فتوحات کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔
وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرًا ﴿٪۲۷﴾
’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
(۱) تفسیر ابن کثیر :۶/۳۹۶